اپنے لڑکیاں لڑکے یورپ میں بیاہنے سے پہلے خوب سوچ سمجھ لیں
ایک اور افسوس ناک واردات جو پاکستان کی بچیوں سے ہوتی ہے وہ یہ کہ کوئی درمیانی عمرکا بندہ جس کی جینیوئن طلاق ہوئی ہوتی ہے وہ یورپ سے پاکستان میں جب سالانہ چھٹیاں گزارنے آتا ہے تو اپنے ریڈ یا بلیو پاسپورٹ کی مدد سے کسی بھی سادہ لوح فیملی کو پھانس کر ان کی کوئی بظاہر زیادہ عمر، یعنی تیس پینتیس سالہ بیٹی سے، جس کے کے والدین پہلے ہی اس کی ڈھلتی عمر سے پریشان ہوتے ہیں، سے اسلامی لبادہ اوڑھ کر، اپنے اصلی طلاق کے کاغذات دکھا کر، اس سے نکاح کرلیتا ہے۔
پھر وہ تمام چھٹیاں، اسی لڑکی کے گھر بڑے پروٹوکول کے ساتھ گزارتا ہے۔ اور جب چھٹیاں ختم ہوتی ہیں تواس وعدے پر کہ وہ بیرون ملک جہاں اس کی شہریت ہوتی ہے، جا کر اپنی منکوحہ کے کاغذات بنوا کے جلد از جلد اسے اپنے پاس بلوا لے گا۔ مگر پھر یورپ جاکر وہ کئی ماہ تک ٹال مٹول سے کام لیتا ہے اور پھر جب لڑکی اور اس کے گھر والوں کا اصرار بڑھتا ہے تو بناوٹی غصے میں آ کر بیچاری مظلوم لڑکی کو طلاق دے کر فارغ کردیتا ہے۔ اور پھر اگلے سال چھٹیوں میں نئے شکار کی تلاش میں پاکستان پہنچ جاتا ہے۔ اور افسوس تو اس بات ہے کہ ایسا بھیانک کھلواڑ کرنے والوں کے سامنے قانون بھی بے بس نظر آتا ہے۔
اسی طرح جہاں یورپ میں بسنے والے اکثر پاکستانی دیسی لوگ، ہرقسم کے مالی ومعاشی سہولیات کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہیں جب اولاد جوان ہونے لگتی ہے، جیسے بالخصوص لڑکی بالغ ہوتی نظر آنے لگتی ہے انہی دیسی صاحب کو اب اسلام شدت سے یاد آنا شروع ہوجاتا ہے اور وہ معاشرہ جہاں اس نے اپنی جوانی میں بھر پور لطف اٹھایا ہوتا ہے، اسے اسی معاشرے سے گھن آنا شروع ہو جاتی ہے کہ جو وہ عیاشیاں یہاں کرتے رہیں ہیں کہیں بچے بھی اسی راہ پر نا چل پڑیں۔ لہذا ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح اپنے بچوں خصوصاً بچیوں کو زبردستی پاکستان لے جاکر کسی پرہیز گار لڑکے سے بیاہ دیا جائے۔
اسے یورپ میں ”جبری شادیاں“ کہتے ہیں۔ عموماً یہ واردات، والدین اپنے بچوں کے ساتھ سکول کے آخری سالوں یعنی چودہ سے سولہ سال کی عمر میں کرتے ہیں کہ بچیوں کو بڑے نارمل انداز میں گرمیوں کی چھٹیوں میں، پاکستان میں اپنے عزیزو اقارب کو ملانے کے بہانے لے جاتے ہیں اور پھر ان کی شادی کسی رشتے دار لڑکے سے کروا کر زبردستی سہاگ رات یا سخت الفاظ میں اس بچی کی مرضی کے بغیر شادی اور اس کا ریپ بھی کروا دیتے ہیں۔ کہ وہ کسی کام کی نہ رہے۔ اور اسے مزید قابو میں رکھنے کے لیے اس کا پاسپورٹ بھی ضائع کردیتے ہیں۔
مگر جب اس قسم کی جذباتی وارداتیں زیادہ ہونے لگیں تو حکومت برطانیہ کی طرح پورے یورپ کے کان کھڑے ہوگئے۔ اب کیا ہوتا ہے کہ بچیوں کو خاص طور جبری شادیوں کے خلاف شعور دیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اگر وہ اس کا شکار ہوجائیں تو کیسے اور کہاں کہاں رپورٹ کرنی ہے۔ اس ضمن میں بھی کئی دردناک کہانیاں موجود ہیں جن میں سے کئی کتابی صورت میں بھی موجود ہیں۔ اب اگروالدین کسی بچی سے یہ سلوک کرتے پکڑے جائیں تو ان کو سات سال تک قید ہوسکتی ہے اور بچی بھی ان سے الگ کرلی جاتی ہے۔
اس سلسلے میں کئی بچیوں کو گھر کے لیے خطرہ سمجھ کر پاکستان میں لے جاکر کسی بہانے سے ایکسیڈنٹ یا غیرت کے نام پر بھی قتل کردیا جاتا ہے اور چونکہ مدعی اور ملزمان دونوں ایک ہی ہوتے ہیں لہذا عدالتیں جلد ہی ایسے غیرت مندوں کو رہا کردیتی ہے اور وہ پھر پاک صاف ہوکر یورپ پہنچ جاتے ہیں۔ کئی پرانے واقعات میں تو اگر کسی لڑکی نے پر پرزے نکالے تو والدین نے مل کر دوسرے بچوں کے سامنے ہی اسے گلا دبا کر قتل کردیا۔ مگر پھر جب حکومت نے سختی کی تو یہ وارداتیں پاکستان میں ہونا شروع ہوگئیں۔ جن کی تفصیل بیان کرنے لگوں تو پوری کتاب بن جائے۔
مجھے تو اس، نوسالہ پاکستانی گونگی بہری بچی کی غمناک داستان نہیں بھولتی جو پاکستان سے اسمگل کرکے برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں لائی گئی۔ اس کے نام کے بینیفٹس بھی جاری کروائے گئے اور اس کو بطور گھریلو غلام بنا کر، اس سے سارا دن صفائی سے لے کر فلش صاف کرنے تک اور کپڑے دھونے سے استری تک ہر قسم کا کام کروایا جاتا اور پھر رات کو اسے، یخ بستہ ٹھنڈ میں بھی گندے ٹھنڈے فرش پر سونے پر مجبور کیا جاتا۔ اور اگر گئے رات بھی کوئی کام ان میاں بیوی کو پڑ جاتا تو اس پر تیز لائٹ مارکر یا پھر اسے بالوں سے گھسیٹ کر اٹھا دیا جاتا۔
اور تو اور گاہے بگاہے بظاہر مذہبی حلیے میں نظر آنے والے بزرگوار اس بچی کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بھی بناتے رہتے اور یہ ظلم نو سال تک چلتا رہا کہ وہ مظلوم لڑکی اٹھارہ سال کی ہوگئی اور پولیس نے آخر کار ایک خفیہ اطلاع ہر اسے ریسیکیو کرلیا۔ مگر پولیس کے پاس بھی وہ بچی سہمی اور خوفزدہ تھی اور یہ کوئی پاکستان کی پولیس تو تھی نہیں کہ کچھ دے دلا کر معاملہ رفع دفع ہوجاتا۔ لہذا اس بچی کو سوشل کئیررز کے حوالے کیا گیا اس کے حواس بحال کیے گئے پھر اسے اشاروں کی زبان سکھائی گئی جس پر کئی ماہ لگ گئے اور پھر جب وہ اپنی کہانی کے اظہار کے قابل ہوگئی تو ہرکوئی اس کہانی پر افسردہ تھا میں خود اپنے آنسو نہ روک سکا۔ عدالت میں مقدمہ چلا اور اس جوڑے پر منی لانڈرنگ، بچوں پر ظلم اور زیادتی کے کئی مقدمات چلے اور دونوں کو اتنی لمبی سزائیں ہوئیں کہ اب وہ باقی زندگی جیل میں ہی سڑیں گے۔
یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہمارے زیادہ تر دیہات سے تعلق رکھنے والی نوجوان نسل پر بیرون ملک جانے کا جنون کیوں سوار ہے؟ اکثر ان کے سامنے غیر قانونی طورپر ترکی کے راستے یورپ جانے والوں کے راستے میں ہی مرجانے کی خبریں آتی رہتی ہیں مگر یہ سن کربھی باز نہیں آتے۔ زبانی طور پر بھی ان کو سمجھا کے دیکھ لیا ہے مگر کوئی اثر نہیں کہ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ خود تو باہر بیٹھا عیاشیاں کررہا ہے اور ہمیں اس انمول نعمت سے محروم کرنا چاہتا ہے۔
اب پتہ نہیں ہمیں سمجھانا نہیں آتا یا پاکستان کے یہ نوجوان سمجھنا ہی نہیں چاھتے۔ اسی لیے تو وہ مسلسل کوشش میں ہوتے ہیں کہ کسی بھی ذریعہ سے خواہ سوشل میڈیا کے ذریعے بڑی عمر کی گوریاں پھانس کر ہی سہی بس باہر جایا جائے۔ عمر کا کیا ہے بس نبض بھی چل رہی ہو تو چلے گی۔ اور یورپ کی زیارت ہونے کی امید بھی جاگی رہے گی۔
آخر میں میری پاکستان میں والدین سے دست بدستہ التجا ہے کہ بیرون خاص طور پر اپنی بچیوں کی شادی کرنے سے پہلے خوب دیکھ بھال کر لیں یہ نہ ہوکہ آپ کو عمر بھرکا روگ لگ جائے کہ ”ماڑا جوائی چرس پی چھوڑنا تے کڑی کی مارنا، بس ماڑے کول بڑی غلطی ہوگئی نیں“ (ہمارا داماد بس چرس پیتا ہے اور ہماری بچی کو مارتا رہتا ہے بس ہم سے بڑی غلطی ہوگئی ہے ) ۔


Very informative and nice writing