بدلتا ہوا شاہی محلہ اور بدلتے کردار
ڈانس ماسٹر بولا، ”خانم کل جب بڑے سائیں کی گاڑی سازندوں کو لینے نیچا چیت رام روڈ پر کھڑی تھی تو تماشبین اس کوکنکھیوں سے دیکھ رہے تھے اور کچھ چھچھورے تو بہانے بہانے سے اس کے پاس سے گزرتے ہوئے اس پر ہاتھ سے لکیر بنا نے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ اور پھر جب طبلہ ہارمونیم والے اپنے بابو چھیما اور ماسٹر نذیر خاں دوسرے ساتھیوں سمیت گاڑی میں سوار ہو رہے تھے تو ان کی شان دیکھنے والی تھی۔ وہ تو پہچانے ہی نہیں جا تے تھے۔ اعلیٰ کوالٹی کی پینٹ اور شرٹس میں ملبوس وہ سب فلمی ہیرو لگ رہے تھے۔ “
گل بہشت نے عمدہ جا ن کی حفاظت کے لئے اس کے علاقے کا ہی ایک لڑکا رکھ لیا تھا۔ دلاور اس کے ساتھ ہمیشہ سائے کی طرح جڑا رہتا تھا۔ بد مزاج اور اکھڑ طبیعت کا مالک، لیکن عمدہ جان کی ایسے خدمت کرتا جیسے پُرانے دور کے خواجہ سرا شہزاد یوں کی کیا کرتے تھے۔ جب وہ بازار میں کسی کام کی غرض سے نکلتی تواس کے ساتھ ساتھ چلتا۔ اس کے بازو آگے کو بڑھے ہوئے ہوتے، یوں محسوس ہوتا کہ ہٹو بچو کی للکار الاپ رہے ہیں۔ وہ دونوں زیادہ تر ہند آریائی داردی زبان شینا میں باتیں کرتے۔
کچھ لوگ کہتے تھے کہ وہ اس کا عاشق ہے لیکن اس کی کسی حرکت سے یہ محسوس نہیں ہوتا تھا۔ وہ اونچا لمبا تگڑا جوان تھا۔ روزانہ شام کسرت کرنے شاہی قلعہ کے زیر سایہ آباد اکھاڑ ے میں جاتا۔ جب پہلے دن استاد کے لئے پگ لے کر گیا تو اس نے دلاور کا لنگوٹ کستے ہوئے کہا، ”اؤ پٹھے! دھیان رکھنا، تم ہیرا منڈی کے رہنے والے ہو، اسے کبھی ڈھیلا نہ ہو نے دینا۔ نہیں تو تمہاری دی ہوئی یہ پگ داغدار ہو جائے گی۔ “ منڈی کی بہت سی طوائفوں نے اس کے لئے منتیں مانگی، چڑھاوے چڑھائے لیکن وہ نہ پسیجا۔
کافر ادا طوائف نوراں، ایک زمانہ جس کا دیوانا تھا، اس کے لئے پاگل تھی۔ مجال ہے کہ دلاور نے کبھی اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا ہو۔ یہی خوبی دیکھ کر اسے عمدہ جان کا چوکیدار بنایا گیا تھا۔ گل بہشت کو پتا تھا کہ نتھ اترنے سے پہلے ہی موسیقی کے استاد اور ڈانس ماسٹر لڑکیوں سے حظ اٹھا لیتے ہیں۔ وہ خاندانی طوائف جانتی تھی کہ قدر شناس جوہری سچے موتی پہچان جاتے ہیں اور ان بدھا مو تی ہی صحیح قیمت پاتا ہے۔
اسے پہلی مرتبہ مجرہ کے لئے بٹھایا جانا تھا، پورے شاہی محلہ میں نیاز بانٹی گئی۔ میڈم زاہدہ اسے پکڑ کر منڈپ میں لائی۔ دور دراز کے صاحب ثروت افراد کو ہی دعوت دی گئی تھی۔ عمدہ جان کا پہلا مجرہ ہی پُر کمال تھا۔ اس ہوش ربا فتنہ طراز کی اٹھان قیامت تھی۔ اسود پتلیوں کی حامل بلوریں دیول نینوں کو گھماتی تو سب کے دل ان کے ساتھ ہی چکر کھا جاتے۔ اس کے جسم میں ناگن کا بل تھا اور ندی کی لہروں کا لوچ، سنبل کا پیچ و خم تھا اورگلبن کی لچک۔ مدور ڈھلانوں کو ابھارتی توعشاق کے دل کے جزر کو مد کر دیتی۔
کچھ دنوں کے بعد ہی گل بہشت کی حویلی کا رنگ ڈھنگ ہی بدل گیا۔ اب دن میں بھی بڑی بڑی گاڑیاں اس کے دروازے کے سامنے کھڑی دیکھی جاتی تھیں۔ گل بہشت کو کوئی جلدی نہیں تھی۔ ویسے بھی ان دنوں ملکی حالات بھی اچھے نہیں تھے۔ الیکشن کے بعد حکومت تو بن گئی تھی لیکن ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ لاہور میں اکثر سیاسی جلسوں کے بعد فسادات شروع ہو جاتے۔ پھر ایک دن صبح پتا چلا کہ جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد ہی بازار شیخو پوریاں میں عجیب و غریب قسم کے اونچے لمبے افراد ا ِدھر اُدھر تھڑوں پر بیٹھے اورفضول چلتے پھرتے نظر آناشروع ہو گئے۔
وہ کسی کوٹھے پر نہیں جاتے تھے اور شکل و صورت سے ان بازاروں کے خریدار بھی نہیں معلوم ہوتے تھے۔ ان کی زیادہ تر توجہ کا مرکزمیڈم زاہد ہ کی حویلی تھی۔ میڈیم کے پاس عام تماشبین تو پہلے ہی نہیں جاتے تھے۔ اگر ان کا کوئی پرانا جاننے والا ادھر کا رخ کرتا تووہ اس سے سوال جواب شروع کر دیتے اوراس شخص کو واپس جانا پڑتا یا وہ اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے جاتے۔ میڈم اور ان کی بچیوں نے باہر نکلنا بالکل بند کر دیا تھا۔ ان گلیوں میں کبھی کوئی پولیس کا بندہ نہیں آتا تھا۔ یہ بازار تو زمینداروں، رئیسوں، راجواڑوں اور نوابوں کے رسم ورواج اور شاہانہ انداز کے گواہ تھے۔ ادھر تو دل کے سودے ہوتے تھے۔ جسم کا دھندا تو ٹبی تھانہ کے گردا گرد ہوتا تھا۔
جب ایسے حالات بن گئے تو شرفا نے ادھر دھول پھانکنے آنا تھا۔ بازار میں مندے کا رجحان تھا۔ اچھے اچھے کوٹھوں کی یہ حالت ہو گئی کہ کبھی ٹائم لگ جاتا ( یہ ایک مقامی ٹرم ہے، جس کا مطلب ہے مجرہ میں اچھے اچھے تماشبین آ گئے ہیں اورآج کمائی صحیح ہو گی) تو پھول والوں، پان والوں اور موسیقاروں کا چولہا بھی گرم ہو جاتا ورنہ وہ دل کی ہانڈیا میں بھوک کا سالن پکا کر من کو بہلا لیتے۔ گل بہشت نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور عمدہ جان کو خفیہ خفیہ ایک بلوچی سردار کے پاس روانہ کر دیا۔ بلوچی سردار جوان اور خوبصورت تھا۔ سب کچھ گلبرگ میں واقع اس کی کوٹھی میں ہی طے ہوا۔ اس نے کافی دن پہلے کپڑے لتے، تحفے تحائف اورزیورات بھیج دیے تھے۔ عمدہ جان کو دلہن بنایا گیا۔ اسے ان باتوں کا علم نہیں تھا۔ اس نے پو چھا، ”کیا میری شادی ہو رہی ہے؟ “
”ہاں! ہم نکاح متعہ کریں گے۔ “
اسے سجی سنوری گاڑی میں بٹھاکر گلبرگ لایا گیا۔ گل بہشت اور دلاور بھی اس کے ساتھ ہی گئے۔ اگلے دن وہ واپس آگئے اور سردار اسے لے کر مری چلا گیا۔
دو تین ماہ گزر گئے۔ اب مال، پیغام لانے لیجانے کے لئے اکثر دلاور ہی گلبرگ آتا جاتا تھا۔
ایک دن صبح دلاور اُدھر گیا تو وہ اس کے ساتھ لگ کر رو پڑی۔ عمدہ کی بائیں آنکھ سوجی ہوئی تھی۔ کوٹھی میں سب ابھی تک سوئے ہوئے تھے۔ وہ ضد کر کے اس کے ساتھ حویلی آ گئی۔ اس کے ارد گرد مجمع اکٹھا ہو گیا۔ نالہ بلب گل بہشت نے پو چھا تو وہ روتے ہوئے بولی ”رات ہمارے گھر موسیقی کی محفل تھی۔ فلمی اداکارائیں بھی ناچ رہی تھیں۔ لیکن آپ کو پتا ہی ہے میرے ہوتے سب شرمندہ سی تھیں۔ رات دیر گئے تھکاوٹ سے چور میں اپنے کمرے میں آئی تو سردار کا ایک دوست، جو بہت بڑا افسر لگتا تھا، میرے پیچھے ہی آ گیا۔ میں نے لاکھ مزاحمت کی، وہ تھا ہی بہت ہٹا کٹا۔ اس نے مجھے روند ڈالا۔ “


