قومی اسمبلی کا اجلاس کورم اور آئین؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت نے بالآخر قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ گزشتہ روز جماعتی پارلیمانی کمیٹی کے ساتھ گفت و شیند کے بعد طے پایا کہ کرونا وبا کی وجہ سے اجلاس کا انعقاد خاص انداز میں کیا جائے گا۔ یہ نکتہ درست ہے تاھم اجلاس میں شرکا کی تعداد محدود رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ طے پایا کہ ہر جماعت قومی اسمبلی میں اپنی عددی حثیت کے تناسب سے مخصوص اجلاس کے لیے شرکا کا تعین کرے گی۔ اجلاس میں وقفہ سوالات نہیں کیا جائے گا، نہ ہی کوئی تحریک استحقاق پیش ہوگی تحریک التوا یا توجہ دلاؤ نوٹس بھی نہیں دیا جا سکے گا۔

متذکرہ صدر فیصلے اسمبلی قواعد کے ماتحت کیے جاتے ہیں۔ ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی یا سپیکر کی قائم کردہ کمیٹی مخصوص حالات میں قواعد و ضوابط میں تبدیلی یا تعطل کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ لیکن اسمبلی اجلاس کے لیے آئین پاکستان میں درج شرائط و ضوابط میں ترمیم یا تعطل ایسی کمیٹی کا استحقاق و اختیار کیسے یو سکتا ہے۔ یہ غور طلب نکتہ ہے ۔

آئین کی شق 55/2 کہتی ہے

” اگر کسی وقت اسمبلی کے کسی اجلاس کے دوران صدارت کرنے والے شخص کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی جائے کہ اسمبلی کی کل رکنیت کے ایک چوتھائی سے کم ارکان حاضر ہیں تو وہ یا تو اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردے گا یا اجلاس کو اس وقت تک کے لیے معطل کردے گا جب تک کہ ایسی رکنیت کے کم سے کم ایک چوتھائی ارکان حاضر نہ یو جائیں “

قیاس آرائی کی جا سکتی یے کہ کورم کا مسئلہ نشاندھی کے ساتھ مشروط ہے لہذا اگر ارکان اتفاق رائے سے کورم کی طرف توجہ نہ دلانا چاہوں تو یہ شق ان کی صوابدید پر منحصر ہے۔

اس قیاس آرائی میں مصلحت موجود ہے کا آئینی مثالیت پسند استدلال موجود نہیں ۔

اسی آئینی شق کی وضاحت بڑی معنی خیز ہے

” کورم پورا نہ ہونے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ ارکان اسمبلی کو کو حکومتی امور سے دلچسپی نہیں رہی”

 کورم کی شرط قانون سازی کے مقصد میں پارلیمنٹ کے کم از کم ارکان کی موجودگی و رایے کو فوقیت دینا ہے۔

اب جبکہ کورم کے سوال کو بالایے طاق رکھ دینے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے تو اس کا ایک نتجہ یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اجلاس محض نشتن گفتن برخاستن کے دائرے میں رہے گا۔ حزب اختلاف کرونا کے خلاف حکومت کے اقدامات پر تنقید کرے گی۔ حکومت اپنے اقدامات کو افلاطونی بصیرت افروزی قرار دے گی۔ زیادہ سے زیادہ لاک ڈاؤن بارے ایک عمومی اتفاق ہو سکتا ہے، نرمی کا یا سختی کرنے کا۔۔ لگتا ہے اجلاس کی رایے منقسم۔ سی ہو گی اور یوں کرونا کے خلاف تدبیری ابہام پر پارلیمنٹ کی مہر ثبت ہو جایے گی۔

دوسرا نتیجہ اس اجلاس سے یہ اخذ ہو گا کہ آئین کی کسی شق کو معطل کرنا۔ ہاؤس بزنس کمیٹی کے دائرہ اختیار میں تصور کر لیا جائے گا۔ ۔۔ باقی پرنالا اپنی موجودہ چگہ پر بہتا رہے گا۔

بلوچستان میں کرونا پھیل رہا ہے۔ گزشتہ روز 174 کیسز سامنے آئے ہیں۔ مریضوں کو کہاں کس طرح علاج کے لیے جانا ہو گا واضح نہیں۔ فاطمہ جناح ہسپتال میں جانے والے مریضوں کو گھر واپس بجھوایا جاتا ہے۔ شنید ہے کہ وہاں خالی بیڈ ہی دستیاب نہیں۔ ٹیسٹنگ کا نظام مفلوج ہے۔ رپورٹس تاخیر سے دی جاتی ہیں تب تک مریض کو گھر میں رہنے کی ہدایت دے کر رخصت کر دیا جاتا ہے۔ شیخ زید ہسپتال میں بھی حالات مخدوش ہیں۔ لیاقت شاہوانی صاحب نے کل ہی بتایا ہے۔ این ڈی ایم اے سے 142 وینٹی لیٹر کی فراہمی کی درخواست کی گئی ہے۔ اس صوبے میں صرف 74 وینٹی لیٹر ہیں جو کوئٹہ کے مختلف ہسپتالوں میں نصب ہیں۔ اندورون صوبہ ہسپتالوں میں وینٹیلیشن کا انتظام ہے نہ کرونا ٹیسٹنگ کی سہولت، سوائے تافتان کے۔

علاج معالجہ کی ناقص صورتحال اپنی جگہ ایک المیہ ہے جبکہ کرونا سے لاحق ہونے والے افراد کی تدفین الگ سے معاشرتی و طبی مسائل ہیں۔ جس گلی محلے میں ایسا سانحہ ہوجائے وہاں ضلعی انتظامیہ تدفین کی نگرانی اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے کام کرتی نظر نہیں آرہی گزشتہ روز سرکی روڈ پر ہونے والی موت شہریوں اور اہل خانہ کی دردناک بے بسی تھی۔ عزیز واقارب میت کے پاس روایتی انداز میں جمع تھے۔ نماز جنازہ و تدفین میں بیسیوں لوگ شریک تھے جن میں مرحومہ کے گھر کے افراد بھی شامل تھے لوگ ان سے مل کر روایتی انداز میں دلاسہ دے رہے تھے۔ اللہ نہ کرے کہ ان کے گھر کے دیگر افراد میں مرض کی علامات موجود ہوں تاہم اس خدشے سے انکار ممکن نہیں۔ پھر لواحقین سے ملنے والے افراد کے متعلق کیا یقین سے کیا جا سکتا ہے کہ مرض خدانخواستہ ان تک منتقل نہیں ہوا ہو گا؟

اس محلے اور گلی کو سیل کیا گیا ہے نہ دیگر حفاظتی اقدامات کئے گئے کیا حکومت کرونا وبا کے سامنے بے بس ہوچکی ہے یا وہ شعوری غفلت سے مرض پھیلانے میں مصروف ہے؟

بلوچستان بالخصوص کوئٹہ میں ایک فرضی لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ بازاروں میں ہجوم عام ہے۔ حکومت یقین رکھتی ہے کہ عوام احتیاطی تدابیر نہیں اپنا رہے مگر پھر بھی لاک ڈاؤن نامی فرضی اقدام میں کچھ نرمی کرنے جا رہی ہے حالانکہ پہلے سے ہی 19 مئی تک صوبے میں لاک ڈاؤن کے نفاذ میں توسیع کے احکامات صادر ہو چکے۔

دریں اثناء آج مرکزی حکومت لاک ڈاؤن کے بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی حکومت کی اعلانیہ خواہشات لاک ڈاؤن کو نرم کرنے کا پتہ دیتی ہیں وہ بھی مانتی اور جانتی ہے کہ اس صورت ایس او پیز پر عمل ناممکن ہوگا جس کے تباہ کن نتائج نکلیں گے مگر پھر بھی لاک ڈاؤن بتدریج ختم کرنے کی دانشمندی سمجھ سے بالا ہے۔ 11 مئی کو قومی اسمبلی کے اجلاس تک لاک ڈاؤن کے متعلق فیصلے ملتوی کرلیے جاتے تو مناسب ہوتا۔

اگر آج مرکزی حکومت نے لاک ڈاؤن میں کمی یا نرمی کا فیصلہ کیا تو کیا بلوچستان حکومت اپنے فیصلے سے رجوع کرے گی؟ جب قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے تو بلوچستان صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب نہ کرنے کا کیا جواز باقی رہ گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *