میرے بیٹے کے برطانیہ سے آنے کے بعد ہم پر کیا گزری؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مارچ سال کا تیسرا مہینہ اور موسم بہار کی آمد کا ہرکارہ ہے۔ گھاس میں موجود جڑی بوٹی بھی رنگا رنگ پھولوں سے کھل اٹھتی ہے۔ مرجھائے ہوئے شجر انگڑایاں لے کر جاگ اٹھتے ہیں۔ فضا کہیں کچنار تو کہیں خوبانی اور کہیں بادام کے شگوفوں سے مہکنے لگتی ہے۔ ہوائیں چمپا کے پھولوں کی میٹھی خوش بو سے مہکنے لگتی ہیں۔ لیکن نجانے اس سال کے مارچ کو کس کی نظر لگ گئی۔ دنیا بھر میں اک وبا پھیل گئی اور سب کچھ بند ہوگیا۔ اداسی اور خوف ہواؤں میں ٹھہر سا گیا۔

انسان جو خلاؤں کو بھی مسخر کر چکا تھا آج اس نادیدہ کورونا وائرس سے عاجز آگیا۔ گزشتہ دسمبر میں چین سے یہ وبا پھوٹی ان دنوں ہم اپنی بیٹی کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ خبر کو بس خبر کی طرح سنا اور آگے چل دیے۔ جنوری کے آخر تک حالات بہت بہتر تھے۔ میرا چھوٹا بیٹا جو لندن کی معروف یونی ورسٹی میں زیر تعلیم تھا جنوری میں بہن کی شادی میں شرکت کرنے کو آیا تھا اورآخر میں وہ اپنی بقیہ کلاسز اور سالانہ امتحان کے لیے واپس چلا گیا۔

اس وقت تک کورونا وائرس کی ایران اور اٹلی سے بھی بری خبریں آنا شروع ہوچکی تھیں۔ برطانیہ کا اس میں ابھی شامل نام نہیں تھا۔ واٹس ایپ پہ میری بیٹے سے روزانہ بات چیت اور کبھی ویڈیو کال سے اس کی خیریت معلوم ہوتی رہتی تھی اور اس کی باقاعدہ کلاسز بھی جاری تھیں۔ فروری کے وسط سے دنیا بھر سے بری خبروں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا جس میں برطانیہ بھی شامل تھا۔ کوئین الزبتھ بھی اس دوران بھی اپنی فیملی کے ہمراہ بکنگھم بیلس سے ونڈسر کاسل قرنطینہ میں جاچکی تھیں۔

اوائل مارچ میں میرے بیٹے نے فون پر بتایا کہ تمام یونی ورسٹیاں بند ہوچکی ہیں اور اب سب کے امتحان بھی آن لائن ہوں گے۔ لہٰذا وہ بھی تمام طالب علموں کے ساتھ واپس آرہا ہے۔ میری بیٹی ڈاکٹر ہے اور وہ جانتی ہے کہ پچھلے 23 برسوں سے ایکautoimmune diseaseمیں مبتلا ہونے کی وجہ سے میری قوت مدافعت کمزور ہے۔ میرے شوہر بھی ذیابیطس کے مریض ہیں۔ لہٰذا ہمیں سخت ہدایات تھیں کہ اپنے بیٹے کا ٹیسٹ کروائے بغیر بالکل اس سے ملاقات نہ کریں۔

تمام ملازمین کو ہماری بیٹی پہلے ہی چھٹی پہ بھیج چکی تھی۔ یہ تھے وہ حفظ ماتقدم کے اصول جو ایک تعلیم یافتہ باشعور شہری ہر قیمت پر اپنا نا چاہتا ہے۔ ہم نے بھی اپنی تسلی کے لیے چغتائی لیب سے اپنے بیٹے کا کورونا ٹیسٹ کروایا۔ ایک تو انتہائی مہنگا اور اس پر 48 گھنٹے انتظار۔ ہمیں ہرگز اندازہ نہ تھا کہ آگے ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اس سے پیشتر ذہن میں رہے کہ ہم نے پائیں باغ سے دور سے اپنی فرنچ ونڈو سے صرف ہاتھ ہلا کر اس سے ملاقات کی تھی۔

چوں کہ اس کا کمرہ اوپر کی منزل پر ہے جہاں اور کوئی نہیں رہتا لہٰذا وہ اوپر چلا گیا۔ تیسرے دن اس کی ٹیسٹ رپورٹ پوزیٹو آئی چغتائی لیب نے ہمیں بتایا کہ ہم حکومت کو مطلع کر یں گے۔ اس وقت ہمیں حکومت کی طرف سے آنے والے منفی رویے کا اندازہ نہ تھا۔ خیر اس واقعے کے چوتھے روز ڈی جی ہیلتھ کی طرف سے میرے ذاتی نمبر پر فون آیا۔ ہم نے ان سے درخواست کی کہ اسے پہلے ہی گھر میں مکمل آئسولیشن میں رہتے ہوئے سات روز ہوچکے ہیں خدارا!

اس کے باقی دن بھی گھر پر ہی رہنے دیں کہ ہم نے اسے پلس ریٹ، بلڈ پریشر چیک کرنے کا مانیٹر، تھرمو میٹر ہر چیز مہیا کی تھی۔ وہ صبح و شام اپنے وائٹلز چیک کر کے اپنی بہن اور سینئر ڈاکٹر ز سے زوم پہ باقاعدہ ٹیلی میڈیسن سے رابطے پہ تھا اور اس کے وائٹلز بالکل درست آرہے تھے۔ خیر حکومتی کارندے نہیں مانے ہمیں یقین دہانی کروائی کہ میو ہسپتال میں بہترین کمرا دیا جائے گا۔ رات ساڑھے دس بجے 1122 پہ اسے میو ہسپتال لے گئے اور کمرے کی بجائے اسے وارڈ میں ٹھہرنے کو کہاجس پہ اس نے انکار کردیا اور وہ رات تین بجے تک باہر بلڈنگ میں بیٹھا رہا۔

صبح چار بجے اسے بالآخر کمرا دے دیا گیا۔ اب اس کے بعد ہمارے ٹیسٹ جو حکومتی کارندے لے گئے تھے ان کا انتظار شروع ہوگیا۔ 25 مارچ کی سہ پہر کو عصر کی نماز کے بعد میں پینٹ کررہی تھی کہ میرے اکلوتے ملازم نے فون کیا کہ جو لوگ ہمارے ٹیسٹ لے گئے تھے وہ ٹیم آئی ہے۔ میرے شوہر گیٹ پہ گئے تو بتایا گیا کہ ہم تین لوگوں کے ٹیسٹ پوزیٹو آئے ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ جانا ہی ہوگا۔ میں ہرگز کسی سرکاری ہسپتال جانے کو تیار نہ تھی کہ اور انفیکشن نہ لگ جائیں۔

ادھر ہمارے گیٹ پر متواتر بیل بجے جارہی تھی۔ اس دوران ہمارے پڑوسی کا فون آگیا کہ وہ لوگ ان کے گیٹ سے آکر ہماری دیوا ر پھلانگ کر اندر آنا چاہتے ہیں۔ میرے شوہر مصر تھے کہ کپڑے اور دوائیں اٹھاؤ اور چلو میں بضد تھی کہ مجھے کہیں نہیں جانا کہ ہم تو فروری سے ہی آئسولیشن میں رہ رہے ہیں۔ ہمیں ہرگز کورونا نہیں ہوسکتا۔ میرے شوہر کو اپنی عزت کا ڈر تھا اور مجھے اپنی جان کا۔ اسی دوران میرے ملازم کا فون آیا کہ وہ مین گیٹ ہتھوڑے سے توڑ کر اند ر آگئے ہیں۔

اتنے میں گھر کا سامنے کا دروازہ ایسے پیٹا کہ مبادا ٹوٹ جائے۔ میں لاؤنج سے اٹھ کر ہال میں گئی، دیکھا کھڑکی کے باہر کٹس پہنے دو خلائی مخلوق نما چیزیں کھڑی تھیں۔ میں نے ان سے کہا ہم نے کوئی ڈاکا تو نہیں مارا، یہ کیاطریقہ ہے ہم سے مجرمانہ سلوک کیوں کیا جا رہا ہے۔ ہمیں کچھ وقت درکار ہے مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ خیر میری میڈیکل ہسٹری کو دیکھتے ہوئے کسی وزیر کی فون کال پہ مجھے اور میرے میاں کو نیشنل ڈیفنس ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ہمارے اکلوتے 22 سالہ ملازم کو میو ہسپتال لے گئے۔ اگلے ہی روز اس کا ٹیسٹ لیا گیا جو نیگیٹو آیا۔ گھر پہ ہمارا 22 سالہ بیٹا تنہا رہ گیا کوئی بندوبست تک نہیں کرنے دیا گیا۔ ہسپتال میں اگلے روز ہماری وبائی امراض کی ڈاکٹر نے کہا کہ اگر میں اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے آپ کو بھجوا بھی دوں تو پولیس آپ کے گھر آکر کسی بھی سرکاری ہسپتال لے جائے گی لہٰذا پانچ دن برداشت کر لیں۔

مجھے حکومت کے اس پروٹوکول پر سخت اعتراض ہے کہ اگر اس ملک کے وزیر، ایم این۔ اے، ایم۔ پی۔ اے کے کورونا پوزیٹو آئے تو وہ اپنے گھروں پہ محفوظ طریقے سے رہ سکتے ہیں لیکن ہم جیسے عام شہری جو دن رات وطن کی خدمت کریں وہ سزاوار ہیں۔ میں یہ برملا کہوں کہ میں نے ہمیشہ سچ لکھا اپنا سچ نہیں بلکہ سچ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہمیں آج تک ہماری ٹیسٹ رپورٹ دکھائی نہیں گئی بس بیٹے کا لندن سے آنا جرم ہوگیا۔

محترم وزیر تعلیم کے بھتیجے ہمارے گھر کے بالکل سامنے رہتے ہیں اور بچپن سے ہی میرے بیٹوں کے ساتھ ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے۔ وہ بھی میرے بیٹے کے ساتھ لند ن سے آئے۔ چوں کہ انھوں نے ٹیسٹ نہیں کروائے وہ مزے سے گھر میں موجیں مارتے رہے۔ چند اور نامور صحافیوں کے بچے بھی برطانیہ سے آئے اور خاموشی سے گھروں میں بیٹھے رہے کہ انھیں آنے والے نتائج معلوم تھے۔ خیر یہ سانحہ جو ہم پہ گزرا اس نے یہ سمجھایا کہ کہانی کیسے الجھائی جاتی ہے۔ وطن سے محبت اور سچائی پہ چلنے والوں کی طرح وطن سے محبت کا لمبا چوڑا سوال نامہ میرے ہاتھوں میں آچکا ہے جس کے جواب تلاش کرنے ہیں۔

افسوس ہمیں ٹیسٹ کے رزلٹ دکھائے بغیر صرف کیسسز بڑھانے کے لیے گھر سے لے گئے۔ ہم سے پوچھے بغیر ہمارے گیٹ پہ ”خبردار! کورونا وائرس آئسو لیشن زون“ کا پرچہ چسپاں کردیا گیا۔ بندہ پوچھے ہمارے علاقے میں تو لوگ پہلے ہی ایک دوسرے سے دور رہتے ہیں، کسی کو کسی کی خبر نہیں ہوتی۔ صحت مند ہوتے ہوئے بھی ہم پہ کورونا کا داغ لگ چکا تھا، دوست، رشتے دار سب ہم سے دور بھاگنے لگے۔ حکومت کے پروٹوکول بنانے والوں میں سے ہے کوئی اس کی ذمہ داری لینے والا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *