راجہ داہر کی پریشانی اور منتری بدھیمن کا سرسبز دنبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چچ نامہ میں مذکور ہے کہ سندھ کے عظیم راجہ چچ بن سیلائج کی وفات کے بعد اس کا بھائی چندر بن سیلائج تخت پر بیٹھا۔ وہ بھگت قسم کا بندہ تھا۔ اس لئے کاروبارِ مملکت پر توجہ دینے کی بجائے بھگتوں اور پروہتوں کے دھرم کو تقویت پہنچانے کو فوقیت دینے لگا اور ہندوستان کے دوسرے راجاؤں پر تبلیغ شروع کر دی۔

دوسرے راجاؤں نے دیکھا کہ طاقتور چچ کی جگہ چندر بھگت سندھ کے تخت پر بیٹھ گیا ہے تو انہوں نے لشکر کشی کر دی۔ خیر کچھ گڑبڑ کے بعد داہر بن چچ کی وجہ سے چندر کو دوبارہ حکومت مل گئی اور ان راجوں کو شکست ہوئی۔ سات سال بعد چندر کی موت ہوئی۔ داہر بن چچ اروڑ کا راجہ بن گیا اور راج بن چندر برہمن آباد کا۔ ایک برس بعد راج بھی فوت ہو گیا اور داہر کا بھائی دہرسینہ بن چچ برہمن آباد کا حکمران بنا۔

ایک دن دہرسینہ کو خیال آیا کہ اس کی بہن مایین (بائی) جوان ہو گئی ہے اس کی شادی کرنی چاہیے۔ رمل کے راجہ رائے بھاٹیہ نے رشتہ بھیجا۔ دہرسینہ نے شاہانہ جہیز تیار کیا اور پانچ سو ٹھاکروں کے ساتھ راجہ داہر کے پاس اروڑ بھیج کر اسے لکھا کہ مایین کو رائے بھاٹیہ کے حوالے کر دے۔

اسی اثنا میں راجہ داہر کو ایک باکمال نجومی کا پتہ چلا جو قسمت کا حال بالکل درست بتاتا تھا۔ راجہ داہر اس کے پاس پہنچ گیا اور اپنا حساب لگوایا جو خوب اچھا نکلا۔ راجہ نے اپنی بہن مایین کے متعلق بھی پوچھ لیا۔ نجومی نے کہا کہ اس کے حساب کے مطابق مایین کو کبھِی اروڑ کے قلعے سے باہر نہیں جانا چاہیے اور اس سے صرف اسے شادی کرنی ہو گی جو پورے ہندوستان کا مہاراجہ ہو گا۔

اب داہر پریشان ہو گیا کہ کیا کروں۔ بہن کو رائے بھاٹیہ کے ساتھ رخصت کرتا ہوں تو اپنا تخت بھی ساتھ رخصت ہوتا ہے۔ اس نے راجہ چچ کے زمانے سے چلے آ رہے منتری بدھیمن سے مشورہ کیا جس کی عقل و دانش کا زمانہ معترف تھا۔

بدھیمن نے کہا کہ بادشاہ تو سلطنت کے لئے بھائیوں اور عزیزوں کی جان لے لیتے ہیں۔ بادشاہ اگر بادشاہی سے کنارہ کر لے تو پھر عام آدمیوں کے برابر ہے۔ اب نجومی نے یہ حکم لگایا ہے تو بہن سے خود شادی کرو اور بیوی بنا کر تخت پر بٹھاؤ۔ بس اس سے صحبت مت کرنا۔ یوں وہ بیوی بھی کہلائے گی، گھور پاپ بھی نہیں ہو گا اور تمہاری بادشاہی تمہارے پاس بھی رہے گی۔

راجہ نے اپنے قریبی پانچ سو ٹھاکروں کو بلایا اور کہا کہ نجومی نے کہا ہے کہ مایین سے جس کی شادی ہو گی اسی کے قبضے میں سلطنت ہو گی۔ سلطنت میرے قبضے سے نہیں جانی چاہیے۔

منتری بدھیمن نے ایک مشورہ دیا ہے مگر وہ بہت شرم ناک، ناخوشگوار اور برہمنوں کے خاندان کے لئے باعث بدنامی ہے۔ جب یہ بری بات دوسرے راجاؤں اور پرجا کی زبان پر آئے گی تو وہ ہمیں اپنی برادری سے خارج کر دیں گے اور دھرم برباد ہو جائے گا۔ سب سوچ میں پڑ گئے کہ کیا کریں۔

منتری بدھیمن گھر آیا اور ایک دنبے کو لا کر اس کی اون میں مٹی اور رائی کے بیج ڈالے اور روز اسے پانی لگانے لگا۔ دو چار دن میں ہی بیجوں سے ہرے ہرے بوٹے نکل آئے اور یوں ایک ایسا دنبہ بن گیا جس پر اون کی جگہ سبز رنگ کے پتے لگے ہوئے تھے۔

منتری بدھیمن نے دنبے کو باہر شہر میں چھوڑ دیا۔ چھوٹے بڑے شہری دیہاتی اس سرسبز دنبے کو خوب تعجب سے دیکھنے لگے کہ یہ کیا عجوبہ ہے۔ تین دن گزر گئے۔ اس کے بعد وہ عجیب الخلقت دنبہ سارے شہر میں گھومتا مگر کوئی اس کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھتا۔

منتری بدھیمن نے راجہ داہر کو کہا کہ اے راجہ جو بری بھلی بات ہوتی ہے وہ لوگوں کی زبان پر تین دن تک رہتی ہے۔ اس کے بعد کوئی بھی اس کی نیکی یا بدی کو یاد نہیں کرتا۔ تم کسی طرح راج پاٹ کو نہیں چھوڑ سکتے۔ اس لئے تمہیں یہ کام ضرور کرنا چاہیے۔

راجہ نے اپنے پانچ سو ٹھاکروں سے دوبارہ وچار کیا اور انہوں نے راجہ کی مرضی جان کر بدھیمن سے اتفاق کیا۔ راجہ نے محل جا کر اپنی بہن کو زیورات پہنائے، اس کا پلو اپنے پلو سے باندھا اور اپنے تخت پر اپنے ساتھ بٹھا دیا۔ یہ بات پرجا میں مشہور ہو گئی اور چند دن بات پرجا اس بات کو بھول گئی۔

اسی زمانے سے راج نیتی میں منتری بدھیمن کا یہ دنبہ داخل ہوا ہے۔ میڈیا شور مچائے تو حکمران تین دن کسی طرح گزار لے۔ اس کے بعد میڈیا کو نیا دنبہ مل جائے گا اور وہ پرانے دنبے کو بھول کر اس نئی بھیڑ چال کا شکار ہو جائے گا۔ جمال خشوگی کا معاملہ بھی ایک ایسا ہی سرسبز دنبہ تھا اور ساہیوال کا بھی۔ تاریخ میں گزشتہ حکمرانوں کے ایسے دنبے بھی بہت مل جائیں گے۔ حکمرانوں کو یہ بھیڑ چال بہت سوٹ کرتی ہے۔

نوٹ: تحریر کے ماخذ کے طور پر سندھی ادبی بورڈ جامشورو کا شاَئع کردہ ”فتح نامہ سندھ عرف چچ نامہ“ استعمال کیا گیا ہے جس کے ”مصحح، محقق اور شارح“ نبی بخش خان بلوچ ہیں اور مترجم اختر رضوی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1181 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar