بدلتا ہوا شاہی محلہ اور بدلتے کردار
”یہ تو سردار نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے۔ بہت غلط کام کیا ہے۔ “ گل بہشت غم و غصے سے برہم تھی۔
بوڑھی ملکہ جان نے اسے گود میں لے کر کوسنا شروع کردیا۔ ”خدا غارت کرے، ایسے ظالم کو۔ انہوں نے میری بیٹی کو لاوارث بنگالن سمجھ لیا ہے۔ “
اس کے پیچھے ہی سردار کے آدمی بھی پہنچ گئے۔
”دوش ان کے سنگت نے باز (زیادہ) پی لی اس لئے وجہ نشہ میں کمو (کچھ) بہک گئے۔ نواب نے اٹھتے ہی حکم داد کہ عمدہ بائی کو تِلے (سونے ) کاجڑاؤ ہاربدے و یک لک کلدار ء چیک بھی۔ “ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعدخاص نوکر پھرگویا ہوا،
”اے معاملات میں۔
کمو زیادتی وا ہو ہی جاتی ہے۔ ”
خانم منہ بنا کر دوسری طرف چل پڑی، وہ بھی دونوں ہاتھ پیٹ کے نیچے باندھے اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ قریب جا کر آہستہ سے بولا، ”ترا معلوم وا ہے کہ مرچی کل ان کی حکومت است۔ و مئے صوبہ میں وہ ہر وقت ہی با اختیار رہے ہیں۔ ایسے مردم کو ما ناراض نہیں کر سکتے۔ اگر سردار صاحب را وزارت مل ء تو تی بھی وارے نیارے ہو جائیں گے۔ سارے بازار میں اب زاہدہ بائی کی بجائے تیری بیٹی کا نام گونجے گا۔ “
چلتے چلتے وہ زیر لب کہنے لگی،
”میں ابھی اسے نہیں بھیج سکتی۔ دوچار دن میں بیچاری کے زخم ٹھیک ہو جائیں گے توپھر سوچیں گے۔ سردار صاحب کو کہہ دینا اگر ایسا مال چاہیے ہو تو ٹبی گلی اور گلی سبز پیر کا رخ کیا کریں۔ سردار صاحب تو ہیں خاندانی رئیس، فنکاروں کے سر پرست، لیکن اِن افسروں کا رجحان طبیعت صرف برائی کی طرف ہی مائل ہوتا ہے۔ یہ لال کڑتی بازاروں میں کچا پکا گوشت کھانے والے، لکھنوی ادب آداب کیا جانیں؟ “
”بازوش“ کہہ کر وہ واپس چل دیا۔
دلاور بھی سن رہا تھا۔ کہنے لگا، ”اس کے باوجود آپ اسے اُدھر بھیجنے کو تیار ہو گئی ہیں؟ “
”تم کون ہوتے ہو بیچ میں بولنے والے؟ پہلے ہی تم نے مجھ سے پوچھے بغیر اسے واپس لا کر غلطی کی ہے۔ وہ تو سردار صاحب بہت اچھے ہیں ورنہ ایسے کون اپنی چیز کو باہر جانے دیتا ہے؟ خبر دار اگر پھر کبھی ایسی حرکت کی۔ ورنہ مارے جاؤ گے۔ “
پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی، ”اب اس جمعرات کو بابا معصوم شاہ کے دربار پر سلام کے بعد تم ہی اسے چھوڑنے جاؤ گے۔ میں نواب کو کہہ دوں گی وہ گاڑی بھیج دے گا۔ “
وہ سر جھکائے باہر چلا گیا۔
میڈم زاہدہ کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے تھے۔ ایک دن گل بہشت نے سردار سے بات کی اس نے بھی انکار کر دیا، ”یہ معاملات مجھ سے اوپر کے ہیں۔ ہاں اگر وہ اپنے بارے میں اخبار والوں کو کچھ بول دیں۔ اور اپنی بچیوں کو لے کر سامنے آ جائیں توان کا بہت بھلا ہو سکتا ہے اور پھر میں بھی اس کی مدد کر سکوں گا۔ یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا، مجھے بھی یہ پیغام ملا ہے۔ “
گل نے بات کی تو میڈم نے صاف انکار کر دیا۔ گالوں پر باپ کی رنگت جیسی گلابی شفق سجائے پاس بیٹھی خوبرو بچیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوے بولی، ”میں نے اس کی اولاد کو جنم دیا ہے۔ سائیں نے میرے ناز نخرے اٹھائے ہیں۔ اب اس پر مشکل وقت آیا ہے تو میں سیاسی مخالفین کے لالچ اور آمر کی سزاؤں سے ڈر کر اس کے خلاف بیان دے دوں۔ لوگ کہیں گے بازار کی باسی تھی، بِک گئی، طوائف تھی نہ۔ “
”تو اب آپ نے کیا سوچا ہے؟ سارے بازار کی رونقیں ان ظالموں کی وجہ سے ماند پڑ گئی ہیں۔ “ گل نے پو چھا۔
”یہ کچھ دنوں کی بات ہے۔ نا اُمید ہو کر خود ہی چلے جائیں گے۔ میرا کیا ہے؟ میں تو اس کی جنم جنم کی داسی ہوں۔ سانول سائیں کا بھرم نبھاؤں گی۔ اپنے من مندرکے دیوتا کی پوجا کرتے زندگی بتا دوں گی۔ “
سردار کے ساتھ چھ ماہ کا معاہدہ تھا۔ اس کے بعد عمدہ جان واپس آ گئی۔ سردار ابھی اسے اپنے پاس ہی رکھنا چاہتا تھا اور وہ بھی یہی چاہتی تھی لیکن سردار کوصوبائی حکومت میں اہم ذمہ داری مل گئی۔ وہ کوئٹہ چلا گیا۔
آہستہ آہستہ بازار کی رونقیں بھی واپس آ گئیں۔ نامعلوم افراد بھی اب نظر نہیں آتے تھے۔ سائیں اختر میڈم کی بچیوں کو پڑھانے آنا شروع ہو گئے۔ عمدہ جان کا مجرہ دوبارہ شروع ہو گیا۔ اب اس کی شوخی ختم ہو گئی تھی۔ صرف دلاور کے ساتھ ہنس کھیل لیتی۔
زمیندار، اور نواب اب کم ہی ادھر آتے۔ سرمایہ دار، سنیارے، آڑھتی اور سرکاری افسرگانا سننے آجاتے۔ وہ اکثر اس کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتے کرتے حدود کو پار کرنے کی کوشش کرتے تو عمدہ جان گانا چھوڑ کر آجاتی۔ دوسری لڑکیاں گانا جاری رکھتیں لیکن محفل جلد ہی بکھر جاتی۔ گل بہشت اسے سمجھانا چاہتی تو وہ ناراض ہو جاتی۔ بہت سے دیوانے کھیت رہتے لیکن وہ کسی طرح رنگ پر ہی نہیں آ رہی تھی۔ ایک دن ان کا طائفہ گانے کے لئے ایک زمیندار کی حویلی گیا اوراس رات اس کے ساتھ پھروہی واقعہ ہوا۔ اُس نے بہت شور مچا یا لیکن بے سود۔ اب وہ اس بازار کی ساری باتیں جان گئی تھی۔ اسے پتا تھا کہ سب خانم کی مرضی سے ہوا ہے۔ دلاور بھی اس رات ادھر ہی تھا۔ اسے زیادہ غصہ اسی پر تھا۔ موقع ملا تو پوچھا، ”تُس مے مددکن نِہ تھا؟ (تم نے میری مدد کیوں نہیں کی) “
وہ چلا یا، ”خانم سے موشہرتے چینی لی۔ (مجھے تو خانم نے شہر بھیج دیا تھا) “۔ اس دن دونوں کو احساس ہوا کہ ان کے درمیان کچھ اور بھی ہے۔ اب عمدہ کو بھی حوصلہ مل گیا تو عمدہ نے خانم سے بات کی، ”میں گانا گاؤں گی لیکن یہ کام نہیں کر سکتی۔ “
اگلے دن گل بہشت نے دلاور کو حویلی سے نکال دیا۔ ”خبر دار! اگرتم آئندہ ادھر نظر آئے۔ “
پھر عمدہ کے ساتھ دوچار بار ویسا ہی ہوا تو اس نے بھی سر جھکا دیا۔
اب دلاورسارا دن شہابو حلوائی کی دکان پر پڑا رہتا۔ شہاب دین دہلی کے مشہور حلوائی چاند خان کا بیٹا تھا۔ انتہائی اعلیٰ ادبی ذوق کا مالک۔ اس کی دکان پر لاہور کے بڑے بڑے ادیبوں اور فلم انڈسٹری کے عظیم لوگوں کا بیٹھنا اٹھنا تھا۔ دل جلے آتے جاتے دلاورکو چھیڑتے، ”تین ماں نہ تیرہ ماں، نہ ٹنڈ کے بیراں ماں۔ “ دہلی کا باسی اس کی حالت زار دیکھتا اور تو کچھ نہ کہہ سکتا، جھڑک ضرور دیتا، ”لاہوریو! تمہارا رنگ روپ تو بدل نہیں سکتا، اپنی زبان ہی صحیح کر لو۔ اتنے خوبصورت محاورے کا بیڑا غرق کر دیتے ہو۔ تین میں نہ تیرہ میں ستلی کی گرہ میں۔ “
دلاورجھنجھلاتے ہوئے زیر لب کہتا، ”خدا سے مو اءنوکہ سنا لو؟ ( خدا نے مجھے ایسا کیوں بنایا؟ ) مو دل بٹ گہ چمر کہ نہ سنا لو؟ ( میرا دل پتھر اور لوہے کا کیوں نہیں بنایا؟ ) مجھے عاشق مزاج بنا کر اس بلا ئی مو کہ پھنسایا؟
پہلوانی چھوڑ دی۔ سردائی تو پیتا ہی تھا اب اس میں بھنگ شامل کر لی۔ پھر چرس اور گانجے کی تسکری بھی شروع کردی۔ کچھ مہینوں کے بعد خانم کے پاس جا پہنچا۔ نوٹوں کا ڈھیر اس کے سامنے پھینک دیا۔ تین پہررات گزر چکی تھی۔ سب لڑکیاں مشکلات سے قرار پا کر خواب خرگوش میں مدہوش پڑی تھیں۔ وہ عمدہ کے کمرے کی طرف چل پڑا۔ خانم چادر اوڑھ کرلیٹ گئی۔
عمدہ جاگ رہی تھی اسے دیکھ کر پہلے توپریشان ہو گئی پھربھاگ کر اس کے ساتھ لپٹ گئی۔ دونوں دیوانے ہوگئے۔
جوش جنوں عروج پر تھا۔ ان کے لب سلے تھے اور جسم کی کپکپاہٹ شور مچا رہی تھی۔ اس کے بدن کی رعنائیوں میں آگ تھی اور بے قراری بھی۔ گول سخت ابھار اسے پھونک رہے تھے۔ انجان دلاور جسم کی بھول بھلیوں میں راستہ ڈھونڈتا بھٹک گیا تو اس نے سارے بھید کھول کر اسے منزل تک پہنچا دیا۔
لذت کی انتہا پر ان کی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ یہ آہیں ساری کہانی کہہ رہی تھیں۔ دلاور نے کانپتے ہوئے بازوؤ ں کے دائرے میں گھیر کر اپنے جلتے ہوئے ہونٹ اس کی آنکھوں پر رکھ دیے جن کا ابلتا ہوا پانی اسے بھگو رہا تھا۔
جب ان کو ہوش آیا تو وہ خوفزدہ ہو کر اس سے علیحدہ ہو گئی۔ باہر جا کر خانم کے کمرے میں جھانکا تو اسے سوتا دیکھ کر کچھ حوصلہ ہوا۔ واپس آکر اسے کہنے لگی، ”یاس در بک تھے یازونت۔ (چلو بھاگ چلیں ) خانم کو پتا چل گیا توجس تو مروایا تھے۔
(وہ تمہیں مروا دے گی) ۔ ”
جس مو کہ مروایا تھے؟ ” (وہ مجھے کیوں مروائے گی؟ ) میں نے اس کوامید سے زیادہ پیسے دیے۔ چہ مو اکثر ایم (اب میں اکثر آ یا کروں گا) ۔ “
عمدہ غصے سے لال ہو گئی،
”نِہ تُس یوک تھا؟ ( یہ تم نے کیا کیا؟ ) “
میرا آئیڈیل تو میڈم زاہدہ تھی جس نے ظلم برداشت کیے لیکن بکی نہیں اور اس کا سانول بھی ظالموں کے سامنے نہیں جھکا۔ تم ڈر بھی گئے اور پھر تس مو سودا تھا (میرا ہی سودا کر لیا) ۔ مو فاحشہ نہ اصلِس ( میں طوائف نہیں تھی ) ۔ میں تو زاہدہ تھی، آج تم نے مجھے طوائف بنا دیا۔ ”
۔ ۔
ہاں سب بدل گیا ہے۔ شاہی محلہ بھی، لوگ بھی بدل گئے۔ ان کے چہرے مہرے تو وہی ہیں، رنگ روپ بھی پرانا ہی ہے لیکن کوئی سندھی سانول سائیں جیسا نہیں ہے۔
صرف ایک اچھی بات ہے کہ داتا وہی ہے۔
(اس افسانہ میں بہت سے کردار اور واقعات فرضی ہیں۔ کسی سے مناسبت اتفاقاً ہوگی۔ اگر اس سے کسی کی دل آزاری ہو تو ہم معذرت خواہ ہیں۔ )



