فردوس عاشق کی چھٹی اور ایک جرنیل کی آمد: وجوہات کیا ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جب سے وزیر اعظم عمران خان نے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق عوان کو ہٹا کر ان کی جگہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ صاحب کو معاون خصوصی اطلاعات اور شبلی فراز کو وزیر اطلاعات نامزد کیا ہے مختلف صحافتی اور میڈیا کے حلقوں کی جانب سے دلچسپ تبصرے اور تجزیے سامنے آرہے ہیں۔ لیکن پتا نہیں کیوں فردوس آپا جب سے (نکالی) گئی ہیں میرے ذہن میں شبلی فراز کے والد محترم جناب احمد فراز صاحب کا یہ شعر مسلسل گردش کر رہا ہے۔ :

ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے
خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے

اب پتا نہیں یہ فردوس آپا کی شخصیت کا خاصہ ہے یا شہر والوں کی ستم ظریفی کہ کسی اور کا چرچا ہو نا ہو، فردوس آپا جب بھی حکومتی کابینہ سے نکلی ہیں، ہر بار بازار میں طرح طرح کے فسانے اچھالے جاتے رہے ہیں۔ سچ کہئے تو پہلی بار مجھے ذاتی طور پر آپا سے ہمدردی ہونے لگی ہے۔

فردوس صاحبہ کے مقدر میں یہ رسوائی پہلی (اور شاید آخری) دفعہ نہیں آئی ہے۔ 2010 میں یہی فردوس عاشق عوان صاحبہ جب پیپلزپارٹی کی یوسف رضا گیلانی کی حکومت میں وزیر اطلاعات تھیں تو ایک دلچسپ واقعہ رونما ہوا تھا۔ جب پہلی بار ٹی وی پر کابینہ کے اجلاس کی کارروائی براہ راست دکھائی گئی تھی۔ اس اجلاس میں فردوس آپا رو پڑی تھیں اور انھوں نے روتے روتے ڈرامائی انداز میں وزیر اعظم کے سامنے اپنا استعفی پیش کیا تھا۔

تاہم اس دفعہ ہونے والی تبدیلی کے پس پردہ معاملات کچھ زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ اس وقت فردوس صاحبہ کے لیے اپنی کارکردگی سے زیادہ وزیر اعظم کی کارکردگی کا دفاع کرنا مشکل بن چکا تھا۔ دراصل حکومت اور مقتدر حلقے میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا پر اپنی ناقص کارکردگی کے باعث ہونے والی تنقید سے خاصے پریشان ہیں۔ مخالفین کی تنقید کا مقابلہ کرنے کے لیے وزارت اطلاعات کے ماتحت پہلے سے جاری پراپیگنڈا مہم کو نیا خون اور نئی سوچ درکار ہے۔ تاکہ مخالفین کو گندا تو کیا جائے مگر پروفیشنل طریقے سے۔ اور جنرل عاصم سلیم باجوہ صاحب آئی ایس پی آر کے سربراہ کے طور پر یہ کام بخوبی نباہ چکے ہیں۔ عمران خان ذاتی طور پہ ان کے کام کو سراہتے ہیں۔ لہذا اس پوزیشن کے لیے ان سے زیادہ موضوع کوئی اور شخص نہیں ہوسکتا تھا۔

انھوں نے بطور ڈی جی آئی ایس پی آر اپنے دور میں پہلی دفعہ نوجوان نسل میں پاک فوج کی حمائیت بنانے کے لیے سوشل میڈیا کا بہترین استعمال کیا تھا۔ اور ٹیکنولوجی کے ذریعے اینٹی اسٹیبلشمنٹ نظریے کی حامی قوتوں کو خوب دھول چٹائی تھی۔ یہی نہیں 2014 میں پی ٹی آئی کے دھرنوں کے دوران میڈیا کی بھرپور توجہ اور کوریج دلوانے کے لیے بھی اپنا اثرورسوخ استعمال کیا تھا۔ اسی سبب یہ دھرنا 126 دن تک جاری رہ سکا تھا۔ اس کے علاوہ وہ اسی دور میں راحیل شریف برانڈ کو لانچ کر کے عوامی مقبولیت دلوانے جیسے معرکے کامیابی سے سرانجام دے چکے ہیں۔

پچھلے سال پانچ اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرکے اسے باقاعدہ بھارت کا حصہ بنالیا تھا۔ جو ناصرف ہمارے دیرینہ موقف کی شدید ترین پسپائی ہے بلکہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ لیکن اس غیر معمولی صورت حال کے باوجود ہماری ایک پیج پر ہونے کی دعویدار حکومت کوئی بھی ٹھوس قدم اٹھانے سے قاصر رہی۔ اس واقعے کے بعد سے ملک کے اندر مختلف سنجیدہ حلقوں اور عوام کی جانب سے حکومت پر خاصی تنقید ہو رہی تھی۔ اوپر سے اب کورونا وائرس کی خطرناک وبا کے موقع پر حکومت کی غیر تسلی بخش کارکردگی نے بھی ناقدین کو حکومت مخالف بیانیہ استوار کرنے کے مواقع فراہم کر دیے ہیں۔ اس سے پی ٹی آئی کی ساکھ خراب ہونے کے ساتھ ساتھ باجوہ ڈاکٹرائین کی بھی سبکی ہورہی تھی۔

پچھلے کچھ دنوں کی ڈویلپمنٹ سے اب ایسا لگ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے نیب قوانین میں کچھ ترامیم کرنے اور اٹھارویں آئینی ترمیم کو ختم کروانے اور وفاق کو اس کے اختیارات واپس دلوانے کا حتمی فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ کیونکہ اٹھارویں ترمیم کے تحت اختیارات صوبوں کو منتقل ہوجانے کی وجہ سے مرکز میں اسٹیبلشمنٹ کے پاس زیادہ آپشنز نہیں بچے تھے کیونکہ ہماری اسٹیبلشمنٹ جنرل ایوب کے زمانے سے ہی مرکز میں بیٹھ کر سارے ملک کو چلانے کی عادی ہے۔

مثلاً ماضی میں ون یونٹ جیسا تجربہ ہم دیکھ اور بھگت چکے ہیں۔ اختیارات کے نچلی سطح تک منتقل ہوجانے سے ملک کو راولپنڈی یا اسلام آباد سے کنٹرول کرنا خاصا مشکل ہوجاتا ہے۔ مزید یہ کہ صوبوں اور مقامی حکومتوں کو فنڈز کی تقسیم کے نتیجے میں ماضی کے لامحدود دفاعی فنڈز اور اختیارات بھی کافی حد تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ جسے فوج ملکی سکیورٹی پالیسی کے لیے بہتر تصور نہیں کرتی۔

لیکن اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دونوں کو پتا ہے اٹھارویں ترمیم سے چھیڑ چھاڑ خاصی خطرناک ہوگی۔ اس کے نتیجے میں خصوصاً چھوٹے صوبوں میں شدید مزاحمت پیدا ہوسکتی ہے لہذا ایسی ممکنہ صورت حال میں عوام کی ذہن سازی کرنے ( ففتھ جنریشن وار) کے حتمی محاذ پر لڑائی کے لیے تیاریاں کی جارہی ہیں۔ اسی لیے اب سٹریٹجی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور جنگ کو نیب و عدلیہ کی کورٹ کے ساتھ ساتھ ساتھ میڈیا اور سوشل میڈیا کے میدانوں میں تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے مگر اس بار پیشہ وارانہ مہارت کا خصوصی خیال رکھا جائے گا۔ شاید یہی خوبی فردوس آپا میں موجود نہیں تھی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *