شاخ اشتہا کی چٹک
یہاں شکیل سے متعلق دو واقعات کہانی میں گھسنے کو بے تاب ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پہلا واقعہ خود بخود آگے چل کر دوسرے واقعے سے جڑ جاتا ہے۔ پہلے واقعہ کا تعلق ان دنوں سے ہے جن دنوں اس کے اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب نے مڈل اسٹنڈرڈ امتحان کی تیاری کے لیے یونین کونسل مسیاڑی کے دفتر میں اضافی پڑھائی کا اہتمام کیا تھا۔ امتحانوں تک اسے اور اس کے ہم جماعتوں کو وہیں رہنا، پڑھنا اور رات گئے وہیں سونا تھا۔ یہ قصہ شکیل بہت مزے لے لے کر اور خوب کھینچ تان کر سنایا کرتا مگر مختصراً یوں ہے کہ جب ماسٹر صاحب چلے جاتے اور دن بھر پڑھ پڑھ کر اکتائے ہوئے لڑکوں کو کچھ نہ سوجھتا، تو وہ ملحقہ کمرے میں منصوبہ بندی والی دواؤں کے ساتھ پڑے ہوئے چمکیلے لفافوں میں بند سفید غبارے چوری کر کے خوب پھلایا کرتے تھے۔ یہ غبارے اگرچہ اس طرح رنگین نہ تھے جیسے تنگلی میں سودے کی ہٹی پر ملتے تھے مگر ان میں ایک ایسی خوبی تھی جو ان رنگین غباروں میں بھی نہ تھی کہ یہ ہوا بھرنے پر بہت پھولتے تھے۔ وہ سب اس پر خوش تھے کہ ان کے ہاتھ بہت سے چٹے خمور غبارے لگ گئے تھے اور رات گئے ان میں اس پر مقابلہ لگا رہتا تھا کہ کون انہیں سب سے زیادہ پھلائے گا۔ شکیل کے مطابق ان دنوں ان غباروں پر سفید رنگ کا سفوف ملا ہوتا تھا جس سے ان کے ہونٹ اور گال یوں ہو جاتے تھے جیسے ان پر آٹا مل دیا گیا ہو۔ اسی سفیدی نے ان کی شرارتوں کا پول ہیڈ ماسٹر صاحب پر کھول دیا تھا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب کو پہلے تو غصہ آیا پھر کچھ سوچتے ہوئے ہنس پڑے اور کہا ”نامعقولو! یہ ناپاک ہوتے ہیں کہ اس میں بیمار پیشاب کرتے ہیں۔ “
اگلے روز ساتھ والے کمرے پر تالا نہ پڑگیا ہوتا تو وہ ضرور تجربہ کرتے کہ ان غباروں کو بیمار کیسے استعمال کرتے تھے کہ ہیڈ ماسٹر صاحب کی بات انہیں مزید الجھا گئی تھی۔
اسی شکیل نے، کہ جسے ہیڈ ماسٹر صاحب نے ایک زمانے میں الجھا دیا تھا، اب اس الجھن سے پوری طرح نکل آیا تھا۔ اس نے مجھے لگ بھگ ویسے ہی کھلے منہ والے غبارے کی اپنے سیل فون کے قدرے زیادہ پکسل والے کیمرے سے کھینچی ہوئی تصویر تب دکھائی تھی جب میں اجلاس سے اٹھ کر اس کے ساتھ ہوٹل آ گیا تھا اور جب وہ اپنی دوست لڑکیوں کی پانچوں تصویریں دکھا چکا تھا۔ مجھے اس کا سنایا ہوا اوپر والا واقعہ عین اس موقعے پر یوں یاد آیا تھا کہ تصویر میں بھی لگ بھگ ویسا ہی غبارہ تھا۔ تصویر والا غبارہ بالکل سفید نہ تھا، ایسی جلد کی رنگت لیے ہوئے تھا جس میں چمک بھی آ گئی تھی۔ میں نے کراہت کو اپنے حلقوم تک آتے پا کر اس کا سیل فون اسے لوٹاناچاہا تو نہ چاہتے ہوئے بھی پھسلتی ہوئی ایک نظر اس غبارے پر ڈال لی۔ مجھے صاف دِکھ رہا تھا کہ اس میں کسی بیمار نے پیشاب تو نہ کیا تھا تاہم کچھ تھا جس سے وہ ذرا سا پھول کر ایک طرف کو ڈھلک گیا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ رفتہ رفتہ وہ ساری لڑکیاں جن کی اس نے تصویریں بنا رکھی تھیں یا ان جیسی دوسری لڑکیاں جو کیمرے والا موبائل دیکھتے ہی بدک جاتی تھیں ’ایک ایک کر کے اس کی زندگی سے نکل گئیں اور ان سب کی جگہ عاتکہ لے لی تھی۔
بتایا جا چکا ہے کہ مارکیز کے لذت مارے بوڑھے کی دیلگدینہ پانچ دسمبر کو پندرہ برس کی ہوئی تھی اور کہانی میں جب سالگرہ والی رات آتی ہے تو بوڑھے اسکالر کی حرکتیں پڑھ کر گمان سا ہونے لگتا ہے کہ جیسے اسے اس لڑکی سے محبت ہو گئی ہو گی مگر واقعہ یہ ہے کہ وہ اسے پورا گانا سنا کر اور پورے بدن پر بوسے دے کر ایک بے قابو مہک جگانا چاہتا تھا۔
اس روز وہ اس بے قابو مہک کو جگا کر اور خوب تھک کر وہ سو گیا تھا۔
اس کی محبت تو تب جاگی تھی جب قتل والی رات کے بعد دیلگدینہ اور اس کا ملنا ایک عر صے تک ممکن نہ رہا تھا۔ اس کے بعد کے صفحات بوڑھے اسکالر کی اس لڑکی کی محبت میں تڑپ کا احوال سمیٹے ہوئے ہیں۔ شکیل کی کہانی میں عاتکہ لگ بھگ اسی طرح کی تڑپا دینے والی محبت کے لیے موزوں ٹھہرتی ہے جس طرح کی محبت مارکیز کے مرکزی کردار کو اس پندرہ سالہ لڑکی سے تھی، تاہم اتنی ساری مشابہتوں کے باوجود شکیل کی کہانی بہت مختلف ہو جاتی ہے۔
عاتکہ کو لے کر شکیل نے یہ شہر چھوڑدیا تو مجھے اس کی اس حرکت پر شدید صدمہ پہنچا۔
جس خاندان نے اس شخص کو شہر میں آسرا دیا، اس خاندان سے اس نے وفا نہ کی تھی۔ شکیل سے قربت کی وجہ سے میں جانتا ہوں کہ صفیہ نے اپنی ذات مٹا کر اس کی خدمت اور محافظت کی تھی۔ جس طرح مائیں اپنی اولاد کے عیب چھپا کر اور ان کی خطاؤں کو بھول کر انہیں اپنی محبت کی چادر سے باہر نہیں نکالتیں بالکل اسی طرح کی مسلسل اور بے ریا محبت اسے صفیہ سے ملی تھی۔ جب کئی روز بعد شکیل کے یوں شہر چھوڑنے کی خبر ملی تو میں بھابی کا دکھ بانٹنے اس کے گھر پہنچ گیا اس خدشے کے باوجود کہ مجھے وہ جا کر اپنے دوست کے حوالے سے ناحق خجالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہاں پہنچ کر مجھے اندازہ ہوا کہ شکیل کی ساری حرکتوں کا اندازہ صفیہ کو تھا۔ دونوں بچیاں مجھے دیکھتے ہی دھاڑیں مار مار کر رونے لگ گئیں تاہم صفیہ یوں حوصلے میں تھی جیسے وہ شکیل سے جدائی اور بے وفائی کا وار سہہ گئی ہو۔
میں نے اندازہ لگایا کہ ہو نہ ہو اس کا سبب کچھ اور تھا۔
شاید یہ دونوں کی عمر کا وہ تفاوت تھا جس نے عین آغاز ہی سے دونوں کے بیچ شدید اور تند جذبوں والا تعلق قائم نہ ہونے دیا تھا۔ تاہم وہ پریشان تھی ’اتنا کہ جتنا کوئی اپنی بے انتہا قیمتی شے کے کھو جانے پر پریشان ہو سکتا تھا۔ یہ ماں کے پیار والا سارا احساس مجھے تب محسوس ہوا تھا جب اس نے اپنے بیٹے شہباز کو دیکھا تھا۔ شہباز لگ بھگ اس عمر کو پہنچ گیا تھا جس عمر میں شکیل اس شہر میں آیا تھا۔ جب اس کی ماں نے یہ بتایا کہ شہباز نے کالج جانا چھوڑدیا تھا اور کسی دکان پر کام کر کے اس گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں تو میں نے دیکھا شکیل کے دل گرفتہ بیٹے کا چہرہ غصے سے تمتمانے لگا تھا اور اس نے اپنی مٹھیاں اور ہونٹ سختی سے بھینچ لیے تھے۔
مارکیز نے آخری پیراگراف لکھتے ہوئے بوڑھے اسکالر کے گھر کے باورچی خانے میں دیلگدینہ کو اپنی پوری آواز سے گاتا دکھا کر اپنی کہانی کو رومانوی جہت دے دی تھی۔ مگر میری اس کہانی کا المیہ یہ ہے کہ اپنے خاتمے پر اس سے سارا رومان اور ساری لذت منہا ہو گئی ہے۔ شکیل اپنے ساتھ بھاگ جانے والی لڑکی سے بھی اوب چکا ہے۔ جس عمر میں اسے یہ سیکھنا تھا کہ شدید اور الہڑ جذبوں کو طول کیسے دیا جاتا ہے وہ سدھائے ہوئے جذبوں سے نبٹتا رہا تھا۔ وہ واپس آیا تو سیدھا گھر نہیں گیا میرے پاس آیا شاید وہ اپنے گھر کی دہلیز ایک ہی ہلے میں پار کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا۔ میں اسے رات بھر حوصلہ دیتا رہا اور سمجھاتا رہا کہ اس کے بیوی بچوں کو اس کی ضرورت تھی اور یہ کہ اس کے اپنے گھر میں اس کا انتظار ہو رہا تھا مگر اگلے روز جب میں اس کے ساتھ اس کے گھر گیا تو اس کے بیٹے نے اس پر پستول تان لیا تھا۔ صفیہ نے واقعی اپنے شکیل کو معاف کر دیا تھا تب ہی تواس نے یوں پستول تاننے پر اپنے بیٹے کی چھاتی پیٹ ڈالی تھی۔ شہباز نڈھال ہو کر دہلیز پر ہی بیٹھ گیا۔ صفیہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر اسے الانگھا اور اپنے شوہر کی طرف لپکی۔ دہلیز پر بیٹھے نوجوان کے ہاتھ میں جنبش ہوئی اور اگلے ہی لمحہ گولی چلنے کی آواز کے ساتھ ایک کربناک چیخ میرا وجود چیر گئی تھی۔


