شاہد آفریدی نے بلوچستان میں ادھورا سچ بولا
مجھے بلوچستان آکر ایک چیز کا احساس ہوگیا ہے کہ یہاں کے بڑے جو کہتے ہیں کہ بلوچستان ہمارا ہے ان لوگوں نے بلوچستان کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔ میں جیسے ہی کراچی سے بلوچستان میں داخل ہوا ہوں آپ یقین کریں مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں امریکہ کی کسی ریاست ٹیکساس یا فلوریڈا کے اندر گھوم رہا ہوں۔ اتنی خوبصورتی اور دنیا کی تمام معدنیات اللہ تعالیٰ نے اس صوبے کو دی ہیں۔ دنیا کا سب سے خوبصورت ماربل یہاں پر ہے، ایک وقت پورے پاکستان کو گیس آپ دیتے تھے۔
ایران میں اگر تیل ہے تو یہاں کیوں نہیں ہوسکتا۔ سورة رحمان میں اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں گنوائی ہیں وہ سب یہاں موجود ہیں۔ ہمیں یہ پوچھنا ہوگا کہ ان لوگوں نے بلوچستان کے عوام کے ساتھ کیا کیا ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ غربت یہاں نظرآئی ہے۔ میں اب کی بار تین دن کے لئے آیا ہوں لیکن دوبارہ پھر آؤں گا۔ اگر ہم نے اس صوبے کو پاؤں پر کھڑا کردیا تو سمجھیں ہم نے پاکستان کو قیامت تک پاؤں پر کھڑا کردیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے گزشتہ روز بلوچستان کے دورے کے موقع پر مستونگ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔
شاہد آفریدی نے راشن تقسیم کرنے کی تقریب میں کی جانے والی تقریر میں سیاست کو موضو ع بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے حکمران اس صوبے کی پسماندگی کا شکار ہیں۔ یعنی انہوں نے صوبے کے تمام مسائل کی جڑ کو مقامی سیاستدانوں یا سیاسی جماعتوں کو قرار دے کر وفاق کو بری الذمہ قرار دیدیا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہاں کے حکمران با الکل اچھے ہیں لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ اگر یہاں کے حکمران ذمہ دار ہیں تو وفاق ان سے کئی گنازیادہ ذمہ دار ہے
شاہد آفریدی صاحب واقعی بلوچستان کی پسماندگی کاشکار یہاں کے حکمران ہوں گے لیکن سوئی بلوچستان سے نکلی گئی گیس پورے ملک میں پہنچ گئی لیکن جہاں سے گیس نکلتی ہے وہاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پررہنے والی بلوچ خواتین آج بھی لکڑیاں جمع کرکے آگ جلاتی ہیں اس کے ذمہ دار تو یہاں کے حکمران نہیں ہیں؟ آپ نے تو بلوچستان کے عوام کو بتا دیا کہ بلوچستان کی گیس سے ایک زمانے میں پورا ملک مستفید ہورہا تھا لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہاں کے عوام کو گیس نہ فراہم کرنے کے ذمہ کون ہیں۔ کاش یہ بھی بتا دیتے کہ بلوچستان والوں یہ تھمارے ساتھ ظلم ہورہا ہے
شاہد آفریدی صاحب آ پ نے یہ بھی بتایا کہ میں جب کراچی سے بلوچستان میں داخل ہوا تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں امریکہ کی کسی ریاست میں داخل ہوا ہوں، اس بات کے تو دو ہی مطلب نکلتے ہیں کہ راستے میں آنے والا اضلاع نے یا تو بہت ترقی کی ہے کہ وہاں آپ کو دنیا کی تمام تو وہ سہولیات نظر آئیں جو امریکہ میں نظرآتی ہیں یا پھر یہ کراچی کوئٹہ شاہراہ سڑک اتنی پیاری، خوبصورت اور کشادہ تھی کہ آپ نے اس امریکہ سے ملایا۔ اب ہم بتاتے ہیں کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ بلوچستان کی مصروف ترین شاہراہ ہے، یہاں اعداد وشمار کے مطابق روازنہ آٹھ ہزار سے زیادہ چھوٹی بڑی گاڑیاں گزرتی ہیں لیکن سڑک اتنی چھوٹی ہے کہ گاڑی کراسنگ کے دوران حادثے کاشکار بن جاتی ہیں اور ہر سال سینکڑوں افراد اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
زیادہ دور نہیں جاتے کچھ روز قبل کے واقعات کا ذکر کرتے ہیں، ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہے، ٹرانسپورٹ بند ہے سڑکوں پر کم گاڑیاں چلتی ہیں اس کے باوجود اب تک اس خونخوار سڑک پر متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ گنوا بیٹھے ہیں۔ شاید آپ کو یہ بھی یہاں کے حکمرانوں کا قصور لگے لیکن ہم بتا دیتے ہیں کہ نواز شریف کے دور حکومت میں اس سڑک کو دو رویہ بنانے کا منصوبہ وفاقی پی ایس ڈی پی میں ڈال دیا گیا تھا لیکن تبدیلی حکومت نے اس کو کفایت شعاری کے نام پر واپس نکال دیا۔
یہ چھوڑیں اب دوسری سڑک کی بات کرتے ہیں جو کوئٹہ سے ہو کر ژوب، شیرانی اور خیبرپشتونخوا جاتی ہے اس کو دور ویہ بنانے کے لئے پہلے سابق وزیراعظم نواز شریف نے سنگ بنیاد رکھا اس کے بعد موجودہ وزیراعظم عمران خان نے سنگ بنیاد رکھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے سنگ بنیاد ژوب کی طرف سے جبکہ موجودہ وزیراعظم عمران خان نے سنگ بنیاد کوئٹہ کی طرف سے رکھا۔ لیکن سڑک اب تک بنی نہیں ہے۔ یہ سوال موجودہ حکومت سے ضرور پوچھنا کہ ایسا رویہ بلوچستان کے ساتھ کیوں رواں رکھا ہے؟
ماضی کے منصوبوں پر بات نہیں کرتے نہ ہی ماضی میں ہونے والی جو زیادتیاں ہوئی ہیں اس پر بحث کریں گے لیکن یہ تو ہم پوچھیں گے کہ بلوچستان سے سی پیک تو بلوچستان کے حکمرانوں نے تو نہیں چھیناہے وہ تو وفاق نے ہم سے چھین کر دوسرے صوبے کو دیا، اس پر آپ نے بات کیوں نہیں کی۔ سی پیک کا جوسب سے مختصر روٹ ہے جو گوادر سے شروع ہوکر ہوشاب، بسیمہ، سوراب، کوئٹہ، ژوب، ڈیرہ اسماعیل خان، مانسہرہ، گلگت اورخنجراب تک جاتا ہے جس کا فاصلہ 23 سو 40 کلومیٹر بنتا ہے کو نظرانداز کرکے دوسرے روٹس پر کام شروع کیا گیا اور بلوچستان کو اپنے حق سے محروم کردیا گیا۔
باقی دو روٹس ایک 2933 جبکہ دوسرا 3108 بنتا ہے کو ترجیح دی گئی۔ دنیا بھر میں جب ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع ہوتا ہے تو اس میں کم فاصلے اور پسماندگی دور کرنے کو مدنظر رکھا جاتا ہے لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے اور ترقی یافتہ علاقوں کو مزید ترقی دی جاتی ہے جبکہ پسماندہ علاقوں کے عوام سے کہا جاتا ہے کہ آپ انتظار کریں آپ کے صوبے میں بھی ترقی آئے گی اور اگر ناراضی کا اظہار کیا تو اس سے نفرتوں کو فروغ ملے گا۔
شاہد آفریدی صاحب آپ قلات سے ہوتے ہوئے مستونگ، کوئٹہ، پشین اور پھر آخری مرحلے میں زیارت گئے۔ آپ نے دیکھا ہوگا ان تمام علاقوں کے عوام کا دارومدار زراعت پر ہے لیکن اس کے باوجود یہاں کے باغات خشک ہوئے ہیں، آپ نے ایک بار کے لئے پوچھا یا نہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ سے طویل خشک سالی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے۔ ہم نے وفاق سے بڑے ڈیم نہیں مانگے بلکہ چھوٹے چھوٹے ڈیم مانگے ہیں کہ ہمارے صوبے میں پانی کی سطح تیزی سے نیچے جارہی ہے لیکن کسی نے توجہ نہیں دی۔
دوسری جانب پنجاب میں دو تین دہائی بعد شروع ہونیوالا پانی بحران کے حل کے لئے حکومت پیش پیش ہے اور ڈیم فنڈ بھی بنایا گیا۔ ہمیں آج پینے کا پانی میسر نہیں تو کسی کو پروا نہیں لیکن بڑے صوبے میں کئی دہائی بعد یہ مسئلہ آسکتا ہے اس کے کے لئے پلاننگ شروع ہوگئی ہے۔ جب ہم یہ گلہ کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ نفرتیں پھیلائی جارہی ہیں۔ اگر آپ واقعی بلوچستان سے مخلص ہو تو وفاق کو بھی کہنا کہ بلوچستان کی پسماندگی کی ذمہ دار میں بلوچستان کے حکمرانوں کی طرح تم بھی ہو۔
اب آتے ہیں یہاں کے حکمران وعدے کرتے ہیں لیکن عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہوتے۔ سر گستاخی معاف آج سے پانچ یا چھ سال قبل آپ نے بھی آکر اہلیان کوئٹہ سے وعدہ کیا تھا کہ میں نے یہاں کوئٹہ کے عوام جوش وجذبے دیکھ کر فیصلہ کیا ہے آئندہ ہرسال باقاعدگی سے یہاں آیا کروں اور کرکٹ ٹورنامنٹ بھی منعقد کراؤں گا لیکن آپ چھ سال اپنا وعدہ بھول گئے تھے اور چھ سال بعد چند ہزار تھیلے راشن دینے آگئے اور عین انہی دنوں میں ٹی وی پر خبر چلی کہ شاہد آفریدی فاؤنڈیشن نے تعلیمی لحاظ سے ملک بھر میں ترقی یافتہ پنجاب میں سکول کھو ل دیا۔ آپ عوام کو راشن دینے کے ساتھ پشتون بلوچ کے بہتر مستقبل کے لئے ایک سکول، کالج یا ہسپتال کا اعلان کرتے تو ہم کہتے کہ چلیں ہمیں ایک مخلص انسان مل گیا ہے۔


