شاخ اشتہا کی چٹک


جن دنوں میں شکیل کی طرف متوجہ ہوا، اس نے ایم اے کر لیا تھا اور ایک غیر سرکاری کالج سے وابستہ تھا۔ شام کو وہ اسی کالج میں چلنے والی اکیڈمی میں پڑھا کر خوب کما بھی رہا تھا تاہم اس بارے میں مطمئن نہ تھا اور کچھ نیا کرنے کی بابت مسلسل سوچاکرتا۔ ان دنوں اس شہر میں پراپرٹی کا کاروبار بہت عروج پر تھا۔ اس نے دو ایک ایسے سودے کمیشن کی بجائے ٹاپ یعنی پلاٹ نقد اٹھا کر بیچنے کی بنیاد پر کیے۔ ان سودوں نے اسے اتنا مارجن دیا کہ وہ یکسوئی سے اس کاروبار میں جت گیا۔ پھر تو ٹاپے پر ٹاپا اترنے لگا اور اس کے حالات بدلتے چلے گئے۔

اس کے حالات ہی نہیں بدلے وہ خود بھی بدلتا چلا گیا۔

شہر بھر کے ان شاعروں نے سکھ کا سانس لیا جو مشاعروں میں اس کی ساری توجہ سمیٹ لینے پر اس سے نالاں رہتے تھے کہ اب وہ ادھر آتا ہی نہیں تھا۔ ایسا نہیں ہوا کہ اس نے تقاریب میں آنا یک دم موقوف کر دیا تھا۔ پہلے پہل اس میں تعطل کے وقفے پڑے۔ پھر جب کبھی وہ آتا تو مجھے بھی ساتھ اچک کر باہر لے جاتا کہ اسے سننے سنانے سے کوئی دلچسپی نہ رہی تھی۔ گاڑیاں بدلنا اس کا معمول ہوتا جا رہا تھا کہ اس کاروبار میں بھی اس نے اچھی خاصی سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔

یہ بدلا ہوا شکیل دیکھ کر میں اس شکیل کی بابت سوچنے لگتا تھا جسے پہاڑوں سے آتے ہی مجبور پا کر گل زادہ نے پچھاڑ لیا تھا۔

شروع شروع میں، میں سمجھتا رہا تھا کہ وہ صفیہ سے شادی کر کے مطمئن ہو گیا تھا۔ اس کی زندگی میں جس طرح آسائشیں آ رہی تھی ان کے جھانسے میں وہ خود بھی ایک مدت تک یوں ہی سمجھتا رہا تھا۔ اس عورت کے بطن سے اس نے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں پیدا کیں۔ بقول اس کے اسے اپنے بچوں سے بہت محبت تھی۔ یہ بعد کی بات ہے کہ اس نے گاڑیاں اور لڑکیاں بدلنا مشغلہ بنا لیا تھا۔ ان دنوں اس نے نہ صرف صفیہ کا بلکہ ان تینوں بچوں کا ذکر بھی چھوڑدیا تھا۔ میں نے کہا نا کہ میں شکیل کے بہت قریب تھا۔ یہ بھی بتا دوں کہ اس کے بیوی بچے مجھ سے بہت مانوس تھے تاہم کہتا چلوں کہ جس تیزی سے وہ ان سے دور ہوا، میں بھی انہیں ملنے سے کترانے لگا تھا۔ میں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ شکیل کے سب لچھن جان گئے ہوں گے۔ میں نے ان کے سامنے جاتا تو ممکن تھا کہ صفیہ ا س حوالے سے بات چھیڑکر میری مدد مانگ لیتی۔ میں جانتا تھا جس لذت کی دلدل میں وہ اتر چکا تھا کوئی بھی اسے نکال نہیں سکتا تھا۔ حتی کہ میں بھی۔ میں نے اپنے تئیں ایک آدھ بار بچوں اور صفیہ کا ذکر کر کے اسے اس دلدل سے نکالنا چاہا تھا۔ بچوں کے نام پر تو وہ چپ ہو گیا مگر صفیہ کا ذکر آتے ہی اس نے ویسا ہی قہقہہ لگایا جیسا کہ وہ گل زادہ کا نام آنے پر لگایا کرتا تھا۔

گل زادہ اور صفیہ میں اگر کوئی مشابہت ہو سکتی تھی تو وہ دونوں کا بھاری بھرکم وجود تھا جو تھل تھل کرتا تھا۔

ایک اور بات جو مجھے ہمیشہ الجھن میں ڈالتی رہی ہے وہ شکیل کا صفیہ کے ذکر پر عجب طرح کا قہقہہ لگانا تھا، ایسا قہقہہ کہ بات محض اس مشابہت تک محدود نہ رہتی تھی۔

صفیہ، شکیل سے عمر میں نو دس سال بڑی ہو گی۔ بچوں کی پیدائش کے بعد تو وہ اس کے مقابلے میں کہیں بوڑھی دکھائی دیتی تھی۔ تاہم وہ اس کے بچوں کی ماں تھی اور اس کا یوں اس کی توہین کرنا مجھے بہت کھلتا۔ جس روز وہ ایک قیمتی گاڑی پر آ کر مجھے تقریب سے اٹھا کر ایک ہوٹل لے گیا تھا، اس نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اس کی عمر کے آدمی کے لیے ایک جوان عورت کے وجود کی کیا اہمیت تھی۔ اسی روز اس نے اپنے موبائل کے قدرے زیادہ پکسل والے کیمرے سے لے گئی پانچ مختلف لڑکیوں کی تصاویر دکھائی تھیں جن میں سے ایک تصویر تو ایسی تھی جس میں وہ خود بھی موجود تھا۔ موبائل کا ڈسپلے بڑا، اور تصویریں خوب شوخ، شفاف اور روشن تھیں۔ جس تصویر میں وہ خود موجود تھا، اس کے آگے کو جھکے ہوئے دائیں کندھے سے، میں نے اندازہ لگایا کہ اسی سمت کے بازو کو آگے بڑھا کر یہ تصویر اس نے اپنے سیل کے کیمرے سے خود کھینچی تھی۔ اس کے ساتھ ایک ایسی لڑکی تھی جس کی عمر ہو نہ ہو اس کی اپنی بڑی بیٹی سونیا جتنی تھی۔ لڑکی اور وہ خود بھی جہاں تک تصویر میں نظر آ رہے تھے لباس کی تہمت سے پاک تھے۔ اگرچہ تصویر میں سے لذت ابلی پڑرہی تھی مگر سونیا سے اس تصویر والی لڑکی کی مشابہت قائم کرتے ہوئے میں سارا مزا کرکرا کر بیٹھا تھا۔

مجھے سونیا سے اس لڑکی کا موازنہ نہیں کرنا چاہیے تھا، جس کے ساتھ، بقول شکیل کے، اس نے نوٹوں میں تولنے کے بعد ایک رات کی رفاقت پائی تھی۔

ماننا پڑے گا کہ مارکیز کی کہانی کا بوڑھا عورتوں کی گنتی کے بارے میں کہیں آگے تھا۔ تاہم یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ ان عورتوں پر خرچ کے معاملے میں (اگر فی کس عورت کے حساب سے خرچ کا تخمینہ لگایا جائے تو) شکیل کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ یہ بھی بجا کہ مارکیز کا بوڑھاصحافی ’جسے چکلہ چلانے والی روسا کبرکس ”اے میرے اسکالر“ کہہ کر مخاطب کرتی تھی، جس عورت سے بھی (اس ناول کے ترجمہ کار کی اصطلاح میں ) جفتی کا تعلق بنانا چاہتا، اسے معا وضہ ضرور ادا کیا کرتا تھا، لیکن یہ بھی واقعہ ہے کہ وہ تھا پرلے درجے کا کنجوس۔ اگر آپ نے یہ ناول مکمل طور پر پڑھ رکھا ہے تو آپ کی نظر میں اسی مرکزی کردار کا اعترافی بیان ضرور گزرا ہو گا جس کے مطابق وہ بخیل آدمی تھا۔ اس مقام پر پہنچ کر تو ہو نہ ہو آپ کی ہنسی ضرور خطا ہو گئی ہو گی جہاں اس جنس زدہ بوڑھے نے اپنی نوے ویں سالگرہ کی رات ایک با کرہ کے ساتھ گذارنے کے لیے خرچ کا حساب چودہ پیسو لگایا تھا۔ یعنی اخبار سے ملنے والے پورے ایک ماہ کی کالم نویسی کے معاوضے کے برابر۔ پھر جس طرح اس بوڑھے نے پلنگ کے نیچے کے مخفی خانوں سے عین حساب کے مطابق ریزگاری نکالی تھی، دو پیسو کمرے کا کرایہ، چار مالکہ کے لیے، تین لڑکی کے واسطے، پانچ رات کے کھانے اور اوپر کے خرچے کے لیے، سچ پوچھیں تو یہ پڑھ کر میری ناف سے ہنسی کا گولا اٹھا اورمیرے جبڑوں کو اتنا دور اچھال گیا تھا کہ وہ بہت دیر بعد ہی واپس اپنی جگہ پر آ پائے تھے۔ میری کہانی کا شکیل ان لوگوں میں سے نہیں تھا جو اس معاملے میں بھی گن گن کرخرچ کرتے ہیں۔ یہ جو اس نے لڑکی کو نوٹوں میں تولنے کی بات کی تھی تو اس سے قطعا اًس کی یہ مراد نہیں تھی کہ اسے اپنا بہت سا روپیہ خرچ ہو جانے کا احساس تھا۔

وہ تو اس لڑکی کے دام بالا بتا کر اس کی قدر وقیمت کا احساس دلانا چاہتا تھا۔

”اپنی سوگوار بیسواؤں کی یادیں“ نامی کتاب میں عین وہاں سے کہانی جنس کا چلن چھوڑکر محبت کی ڈگر پر ہو لیتی ہے جہاں یہ بتایا گیا ہے کہ قحبہ خانے کے ایک اہم گاہک کو پویلین کے پہلے کمرے میں کوئی چاقو مار کر قتل کرنے کے بعد فرار ہو گیا تھا۔ کہانی کے بوڑھے اسکالر نے جب خون سے لت پت بستر پر ابلے ہوئے مرغ کی طرح پیلے ہو جانے والے اس لحیم شحیم آدمی کی لاش کو پڑے دیکھا تھا تو اس کے جسم پر کپڑے کی ایک دھجی نہ تھی۔ کہانی کا یہ حصہ پڑھ کر پہلے تو میرے وجود میں سنسنی دوڑی مگر جب یہ بتایا گیا کہ اس ننگی لاش نے جوتے پہن رکھے تھے تو میری ایک بار پھر ہنسی چھوٹ گئی تھی۔ مارکیز نے کہانی کے اس حصے میں جنس کا میٹھا اس مردے پر مل کر اسے لذیذ بناتے ہو ئے بتایا ہے کہ مقتول کا جسم ابھی اکڑا نہیں تھا۔ اس کی گردن پر ہونٹ کی شکل کے دو زخم تھے اور یہ کہ موت کے باعث اس کے سکڑے ہوئے عضو پر ایک کونڈم ہنوز چڑھا ہوا تھا۔ کہانی لکھنے والے نے یہ وضاحت کرنا بھی ضروری جانا ہے کہ کونڈم غیر استعمال شدہ دکھائی دے رہا تھا۔

یہاں مجھے مترجم سے اپنی ایک شکایت ریکارڈ پر لانی ہے اور اسے داد بھی دینی ہے۔ شکایت کا یہ موقع وہاں وہاں نکلتا رہا ہے جہاں اس نے اردو جملوں کو بھی ترجمہ کیے جانے والے متن کے قریب رکھ کر انہیں پیچیدہ بنادیا۔ ناول کے نام کے ساتھ بھی یہی رویہ روا رکھا گیا ہے جب کہ اسے تھوڑا سا بدل کر رواں کرنے کے لیے ”اپنی سوگوار بیسواؤں کی یاد میں“ کر دیا جاتا تو زیاہ مناسب ہوتا۔ اور اب مجھے برملا اس جرات اور سلیقے کی داد دینی ہے جس کو روبہ عمل لا کر اس نے ان لفظوں کا ترجمہ کر لیا ہے جو بالعموم ہمارے ہاں شائستگی کے تقاضے کے پیش نظر زبان پر نہیں لائے جاتے ہیں۔ تاہم اسے کا کیا کیجئے کہ کونڈم کا ترجمہ کرنا اس نے ضروری نہیں سمجھا۔

شاید اس لفظ کا ترجمہ کرنا اس کے بس میں تھا ہی نہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4