ہندوستانی سینما کے مشہور اداکار عرفان خان کا انتقال پُرملال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بالاخر اللہ کا مقررہ وقت آ پہونچا اور ہندوستانی سینما میں اپنے منفرد شناخت رکھنے والے فلم اسٹار عرفان خان 54 برس کی عمر میں آج اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ وہ ممبئی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ یکم رمضان کو ان کی والدہ سعیدہ بیگم کا انتقال ہوا تھا۔

آج سے تقریباً دو سال قبل امریکہ میں زیرعلاج کے دوران اطبا نے بتایا تھا کہ وہ کینسر کی ایک پیچیدہ صنف سے متاثر ہیں۔ اس وقت یعنی آج سے تقریباً دو سال قبل کی مندرجہ ذیل تحریر آج بطور خراج عقیدت قارئین کی خدمت میں۔ :

پچھلے دنوں میں نے اپنی ایک تحریر پوسٹ کی تھی کہ دین اسلام اور ایمان کا ایک عنصر راضی برضا اللہ قضا و قدر پر مکمل ایمان ہے۔ اس کے بغیر ہم مسلمان نہیں ہیں :

آمنت ( 1 ) باللہ و ( 2 ) ملئکتہ و ( 3 ) کتبہ و ( 4 ) رسلہ و ( 5 ) الیوم الاخر و ( 6 ) القدر خیرہ و شرہ۔ جب زبان سے اس کا اقرار اور دل میں اس پر پکا اعتقاد ہو تو مصیبتوں کے بڑے بڑے پہاڑ ٹل جاتے ہیں۔ اسی لئے مسلمانوں میں خودکشی کی روش نہیں پائی جاتی۔ ناقابل برداشت پریشانی، لا علاج مرض، عزیز واقربا کی ناگہانی موت کاروبار میں غیر متوقع خسارہ، ملازمت سے عین ضرورت سے قبل برطرفی روز روز کا قرض کھیت و باغات میں خشک سالی کچھ بھی سر پر آجائے جب توجہ الی اللہ کی عبادت عادت بن جاتی ہے تو بے ساختہ ہمارے منہ سے نکلتا ہے انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ہم سب اللہ کے ہیں اور ہم سب کو اللہ کے پاس ہی لوٹ کر جانا ہے۔ تو اللہ کی طرف سے سکینت نازل ہوتی ہے۔ اولئک علیہم صلوات من ربہم و رحمہ۔

اور ہم کہتے ہیں ”افوض امری الی اللہ“ ۔ ہم نے اپنے معاملات اور حالات اللہ کو سپرد کر دیا۔ اور کہتے ہیں : ”حسبنا اللہ ونعم الوکیل“ ہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے۔

منفرد کردار، نایاب مکالمے کا انداز، فلسفیانہ لب و لہجہ سنجیدگی اور متانت کا مجسمہ فلم انڈسٹری کا ہردلعزیز ہیرو عرفان خان کو جب ڈاکٹروں نے یہ کہا کہ وہ ایک نادر و نایاب مرض نیورون ڈاکرائن کینسر سے دوچار ہے تو اس کی زبان سے نکلا میں سرینڈر کرتا ہوں۔

ستر کی دہائی میں حقیقت میں تو نہیں فلم آنند کے کردار کے طور پر راجیش کھنہ (آنند) کو ایک نایاب کینسر لیمفوما ہوتا ہے امیتابھ بچن (ڈاکٹر بھاسکر) اس کا علاج کرتا ہے اور خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ آنند بھی یہ سب کچھ جانتے ہوئے کہ وہ چند ہفتوں کا مہمان یے اس مرض سے وہ جانبر نہیں ہو سکتا پھر بھی وارڈ میں مریضوں کے ساتھ دل لگی کرتا رہتا ہے مگر جب ڈاکٹر کی آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر بے بسی اور اداسی دیکھتا ہے تو بالآخر ڈاکٹر سے کہتا ہے : بابو موشائی زندگی ایک رنگ منچ ہے اور ہم سب اس رنگ منچ کی کٹھ پتلیاں ہیں۔ ہم سب کی ڈور اوپر والے کے ہاتھ میں ہے کب کس کی ڈور کھنچ جائے کوئی نہیں جانتا، اسے نہ آپ آپ بدل سکتے ہیں اور نہ ہم۔ ہا ہا ہا ہا۔ ”یہی ہے سرینڈر کرنا۔

فلم ایکٹر عرفان خان نے ٹائمس آف انڈیا پر ایک ٹویٹ کیا ہے وہ ٹویٹ کیا ہے بس اپنی بے بسی لاچارگی اور قضا و قدر کا اعتراف ہے۔ ”نادر و نایاب کردار کو تلاش کرتے کرتے یہ کیا ہوا کہ میں خود ایک نادر مرض میں مبتلا ہو گیا“ ۔ ” میں تیز رفتار ٹرین میں بیٹھا خوابوں منصوبوں خواہشات اور توقعات کی گٹھری لئے اپنی منزل کی طرف گامزن تھا اچانک ٹی سی نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بتایا اگلا اسٹیشن میری منزل آنے والی ہے۔ میں پریشان ہوگیا بوکھلا گیا گھبراہٹ میں بڑبڑانے لگا اور وہ میرے خواب خواہشات اور منصوبے؟ بیشک بے ثباتی کو ہی ثبات حاصل ہے۔“

کل من علیہا فان و یبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام۔ (قرآن)

ٹویٹ پڑھیں، زبان اور اسلوب سے محظوظ ہوں اور مفہوم کو محفوظ رکھ کر رات میں نرم گرم بستر یا ایر کنڈیشنڈ اور دوسرے آسائش کی اشیا سے مزین کمرے میں جب لیٹیں تو غور کریں کہ ہمارا بھی وقت کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ موت کا کوئی کیلنڈر نہیں ہوتا۔ تو کیا زاد راہ ہمارے پاس ہے اور وہاں کے لئے ہماری جھولی میں کیا ہے؟ ”یایہا الذین آمنوا اتقوا اللہ ولتنظر نفس ما قدمت لغد“ (قرآن) کل کے لئے وہاں کیا بھیجے ہو اس پر غور کرو۔

—————
ٹویٹ کا اردو تر جمہ: قرب عباس صاحب نے کیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل معلوم ہوا کہ میں نیورواینڈوکرن کینسر (neuroendocrine cancer) میں مبتلا ہوں۔
میرے ذہن کی لغت میں یہ ایک بالکل نیا نام تھا۔ مزید معلوم ہوا کہ یہ بیماری ہی نایاب ہے، یعنی کم معلومات اور زیادہ خدشات اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ گویا میں اس ’Trial and Error‘ کھیل کا حصہ بن چکا تھا۔

میں تو کسی اور سمت گامزن تھا۔ ایک تیز رفتار ریل پر سوار۔ جس میں میرے پاس خوابوں، توقعات، منصوبوں، خواہشوں جیسا سامان تھا۔ لیکن اچانک ٹی سی نے پیچھے سے آکر میرا کاندھا تھپتھپا کر کہا؛
” آپ کی منزل قریب آ چکی ہے، اترنے کی تیاری کیجیے!“
میں بوکھلا سا گیا، میری سمجھ میں کچھ نہ آیا؛
”نہیں نہیں۔ ابھی میرا اسٹیشن نہیں آیا!“
”نہیں، اس ریل کا یہی اصول ہے، اگلے اسٹیشن پر ہی اترنا ہوگا!“

اور پھراسی لمحے مجھے اچانک احساس ہوا کہ ہم کسی بے وزن کارک کی طرح انجان سمندر میں بے سمت لہروں پر بہہ رہے ہیں، اس غلط فہمی میں کہ ہم ان لہروں پر مکمل اختیار رکھتے ہیں۔

اس بدحواسی، ہڑبڑاہٹ اور ڈر میں گھبراکر میں اپنے بیٹے سے کہتا ہوں ؛

” میں فقط اتنا چاہتا ہوں کہ میں اس ذہنی کیفیت کو، اس ہڑبڑاہٹ، ڈر، بدحواسی کی حالت کو اپنے اوپر طاری نہ ہونے دوں۔ مجھے کسی بھی صورت میں اپنے پاؤں چاہئیں، مجھے دکھ تکلیف رنج و الم کو اپنے اعصاب پر راج نہیں کرنے دینا!“

میری تو بس یہی خواہش تھی، یہی ارادہ تھا!

کچھ ہفتوں کے بعد ہاسپٹل میں داخل ہو گیا۔ بے انتہا درد میرے وجود میں تھا، اس کا تو اندازہ تھا ہی لیکن اس کی شدت سے واقفیت ابھی ہوئی۔

سب کچھ بے سود رہا۔ نہ کوئی تسلی نہ دلاسا۔ یوں کہ جیسے پوری کی پوری کائنات نے درد کا روپ دھار لیا ہو۔ درد جو اس لمحے خدا سے بھی زیادہ عظیم محسوس ہوا۔

میں ناتواں، بے کس، بیزار حالت میں جس ہسپتال میں پہنچا وہاں اسی بے پروائی کے عالم میں معلوم ہوا کہ میرے ہسپتال کے بالکل سامنے لارڈز اسٹیڈیم ہے۔ میرے بچپن کے خوابوں کا مکہ! اسی درد کے حصار میں ہی گھرے ہوئے میں نے دیکھا کہ وہاں ووین رچرڈس کا مسکراتا پوسٹر ہے جس کی جھلک میرے اندر کوئی بھی احساس پیدا نہ کر سکی۔ یوں کہ جیسے وہ دنیا کبھی میری تھی ہی نہیں، میں بالکل اس سے بے نیاز ہوں۔

اسی درد کی گرفت میں جب میں اپنے ہسپتال کی بالکنی میں کھڑا تھا تو یہ احساس ہوا۔ جیسے موت اور زندگی کے اس کھیل کے درمیان صرف ایک سڑک کا فاصلہ ہے، سڑک کے اس پار کھیل کا میدان ہے اس طرف ہسپتال ہے، میں ہوں کہ ان میں سے کسی ایسی چیز کا حصہ نہیں جو متعین ہونے کا دعویٰ کرے۔ نہ ہاسپٹل اور نہ اسٹیڈیم۔

دل بول اٹھا؛
”صرف بے ثباتی کو ہی ثبات ہے۔“

اسی احساس نے مجھے سپردگی اور بھروسے کے لئے تیار کیا۔ اب چاہے جو بھی نتیجہ ہو، یہ چاہے جہاں لے جائے، آج سے 8 مہینوں کے بعد، یا آج سے 4 مہینوں کے بعد، یا پھر 2 سال۔ فکر رفتہ رفتہ معدوم ہونے لگی اور پھر میرے دماغ سے جینے مرنے کا حساب نکل گیا۔

پہلی بار مجھے لفظ ”آزادی“ کا احساس ہوا، صحیح معنی میں! ایک کامیابی کا احساس۔

اس کائنات کا یہ سچ میں میرے یقین کو کامل کرگیا اور اس کے بعد لگا کہ وہ یقین میرے جسم کے ریشے ریشے میں بھر گیا ہے۔ وقت ہی بتائے ‌گا کہ وہ ٹھہرتا ہے کہ نہیں! فی الحال میں یہی محسوس‌کر رہا ہوں۔

اس سفر میں دنیا بھر سے لوگ میرے صحت مند ہونے کی دعا کر رہے ہیں، میں جن کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا، وہ سبھی الگ الگ جگہوں اور ٹائم زون سے میرے لئے عبادت کر رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کی دعائیں بھی مل‌ کر ایک بڑی طاقت میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ جو کہ تیز رفتار زندگی کی روح کی مانند میرے دھڑ سے ہوتے ہوئے سر سے پھوٹنے لگی ہے۔

یہ پھوٹنے لگی ہے کبھی کوئی کلی بن کر، کبھی کسی پنکھڑی کی طرح، کبھی ٹہنی اور کبھی شاخ کی طرح!

میں ایک حسین اور پرلطف احساس کے تابع انہیں دیکھتا ہوں۔ لوگوں کی نیک خواہشات، پرخلوص الفاظ سے پھوٹتی ہر ٹہنی، ہر پتی، ہر پھول میری زندگی کو حیرتوں، خوشیوں اور تجسس سے سرشار کیے جاتی ہے۔

اب احساس ہوتا ہے جیسے ضروری نہیں کہ لہروں پر تیرتے کارک کا ان پر اختیار بھی ہو!
یہ تو یوں ہے کہ جیسے آپ فطرت کی آغوش میں جھول رہے ہوں!
—–
زندگی شناس فلمسٹار عرفان خان

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *