شاخ اشتہا کی چٹک


لہٰذا میں اس کے قریب ہو گیا۔ اتنا قریب کہ ہم دونوں کے درمیان سے سارا حجاب اٹھ گیا۔

جب وہ اسی شہر میں رہ کر خوب خوب داد ’بے پناہ حسد اور بہت ساری نفرت اور تضحیک سمیٹ چکا تو بھی میں اس کے قریب رہا۔ پہلے پہل شکیل کے بارے میں شہر کے شاعروں نے یہ شوشا چھوڑا، ہونہ ہو اسے کوئی لکھ کر دیتا ہے۔ جب لوگ تجسس سے پوچھنے لگے کہ وہ کون ہے جو اسے لکھ کر دیتا ہو گا؟ تو ایک ایسے بزرگ شاعر کا نام چلا دیا گیاجو کہنے کو شعر خوب سلیقے سے کہتے اور عادت ایسی پائی تھی کہ خوش شکل لونڈوں میں اٹھنے بیٹھنے کو اس گئے گزرے زمانے میں بھی چلن کیے ہوئے تھے۔ کسی کو ایسی باتوں پر یوں یقین نہیں آ رہا تھاکہ وہ حضرت زبان کے روایتی استعمال تک محدود رہتے تھے اور اچھا اور پکا مصرعہ کہنے کے باوجود خیال کو نیا بنالینے پر قادر نہ تھے۔ ایسا کیوں کر ہو سکتا تھا کہ کوئی خود تو فنی طور پر بے عیب مگر بوسیدگی کا احساس جگانے والا مصرعہ کہنے کو وتیرہ کیے ہو اور اپنے لونڈے کو حرف تازہ سے فیض یاب کرے۔ جب شکیل ایک سے بڑھ کر ایک تازہ غزل لانے لگا تو اس کے خلاف فضا باندھنے والوں کی جیبھیں خود بخود اپنے اپنے تالو سے بندھ گئیں۔ یہی وہ زمانہ تھا جب اس نے اپنے جیسے شاعروں سے آگے نکل کر حاسدین کا گروہ پیدا کر لیا تھا۔ جو لوگ شعر میں اسے مات نہیں دے سکتے‘ اس کی شخصی کمزوریوں کو اچھال کر تسکین پاتے تھے۔

مجھے شکیل سے یہ شکایت تھی کہ آخر وہ اس باب میں انہیں خوب خوب مسالا کیوں فراہم کر رہا تھا۔ وہ میری بات سنتا اور ڈھٹائی سے ہنسی میں اڑا دیتا تھا۔

وہ بارہ کوس پرے پہاڑوں کے ادھر جس گاؤں سے آیا تھا اس کانام تنگ گلی تھا جو بول چال میں مختصر ہو کر تنگلی ہو گیا تھا۔ جب و ہاں اس نے دس جماعتیں پڑھ لیں تو آگے کرنے کو کچھ نہ تھا۔ اس کے باپ کے پاس جو تھوڑی سی موروثی زمین تھی ’اسے گذشتہ سال کی مسلسل بارشوں میں لینڈ سلائیڈ کھا گئی تھی۔ میٹرک کر لینے کے بعد اس کے لیے دو ہی راستے تھے۔ باپ کی طرح مری چلا جائے اور وہاں سیزن کھلنے پر ہوٹلوں میں بیرا گیری کرے یا ادھر شہر میں کسی دکان پر سیلز مین ہو جائے، جیسا کہ اس کے گاؤں کے کئی اور لڑکوں نے کیا تھا۔

اس نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔

تنگلی کا ایک شخص دل محمد ادھر شہر میں ایک کرانے کے اسٹور پر ملازم تھا۔ وہ بقر عید پر گاؤں آیا تو شکیل کے باپ نے اس سے بات کی۔ اس نے فوری طور پر تو اسے یہ کہہ کر مایوس کر دیا کہ وہاں شہر میں کام کرنے کے خواہش مند لڑکے ہر روز آتے رہتے تھے جو کم اجرت پر کام کرنے کو تیار ہو جاتے لہٰذا شکیل کو وہاں بھیجنا، لڑکے کو ایک لحاظ سے ضائع کرنا ہی ہو گا۔ اس کے باپ نے دل محمد کی نصیحت کو محض ٹالنے کا بہانہ سمجھا۔ وہ اپنے مالک کو بڑا خسیس اور گھٹیا کہہ رہا تھا جو کم اجرت دیتا اور کام زیادہ لیتا تھا۔ یہ سب کچھ درست ہو سکتا تھا مگر دل محمد کے گھر والوں کی گزر بسر ٹھیک ٹھاک ہو رہی تھی لہٰذا اس نے خوب منت سماجت کر کے اسے مجبورکر لیا کہ وہ شکیل کو شہر لے جائے اور اپنے مالک سے ملا دے، آگے رہی اس کی قسمت۔ دل محمد نے جو کہا، وہ جھوٹ نہیں تھا۔ اس کا مالک نام کا گل زادہ تھا ’نکلا پورا حرام زادہ۔ اسے دیکھتے ہی اس کی رالیں ٹپکنے لگی تھیں۔

شکیل نے پہلے روز اس کی رالیں نہیں دیکھی تھیں کہ وہ تو اپنی ضرورت اور اپنی مجبوریوں کو دیکھ رہا تھا۔

گل زادہ نے شکیل کی رہائش کا بندوبست دل محمد کے ساتھ دکان کے پچھواڑے میں کرنے کی بجائے اوپر والے فلیٹ میں اپنے ساتھ کیا۔ اس نے اپنے ساتھ اپنے مالک کو یوں مہربان پایا تو اس کے قریب ہوتا چلا گیا۔ دوسری تنخواہ تک وہ اس پرخوب مہربان رہا اور جب اس بار بھی تنخواہ کی رقم کا منی آرڈر گھربھیج چکا تو ایک رات وہ اس کے بستر میں گھس گیا۔ سردیوں کے دن تھے ’پہلے پہل اس کا یوں لحاف میں گھس آنا شکیل کو برا نہ لگا تھا تاہم رفتہ رفتہ شکیل پر اس حرام زادے کی نیت کھلی پھر وہ خود ہی کھلتا اور اسے کھولتا چلا گیا۔ بعد میں وہ یہ واقعہ اپنے آپ کو اذیت دینے کے لیے قہقہہ لگا کر سنایا کرتا۔

تاہم وہ یہ بھی کہتا کہ وہ جس مشکل میں پڑ گیا تھا اس سے ہمت کر کے نکل آیا تھا۔

جب میں نے شکیل سے اس کا یہ قصہ سنا، تو بات ایک قہقہے پر نہیں رکی تھی۔ قہقہے کی آواز ابھی معدوم نہیں ہوئی تھی کہ فوراً بعد اس کے حلقوم میں ہچکیوں کی باڑھ امن ڈپڑی تھی۔ اس نے اپنی اس کیفیت پر قابو پانے کے لیے اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں تلے دے کر کاٹ ہی ڈالا تھا۔ شکیل نے ذراسنبھلنے کے بعد یہ بھی بتایا تھا کہ اس کا مالک اس پرایسے میں کھل رہا تھا جب وہ ان سہولتوں کا عادی ہوتا جا رہا تھا جو اس نے گاؤں میں دیکھی تک نہ تھیں۔ اس کے باپ کے پاس بھی ایک معقول رقم پہنچنے لگی۔ اس مختصر سے عرصے میں اس نے اپنے باپ کو اتنی رقم بھیج دی، جتنی اس نے کبھی اپنے باپ کے پاس یکمشت دیکھی ہی نہ تھی۔ اپنے ہی باپ کا کفیل بننے میں اسے لطف آنے لگا۔ یہی لطف تھا کہ جس نے اسے فوری طور پر بے روزگار ہونے کے لیے تیار نہ ہونے دیا۔ بعد میں جب راتیں مسلسل لذت اور کراہت کے بیچ گزرنے لگیں تو اس کا دل شدت سے الٹنے لگا۔ وہ وہاں ٹھہرا رہا، یہاں تک کہ وہ اپنے دل کی گہرائیوں سے اس شخص سے شدید نفرت محسوس کرنے لگا۔ یہ نفرت اتنی شدید تھی کہ ایک رات، جب کہ اس کا مالک اوندھا پڑا اس کا انتظار کر رہا تھا، وہ چپکے سے باہر نکل آیا۔

جس روز وہ گل زادہ کی ملکیت اور اس کے فلیٹ سے نکلا تھا، اس روز اس نے صاف صاف ایک لذیذ سنسناہٹ کو اوندھے پڑے بھاری چربیلے بدن میں ریڑھ کی ہڈی سے دمچی کی طرف بہتے ہوئے پایا تھا۔

مارکیز کا ناول دوسری بار پڑھنے کے بعد اب اگر میں اس دن کی بابت سوچوں، جس روز شکیل نے مجھے اپنا یہ قصہ سناتے ہوئے قہقہہ لگایا اور فوراً بعد اپنے دم کو ہچکیوں کا پھندا لگا لیا تھا تو مجھے شکیل کی جگہ مارکیز کے ناول کی وہ با کرہ لڑکی یاد آ جاتی ہے جسے نوے سالہ بوڑھے نے دیلگدینہ کا نام دیا تھا۔ دیلگدینہ، جو پانچ دسمبر کو محض پندرہ سال کی ہو رہی تھی مگر جسے اپنے گھر کے اخراجات چلانے کے لیے شہر سے باہر دن میں دوبار بٹن ٹانکنے جانا پڑتا تھا۔ اس لڑکی کو ایک دن میں، جب سوئی اور انگشتانے سے، سو سو بٹن ٹانکنا پڑتے تو وہ ادھ موئی ہو جاتی۔ دیلگدینہ اور شکیل کو میں ایک ساتھ یوں دیکھ رہا ہوں کہ دن بھر اپنے مالک گل زادہ کا کرانہ بیچتے اور گاہکوں کے نہ ٹوٹنے والے رش سے نبٹتے نبٹتے شکیل بھی بالکل اس لڑکی کی طرح ادھ موا ہو جاتا۔ تاہم ان دونوں کو کہانی کے اس مرحلہ پر ایک جیسی مشقت میں پڑا دکھانے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ دونوں کہانی کے باقی مراحل بھی ایک جیسے ہوں گے۔ شکیل، جو اپنے مالک کی دمچی میں سنسناہٹ چھوڑکر نکل آیا تھا، بعد میں بہت خوار ہوا۔ تاہم ایک روز آیا کہ ایک دوسرے شخص نے نہ صرف اسے اپنے ہاں ملازمت دی، اس کے نکاح میں اپنی بیٹی صفیہ بھی دے دی تھی۔

شکیل ملازمت کے لیے آیا اور گھر داماد ہو گیا تھا۔

وہ خوب رو تھا اور سلجھا ہوا بھی۔ ہمت کی بھی اس میں کمی نہ تھی۔ وہ ضرورت مند تھا اور ایک لحاظ سے دیکھیں تو شرف اللہ بھی ضرورت مند تھا اس کی بیٹی کنواری رہ گئی تھی۔ یہ ایسی ضرورت تھی جس کے لیے شکیل کی کسی بھی ضرورت کو پورا کیا جا سکتا تھا۔ لہٰذا اس نئے گھر میں اس اس کے بارے میں بھی ویسا ہی سوچا جانے لگا جیسا کہ ایک بیٹے کے بارے میں سوچا جا سکتا تھا۔ صفیہ، شرف اللہ کی اکلوتی اولاد تھی۔ اس کے پاس جو کچھ تھا، اسی کا تھا۔ دونوں کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری سمجھا گیا کہ شکیل کالج میں داخلہ لے لے۔ سال بھر کی ملازمت اور خواری کے بعد شکیل فوری طور پر مزید پڑھنے کی طرف راغب نہ ہو پایا۔ جب اسی کی بیوی نے ایک شفیق ماں کی طرح اس کا حوصلہ بڑھایا اور سسر نے یقین دلایا کہ تعلیم پر اٹھنے والے سارے اخراجات وہ خود اٹھائیں گے تو اس نے کالج میں داخلہ لے لیا۔

یہیں وہ شاعری کی طرف راغب ہوا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4