مونا عالم، طارق پیرزادہ اور بھارتی ٹاک شو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس ملک میں پاک بھارت تعلقات کو بہتر کرنے والوں پر اکثر و بیشتر فتوے لگتے رہے اور انہیں غدار جیسے القابات سے بھی نوازا جاتا رہا۔ ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن، امن کی آشا سمیت کئی ایسے پروگرام اور کئی لوگ پاک بھارت تعلقات بہتری کے لیے اپنی کوششوں میں مصروف عمل رہے۔ بھارت سے پاکستان کے دوروں پر آئے لوگ چاہے ان کا تعلق فلم انڈسٹری سے ہو یا کرکٹ کے میدان یا دوسرے زندگی کے شعبہ ہائے جات سے، پاکستان سے ملنے والے پیار اور عزت پر پاکستانیوں کے گن گاتے نظر آئے۔

مگر پاک بھارت بارڈر پر آئے روز کشیدگی دیکھنے میں ملتی ہے۔ کورونا سے دونوں ملکوں میں پیدا شدہ سنگین صورتحال کے باوجود بھی دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزام تراشیوں میں لگے ہوئے ہیں اور ان حالات میں میڈیا خاص طور انڈین میڈیا کی بات کی جائے تو وہ صرف اور صرف پاکستان کے خلاف زہر اگلتے نظر آتے ہیں۔

ان کے ٹاک شوز کا تو مقصد ہی پاکستان کے لیے اپنی نفرت کا اظہار کرنا ہے اور جب بھی ان ٹاک شوز میں پاکستانی تجزیہ کاروں کو بات کرنے کا موقع دیا جاتا ہے تو کبھی ان کے مائیک بند کر کے ان کے زبانوں پر تالے لگا دیے جاتے ہیں اور ان کو اپنی بات کے اظہار کا بالکل بھی موقع نہیں دیا جاتا اور ان کے اپنے تجزیہ کار ان پاکستانی تجزیہ کاروں کو صرف نیچا دکھاتے نظر آتے ہیں الفاظ کی وہ گولہ باری ان پر کی جاتی ہے کہ ان کے منھ کے الفاظ ان کے منھ میں ہی رہ جاتے ہیں۔

اس کی تازہ مثال بھارتی آج ٹی وی کے پروگرام میں بلائے گئے دو پاکستانی تجزیہ کاروں طارق پیرزادہ اور مونا عالم کی ہے جنہیں ٹاک شو میں اپنی رائے کے اظہار کا موقع ہی نہیں دیا جا رہا تھا اور مسلسل انہیں نیچا دکھانے کی کوشش کی گئی ان کے مائیک بند کیے گئے۔ طارق پیرزادہ کو کبھی بھکاری، کبھی مونا عالم کو حافظ سعید کا ترجمان کہہ کر ان کی تذلیل کی گئی سلام ہے ان تجزیہ کاروں کی برداشت کا، کہ اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرتے رہے۔

یہ کوئی پہلی دفعہ کا واقع نہیں ان کے ٹاک شوز میں اکثر و بیشتر پاکستانی تجزیہ کاروں کے ساتھ اسی طرح کا ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے ماحول میں جہاں ان تجزیہ کاروں کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا ہی نہیں جاتا تو یہ تجزیہ کار اس طرح کے پروگراموں میں جانا کیوں پسند کرتے ہیں؟ پاکستانی میڈیا نے تمام تر خامیوں کے باوجود بھی پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے سلسلے میں ہمیشہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا۔ پاکستانی میڈیا پر جب بھی بھارتی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کو لیا گیا نہایت عزت اور احترام کے ساتھ اختلاف رائے کے باوجود بھی ان کو ان کی اظہار رائے کا بھرپور موقع دیا گیا۔ بقول نوجوت سنگھ سدھو کے، ان کی ایک جھپی نے کرتار پور کا راستہ کھول دیا مگر بدقسمتی سے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو پیش کردہ پاکستانی چائے نے ان کے دلوں پر کوئی اثر نہیں دکھایا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *