انور مسعود نے سونا نہیں، ہیرا سپرد خاک کیا ہے
میں نہیں جانتی تھی لینا حاشر صدیقہ آپا کی صاحبزادی ہیں اور حاشر ارشاد ان کے بھانجے اور داماد۔ نیشنل بک فاونڈیشن اسلام آباد کے کتاب میلے میں ہم لاہور سے کچھ ادیب لوگ بھی شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے۔ میلے کے دوسرے دن شام کو نیلم احمد بشیر نے کہا ”بھئی رات کو لینا سے ملنے چلنا ہے۔ وہ بہت اصرار سے بلا رہی ہے۔“ کافی پلینٹ کے نام سے جانا جاتا ان کا گھر اور کیفے ادیبوں، شاعروں، گلوکاروں اور فنکاروں کا ہوم ہے تو وہیں دوسرے شہروں کے نوجوان فنکاروں کا یہ شیلٹر ہوم ہے جہاں نوجوان لینا کو اماں کہتے ہیں اور حاشر ارشاد ان کے بابا جیسا ہے۔
اورمیں یہ سب نہیں جانتی تھی۔
نیلم، آمنہ مفتی اور میں ایک آرٹسٹک سے گھر میں داخل ہوئے جہاں صاحب خانہ اور خاتون خانہ کے چند دوست جوڑے پہلے سے ہی موجود تھے۔ خوشگوار ماحول اور مزے کی باتیں۔ تبھی تین نوجوان بچے اندر آئے۔ آنے والوں میں ایک علی زریون تھا جسے میں نے یوٹیوب پر سنا تھا اور اس کی شاعری کی جدت سے متاثر ہوئی تھی۔ بالی عمر کے دو لڑکوں نے لینا کو اماں کہا تھا۔ جس محبت کا ان کے لہجوں میں چھلکاؤ تھا میں تو یہی سمجھی تھی کہ وہ خاتون خانہ کے اپنے بچے ہیں۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ کافی پلینٹ میں آنے والے سبھی لڑکے بالے لینا اور حاشر کے بچے ہی ہیں۔
اب یہ عقدہ تو کہیں رات گئے کھلا کہ لینا انور مسعود اور صدیقہ آپا کی بیٹی ہیں۔ میں ہنسی تھی۔ تو بھئی صدیقہ آپا کی بیٹی کو تو پھر ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ محبت کے روشن چمکتے ستارے جیسی روشنی دینے والی صدیقہ آپا۔
پھر ایک عجیب سی بات ہوئی۔ رخصت ہوتے ہوئے لینا نے دفعتاً مجھ سے کہا۔ اگر میں آپ کو آپا کی بجائے پھپھو کہوں تو آپ کو برا تو نہیں لگے گا۔
دراصل! اس نے از خود ہی فوراً وضاحت بھی کردی۔ میری ایک پھوپھی کی شکل آپ سے بہت ملتی ہے۔ جتنا وقت آپ ہمارے گھر میں رہیں مجھے وہ یاد آتی رہیں۔ اس کے ہاتھوں کو تھپتھپاتے ہوئے مجھے صدیقہ آ پا کی زندگی کے وہ گوشے یاد آئے تھے جہاں انہوں نے ایک سفید پوش عیال دار سسرالی گھرانے کو اپنا خاندان سمجھا تھا اور ان سے وہی رشتہ جوڑا تھا جس کی خواہش اور توقع ہمارا معاشرہ کرتا ہے۔
صدیقہ آپا سے پہلی ملاقات سعود عثمانی کے بڑے صاحب زادے کی دعوت ولیمہ میں ہوئی۔ ایک حوالہ خداداد شاعر انور مسعود کا۔ دوسرا ایک قابل فخر استاد اور پھر اپنے خطوط کے حوالے سے وہ جس عوامی پذیرائی سے ہم کنار ہوئی تھیں وہ تو بہت سے اچھے لکھنے والوں کو بھی نصیب نہیں ہوتی۔ مسز فردوس امجد اسلام امجد نے ان کی تعریفوں کے پل باندھ دیے تھے۔ ”فردوس وہ تمہاری سمدھن ہے۔ بیٹی کی ماں کو کم ہی دل کی گہرائیوں سے یوں اپنی سمدھن کے گن گاتے دیکھا ہے۔ اس جوڑے کے خطوط پڑھے بیٹھی ہوں۔ شخصیت کی آئینہ داری میں خطوں سے زیادہ کون سی چیز اہم ہو سکتی ہے۔ بندے کا اندر کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ سچی بات ہے فردوس ملے بغیر ہی محبت کی ڈوری میں بندھی ہوئی ہوں۔“ تو چلو آؤ۔ ”مسز امجد بہت محبت کرنے والی ہیں۔ میرا ہاتھ پکڑے ان کے پاس پہنچ گئیں اور ہنستے ہوئے بولیں“ آپ کی ایک اور چاہنے والی لائی ہوں۔” شادی والے ہنگامے کے باوجود ہمارے درمیان بہت ساری باتیں ہوئیں۔ انور مسعود کے حوالے سے، ان کے اس جھاڑو والے شہرہ آفاق قصے کا بھی ذکر ہوا۔ میرے لیے وہ دن بڑا یادگار تھا۔
عمار مسعود سے ملاقات بھی اتفاقاً ہی تھی۔
”بولو بتاؤ ایک نادر شخصیت سے ملنا ہے یا تم نے گھر جا کر اپنی رضائی میں گھسنا ہے۔“ نیلم اور میں ایک تقریب سے واپس آرہی تھیں جب راستے میں اس نے اچانک کہا۔
”رات میں نے سمندر کی آگ نہیں بجھانی۔ رضائی میں گھس کر خراٹے ہی لینے ہیں۔ اس لیے چلو جہاں جانا چاہتی ہو۔“
تعارف حیران کن تھا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان میڈیا کا بندہ اور شادی کررکھی تھی ایک نابینا لڑکی سے جس سے حد درجہ پیار کرتا تھا۔ جسے پھولوں کی طرح رکھا تھا۔ شاعری کی دلداہ، موسیقی سے پیار کرنے والی خوش شکل لڑکی جس کی اندھیری زندگی میں اس نے بہت سے چراغ جلا رکھے تھے۔ میں بہت متاثر تھی۔ ایک خوش شکل جو ملنسار ہونے کے ساتھ مودب بھی تھا۔ پتہ چلا کہ وہ صدیقہ آپا اور انور مسعود کا بیٹا ہے۔ تو بھئی ایسے والدین کا بیٹا ایسا ہی ہونا چاہیے۔ زندگی کو اپنے رنگ ڈھب سے گزارنے والا لوگوں کو خوشیاں دینے اور بانٹنے والا۔ وہ کئی فلاحی تنظیموں میں کام کررہا تھا۔
ایک ملاقات کی یاد بھی دل و دماغ میں ہلچل مچا رہی ہے۔ امجد اسلام امجد کی سالگرہ کا جشن تھا۔ جو ان کے بچوں نے بڑے پیمانے پر منانے کا اہتمام کیا تھا۔ جس میں صدیقہ آپا عمار کے ساتھ خصوصی طور پر شرکت کے لیے آئی تھیں۔ میں ان کے ساتھ صوفے پر بیٹھی ان سے باتیں کرتی رہی۔ قرآن پاک کی تعلیم اور درس قرآن کے جس سلسلے کو انہوں اپنا مطمح نظر بنا رکھا تھا اسی بارے وہ بتاتی رہیں۔ ان کی طبیعت کچھ ناساز رہتی تھی مگر مجھے محسوس ہواتھا اس ذکر پر وہ یوں تازگی سے باتیں کررہی تھیں جیسے اس سے بڑھ کر ان کے لیے گفتگو کا کوئی اور پہلو پسندیدہ ہی نہ ہو۔ ان کی آنکھوں کی چمک ان کے چہرے پر چھلکتے عشق و جذب کی لو ان کی مدہم آواز میں چاہت کی ایک تڑپ میں سن رہی تھی، انہیں دیکھ رہی تھیں۔
دفعتاً مجھے دور سے اعزاز احمد چوہدری ممتاز سفارت کار نظر آئے۔ وہ یقیناً مجھے دیکھ کر مجھ سے ملنے ہی آرہے تھے۔ اعزاز کی استاد ہونے کا تو مجھے اعزاز حاصل ہی ہے مگر اس کے خاندان کے ساتھ میرے سسرال کا بھی ایک گہرا تعلق ہے۔ اسے دیکھ کر میں خوش ہوئی مگر ملول بھی ہوئی تھی۔ اس کا سینہ چومتے ہوئے میں نے کہا تھا میرے بچے تم تو بوڑھے ہوگئے ہو۔ ہر دم چیلنج کرنے والی بھاری سفارتی ذمہ داریوں نے تمہیں وقت سے پہلے ہی مرجھا کر رکھ دیا ہے۔ میں ایسا کیوں نہ کہتی۔ کہ استاد ایک مالی کی طرح ہی تو ہوتا ہے جو اپنے پھولوں کو کھلے دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ میرا تصور اس کا سرخ و سفید چہرہ اس کا بے حد متحرک وجود کہیں ٹرافیاں، کہیں کپ، کہیں سرٹیفیکیٹ لیتے بے شمار روپ دیکھ رہا تھا۔
میں پلٹی تو عمار مسعود نظرآیا۔ ”امی سے ملی ہیں۔“ اس نے صوفے پر بیٹھی صدیقہ آپا کی طرف اشارہ کیا۔ ”ہاں ہاں عمار انہی کے پاس تو بیٹھی تھی۔ بہت باتیں کی ہیں میں نے ان سے۔“
”تو اور کریے نا باتیں۔“ عمار کی آنکھوں میں کچھ تھا۔ میں سمجھی تھی۔ اس احساس کو، اس خواہش کو جانی تھی جس کا ایک چاہنے والے بیٹے کی نظروں میں ہونا ضروری ہوتا ہے۔ جو اپنی ماں کو بھرے میلے میں لایا تھا اور چاہتا تھا اس کی ماں اس وقت کے ہر ہر لمحے سے خوشی کشید کرے۔ اور پل بھر کے لیے تنہائی محسوس نہ کرے۔
اف یہ بڑا سنگین لمحہ تھا۔ میری دوستوں کا پورا ٹولہ ذرا فاصلے پر دھری کرسیوں پر براجمان ہو بیٹھا تھا۔ ایک خالی کرسی پر ہاتھ رکھے بینا گوئندی مجھے اشارے کرتی تھی کہ آ جاؤ وگرنہ اس پر کوئی بیٹھ جائے گا۔ اور سیما پیروز کی آواز بھی سنتی تھی۔ ”دفع مار اینوں، اس کی جپھیاں پپیاں ختم ہوں گی تو آئے گی۔“ اور میں آگے بڑھ گئی تھی۔ دنیا دار تھی نا۔
عمار کے کالم نے مجھے رلایا۔ اس کالم نے یقیناً بہتوں کو رلایا ہے۔ عمار کی ماں جگت ماں تھیں۔ صابر و شاکر، ہر تنگی ترشی میں شکر کرنے، اللہ کی پسندیدہ خاتون۔ عمار اور لینا جیسے میرا وجدان کہتا ہے۔ خدا نے اپنے فرشتوں سے کہا ہوگا۔ جنت کے فلاں حصے کو سجاؤ۔ جانتے ہو آج کون آرہا ہے؟
مجھ سے محبت کرنے والی، میرے انسانوں سے پیار کرنے والی، میرا شکر کرنے والی، میرے قرآن سے عشق کرنے والی۔


