کرونا وائرس کے غریب طبقے پر منفی اثرات
کرونا وائرس کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دینا ہی پریشان ہے۔ یہ وبا چین کے شہر وہان سے پھیلنا شروع ہوئی تھی اور پھیلتی پھیلتی اس وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت چین نے اس وبا پے کافی حد تک اس پے قابو پالیا ہے۔ لیکن اب یہ وبا باقی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہوا ہے۔ اس وائرس کی وجہ سے نہ صرف پوری دینا کی بلکہ پاکستان کے بہت سے لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ چین نے اپنے وہان شہر میں 76 دنوں بعد جا کر لاک ڈاؤن میں نرمی کرنا شروع کی تھی اور اب جاکر وہاں پے پوری طرح سے لاک ڈاؤن کھلنا شروع ہوا ہے، وہ بھی احتیاطی تدابیر کے ساتھ وہاں کے لوگ ابھی ماسک اور دستانے پہنتے ہیں۔
حالانکہ وہاں پے کافی حد تک کرونا وائرس پے قابو پا لیا گیا ہے۔ چین کے شہر وہان کے بعد یہ وائرس پوری دنیا میں پھیلنا شروع ہوا اور اس نے آہستہ آہستہ وہاں کے لوگوں کو متاثر کرنا شروع کردیا۔ ا ٹلی، امریکہ، یورپ، جرمنی، انگلینڈ اور بہت سے ملکوں کو اس وائرس نے اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا اور اس کے بعد یہ وائرس نے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا اور آ ہستہ آہستہ یہ پورے پاکستان میں پھیل گیا۔
جس کی وجہ سے پورے ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے لاک ڈاؤن کرنا پڑا۔ جس کی وجہ سے پاکستان کا غریب طبقہ بہت متا ثر ہوا۔ جس میں روزانہ اجرت پے کام کرنے والے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ پا کستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس فروری میں رپورٹ ہوا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ اس وائرس نے پورے پا کستان کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا۔ جس کی وجہ سے چاروں صوبوں میں لاک ڈاؤن کرنا پڑا۔ 24 مارچ سے لے کر اب تک پاکستان میں لاک ڈاؤن ہے، ابھی بھی حالات کا کچھ نہیں پتہ کے کب تک معمول پے آئے گئے۔
صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ اس وائرس سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے پورے ملک میں لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کر دی گئی ہے۔ اب تک پاکستان میں کرونا وائرس کے کل کیسیز 13,915 ہو چکے ہیں اور اس میں سے 3029 لوگ صحت یاب ہو چکے ہیں اور اس وائرس کی وجہ سے 292 اموات ہوچکی ہے۔ اس وائرس پے آہستہ آہستہ قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پا کستان میں لاک ڈاؤن کو تقربین 36 دن ہو چکے ہے۔ اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریب طبقے کے لوگوں کو بہت ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
جو لوگ روزانہ کاما کے اپنے گھر کا نظام چلتے تھے۔ وہ لوگ اس سے بے حد ہی متاثر ہو رہے ہے۔ اس وبا کی وجہ سے پورا ملک ہی مفلوج ہو چکا ہے۔ کوئی بھی کاروبار نہیں ہو رہا ہے۔ وہ لوگ جو روز کا روز کامتے تھے۔ اب ان کا گھر چلانا بہت ہی مشکل ہو گیا ہے۔ کیونکہ لاک ڈاؤن اور اس وائرس کے ڈر کی وجہ سے کوئی بھی کام ان غریب لوگوں کو نہیں مل رہا ہے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف غریب طبقہ بلکہ کاروباری لوگ بھی اب اس کا شکار ہو رہے ہیں۔
کاروبا ر نہ ہونت کی وجہ سے بہت سے مالی مشکلات پیدا ہورہی ہے۔ اس وائرس پے قا بق پانے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسا بھی کرنا ہو گا، جس سے کاروباری اور خاص طور پر غریب طبقے کے لوگوں کی مشکلات کا حل بھی ہو سکے۔ کام نہ ہونے کی وجہ سے غریب لوگوں کو اپنا گھر چلانا میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ اتنے دنوں سے لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے خاص طور پر غریب طبقے کے لوگوں کو شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔
نہ صرف غریب لوگ بلکہ مڈل کلاس کے لوگوں کو بھی بہت سی مشکلات کا آج کل سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ غریب لوگ اور مڈل کلاس کے لوگ جو پرائیویٹ ہسپتالوں کو برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کو سرکاری ہسپتالوں کو کرونا وائرس کی وجہ سے بند کیا گیا ہوا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ صرف کرونا وائرس کے مریض ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ پے اور کوئی علاج نہیں ہوگا اور وہ لوگ پرائیویٹ ہسپتالوں کو برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔ کیونکہ وہاں پے علاج معا لجہ بہت ہی منہگاہوتا ہے۔
جو ہر کوئی بر داشت نہیں کر سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے غریب طبقہ بہت ہی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے اور ان کو نہ صرف کھانے پینے اور بلکہ علاج معالجہ میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امید ہے کہ جلد ہی اس وائرس پے قابو پا لیا جائے گا اور پوری ملک کا نظام دوبارہ سے اپنے معمول پے آ جائے گا۔ انشاء اللہ


