ہاتھ میں موبائل: قربِ قیامت کی نشانی، بے حیائی یا ماڈرنزم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیوٹیشن نے آکر گھر پہ ہی بسمہ کا میک اپ کردیا۔ بسمہ تیار ہوتی رہی اور دل ہی دل میں اس کے دماغ میں کئی ماڈلز کی دلہن بنی ہوئی تصویریں آگئیں بسمہ کو یقین تھا کہ وہ بھی دلہن بن کے بہت پیاری لگے گی۔ بیوٹیشن نے اپنا کام نپٹایا بسمہ کا چہرہ آئینے کے دوسری طرف تھا اتنی دیر میں بشریٰ آپی اندر آ گئیں۔

”ہائے اللہ بسمہ میری گڑیا کتنی پیاری لگ رہی ہو ماشاءاللہ“ انہوں نے آگے بڑھ کے فوراً اس کے سر پہ پیار کیا۔ بسمہ ہلکے سے مسکرائی اس نے آہستہ سے مڑ کے خود کو آئینے میں دیکھا

”یہ میں ہوں؟ ۔“ اس کے سامنے ایک موٹے ہونٹوں والی سفید چہرے کی ایک پچیس تیس سال کی عورت نما دلہن کھڑی تھی۔

”آپی بیس بہت وائٹ نہیں ہوگیا؟“
اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا
”ارے نہیں گڑیا برائڈل میک اپ ایسا ہی ہوتا ہے، تصویریں اچھی آتی ہیں۔“

بسمہ خاموش ہوگئی۔ کچھ دیر بعد ہی خاندان والے آنے لگے ہر کزن جس نے کبھی بسمہ سے سیدھے منہ بات بھی نا کی ہو وہ بھی اس کے روم میں آکر ایسے مل رہی تھی جیسے اس سے زیادہ قریبی دوست اور کوئی نہیں۔ سب سے پہلے تو عموماً یہی تعریف کرتیں بسمہ کتنی پیاری لگ رہی ہو ویسے تو ماشاءاللہ ہو ہی پیاری۔ بسمہ کچھ کنفیوز سی تھی اسے ایسے ٹریٹ کیا جا رہا تھا جیسے وہ کوئی جہاد جیت کے آئی ہے۔ ہر مہمان اس کا سگا بننے کی کوشش میں تھا۔ خواتین اپنے روتے بسورتے بچے لارہی تھیں کہ آؤ دلہن دکھائیں آپ کو بھی دلہن چاہیے یہ والی، پیاری ہے نا۔ وغیرہ وغیرہ۔ دولہا والوں کے آنے تک کا وقت گزارنا عذاب لگنے لگا تھا۔

آخر خدا خدا کر کے دولہا والے آئے بسمہ کے گرد لگا مجمع ایک دم سے چھٹ گیا سب عورتیں دولہا کو دیکھنے باہر چلی گئیں۔ بسمہ کے کمرے کے دروازے پہ پردہ ڈلا ہوا تھا اور بالکل ذرا سا کھلا ہوا تھا ہوا سے کبھی اور کھل جاتا اور کبھی بالکل بند ہوجاتا۔

مین گیٹ سے باسط کے گھر کی خواتین اندر آتی نظر آرہی تھیں ان پہ ایکسٹرا روشنی لگ رہی تھی جس سے اندازہ ہورہا تھا کے آگے مووی والا بھی ہے۔ وہیں سے تھوڑا ٹرن لے کر وہ سب چھت ک طرف جاتی سیڑھیوں پہ جارہی تھیں۔ پیچھے پیچھے مٹھائیوں کے ٹوکرے اٹھائے کچھ لڑکے اور اس کے پیچھے اندازہ ہورہا تھا باسط ہوگا کیوں کہ مووی والا ایک دم سے آگے آگیا اور ایسے اینگل پہ کھڑا ہوگیا کہ پردے کے بیچ موجود ذرا سی جگہ کے سامنے مووی والا آگیا تھا اور باقی سب اس کے پیچھے چھپ گئے۔ وہ کافی دیر کھڑا مووی بناتا رہا اور بسمہ کی آنکھیں پردے کی طرف رہیں آخر کار مووی کی لائٹس بند ہوئیں اور وہ سامنے سے ہٹا مگر سامنے خالی گیٹ بسمہ کا منہ چڑا رہا تھا۔ بسمہ کی دھڑکن ویسے ہی مسلسل تیز تھی اسے اور ٹینشن ہونے لگی۔ برابر بیٹھ کے کیسے دیکھوں گی۔ وہ تھوڑی مایوس ہوگئی۔

ایک دم پردہ زیادہ کھلا اور فائزہ اندر آئی۔
”فائزہ بد تمیز یہ ٹائم ہے آنے کا کب سے انتظار کر رہی تھی تیرا“

”ارے یار آئی ہوئی تو کافی دیر کی ہوں آنٹی والوں نے اوپر بھیج دیا تھا کہ اندر گرمی اور رش سے بسمہ کی طبیعت گھبرا رہی ہے“

”یہ لوگ اتنی عجیب حرکتیں کیوں کرتے ہیں باقی تو کسی کو نہیں روکا ابھی ابھی فوج گئی ہے یہاں سے۔“

”اچھا چھوڑو نا یہ بتاؤ پُتائی کس سے کرائی ہے سوری میک اپ کس سے کرایا ہے“ فائزہ کی شرارت سمجھ گئی وہ

”سنو فیس وائٹ ہورہا ہے نا بہت مجھے بھی یہی لگ رہا تھا آپی نے کہا برائیڈل میک اپ ایسا ہی ہوتا ہے“

” ہاں ہوتا تو ایسا ہی ہے ان کے پاس ایک ہی فارمولا ہوتا ہے جو یہ ہر چہرے پہ تھوپ دیتی ہیں ایج، فیس کٹ اور کومپلیکشن دیکھے بغیر۔ چلو نا تم چل (chill) کرو چند گھنٹوں کی بات ہے اصل میں تو تمہارا وہی پیارا والا منہ ہے نا“

”مگر یار باسط تو یہی دیکھے گا نا ابھی“

”بے تکی باتوں پہ ٹینشن نا لو، کچھ دیر کے خراب میک اپ سے کوئی کسی کی زندگیاں خراب نہیں ہوتیں۔ ویسے بھی صرف بیس زیادہ ہے باقی لگ تم پیاری ہی رہی ہو اور ریڈی ہوجاؤ میں جارہی ہوں اوپر، تھوڑی دیر میں تمہیں بھی لے آئیں گے“

فائزہ کی باتوں سے وہ تھوڑا پرسکون ہوگئی اور واقعی کچھ ہی دیر بعد آپیاں اسے لینے آگئیں اور پیچھے کچھ دم چھلا ٹائپ کزنز بھی جو صرف مووی میں آنے کے شوق میں بسمہ کے ساتھ گھس گھس کے چل رہی تھیں۔

بسمہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اوپر آئی مووی والے کے پیچھے کچھ نظر نہیں آرہا تھا سیڑھیاں ختم ہوتے ہی مووی والے نے کچھ دیر کے لیے فلیش لائٹس بند کردیں۔ بسمہ کو ایک دم لگا اندھیرا ہوگیا مگر آہستہ آہستہ کچھ کچھ منظر واضح ہوا سامنے ہی اسٹیج پہ باسط اپنی بہن اور امی کے ساتھ بیٹھا تھا اور اس پہ پہلی نظر پڑتے ہی بسمہ کی صبح سے تیز چلتی دھڑکن ایک دم تھم گئی۔

”یہ باسط ہے؟“

اسٹیج پہ گندمی سے ذرا زیادہ گہرے رنگت والا لڑکا بلکہ مرد بیٹھا تھا بال کالے ضرور تھے مگر کچھ روکھے۔ اور عمر بھی چھبیس سے زیادہ ہی لگ رہی تھی۔

کچھ لمحوں کے لیے اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے۔ کیا بندہ بدل گیا؟ مگر یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ بشریٰ آپی نے ہلکے سے ٹہوکا دیا۔ ”چلو نا آگے۔“

وہ حیران سی ہی چل دی۔ جیسے جیسے قریب آتی گئی تو نقوش واضح ہوتے گئے۔ اسے اندازہ ہوا بندہ وہی ہے مگر تصویر میں زیادہ کمال شاید فوٹو گرافر کا تھا۔ جس نے برائٹنیس کا ظالمانہ استعمال کیا تھا۔ عمر کافرق بھی اسی کمپیوٹر کے بے دریغ استعمال کا کمال لگ رہا تھا۔ پہلے اس کو غصہ آیا مگر کچھ ہی دیر پہلے اپنا آئینے میں دیکھا سفید چٹا سراپا یاد آگیا۔

جب ہمیں ایک دوسرے کی اصلی شکل کے ساتھ زندگی گزارنی ہے تو اس دھوکے نما خرچے کی کیا ضرورت؟

باسط کی گہری کتھئی آنکھیں بغیر ”کنٹراسٹ“ کے کچھ پھیکی سی لگ رہی تھیں۔ اتنے میں اس کی بہن نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی توجہ اسٹیج پہ آتی بسمہ کی طرف دلائی۔ اس وقت آنکھوں میں در آنے والی چمک کا مقابلہ کمپیوٹر سے کیا ہوا کنٹراسٹ بھی نہیں کرسکا۔ مگر بسمہ کی توجہ اس کی رنگت پہ تھی۔ ارمغان بھی اس سے تو گورا ہی ہوگا۔ کیا دیکھا میرے گھر والوں نے؟

”اففف۔ بسمہ تیری منگنی ہورہی ہے اور تو کہاں کہاں خیالات کے گھوڑے دوڑا رہی ہے“ اس نے دل ہی دل میں خود کو ڈانٹا۔

ساری رسم میں اس کے جذبوں پہ جمود سا طاری رہا اور باسط کے چہرے پہ بہت شریر مسکراہٹ رہی خاص طور پہ جب اس نے انگوٹھی پہنانے کے لیے بسمہ کا ہاتھ پکڑا اور بالکل خفیف سے سر جھکا کر بسمہ کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی۔ بسمہ نے اپنے سرد تاثرات چھپانے کے لیے سر اور جھکا لیا۔ اس کی حرکت کو فطری شرم سمجھا گیا اور اسٹیج پہ زنانہ و مردانہ قہقہے گونج گئے۔

رسم کے بعد کافی دیر تک تصویروں کا سیشن چلتا رہا پہلے اس کی اور باسط کی الگ تصاویر کھینچی گئیں۔ پھر دونوں طرف کے رشتہ داروں کے ساتھ تصاویر کا سلسلہ شروع ہوا۔ کچھ رشتہ دار اسٹیج سے اترنے کو تیار نہیں تھے اور کچھ اسٹیج پہ آنے کو تیار نہیں تھے۔ اسی کھینچا تانی میں تقریباً بارہ بج گئے باقی سب نے اسی دوران کھانا بھی کھا لیا۔ باسط کے لیے بھی الگ ٹیبل پہ کھانا لگا دیا گیا۔ کھانا اس کے سامنے بھی لگا ہوا تھا مگر کسی کو ٹائم نہیں تھا کہ دو منٹ بیٹھ کے اسے کھانا کھلا دے۔

دوپہر میں بھی اس نے ذرا سا ہی کھانا کھایا تھا اب بھوک اور کمزوری سے ہاتھ پاؤں سن ہورہے تھے۔ ایک دو دفعہ دل میں آئی کہ مہمانوں پہ لعنت بھیجے اور خود ہی نکال کے کھانا شروع کردے۔ مگر ”لوگ کیا کہیں گے“ کا سوچ کے خاموش بیٹھی رہی۔ آخر جب سب خواتین نے اسٹیج خالی کردیا تو فائزہ کو موقع ملا اس کے پاس بیٹھنے کا۔ اس نے بسمہ کے لیے تھوڑی سی بریانی نکالی۔

”فائزہ“
بسمہ نے ہلکے سے اسے آواز دی کہ کسی اور کو سنائی نا دے۔
”ہمم“
”تھوڑی اور نکال دو۔ مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے“
”یہ تو کھا لو، دوبارہ نکال دوں گی“

فائزہ نے آہستہ آہستہ اسے کھلانا شروع کیا۔ ایک تو میک اپ میں کھل کے کھایا نہیں جا رہا تھا وہ بھی کسی دوسرے کے ہاتھ سے۔ کہاں تو اسے لگ رہا تھا کہ وہ دو تین پلیٹیں بھر کے بریانی کھا جائے گی اور کھاتے کھاتے یہ حال ہوا کہ چار پانچ نوالوں کے بعد ہی اس نے فائزہ کو روک دیا

”بس یار اب نہیں کھایا جا رہا ۔ بریانی بالکل بھی اچھی نہیں ہے“

”بیٹا جی بریانی ٹھیک ہے تمہارا موڈ اور دماغ خراب ہے“ فائزہ نے بہت ہلکی آواز میں ٹوکا۔ بسمہ کے چہرے پہ پھیکی سے مسکراہٹ آئی۔

فائزہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ایک دم اس کا منہ کیوں لٹک گیا ہے۔ اس موضوع پہ تفصیلی بات چیت اس نے کچھ دن بعد تک ٹال دی۔

لڑکے والے جانے کے لیے تیار تھے جب باسط اپنی سب سے چھوٹی بہن مدیحہ کے ساتھ دوبارہ اسٹیج پہ آیا۔ فائزہ ابھی بھی بسمہ کے ساتھ ہی بیٹھی تھی۔ کافی مہمان جاچکے تھے۔ باسط کے چہرے سے لگا وہ کچھ ہچکچا رہا ہے۔ بہن نے ٹہوکا دیا۔

”دیں نا“
باسط نے ایک گفٹ آگے بڑھا دیا
”یہ آپ کے لیے“
بسمہ نے کنفیوز ہو کر فائزہ کی طرف دیکھا۔ فائزہ نے کندھے اچکا دیے۔
بسمہ نے ہچکچاتے ہوئے گفٹ پکڑ لیا۔ باسط ہلکے سے مسکرایا۔
”اپنا خیال رکھیے گا“
بہت دیر پہلے دھیما ہوجانے والا دل ایک دم دوبارہ تیز دھڑکنے لگا۔ باسط اپنی بہن کے ساتھ جاچکا تھا۔

اس نے گفٹ فوراً سامنے رکھی ٹیبل پہ رکھ دیا۔ جیسے خوف ہو کہ اگر گھر میں سے کسی نے دیکھ لیا تو ڈانٹ نہ پڑ جائے کہ ایک لڑکے سے گفٹ لے لیا وہ بھی گھر والوں کو بتائے بغیر۔

بشریٰ آپی باقی گفٹس اور چیزیں سمیٹنے آئیں تو وہ گفٹ بھی اٹھا کر نیچے کمرے میں لے گئیں۔ ان کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ اسے بھی کسی اور مہمان کا گفٹ سمجھ رہی ہیں انہوں نے بسمہ سے کچھ پوچھا نہیں۔ سارے گفٹس نیچے ڈرائنگ روم کی ٹیبل پہ رکھ دیے گئے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی بسمہ کی نظریں باسط والے گفٹ کے ساتھ ساتھ تھیں۔ 1 تو بج ہی گیا تھا سب کپڑے وغیرہ بدلنے میں لگ گئے۔ اِدھر اُدھر بکھرا سامان تھوڑا بہت سمیٹا گیا کہ صبح تک سونے کا انتظام ہو سکے۔

کئی دفعہ بسمہ کا گزر ڈرائنگ روم کے دروازے کے سامنے سے ہوا اور ہر باراس کی نظر باسط کے گفٹ پہ جا کر ہی ٹھہری۔ رات اتنی ہوگئی تھی کہ یہ طے پایا کہ اب یہ سب گفٹس صبح کھولے جائیں گے۔ بستر پہ لیٹتے ہی بسمہ کو بے چینی شروع ہوگئی کہ گفٹ میں آخر ہوگا کیا۔ کبھی سوچتی اٹھ کر الماری میں چھپا دے کسی کو بتائے ہی نہیں کہ باسط نے کوئی تحفہ دیا ہے۔ کبھی سوچتی کی بس سب گفٹس میں مکس ہوگیا ہے کسی کو کیا پتا کہ کس نے دیا ہے۔ پھر دھیان آیا کہ بشریٰ آپی اور اسماء آپی بچوں سمیت وہیں سورہی ہیں بچے تحفے ادھر ادھر نا کردیں۔ تھکن اتنی تھی کہ زیادہ دیر سوچ بھی نہیں پائی اور نیند میں ڈوبتی چلی گئی۔

صبح گھر میں چہل پہل سے اس کی آنکھ کھلی پہلی بار ایسا ہوا تھا جب وہ سب کے جاگنے تک سوتی رہی مگر کسی نے اسے جھنجوڑ کر اٹھایا نہیں۔ دوسرے ہی لمحے اسے گفٹ یاد آیا کچھ سوچے سمجھے بغیر وہ ایک دم بستر سے اٹھی اور بھاگ کے ڈرائنگ روم میں آگئی دونوں آپیاں اپنے بچوں کو لیے بیٹھی تھیں اور ناشتہ کروا رہی تھیں۔ معمول کے مطابق ڈانٹ ڈپٹ چل رہی تھی مگر بسمہ کا دھیان ان کی طرف تھا ہی کب، اس کی نظریں تو سب سے پہلے ٹیبل پہ رکھے گفٹس پہ گئیں سب کچھ جوں کا توں دیکھ کر اسے سکون ہوا اور جیسے ہوش آگیا۔

”وہ آپی رات جو جھمکے پہنے تھے وہ یہاں ٹیبل پہ چھوڑے کیا میں نے؟“ سٹپٹا کر اس نے بے تکی بات بنا دی۔
”جھمکے؟ نہیں تو وہ تو تم نے فوراً ہی اتار کر جیولری باکس میں رکھے تھے نا، وہاں نہیں ہیں؟“

اسماء آپی کی نظریں چھوٹی بیٹی پہ تھیں جسے وہ نوالا کھلانے بلکہ ٹھسانے کی کوشش میں تھیں مگر جواب بسمہ کو دیا۔

”اچھا میں وہیں دیکھ لیتی ہوں“

” یہ سب بعد میں کرنا جلدی سے ناشتہ واشتہ کر کے فارغ ہوجاؤ گفٹس اور لفافے کھولیں۔ بچوں نے صبح سے دماغ کھایا ہوا ہے کہ خالہ جانی کے گفٹس کھولیں۔ بھیا بھی کئی بار انہیں ڈانٹ کے جا چکے ہیں مگر آج تو یہ قابو میں ہی نہیں آرہے۔“ اسماء آپی نے اس کے مڑتے مڑتے پیچھے سے تھوڑا زور سے کہا۔

وہ ”جی آپی“ کہہ کر غسل خانے میں گھس گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ ناشتے سے فارغ ہوکر ڈرائنگ روم میں آگئی۔ اسے دیکھتے ہی باقی سب بھی آگئے جیسے بس اسی کا انتظار ہو۔ اسے عجیب بھی لگا اور اچھا بھی۔ اتنا پروٹوکول تو اسے کبھی نہیں ملا کہنے کواسکول میں پوزیشن ہولڈر تھی مگر بھیا اور اسد کے پاس ہونے پہ جتنی سیلیبریشن ہوتی اتنی اس کے فرسٹ یا سیکنڈ آنے پہ نہیں ہوتی تھی۔ وہ اہمیت جو وہ گھر کا فرد ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ چاہتی تھی۔

وہ اسے آج مل رہی تھی۔ یہ سب اس نے اسماء آپی اور بشریٰ آپی کی شادی پہ بھی نوٹ کیا تھا جب ان سے وی آئی پی کی طرح برتاؤ کیا جا رہا تھا۔ مگر اپنے لیے یہ سب ہوتے دیکھنا، یہ سب بہت الگ احساس تھا۔ پہلے تو اس کی کبھی نہیں چلی باقی سب سے چھوٹی تھی اور اسد سے بڑی ہونے کے باوجود لڑکی ہونے کی وجہ سے اُس کی ہی سننی پڑتی تھیں وہ مرد جو تھا۔ بقول دادی، کہ بھائی چھوٹا بھی ہو تو بڑا ہی سمجھنا چاہیے انہیں تو بسمہ کا اسد کو نام لے کر پکارنا بھی پسند نہیں تھا۔ بسمہ تب چونکی جب فہد بھیا نے اسے کہا ”بسمہ لفافے تمہارے پاس ہیں یا امی کے پاس لے آؤ تو پہلے وہ کھول لیں۔“ ان کے ہاتھ میں کاپی پین تھا۔

”نہیں بھیا پہلے گفٹس کھولتے ہیں نا۔ آپ اور ابو بعد میں لفافوں کا حساب کرتے رہیے گا وہ سارے امی کے پاس ہی ہیں۔“

بشریٰ آپی یہ کہتے ہوئے اٹھ گئیں۔ انہوں نے سب سے پہلے باسط والا گفٹ اٹھایا۔
”سب سے پہلے تو یہ سب سے اسپیشل گفٹ کھلے گا“ سب معنی خیز انداز میں ہنس پڑے
تب بسمہ کو اندازہ ہوا کہ سب کو پہلے سے پتا تھا کہ یہ گفٹ باسط نے دیا ہے۔

”ان لوگوں کو برا نہیں لگا؟“ گھر کے خوش گوار ماحول پہ وہ خوش بھی تھی مگر ان کے غیر متوقع رویوں پہ حیران بھی۔

”یہ تو بسمہ کو ہی دو خود کھول کے دیکھے کہ اِن کے اُنہوں نے کیا دیا“ اسماء آپی نے شوخ لہجے میں کہا۔

”یہ لیں جی دلہن صاحبہ کھولیے اپنے ہونے والے سرتاج کا تحفہ“ بشریٰ آپی نے فوراً گفٹ اس کے سامنا کردیا۔ وہ ایک دم گڑبڑا گئی۔

”آپی آپ ہی کھول لیں“

”یار تم لوگ گفٹس دادی کے روم میں لے جا کر کھول لو ہمیں لفافوں کا حساب کرنے دو“ بھیا کا جھنجھلاہٹ میں دیا ہوا مشورہ بسمہ کو غنیمت لگا کم از کم گفٹ سب بڑوں کے سامنے تو نہیں کھولنا پڑتا۔ وہ تینوں بہنیں گفٹس لے کر دادی اور بسمہ والے کمرے میں آگئیں۔

گفٹ کھولتے ہوئے بسمہ کے ہاتھ ہولے ہولے کانپ رہے تھے۔ پہلی بار کسی لڑکے کا گفٹ کھول رہی تھی۔ ڈبہ دیکھ کر بھی اسے سمجھ نہیں آیا کہ اندر کیا ہے عموماً تو اس نے یہی دیکھا تھا کہ گھر میں کوئی بھی الیکٹرانکس کا پرانا ڈبہ ہوتا اس میں سوٹ یا چوڑیاں یا کوئی بھی ایسا گفٹ پیک کر دیا جاتا جس کا ڈبہ نہیں ہوتا تھا۔ وہ سمجھی اس میں بھی کوئی ایسا گفٹ ہوگا شاید کوئی شو پیس۔ موبائل کے ڈبے میں سوٹ تو آ نہیں سکتا، ڈبہ کھول کے ایک لمحے کو وہ ششدر رہ گئی۔ اس میں بالکل نیا موبائل رکھا تھا۔

”واہ بسمہ تیرے تو عیش ہوگئے“ بشریٰ آپی بول پڑیں۔ اس نے موبائل آن کیا تو اندازہ ہوا اس میں سم بھی ہے سگنل پورے ہوتے ہی ٹون بجنے لگی۔ ایک ساتھ تین میسج آگئے۔ نمبر باسط کے نام سے پہلے سے سیو تھا۔

”چلو بھئی چلو یہاں تو پرسنل باتیں شروع ہونے والی ہیں“ بشریٰ آپی اور اسماء آپی گفٹس وہیں چھوڑ کے ہنستی ہوئی باہر نکل گئیں۔

” Hello, Basit here“
”ہیلو بسمہ گفٹ کیسا لگا“
”اتنا ایٹیٹیوڈ attitude تو مت دکھائیں یار آپ کا منگیتر ہوں“
بسمہ کو تینوں میسج دیکھ کے اندازہ ہوا کہ باسط شاید رات سے ہی میسج کر رہا ہے۔
اسے لگا وہ ناراض نہ ہوجائے۔ غیر ارادی طور پہ اس نے ٹائپ کرنا شروع کردیا۔

”سوری موبائل ابھی آن کیا۔ یہ تو بہت مہنگا گفٹ ہے“ سینڈ کر دینے کے بعد سوچا کہ گھر میں سے تو کسی سے پوچھا ہی نہیں۔ بھیا کو پتا چلے گا تو وہ تو بہت ناراض ہوں گے ۔ پھر سوچنے لگی کیا پتا نا بھی ہوں آج کل تو سب نرالا برتاؤ کر رہے ہیں۔

وہ اپنی سوچوں میں ہی تھی کہ دوبارہ ٹون بجی
”جنہیں زندگی سونپ دی ہو ان کو موبائل دینا مہنگا تو نہیں ❤❤“

یار یہ ایک دم اتنا فری کیوں ہوگیا؟ بسمہ کچھ حیران بھی تھی اور الجھن میں بھی۔ منگنی کوئی اتنا مضبوط بندھن بھی نہیں یہ تو بس ایک وعدہ ہے اس پہ اتنی جلدی اتنی بے تکلفی؟ اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ اس کا کیا جواب دے۔ کافی دیر وہ موبائل ہاتھ میں لیے بیٹھی رہی۔

”بسمہ؟ آپ کو میری بات پسند نہیں آئی یا میرا تحفہ؟“
اب بسمہ کو لگا کسی کو تو بتا ہی دے۔ یہ نہ ہو ذرا سی لا پرواہی نئے بنے بنائے رشتے کو خراب کردے۔

باہر نکلتے نکلتے دروازے پہ رک گئی۔ بتاؤں کسے؟ جو ڈانٹے بغیر مسئلہ حل کرسکے؟ پھر اسے خیال آیا ڈانٹ تو سب سے ہی پڑنی ہے تو امی سے پوچھ لیتی ہوں ان سے ڈانٹ کھانے کی سب سے زیادہ عادت ہے تو سب سے کم بے عزتی محسوس ہوگی۔ آنکھیں بند کرکے دو تین گہرے سانس لیے اور ہمت جمع کرکے کچن میں چلی گئی۔

”امی!“
”ہمم“
امی چولہے پہ کچھ پکانے میں مگن تھیں۔
”یہ ب۔ کل جو تحفہ ملا اس میں سے موبائل نکلا ہے“ وہ باسط کہتے کہتے جھجھک گئی۔
”ہاں بتایا مجھے بشریٰ اور اسماء نے اچھے خاصے گفٹس کھولنا چھوڑ چھاڑ بھاگ کے بتانے آگئیں سب کو“
”اس پہ میسج آرہے ہیں“
”کس کے“
”جن کا گفٹ ہے“ وہ اب بھی باسط کا نام لینے سے کترا گئی۔
”تو میں کیا کروں؟“ امی کا مسلسل دھیان چولہے پہ رکھے بھگونے پہ تھا۔
”یہی تو میں پوچھنے آئی تھی کہ میں کیا کروں؟ مطلب جواب دوں یا نہیں“

”کرلو بات منگیتر ہے تمہارا اچھا ہے شادی سے پہلے کچھ ذہنی ہم آہنگی ہوجائے گی بس ایک حد میں رہ کر بات چیت کرنا یہ نا ہو کہ گھر کے کام پڑے ہوں اور شہزادی فون پہ لگی ہوں۔ مجھے نہیں پسند لڑکیوں کا ہر وقت فونوں میں گھسے رہنا۔“ جس بات پہ ڈانٹ سننے کی توقع تھی اس پہ تو نہیں پڑی جو غلطی اب تک کی ہی نہیں تھی اس پہ ڈانٹ پڑ گئی۔ بسمہ کمرے میں آگئی۔

”تحفہ تو اچھا ہے مگر بہت مہنگا ہے“ بسمہ کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا جواب دے تو دوبارہ یہی میسج کردیا۔

”افف آپ اس پہ کب تک پریشان ہوتی رہیں گی؟ آپ سے بات بھی تو کرنی تھی آپ چاہیں تو میں موبائل واپس منگوا لوں پھر آپ کے ابو یا فہد بھائی کے موبائل پہ کال کرلیا کروں گا آپ سے بات کرنے کے لیے۔ ٹھیک ہے؟“

”ان کے موبائل پہ تو بہت عجیب لگے گا بات کرنا“

” جی بالکل لگے گا، مجھے اندازہ تھا اسی لیے موبائل دیا آپ کو، اب داد دیں اپنے ہونے والے سرتاج کی ذہانت کی“

”اوہو بس اتنی سی بات پہ ذہانت کے دعوے کرنے لگے“ بسمہ ہنس دی۔ بالکل لاشعوری طور پہ وہ ایک دم ہی مطمئن بھی ہوگئی اور پر اعتماد بھی پتا نہیں امی کی اجازت کا نتیجہ تھا یا باسط کے دوستانہ رویئے کا۔

دن گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ہوگیا کہ بسمہ جہاں جاتی موبائل ساتھ ساتھ ہوتا۔ جیسے ہاتھ پہ چپک گیا ہو۔ کئی دفعہ برتن دھوتے میں سنک میں گرتے گرتے بچا۔ کبھی آٹا گوندھتے میں آٹے سے لتھڑ جاتا۔ یا سالن پکاتے میں چکنائی سے تربتر ہوجاتا۔ پھر بڑی احتیاط سے صاف کیا جاتا۔ شروع شروع میں سب ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ کرتے رہے اس کی اور باسط کی میسجنگ کے حوالے سے اور پھر ایک دم دادی سے اعتراضات شروع ہوئے اور اسد تک نے اس کار خیر میں حصہ لینا شروع کردیا۔ ان کا اعتراض صرف زیادہ میسجنگ پہ ہوتا تو الگ بات تھی مگر خود اجازت دے کر اب اسے اس قسم کی باتیں سنائی جانے لگیں جیسے اس نے اپنی پسند سے کسی سے چکر چلا لیا ہو۔

کبھی دادی اس کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کر قرب قیامت کی پیشنگوئی کرتیں، کبھی امی باپ بھائی کے سامنے بے حیائی پہ ٹوکتیں، کبھی بھیا سستی کا بہانا قرار دیتے۔ جبکہ اس کی کوشش ہوتی کہ اس کی میسجنگ سے اس کا کام متاثر نا ہو۔ کبھی اسد طنز کرتا کہ بسمہ ہائی فائی ماڈرن لڑکی ہوتی جارہی ہے کہ کھلے عام لڑکے سے باتیں کرتی ہے۔ بہنوں کوشکایت ہوتی کہ بسمہ اب ہمیں منہ ہی نہیں لگاتی۔

ہر دفعہ کسی کی بات پہ دلبرداشتہ ہو کر سوچتی کہ اب باسط سے کہہ دے گی کہ میسجنگ بند کریں اب شادی کے بعد ہی بات ہوگی مگر شاید کوئی نشہ تھا جو چھوٹتا ہی نہیں تھا۔ پہلی بار کوئی ایسا ملا تھا جو ہر وقت اس کی ہر بات سننے کو تیار تھا جو اس کی بے وقوفانہ بات پہ بھی فدا ہوتا۔ جو ہر وقت اس کی خوبصورتی اور ذہانت کو کھلے الفاظ میں سراہتا۔ یہ رشتہ گل بانو اور فائزہ کی دوستی سے کچھ الگ ہی تھا۔ اس کے رومان پرور تصورات جیسا۔

******۔ (جاری ہے ) ۔ ******

اس سیریز کے دیگر حصےجہیز اور بری کا سامان، نئے بننے والے رشتے کی پہلی دراڑ :قسط نمبر 6امی نے دادی سے حکومت کب اپنے ہاتھ میں لی؟
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 74 posts and counting.See all posts by absar-fatima

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *