دانش کدہ میں دانشور کی دانش مندانہ گفتگو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج اس نئے ہفتہ وار پروگرام کی ریکارڈنگ تھی۔ اس پروگرام کے روح رواں محترم دانش افکار ہیں۔ پروگرام کا فورمیٹ ایسا ہے کہ اینکر اور دانشور مختلف موضوعات پر بحث کریں گےاور دونوں ہی اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ آنے والوں میں ایک پروگرام پروڈیوسر تھا۔ ایک نوجوان اینکر اور دو کیمرا مین۔

دانش مفکر ہیں۔ مصنف ہیں۔ تبصرہ نگار ہیں۔ کہیں آتے جاتے نہیں۔ بس اپنی حویلی کی مردانہ بیٹھک سے ہی دنیا کو گہری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ مشاہدہ اتنا عمیق ہے کہ اونگھتے اونگھتے ہوئے بھی چاروں اور کی خبر رکھتے ہیں۔ کیونکہ دانش صاحب خود کہیں نہیں جاتے اس لیئے ان کی بیٹھک میں ہی پروگرام کیا جانا تھا۔ ٹی وی والے حضرات اپنے کیمرا والوں کے ساتھ تشریف لا چکے تھے۔ ملازم انہیں بٹھا کر دانش صاحب کو بلانے گیا۔ وہ زمین پر چادر پھیلائے لیٹے ہوئے تھے۔ ان کی کمر میں چک پڑ گئی کسی نے کہا کہ زمین پر سونا اچھا ہے۔ ملازم کا سہارا لے کر وہ بیٹھک میں پہنچے۔ مہمانوں کو دیکھا اور کرسی سنھال لی۔ کورونا کا یہ فایئدہ ہوا کہ اب ہاتھ نہیں ملانا پڑتا۔ دانش صاحب ویسے بھی تین انگلیوں کا مصافحہ کرتے تھے۔ سماجی دوری انہیں سوٹ بھی کرتی ہے۔ سب فاصلوں سے بیٹھ گئے۔

ابتدائی کلمات کے بعد پروگرام کا آغاز ہوا۔

” جناب دانش افکار صاحب۔ آپ کے دانشمندانہ اور منفرد تجزیوں کا تو پورا ملک دلداہ ہے۔ میں آپ سے ملنے کا مشتاق تھا۔ آج کے اس منفرد پروگرام میں بھی میں چاہوں گا کہ ہم مختلف موضوعات پر بحث کر کے کوئی تنیجہ نکالنے کی کوشش ضرور کریں۔ ” دانش صاحب نے سر ہلا کر منظوری دے دی۔

” آج کا سب سے بڑا مسلئہ ظاہر ہے کہ کورونا ہی ہے۔۔ اس پر۔۔ “

” ایک منٹ۔ ایک منٹ۔۔ ” دانش صاحب نے بات کاٹی

 اینکرز نے اپنے لکھے سوالات الگ کردیئے اور دانش صاحب کا منہ تکنے لگا۔

” میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا بیان دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے جراثیم کش محلول کے انجیکشن کورونا وائرس کے متاثرین کو لگانے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ چیز ہم جسم میں انجیکشن لگا کر کر سکتے ہیں، یا اس سے اندر کی صفائی بھی کر سکتے ہیں۔ یہ چیز پھیپھڑوں کے اندر پہنچ کر زبردست کام کر سکتی ہے۔ واہ۔ کیا بات ہے۔ مجھے ٹرمپ صاحب بہت پسند ہیں۔ زبردست بات کہی۔ ان کا ایک ویژن ہے اور میرے اپنے خیالات کے بہت قریب ہے”

” لیکن سر یہ بات کئی دن پرانی ہے اور ٹرمپ صاحب کو اس پر ندامت بھی اٹھانی پڑی ہے۔ یہ کیڑے مارنے کی دوا ہے۔ لوگ اسے سنجیدگی سے لے سکتے ہیں۔ یہ نہایت خطرناک بات ہے لوگوں کی جانیں جا سکتی ہیں” اینکر نے ہمت کر کے کہا۔

” دیکھو بات سنو۔ ٹرمپ کی یہ بات سو فیصد درست ہے۔ کم سے کم ہمارے ملک میں تو یہ تجربہ ضرور کیا جانا چاہیئے۔ یہ لوگ کیڑے مکوڑے ہی تو ہیں۔ آپ انہیں انسان کہتے ہیں؟ یہ جراثیم کش دوا وائرس کو مار دے گی یا لوگوں کو۔ بچ گئے تو کیا کہنا مر گئے تو بھی بازی مات نہیں۔ “

” لیکن سر۔۔ لوگوں کی جانیں۔۔ “

” ارے کیا لیکن ویکن۔ چھوڑو۔۔ کن کی جانوں کی بات کر رہے ہیں آپ؟ ان کی تو اوقعات ہی کچھ نہیں۔ یہ حشرات الارض ہیں۔ رینگے جا رہے ہیں بس۔ اگلا سوال کریں”

” جی ملک میں لاک ڈاون کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔ ہونا چاہیئے یا نہیں؟”

” بالکل نہیں ہونا چاہئے۔ کیوں ہو؟”

” جی وہ لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہے نا”

” اوئے کن کی جانوں کی بات کرتے ہو؟۔۔ کچھ مر جایں گے نا؟ مر جائیں۔ یہ بے تحاشا بڑھتی آبادی کسی طرح تو کم ہو۔ جو بچ جایں گے وہ ہی اصلی لوگ ہو گے”

” یعنی آپ ڈارون کی تھیوری سے متفق ہیں کہ طاقتور کو ہی زندہ رہنا ہے۔ “

” کسی حد تک۔ طاقتور نہیں بلکہ بہتر اور عمدہ لوگوں کا زندہ رہنا بنتا ہے۔ باقی یہ للو پنجو ان کا کیا ہے”

نوجوان اینکر نے پسینہ پونچھا۔ اور موضوع بدلا۔

” سر آپ بہت علم رکھتے ہیں۔ مطالعہ بھی وسیع ہے۔ میں اور ہم سب یہ جاننا چاہیں گے کہ آپ کس قسم کی کتابیں شوق سے پڑھتے ہیں اور آپ کے پسندیدہ مصنف کون کون ہیں “؟

” میں سوانح عمری شوق سے پڑھتا ہوں۔ بہت دلچسپ ہوتی ہیں لوگوں کہ اپنی کہانیاں”

” کوئی خاص سوانح عمری جس نے آپ کو متاثر کیا ہوا؟”

” بہت ساری ہیں۔ اب کیا کیا بتاوں۔ اگلا سوال کیجیئے”

” جی۔ جی سر۔۔ میں پوچھنا چاہتا تھا کہ ہمارے ملک میں ادب کا آج کیا مقام ہے؟ کیا ہمارے ادیب کچھ اچھا لکھ رہے ہیں”؟

” دیکھو برخوردار بات سنو۔ یہ جو کتابیں تم چاروں طرف دیکھ رہے ہو یہ سب میں نے پڑھی ہیں” اینکر نے زمین سے چھت تک لگے شیلوز میں رکھی کتابوں پر نظر ڈالی۔

” یہ سب کتابیں میں نے فیشن کے طور پر جمع نہیں کیں۔ ایک ایک کو پڑھا ہے۔ یہ اور بات کہ میں کسی سے بھی نہ متاثر ہوا نہ متفق، آگے چلو”

” سر آگے جانے سے پہلے میں پوچھنا چاہوں گا کہ آپ پاکستانی اور غیر ملکی ادب کا تقابلی جائزہ لے کر کیا رائے قائم کرتے ہیں”؟

” دیکھو بات سنو۔ نہ اپنا وقت ضائع کرو نہ میرا۔ میری کوئی رائے نہیں۔ “

” پھر بھی سر اتنی کتابیں جو آپ نے یہاں سجا رکھی ہیں۔۔ “

” بس کرو بھئی۔۔ میرا بلڈ پریشر ہائی مت کرو فضول سوال کر کے”

پروڈیوسر صاحب نے نوجوان اینکر کو آنکھوں آنکھوں میں تنبیہ کی۔ جو اب خاصا پریشان تھا کہ کیا سوال کرے اور کس طرح گفتگو کو ایک مکالمے کی شکل دے۔ دانش صاحب نے اینکر کی الجھن بھانپ لیاور گویا ہوئے۔

” دیکھو ادب میری رگ رگ میں ہے۔ میری تو زندگی ہی یہی ہے۔ کتابیں میرا اوڑھنا بچھونا ہیں۔ دن کے بیس گھنٹے تو میں لکھنے پڑھنے میں گذارتا ہوں۔ “

” پھر سر آپ ہفتے میں اتنے ٹی وی شوز میں شرکت کا وقت کیسے نکال لیتے ہیں؟” اینکر نے ہمت کی۔ پروڈیوسر نے پھر آنکھوں آنکھوں میں تنبیہ کی۔

” یہ لوگوں کی محبت ہے۔ میں خود کہیں نہیں جاتا۔ لوگوں سے ملنا تو کیا مجھے تو لوگ اچھے بھی نہیں لگتے۔ کسی اور موضوع پر بات کیجیئے”۔

” جی دانش صاحب ان دنوں مولانا طارق جمیل کے ایک بیان پر سخت تنقید ہو رہی ہے۔ آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟”

“مجھے بہت کم لوگ اچھے لگتے ہیں مولانہ طارق جمیل ان دو چار میں سے ایک ہیں۔ میرے ساتھ تو ان کا بھایئوں والا رشتہ ہے۔ ان پر یہ بلا وجہ کی تنقید ہے۔ عورت مارچ اور عورت آزادی گھٹیا باتیں ہیں۔ “

” لیکن یہ حوروں کے قصے ان کے سراپے پر جو بات ہو رہی ہے۔۔۔ “

” بھیئ حوریں انہی کو نظر آیں گی نا جن کا ایمان مضبوط اور کردار نیک ہو گا۔ مولانا صاحب نیک آدمی ہیں انہوں نے دیکھی ہوں گی حوریں۔ ایسے ہی تو بونگیاں نہیں مار رہے نا۔ اگلا سوال کریں اور کچھ ڈھنگ کا کریں۔ ” دانش صاحب بیزاری سے منہ دوسری طرف کر کے بیٹھ گئے

نوجوان اینکر نے ایک بار پھر ٹشو سے ماتھے کا پسنیہ پونچھا۔ پرودیوسر صاحب نے پھر اشاروں کنایوں میں اینکر کی ہمت بندھائی۔

” دانش صاحب ملکی حالات پر آپ کی شروع سے کڑی نظر ہے۔ ان دنوں جو سیاست ہو رہی ہے اس پر کچھ تبصرہ کیجئے”

” جو ہو رہا ہے بس ٹھیک ہو رہا ہے۔ آگے بڑھیں”

اینکر نے بے چارگی سے پروڈیوسر کی طرف دیکھا۔ اب وہ کسی قدر جھنجھلا گیا تھا۔

” آخر ہو گا کیا؟ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ہماری کوئی سمت بھی ہے؟”

” مجھے کیا پتہ کیا ہوگا۔ میں کوئی نجومی ہوں؟ اور جو ہوگا وہ آپ کے سامنے آجائے گا۔ جلدی کس بات کی ہے اور سمت ومت کیا ہونی ہے۔ جس کے جدھر سینگ سمائیں گے چل دے گا”

” یعنی ہم بے سمت مسافر ہیں؟”

” دیکھو بات سنو۔۔ کیا نام ہے آپ کا۔۔ خیر کچھ بھی ہو مجھے کون سا یاد رہ جانا ہے۔ مجھے تو اپنوں کے نام یاد نہیں رہتے۔”

” آپ میرا نام بے شک یاد نہ رکھیں لیکن ذرا اس پر روشنی ڈالیں کہ کیا آپ نوجوان نسل کے مستقبل کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا ان کی تعلیم و تربیت ٹھیک انداز میں ہو رہی ہے؟”

اس سوال کا دانش صاحب نے پورے اطمینان سے جواب دیا۔

” تعلیم کا تو یہاں بیڑا غرق ہے۔ تربیت آپ کو کرنی نہیں آتی۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایک باپ اپنی اولاد کو جو بہترین تحفہ دے سکتا ہے وہ اچھی تربیت ہے۔ اور یہ بالکل مفت دی جا سکتی ہے۔ یہ بھی آپ نہ کر سکیں تو لعنت ہے۔ پھر یہی حال ہونا ہے جو اس وقت ہے۔ ایک بدتمیز، بے ہنگم معاشرہ ہم نے تخلیق کر لیا ہے۔ اب رو بیٹھ کر”

اس کے ساتھ ہی دانش صاحب اٹھ کھڑے ہوئے جو اشارہ تھا کہ اب آپ بھی روانہ ہو جایئے۔

ٹاک شو تمام ہوا۔ آنے والوں نے سامان باندھا۔ دانش صاحب کمر کی تکلیف کے باوجود خود انہیں باہر تک چھوڑنے آئے۔ ٹی وی کی وین میں سوار ہوتے دیکھا کہ تین اول جلول مرد کھچڑی بال، کسی کی ڈاڑھی ،بڑھی ہوئی شیو والے وہاں کھڑے تھے۔ ان کی شکلوں پر بے اطمینانی اور غربت ٹپک رہی تھی۔ کیمرا مین نے خاموشی سے کیمرا آن کر لیا۔

دانش صاحب کے دھاڑنے کی آواز آئی۔

” اوئے تم پھر آ گئے۔ دفع ہو جاؤ۔ کچھ نہیں ملے گا تمہیں۔ ابھی میں زندہ ہوں۔ ابھی سے آگئے ہیں گدھ بن کر منڈلاتے ہوئے۔ ” اینکر نے بھی دور سے نظر ڈالی۔ دانش صاحب غصے سے بھرے ہوئے تھے۔ مڑ کر دربان سے کہا۔

” ان کو بھگاؤ یہاں سے۔ آئندہ نظر آئے تو ٹھکائی لگا دینا۔۔ بے غیرت کہیں کے”

کیمرے نے سارا منظر ریکارڈ کر لیا اور کیمرا مین نے کسی مناسب وقت کے لیے اسے محفوظ کر لیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *