پاکستان میں پاپ موسیقی کے معمار: عالمگیر



پاکستان میں پاپولر یعنی ”پاپ” موسیقی رُو شناس کرانے والوں میں احمد رشدی کے بعد عالمگیر کا نام سرِ فہرست ہے۔ میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز کے شعبہ پروگرام سے 1980ء میں منسلک ہوا تو اُس وقت تک عالمگیر کا نام بن چکا تھا۔ اس میں کاشف لمیٹڈ کے مشترک فلم ساز ایم احمد شمسی اور نور الدین کیسٹ اور ہدایت کار نذر الاسلام کی ڈائمنڈ جوبلی فلم۔ ”آئینہ“ (1977ء) کا بڑا حصہ تھا۔ اس میں روبن گھوش کی موسیقی میں عالمگیر اور مہناز کے دو عدد دوگانے :
’مجھے دل سے نہ بھلانا، چاہے روکے یہ زمانہ
تیرے بِن میرا جیون کچھ نہیں‘
اس کے گیت نگار تسلیمؔ فاضلی تھے او ر
’وعدہ کرو ساجنا چھو کے مجھے تم ابھی
جیون کی اس راہ میں
ہر گیت ہر آہ میں
بچھڑیں گے نہ ہم کبھی‘
مقبولِ عام تھے۔

اس سے پہلے فلم ساز و ہدایت کار علی سفیان آفاقی ؔ صاحب کی فلم ”جاگیر۔ “ (1975) میں مسرورؔ انور کا لکھا اور نثار بزمی کی موسیقی میں عالمگیر کا گیت، ’’ہم چلے تو ہمارے سنگ سنگ نظارے چلے” سُپرہٹ ہو چکا تھا۔ پھر پاکستان ٹیلی وژن سے بھی اُس کے کئی گیت مشہور ہو چکے تھے۔

میں پروڈیوسر سلطانہ صدیقی کے ساتھ موسیقی کے پروگرام کیا کرتا تھا۔ ایسے ہی ایک پروگرام ”اُمنگ“ میں پہلی مرتبہ عالمگیر نے بحیثیت موسیقار، گیت نگارمحمد ناصرؔ سے چار گیت لکھوائے۔ دو عالمگیر کی آواز، ایک افشاں احمد اور ایک افشاں کے ساتھ دو گانا۔ شاید اُس وقت یہ عالمگیر کو پتا بھی نہ ہو گا کہ آگے چل کر اس کے یہ دو گیت بہت زیادہ مقبول ہوں گے:
”شام سے پہلے آنا
دھوپ ساری ڈھل چکی ہو
پھول سارے کھِل چکے ہوں
موسم سارے لے آنا“
اور
”کہہ دینا آنکھوں سے، سمجھ لینا باتوں سے، کوئی تو رہتا ہے سانسوں میں“۔

اِن کے علاوہ افشاں کا گیت: ”دور کہیں جھیلوں کے پیچھے مجھ کو گیت سنائے، میں نے جس کے سپنے دیکھے شاید وہ آ جائے“ بہت پسند کیا گیا۔ عالمگیر نے پروڈیوسر سلطانہ صدیقی اور میرے پروگرام ”اُمنگ“ سے پہلے کئی بار کوشش کی تھی کہ اُسے اپنے گیتوں میں خود موسیقی دینے کی اجازت دی جائے لیکن انکار کیا جاتا رہا کہ موسیقاروں کی موجودگی میں کوئی گلوکار یہ کام نہیں کر سکتا۔ یہ پروڈیوسر سلطانہ صدیقی کی مہربانی تھی کہ اُس کی یہ خواہش پوری ہوئی۔

گیت نگار محمد ناصرؔ نے بھی دھنوں کا حق ادا کر دیا۔ بہر حال سلطانہ صدیقی اور میرے پروگرام میں موسیقار کی حیثیت سے عالمگیر کے یہ گیت ای ایم آئی اسٹوڈیو کراچی مرکز میں ریکارڈ ہوئے۔ میں نے یہیں سے آڈیو کا کام سیکھا تھا لہٰذا اسٹوڈیو کے ریکارڈسٹ اور دیگر عملہ اپنے لوگ اور خود ای ایم آئی میرا دوسرا گھر تھا۔ سب لوگوں نے بہت حوصلہ افزائی کی اور توقع سے بڑھ کر نتائج ملے۔ یہ آڈیو ریکارڈنگ اس قابل تھی کہ اسی ساؤنڈ ٹریک کو بعد میں کیسٹ میں بھی پیش کیا گیا۔

محمد ناصر ؔ کا ساتھ عالمگیر کو بہت راس آیا۔ ناصرؔ صاحب کے لکھے ہوئے یہ گیت:

”یہ شام اور تیرا نام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “،
”میں نے تمہاری گھاگھر سے کبھی پانی پیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
”پاس آ کر کوئی دیکھے تو پتا لگتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
”تم میری آنکھیں ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
”شام سے پہلے آنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ لا زوال ہیں۔

عالمگیر کے ساتھ میں نے خاصا وقت گزارا ہے۔ وہ گلوکار اور موسیقار کیسا تھا؟ یہ بعد کی بات ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ انسان کیسا تھا! عالمگیر کو میں نے منکسر المزاج پایا۔ لیکن نہ جانے کیوں یہ ٹیلی وژن میں مغرور مشہور تھا۔ عالمگیر نے اپنا نام بنانے میں اتنی زیادہ مشکلات دیکھیں کہ ایسا شخص مغرور ہو ہی نہیں سکتا۔

اُس نے مجھے خود بتایا تھا:
”میری عمر اُس وقت 15 سال ہو گی جب میرے دل میں امریکا جانے کا شوق پیدا ہوا۔ میرے بڑے بھائی نے مشورہ دیا کہ مجھے پہلے کراچی سے انٹر میڈیٹ کرنا چاہیے پھر امریکا جانے کا سوچوں۔ ڈھاکا میں پڑھائی نسبتاً مشکل تھی۔ لہٰذا مجھے انہوں نے ڈھاکا سے کراچی ایک عزیز کے پاس بھیجا لیکن میں جب کراچی پہنچا تو وہ عزیز ڈھاکا واپس جا چکے تھے’‘۔

یہاں سے عالمگیر کی مشکلات شروع ہوئیں۔ اِن کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا لہٰذا پہلی رات طارق روڈ کے قریب جھیل پارک میں کھلے آسمان تلے بسر کی۔ ساز و سامان کوئی تھا نہیں۔ ایک عدد بیگ اور ایک گٹار۔ صبح نوکری کی تلاش شروع کی۔ سامنے ہی ایک ریستوراں (غالباً) ’کیفے ڈی خان‘ نظر آیا۔ وہاں 350 روپے ماہانہ، رات کا کھانا اور روزانہ دو گھنٹے گٹارکے ساتھ گانا گانے کی بات طے ہوئی۔ عالمگیر نے اپنی کہانی سناتے ہوئے بتایا :
”جلد ہی قسمت مجھ کو پی ٹی وی کراچی مرکز لے گئی جہاں میں پروگرام ’سنڈے کے سنڈے‘ میں آرکسٹرا میں گٹار بجانے لگا۔ ایک مرتبہ وہاں پاپ موسیقی میں ایک گیت بنایا جا رہا تھا لیکن کوئی آواز معیار پر پورا نہیں اتر رہی تھی۔ ایسے میں کسی نے پروڈیوسر کو کہا کہ وہ جو لڑکا گٹار بجا رہا ہے وہ ’ایلویس پریسلے‘ کے انگریزی گانے بھی گاتا ہے، ذرا اسے بھی سن لو! اس طرح مجھے موقع ملا۔ میرا پہلاگیت، اسپین کا مشہور لوک گیت تھا جو یہاں ’البیلا راہی‘ کی شکل میں نشر ہوا۔ یہ میں نے ایلویس کو سامنے رکھ کر ریکارڈ کرایا“۔

پی ٹی وی سے ہٹ کر بھی عالمگیر سے میری دعا سلام تھی۔ وہ ایسے کہ میرے جامعہ کراچی کا ہم جماعت، سید سہیل اختر علوی طارق روڈ کے پیچھے 73۔ K الفلاح بی روڈ میں رہتا تھا۔ اس کے پڑوس میں عالمگیر کا سسرال تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عالمگیر نماز روزے سے جڑنے لگا تھا۔ ایک روز وہ بہت صبح مجھے ملا۔ بہت جذباتی ہو رہا تھا۔ کہنے لگا کہ جب یہاں کسی کی کوئی تقریب ہونے والی ہو تو مجھے کہا جاتا ہے کہ محلہ داری ہے خود بھی آؤ اور چھوٹا موٹا فنکشن فری میں کراؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کرا لیا۔ پھر؟ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اُس کے بعد ا صل منافق پروگرام شروع ہوتا ہے۔ محلے کی عورتیں ہمارے یہاں نہیں آتیں اور کہا جاتا ہے یہ تو شو بزنس والے ہیں نہ جانے یہاں کون کون آتا ہو گا۔ میں تو یہ سوچتا ہوں کہ میرا ایک بیٹا ہے، اگر بیٹی ہوتی تو اُس کی شادی کا بڑا مسئلہ ہو تا!

عالمگیر سے ملاقاتوں کا دوسرا دور ریاست ہائے متحدہ امریکا میں ہوا۔ میں ریاست ویسٹ ورجینیا کے شہر ساؤتھ چارلسٹن میں رہتا تھا۔ وہاں میں نے موسیقی کا ایک گروپ بنایا ہوا تھا۔ بھارت، پاکستان اور بنگلا دیش کے موسیقی کے شوقین ہفتے میں ایک دن میرے غریب خانے میں جمع ہوتے تھے۔ میرے پاس اپنا ساؤنڈ سسٹم اور دو عدد کی بورڈ تھے۔ عالمگیر پڑوس کی ریاست ورجینیا میں رہتا تھا۔ میری اُس سے فون پر دعا سلام رہتی تھی۔ ہمارے گروپ میں میڈیکل ڈاکٹر انتخاب احمد بہت فعال تھے۔ اِن کا آئیڈیا تھا کہ ایک بڑا پروگرام عالمگیر شو کروایا جائے۔ اس پس منظر میں یہ شو ہوا اور بہت کام یاب ہوا۔ عالمگیر اپنے گانوں کے آڈیو ٹریک (DAT) ہم راہ لاتا تھا لیکن گانا وہ ہمیشہ لائیو گاتا تھا۔ اُس شو میں عالمگیر نے اپنے مخصوص رنگ میں بھر پور مظاہرہ کیا۔

پروگرام کے درمیان مقامی فن کاروں نے بھی گیت سنائے جن میں بنگلا دیش کے پروفیسر ڈاکٹر اسلام محمود، پاکستان سے سیما کلور، اشرف مغل، عمران اور یہ کم تر بھی شامل تھا۔ سازوں میں صرف دو عدد کی بورڈ تھے، جنہیں میں بجا رہا تھا۔ حاضین کی اکثریت بھارت اور بنگلا دیش کی تھی۔ انہوں نے پہلی مرتبہ عالمگیر کو سنا۔ یہاں کے لوگوں میں عالمگیر اور یہ پروگرام اتنا مقبول ہوا کہ آیندہ سال دوبارہ عالمگیر شو کروایا گیا۔ ”لائیو“ گانا ہی اصل گانا ہوتا ہے جبھی تو وہاں کی عوام نے دوبارہ اُس کو بلوایا۔ اِن دونوں پروگراموں کی کام یابی کے پیچھے در اصل ڈاکٹر انتخاب احمد کی بہترین کاوِش تھی۔

عالمگیر کے یادگار ٹی وی گیتوں میں نثار بزمی کی موسیقی میں بنجمن سسٹرز کے ساتھ ”خیال رکھنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اب بھی بچہ بچہ کی زبان پر ہے۔ اس کے علاوہ شادی بیاہ، خوشی کی کوئی بھی تقریب یا ویسے ہی پکنک پارٹی کے ہلے گلے ہوں اور کریم شہاب الدین کی موسیقی میں یہ گیت ”دیکھا نہ تھا کبھی ہم نے یہ سماں، ایسا نشہ تیرے پیار نے دیا سوچا نہ تھا، کھو گئے سپنوں میں ہم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ کوئی نہ گائے، ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ گیت بھی عالمگیر کی پہچان ہے۔ افسوس کہ اس گیت اور خیال رکھنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کے لکھنے والے کا نام ذہن سے اتر گیا۔ بقول فرازؔ: ’اب ذہن میں نہیں ہے کیا نام تھا بھلا سا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘ ۔

عالمگیر حق کا عالمگیر بننا:
عالمگیر خوش قسمت ہے کہ اُس کے ابتدائی فلمی گانے سپر ہِٹ ہوئے۔ موسیقار نثار بزمی اور روبن گھوش نے دھنیں بھی کیا کمال کی بنائی تھیں۔ یہ آج بھی اپنی اصلی تر و تازگی قائم رکھے ہوئے ہیں۔ پھر کریم شہاب الدین کے پی ٹی وی کے گیت بھی عالمگیر کو مشہور کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوئے۔ پاکستان ٹیلی وژن کا پروگرام ”سنڈے کے سنڈے“ وہ پروگرام تھا جس نے ایک رات میں عالمگیر حق نام کے لڑکے کو ٹی وی کے صفِ اول کے گلوکاروں میں شامل کر دیا۔ یوں عالمگیر حق، عالمگیر بن گیا۔

ریاست ہائے متحدہ امریکا میں میری عالمگیر سے اُس کے شو کے بعد چند گھنٹوں کی تفصیلی نشست ہوئی۔ اس میں یہ نئی بات معلوم ہوئی کہ وہ اب غزل اور کلاسیکی موسیقی پر توجہ دے رہا ہے۔ اور اس کا باقاعدگی سے ریاض کرتا ہے۔ مجھے اُس نے چند آئٹم بھی سنائے۔

ہر شخص کے اپنے مخصوص مسائل ہوتے ہیں۔ کون خوشی سے اپنے وطن میں عزت، شہرت اور دولت چھوڑ کر مغربی ممالک میں بسنا چاہے گا مگر ہونی کو کون روک سکتا ہے۔ عالمگیر نے پاکستان میں اپنا عروج دیکھا تھا۔ جب اور جتنے پیسے کی ضرورت ہوئی ایک آدھ کنسرٹ کر لیا اور مسئلہ حل ہو گیا۔ عالمگیر ایک نام تھا۔ لیکن اُس نے ریاست ہائے متحدہ امریکا میں اپنا نام بنانے میں بہت محنت کی۔

عالمگیر کبھی کبھار موڈ میں آ کر کہتا تھا کہ میں گلوکاری یا شو بز کو پیشہ بنانا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے میں اس کے علاوہ کچھ کر بھی نہ سکا۔

کچھ عرصے پہلے عالمگیر پر ایک دستاویزی فلم ’البیلا راہی‘ بنانے کا اعلان کیا گیا۔ مرکزی کردار کے لئے فواد خان کو منتخب کیا گیا تھا جو خود بھی موسیقی کا شوق رکھتا ہے۔ میری ابھی اپنے دوست، گیت نگار محمد ناصرؔ سے بات ہوئی ہے۔ اُن کے مطابق مختلف وجوہ کی بنا پر وہ منصوبہ کچھ زیادہ ہی طول پکڑ گیا۔ اس میں اُن کا لکھا ہوا ایک نیا تھیم سانگ بھی شامل ہے۔

عالمگیر کے کچھ مشہور گیت:
1 ”پاس آ کر کوئی دیکھے تو پتا لگتا ہے، دور سے زخم تو ہر دل کا بھرا لگتا ہے“ گیت محمد ناصرؔ اور موسیقی نیاز احمد۔

2 ”تُم میری آنکھیں ہو میں خوب جیسا ہوں، کبھی اپنے جیسا ہوں کبھی تیرے جیسا ہوں“ گیت محمد ناصر ؔ۔
3 ”چاہے آندھی آئے رے چاہے میگھا چھائے رے، ہمیں تو اُس پار لے کے جانا مانجھی رے“ گیت نگار (غالباً ) شبی فاروقی اور موسیقی کریم شہاب الدین۔

4 ”یہ شام اور تیرا نام دونوں کتنے ملتے جلتے ہیں، تیرا نام نہیں لوں گا بس تجھ کو شام کہوں گا“ گیت نگار محمد ناصرؔ اور موسیقار نیاز احمد۔

5 ”دیکھ تیرا کیا رنگ کر دیا ہے، خوش بو کا جھونکا تیرے سنگ کر دیا ہے“ گیت نگار محمد ناصرؔ اور موسیقار نیاز احمد۔

6 ”دیکھا نہ تھا کبھی ہم نے یہ سماں، ایسا نشہ تیرے پیار نے دیا، سوچا نہ تھا، کھو گئے سپنوں میں ہم“، گیت (غالباً) شبی فاروقی اور موسیقار کریم شہاب الدین۔

7 ”شام سے پہلے آنا، دھوپ ساری ڈھل چکی ہو، پھول سارے کھِل چکے ہوں، موسم سارے لے آنا“۔ گیت محمدناصرؔ اور موسیقی خود عالمگیر نے ترتیب دی۔

8 ”کہہ دینا آنکھوں سے سمجھ لینا باتوں سے کوئی تو رہتا ہے سانسوں میں“، گیت محمد ناصرؔ موسیقی عالمگیر۔

ٍ 9 ”میں نے تمہاری گھاگھر سے کبھی پانی پیا تھا پیاسا تھامیں یاد کرو، سن لو ذرا گوری تم شرما کے، تھوڑا سا بَل کھائی تھیں، وہ دن یاد کرو“۔ گیت نگار محمد ناصرؔ۔

ماضی قریب میں عالمگیر کے گردے کی تبدیلی کا بڑا آپریشن ہوا تھا۔ اللہ تعالی نے فضل کیا اور وہ ما شا اللہ صحت مند ہے اور ایک مقامی ٹی وی چینل میں گلوکار محمد علی شہکی کے ساتھ صبح کی نشریات میں نظر آیا۔ اللہ سے دعا ہے کہ صحت اور عافیت کے ساتھ وہ ہم میں موجود رہے۔

عالمگیر کو 1977ء میں بہترین نئے گلوکار کا نگار ایوارڈ ملا اور 2013ء میں صدرِ پاکستان نے تمغہ برائے حسنِ کارکردگی دیا۔

Facebook Comments HS