عالم تمام حلقہء دامِ جمال ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمہ دم حُسن کاری میں مصروف رہنا کائنات کی سب سے اہم سرگرمی ہے۔ کائنات کی بقا، فروغ اور مسرت کا نظم حُسن پر ہی مبنی ہے۔ کیٹس نے اگر یہ کہا ہے کہ حُسن ایک ابدی مسرت ہے تو کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انسان قدیم عہد سے حسن کے احساس سے وابستہ ہے اور اس کے راز ہائے سربستہ کی گرہ کشائی میں سرگرداں ہے۔ حسن بنفسہ کیا ہے؟ وہ کون سے عوامل اور محرکات ہیں جو کسی شے کو حسین بناتے ہیں؟ حسن فی الذات ہے یا فی الذہن؟ حسن کی حقیقت معروضی ہے یا موضوعی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو حسن اور اس کے کوائف و مظاہر کی تحقیق و تشریح میں اٹھائے گئے ہیں۔ غالب جب کہتا ہے کہ ”یہ غمزہ عشوہ و ادا کیا ہے؟“ تو درحقیقت حسن کی ماہیت پر ہی استفسار کرتا ہے۔

حسن کی ماہیت پر فلسفہ کے نظریات میں اتنا تنوع ہے کہ کوئی حتمی رائے قائم کرنا سخت مشکل ہے۔ ایک شاعر کا قول ہے کہ فردوسی آہنگ سے کائنات کا ڈھانچہ وجود میں آیا ہے۔ جس کو کلمہ ”کن“ بتایا گیا ہے وہ درحقیقت ایک صوتِ سرمدی ہے۔ وہ سازِ حسن کا ایک ہستی آفریں راگ ہے

نقشِ دو جہاں گردشِ پیمانہء دل ہے
”کن“ روزِ ازل نعرہء مستانہء دل ہے

افلاطون کا خیال ہے کہ کون و مکاں کے تمام تر ہنگامے ایک حسنِ مطلق کے جلوے ہیں۔ ارسطو کے نزدیک فطرت ماسٹر آرٹ ہے، جس نے ہر چیز کو متوسط خوب صورتی کی حالت میں تخلیق کیا ہے۔

کانٹ کے مطابق حسن افعال سے آزاد ایک خاصیت کا نام ہے۔ جب گھوڑے کو خوب صورت کہتے ہیں تو اس خوب صورتی کا دوڑ کے دوران گھوڑے کی ہار جیت سے کوئی تعلق نہیں۔

سگمنڈ فرائیڈ کے بقول: حسن جنسی جبلت کا ایک کرشمہ ہے۔ یعنی حسن تناسل اور جہدالبقا کی گراں باری اور تکان محسوس نہیں ہونے دیتا۔

کچھ ماہرین کے مطابق حسن ایک مقناطیسی کشش ہے، جو دو اشیاء کے مابین باہمی تعلق سے ظہور پذیر ہوتی ہے۔
کچھ ماہرینِ جمالیات کا خیال ہے کہ حسن اشیاء میں اجزا کے تناسب اور توازن کا نام ہے

حسن کی ماہیت دریافت کرنے والے ماہرین کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے دو اہم نظریات سامنے آتے ہیں۔ پہلا نظریہ حسن فی الذات ہے۔ یعنی حسن اپنا اظہار شے میں کرتا ہے اور اس کی حقیقت معروضی ہے۔ دوسرا نظریہ حسن فی الذہن ہے۔ یعنی حسن کسی پیکرِ حیات میں موضوعی صورت اختیار کرتا ہے اور شاہد کے ذہن میں تشکیل پاتا ہے۔

ان دونوں نظریات اپنی اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں مگر ان کی روشنی میں حسن کی گرہ پوری طرح نہیں کھلتی۔ حسن اگر شے میں موجود ہے تو حسن کے معیار میں اتنا تنوع کیوں ہے؟ حسن کو حتمی اور ہر جگہ ایک سا ہونا چاہیے۔ اگر حسن صرف پیکرِ حیات کے ذہن میں تشکیل پاتا ہے تو شے کی کیا حیثیت ہے؟ ایک شعر کا مصرعہ ہے ”قدم نہ ہو تو نقشِ قدم نہیں بنتا“ شے نہ ہو تو شے کا فی الذہن احساس تخلیق نہیں ہو سکتا۔ لہذا حسن کی ماہیت کے بارے یوں کہا جا سکتا ہے کہ حسن شاہد اور مشہود کے درمیان ایک مخصوص relationship کی سطح پر ظاہر ہوتا ہے۔ ہر فرد میں لطیف جذبات اور باطنی احساسات مضمر ہوتے ہیں۔ کوئی بھی شے متجرب ہوتے ہوئے ان باطنی جذبات اور احساسات میں تحرک پیدا کرتی ہے تو حسین کہلاتی ہے۔ ہندی اساطیر میں شیو نے شکتی کو دیکھ کر کہا: میرے ہر تحرک کا انحصار تمھارے ہی تحرک پر تو ہے۔ تو دراصل حسن کی طرف ہی اشارہ کیا تھا۔

حسن کی تشریح کے لیے متھ، کتھاؤں، روایتوں، مذہبی گرنتھوں اور علم الاصنام سے رجوع کریں تو حسن کی ماہیت پوری طرح منکشف ہو جاتی ہے۔ چنڈوگیہ اپنشد میں جب شویتا کیتو نے کہا کہ اسے برگد کے بیچ کے اندر کچھ نظر نہیں آتا تو اوالکا نے جواب دیا جہاں تجھے کچھ نظر نہیں آتا وہاں ایک عظیم الشان پیڑ ہے۔

ہم جب حسن کی ماہیت دریافت کے حوالے سے تہذیب اقوام عالم کا مطالعہ کرتے ہیں، تو خوب صورتی کے معیار کا بھرپور تنوع ملتا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حسن کلی طور پر نہ صرف شے میں موجود ہے بلکہ حسن کاری کے عمل میں تہذیبی شعور بھی کارفرما ہے۔ دنیا کی ہر تہذیب میں حسن کا معیار الگ ہے۔ جاپان میں چھوٹے پاؤں حسن کہ علامت ہیں۔ حبشی قوم میں کالا رنگ، موٹے ہونٹ اور چپٹی ناک پسند کی جاتی ہے۔ عرب میں سفید رنگت، پتلے ہونٹ، بھرے ران اور تبسم کی شیریں حسن کا معیار ہے۔ ہندوستان میں ابرو کی لطافت، پتلی کمر اور زلفِ عنبردراز خوب صورتی کا معیار ہے۔ عمر خیام کے مطابق ہنگامِ وصال پینگ لیتا ہوا جسم، کولھے بھرے، پنڈلی کا گداز اور صراحی نما گردن کا تذکرہ ملتا ہے۔

حسن درحقیقت شے کی معروضی حقیقت اور انسانی ذہن کے درمیان تعلقہ کی ایک تجریدی اکائی ہے جو تہذیبی شعور کے ساتھ جڑی رہتی ہے۔ تہذیبی ارتقاء کے ساتھ اس تجریدی اکائی میں بھی تغیر رونما ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حسن کا کوئی متعینہ معیار نہیں ہے۔ ہر دور اور خطے میں حسن چاہے شے کا ہو، پیکرِ حیات کا ہو یا کسی بھی صوت کا اس میں تنوع اور تغیر و تبدل جاری رہتا ہے۔ حسن ایک مکمل اکائی ہے اس کا اجزاء میں مطالعہ نہیں کیا جاسکتا۔

حسن کے تمام اجزا باہم متصل ہو کر دیکھنے والے کے باطنی جذبات اور احساسات میں اضطراب پیدا کرتے ہوئے حسن کاری کا عمل سر انجام دیتے ہیں۔ یم پورے منظر کو ایک اکائی میں دیکھتے ہیں تو حسین معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اجزاء میں داخل ہونے پر منظر کا اس حسن معدوم ہو جاتا ہے اور نیا منظر معرض وجود میں آجاتا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ پورے عالم میں کوئی شے بھی بالذات خوب صورت یا بدصورت نہیں ہے۔ صورکم فاحسن صورکم کے تحت عالم تمام حلقہء دامِ جمال ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *