لا اِکراہ فی الدین


دوسری جانب فسادات میں بجائے کمی کے شدت زور پکڑتی جا رہی تھی۔ اُوپر سے دونوں مذاہب کے لیڈروں کے بیانات جلتی پر تیل کا کام کرتے۔ مرنے والوں کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہو رہا تھا اور یہ آگ تیزی سے دوسرے شہروں میں بھی پھیل رہی تھی۔ مگر وہ دن جب دین محمد نے یہ روح فرسا خبر سنی کہ گجرات میں مقیم اس کی بہن کا پورا کنبہ فسادات کی لپیٹ میں آ گیا۔ گھر جلا دیا گیا، اس کے شوہر کو مار ڈالا گیا اور آٹھ ماہ کے حمل سے بھانجی کا شکم چاک کر کے اس کا بچہ مار ڈالا۔ اللہ الصمد، اللہ الصمد، اللہ الصمد، دین محمد مارے صدمے کے بے حال ہو گیا تھا۔ اس کا ذہنی توازن ہی بگڑ گیا۔

کبھی اس کی چیخیں قابو سے باہر ہو جاتیں تو کبھی گھنٹوں آہ و زاری میں گزر جاتے۔ اس کی آنکھوں کے سامنے مندی مندی آنکھوں، گول پیالے ایسے سر اور نازک نازک ہاتھ پاؤں والا ننھا سا فرشتہ دائروں میں گھومنے لگتا۔ کبھی کبھی وہ اس کے سامنے آہستہ آہستہ رونے لگتا، کبھی آنکھیں کھولنے کی سعی کرتا۔ کبھی لمحوں میں بچے کا قد بڑھنا شروع ہو جاتا اور وہ چھری تانے جوشیلے نعرے لگاتا دوڑ رہا ہوتا۔

اس خبر نے دین محمد کے سیکولر ازم کی بنیادیں تک ہلا دی تھیں۔

”کیا وہ مسلمان ہے؟ “ اندر سے بار بار کوئی سوال پوچھ رہا تھا اور وہ اپنے آپ سے شرمندہ تھا۔ ارے مسلمان تو یہ چاقو چھریاں تانے ہوئے کفن پوش دیوانے ہیں جو ایک وہاں گراتے ہیں تو دو یہاں۔

کمل بابا، بابا کرتا دوڑا چلا آ رہا تھا۔
”دُور ہو کافر کہیں کا“۔

آج دین محمد کی آواز بھی اُونچی تھی اور لہجے سے نفرت کی چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔ فاطمہ سہم کر آگے بڑھی۔

”ہٹالے اسے ورنہ آج تو“۔
”پورا گھر ناپاک کر دیا ہے کافر نے“۔
پورے کا پورا کانپ رہا تھا دین محمد۔

نہ یہاں کے رہے نہ وہاں کے۔ کیا یہ کلمہ رٹنے سے مسلمان ہو جاتے ہیں۔ اس کے سارے اعمال مسلمانوں کو شرماتے ہیں۔ وہ تو پیدا ہی اس مذہب میں ہوا تھا جہاں دو تین سال کے بچے کو بکرے یا دنبے کی ڈوری کا سرا تھما دیتے اور جب بچہ اور جانور دونوں محبت کا سفرشروع کر دیتے تب ایک دن اسے خوفناک قسائی کے ہاتھ میں تھما کر کہتے۔

”آؤ بچو قربانی سیکھو۔ “ اور بچہ دیکھتا کہ نعرہٴ تکبیر کے ساتھ ہی اس کے چند روزہ دوست کی گردن اور تن کا رشتہ ٹوٹ جاتا۔ رونے والا بچہ بزدل کہلاتا۔ لہٰذا دھڑکتے دل کے ساتھ وہ پتھر بنا جگہ جگہ جانوروں کی سربریدہ لاشیں دیکھتا۔

یہ خوف اور بزدلی نہ جانے اس نے کہاں سے سیکھ لی تھی۔ ایسا کوئی سبق نہ تو نصاب میں تھا نہ گھر میں۔ کم ہمتی نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا تھا۔ یوں تو بظاہر سارا محلہ اس کی بڑی عزت کرتا تھا۔ مگر پیٹھ پیچھے اس کا نام ”ہندوؤں کا غلام“ رکھ چھوڑا تھا۔ اگر وہ نہ ہوتا تو یہ جی دار، محلے دار ایک ایک غیرمسلم کو پکڑ کر چن چن کر وہ بدلے لیتے کہ مسلمان شہدا کی روح کو قرار آ جاتا۔ مگر سارے مجاہدین کے بیچ میں وہ اکیلا، بڑا شرم سار تھا۔ ایک عجیب بے بسی اورغم نے اس کا ذہن ماؤف کر دیا تھا۔ بڑے دنوں بعد وہ گوشت لینے مارکیٹ گیا تھا۔

کٹاکٹ کٹاکٹ۔ قسائی بوٹیاں بنا رہا تھا۔ اس کے خون میں بھی دھمک دھمک ہونے لگی۔ آنکھوں کے سامنے نیزے پہ ٹنگا تڑپتا ہوا بچہ آ گیا، یہ غم تو جان لے کر رہے گا۔ دین محمد کی مٹھیاں بھنچ گئیں، بجائے گوشت کے چھرا خرید کے گھر لے آیا۔ بے رحمی نے اس کے دماغ کو سن کر دیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے بھی دل نہ لرزا۔ ہاں، یہ طریقہ ہی ٹھیک رہے گا، ٹکڑے ٹکڑے کر کے گٹر میں نہ بہایا تو میرا نام بھی۔

گھر کے دروازے کے قریب پہنچ کر اس کی بڑبڑاہٹ رک گئی۔ اس نے ارد گرد دیکھا۔ بچے تو روز ہی قتل ہوتے ہیں بہانے بہانے سے اور ہندومسلم دشمنی کا فیتہ تو سلگ ہی رہا ہے۔ کس کو اس پر شک ہو گا۔ اندر کا بپھرا ہوا آدمی پھر زور دار آواز میں چلایا۔

” بلند آواز میں جی دار ہو کر گلا کاٹ کافر کا۔ ڈر کاہے کا۔ وہاں جو تیرے اپنے بچے دنیا میں سانس لینے سے پہلے ہی ماؤں کا شکم چاک کر کے نیزے پہ اُچھالے جا رہے ہیں۔ ان ماؤں کی اذیت اور دکھ تو کوئی سمجھے ناس“۔

کمل گھر میں ہی موجود تھا۔ بیوی کسی کام سے باورچی خانے میں گئی ہوئی تھی۔ دین محمد نے اس کے سامنے پھیلائے ہوئے کھلونے ایک طرف کیے۔ بابا! بابا! کمل نے آگے بڑھ کر دونوں بازو اس کی گردن میں حائل کر دیے۔ یونھی اسے اُٹھائے دین محمد باہر آ گیا۔ باورچی خانے سے نکلتی بیوی نے کوئی توجہ نہیں دی۔ کچھ دُور ہی زیر تعمیر عمارت تھی جو اَب بالکل خالی تھی۔ مزدور سرشام ہی جا چکے تھے۔ کمل حیرانی سے اس جگہ کو دیکھ رہا تھا۔

”یہ کون سا گھر ہے بابا“۔ کمل نے اس سے پوچھا۔
دین محمد کچھ نہ بولا۔ چوکنا ہو کر نیفے سے چھرا نکالا۔
”دکھاؤ، دکھاؤ“۔ کمل کی آنکھوں میں نرالی چمک پیدا ہو گئی۔

”دکھاؤ مجھے۔ بابا دکھاؤ مجھے“۔ وہ ایک دم ہٹیلا بن گیا۔ دین محمد نے چھرے والا ہاتھ پیچھے کیا ضد میں آ کر کمل نے زور سے چھرے پر ہاتھ مارا۔ نرم صحت مند ہتھیلی لہو سے رنگ گئی۔

”بابا“! کمل چیخا۔
”جانی، جانی، کمل میرا بچہ“۔ دین محمد کی آنکھوں میں سویا ہوا سمندر موجیں مارنے لگا۔

(شہناز شورو کے افسانوی مجموعے ّزوال دُکھٗ سے انتخاب)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3