اپنے لڑکیاں لڑکے یورپ میں بیاہنے سے پہلے خوب سوچ سمجھ لیں
جہاں ہمارے معاشرے میں، والدین اپنی بچیوں کی پرورش سے لے کر اچھی جگہ دیکھ بھال کر شادی کرنا، اپنی اولین ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ وہیں اگر ان رشتوں میں کوئی بیرون ملک خصوصاً یورپ میں کسی لڑکے کا رشتہ مل جائے تو والدین خوشی سے پھولے نہیں سماتے اورسمجھنے لگتے ہیں کہ بس اب ان کی بیٹی کی شاید قسمت جاگ گئی ہے اورپھر بہت زیادہ پڑتال میں پڑے بغیر یا لڑکے اور اس کے خاندان کی اچھی طرح جانکاری یا پرچول کے بغیربس اپنی بیٹی بیاھنے کی کرتے ہیں۔
حالانکہ آج کل جہاں سوشل میڈیا، اور ذرائع ابلاغ کے تیز ترین ذرائع موجود ہیں وہاں کسی بھی بیرون ملک خاندان یا لڑکے کے بارے معلومات حاصل کرنا چنداں مشکل کام نہیں ہے۔ یاد رکھیں بیرون ملک لڑکی یا لڑکے کا رشتہ اگر کوئی برادری سے باہر کرنا چاہ رہا ہے تو اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوسکتی ہے۔ لہذا سوچ سمجھ کر بات آگے بڑھائیں۔
پہلے میں یہ عرض کرتا چلوں کہ یورپ، خصوصاً برطانیہ میں باہر سے بسنے والے غیر ملکیوں میں سے پاکستانیوں کی طلاق کی شرح، دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ یعنی پنتیس چالیس فیصد کے درمیان ہے۔ جبکہ طلاق کی شرح ہندو سکھ خاندانوں میں صرف آٹھ سے نو فیصد تک ہے وجہ یہ ہے کہ ہم پاکستانی جو بیرون ملک آباد ہیں ان کی اولین خواہش تو یہ ہوتی ہے کہ لڑکی کے لیے لڑکا یا لڑکے کے لئے لڑکی، پاکستان سے کسی بھانجے بھانجی یا بھتیجے بھتیجی کو امپورٹ کرلیا جائے کہ چلو اپنے خاندان کے مزید افراد یہاں آکر آباد ہوسکیں اور یہ جذبہ دیہی علاقوں کے آباد کاروں میں اتنا زیادہ ہے کہ کئی لوگ اپنی والدہ یا بہن کو اپنی بیوی بنا کر لاتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں۔
تو جناب جب آپ کسی ماڈرن ملک میں، ایک دور افتادہ دیہی علاقے سے لڑکا یا لڑکی امپورٹ کریں گے تو وہ ایک دم پسماندہ علاقے سے نکل کر جب ماڈرن ملک میں آئے گا تو اس کے تو اوسان ہی خطا ہوجائیں گے۔ دوسری لفظوں میں یورپ کے پرانے دیسی آباد کاروں کی یہ، دو ضدین ثقافت کوجوڑنے کی ناکام کوشش کررہے ہوتی ہے۔ لڑکا بس جاتے ہی یورپ کا ماحول دیکھ کر لڑکی پر شک کرنے لگتا ہے۔ تو جہاں شک اور تنگ نظری کی دیوار تعمیر ہوجائے وہاں شادی کیسے آگے چلے گی؟
اس قسم کے امپورٹڈ لڑکے کو مقامی زبان میں ”مجاہد“ کہا جاتا ہے۔ اور دوسری طرف اگرچاچے مامے کی لڑکی دور درز گاؤں سے لائی گئی ہوتی ہے تو زبان سے نابلد بلکہ مرعوب کو اس طرح دبایا جاتا ہے کہ اس کی حثیت ایک نوکرانی اور بچے پیدا کرنے والی مشین سے زیادہ نہیں ہوتی کیونکہ لڑکے اکثر پہلے ہی کسی نہ کسی گرل فرینڈز سے مستفید ہورہے ہوتے ہیں۔
اگر لڑکا کسی گوری سے تعلقات قائم کرلے تو ہمارے سر فخر سے بلند ہوجاتے ہیں جیسے ہم نے تقسیم ہند سے پہلے انگریزوں کی برصغیر میں ناجائز حکمرانی کا بدلہ لے لیا ہو۔ اور اگر ہمارا دیسی پاکستانی نژاد لڑکا کسی کالی سے معاشقہ کربیٹھے تو پورے گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ہے کہ ہمیں کالے رنگ سے ہمیشہ سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ حالانکہ ہمیں تو یورپ آکر پتہ چلا کالی رنگت میں کتنا حسن چھپا ہوتا ہے کیونکہ صرف جلد کا رنگ ہی نہیں بلکہ حسن کے لیے نین نقش بھی کوئی حثیت رکھتے ہیں۔ (اس موضوع پر پھر کبھی لکھوں گا۔ )
یہ خوش فہمی بھی ذہن سے نکال دیں کہ گوریاں پاکستانی مردوں پر مرتی ہیں۔ یہ جو پاکستانی مرد، پاکستانی دیہات میں گوری لڑکیاں لیے پھرتے ہیں ان میں سے زیادہ تر کا تعلق مشرقی یورپ کے غریب ممالک، جیسے پولینڈ، رومانیہ، البانیہ وغیرہ سے ہوتا ہے جن کو پیسوں کی لالچ میں ان مماک سے برطانیہ فرانس وغیرہ میں درآمد کرکے شادی کی جاتی ہے اور پھر ان کی مدد سے اپنی شادی پکی کی جاتی ہے ایسی شادیاں شیم میرج یا بوگس شادیاں کہتے ہیں اور اگر لڑکے لڑکی کا تال میل مل جائے تو وہ شادی پکی بھی ہوجاتی ہے۔ ایسی لڑکیاں چھ ہزار یورو سے بارہ ہزار یورو تک آسانی سے دستیاب ہوتی ہے جس میں منظم انسانی اسمگلر ملوث ہوتے ہیں۔
اب دوسری طرف، اگرہماری دیسی لڑکی کسی گورے یا کالے کو دل دے بیٹھے تو والدین اسے اسلام اور غیرت پر حملہ سمجھ لیتے ہیں اور وہ دیسی لڑکی اگر کسی گورے کالے کے ساتھ مارکیٹ چلتی پھرتی نظر آجائے تو ہر پاکستانی اسے ایسے گھورے گا جیسے وہ ان کی عزت سرعام نیلام کررہی ہو۔ کاش ہم لوگوں کی ایسی غیرت اس وقت بھی جاگے جب ہمارا دیسی لڑکا کسی گورے کی بہن کو لے کر سربازار پھر رہا ہوتا ہے۔
اس طرح اوپر بیان کیے گئے بے جوڑ رشتوں اوریورپ میں پلنے والی نئی نسل کی پاکستانی روایات سے بغاوت کی بے شمار کہانیاں طشت از بام ہوتی رہتی ہیں۔ مگر پھر بھی یاد رہے جہاں بہت سے خاندانی تلخیاں دیکھنے کو ملتی ہیں وہاں اچھی سے اچھی پڑھی لکھی فیملیز کی بھی کمی نہیں ہے۔
اب ہمارے برعکس، ہندو یا سکھ خاندان، مثال کے طور پر اگر برطانیہ میں رہتا ہے تو وہ کوشش کرے گا کہ لڑکی یا لڑکا اسی ماحول کا لیا جائے جس ماحول میں اس کی اولاد پلی بڑھی ہے، جیسے کینیڈا، امریکہ، آسٹریلیا وغیرہ۔ اب چونکہ لڑکی لڑکا یورپی ثقافت سے آگاہ ہوتے ہیں لہذا ان کی آپس میں انڈرسٹینڈنگ بھی زیادہ ہوتی ہے بے اور نسبتاً طلاق کی شرح بھی کم دیکھنے کو ملتی ہے۔
اسی طرح پاکستان کے وہ لڑکے جو بے روزگار ہوتے ہیں اگر ان کو اچانک کسی یورپی لڑکی کا رشتہ مل رہا ہوتو جلدی مت کیجیے اس رشتے کی خوب جانچ پڑتال کرلجیے۔ کیونکہ ایسے رشتے عموماً ان لڑکیوں یا ڈھلتی عمر کی عورتوں کے ہوتے ہیں جن کی پہلے سے طلاق ہوسکتی ہے یا پھر اس کے گھر والے اس لڑکی کی آزاد خیالی سے پریشان ہوسکتے ہیں۔ بظاہر تو بے روزگار یا نکمے لڑکے کی لاٹری نکل آتی ہے مگر آگے کیا مسائل ہوسکتے ہیں اسے ان کا اندازہ تک نہیں ہوپاتا۔ اسی قسم کی شادیاں وہ جوان لڑکے جو حصول تعلیم کے لیے یورپ گئے ہوتے ہیں، بھی کرتے ہیں کہ کسی طرح شہریت پکی ہوجائے۔ پھر دیکھیں گے کیا کرنا ہے۔
اب لڑکا یا پاکستان سے آیا ہو یا اس نے کوئی مطلقہ یا بیوہ یورپ سے میں ہی کوئی تلاش کرلی ہو، ایسی شادیاں خال ہی پروان چڑھتی ہیں۔ چونکہ لڑکی کو بھی علم ہوتا ہے کہ لڑکے نے اس سے شہریت کی غرض سے شادی کی ہے اور اس نے کاغذات ملنے کے بعد بھاگ جانا ہے تو پھر شادی کے بعد لڑکے کے ساتھ وہ سلوک ہوتا ہے جو ایک بیگار کیمپ کے اسیر کے ساتھ ہوسکتا ہے۔ قدم قدم پہ ذلت اس کا مقدر اور جو کچھ کچھ کماتا ہے وہ لڑکی اور اس کا خاندان لے اڑتا ہے اور پھر جب لڑکے کو کاغذات مل جاتے ہیں تو وہ یا تو پھر عادی ہوکر اسی ذلت سے رہنا قبول کرلیتا ہے۔ خاص طور پر اگر ایک آدھ بچہ بھی ہوجائے یا پھر فوراً طلاق دے کر ان اسیری کی زنجیروں کو توڑکراپنی راہ لیتا ہے۔
مگر اب انہی بے جوڑ رشتوں کے تدارک کے لیے حکومت برطانیہ نے امپورٹڈ لڑکے یا لڑکی کے لیے تین سال کی بجائے پانچ سال کی مدت گزارنے کے بعد شہریت دینے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ مخصوص انگلش ٹیسٹ بھی پاس کرنے کا کہا ہے جس سے کم از کم ان پڑھ لڑکے لڑکیوں کی کھیپ میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔
اسی طرح کئی یورپی دیسی بوڑھے بھی اپنی بوڑھی بیگم سمیت اپنی تیمارداری کے لیے کسی ڈھلتی عمر کی لڑکی سے پاکستان میں شادی کرکے آجاتے ہیں اور پھر اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے ہیں۔ مگر یہ سلسلہ زیادہ عرصہ نہیں چل پاتا اور لڑکی کو جیسے ہی باہر کی ہوا لگتی ہے وہ پولیس سے مدد مانگ کر علیحدگی اختیار کرلیتی ہے اور پھر اکیلی عورت کو اسائلم بھی آسانی سے مل جاتی ہے۔
مگر ایسی حیران کن کہانیاں بھی سامنے آئی ہیں کہ بعض چالاک لڑکیاں کسی یورپی آبادکار دیسی بوڑھے سے با آسانی شادی پر راضی ہوجاتی ہیں اور پھر رشتہ ازدواج سے منسلک ہوکر برطانیہ آجاتی ہیں۔ اس طرح کچھ عرصہ بوڑھے کی خدمت گزاری کرکے، کچھ ہی عرصے کے بعد ظلم کا ڈرامہ رچا کر پولیس سے مدد مانگ لیتی ہے اور پھر اپنے اوپر بیتنے والی جھوٹی سچی داستان سنا کر اپنی اسائلم پکی کرلیتی ہیں کیونکہ پولیس بہرحال عورت کی بات پر زیادہ یقین رکھتی ہے۔ اور پھرجیسے ہی ایسی لڑکی کے پاؤں پکے ہوتے ہیں وہ اپنی پسند کی شادی کر لیتی ہے۔ بعض واقعات میں ایسی شادی میں آشنا کی منصوبہ بندی بھی شامل ہوتی ہے۔ جبکہ بیچارے بوڑھے قسمت میں سوائے پولیس کیس کی عزیمت اٹھانے کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں



Very informative and nice writing