سلیکٹرز اور سلیکٹڈ۔ ایک تلخ حقیقت


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان کی ملاقات کے لئے پاکستان سے کوریج کے لئے میڈیا کی ٹیم میں میرا نام بھی موجود تھا لہذا ہم نے رخت سفر باندھا اور ملاقات سے دو روز قبل واشنگٹن پہنچ گئے۔ شام کی فلائٹ سے واشنگٹن پہنچے تو سفر کی تھکان کی وجہ رات جلدی سو گئے۔ صبح ناشتے کی میز پر غیر متوقع طور پر سرسوں کا ساگ، دیسی گھی کے پراٹھے، لسی یعنی پنجابی ناشتہ دیکھ کر حیرت گم ہوگئی۔ دنیا کے طاقتور اور ترقی یافتہ ملک کے دارالحکومت واشنگٹن میں دیسی ناشتہ ”جدت اور سادگی“ کا حسین امتزاج تھا۔

ہمارے میزبان، پنجابی سپوت ارشد صاحب نے بتایا کہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ بیرون ملک گزرنے کے باوجود اپنی دھرتی کے ساتھ لپٹے ہوئے ہیں۔ یوں کئی سالوں بعد ماں کے ہاتھ کی روٹی اور دیسی ساگ کی یاد تازہ ہوگئی۔ زندگی بڑی تلخ مگر حسین بھی ہے۔ برسوں سے پہلے گاؤں سے نکلے اور روزگار کی تلاش میں اسلام آباد آگئے اور پھر صحافت۔ کئی سالوں کی تپسیا کے بعد پہلی مرتبہ کسی اعلی سطحی وفد کے ساتھ بیرون ملک جانے کا موقع مل رہا تھا اور وہ بھی امریکہ کے صدر کے ساتھ ملاقات، اسی چکر میں سفری اخراجات پورے کرنے کے لئے گاڑی بیچ دی۔ دوبارہ آج تک دوبارہ گاڑی خریدنے کی ہمت نہیں ہوسکی۔

ایک مخصوص طبقے کے افراد کو چھوڑ کر، میر ی عمر کے لوگ اس بات کی تائید کریں گے کہ گاؤں میں چولہے کے گرد بیٹھ کر ماں کے ہاتھ کی روٹی کھانے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ پنجاب کے بہت سے دیہاتوں میں آج لکڑی اور اپلے جلا کر کھانا تیار کیا جاتا ہے اور مائیں روٹیاں پکاتے ہوئے انہیں ہاتھوں سے آگ جلانے کے لئے لکڑیاں اور اپلے چولہے میں ڈالتی رہتی ہیں اور اپنے کپڑوں سے ہاتھ صاف کرکے پھر روٹیاں پکانا شروع کردیتی ہیں۔

آج کل کی احتیاطی تدابیر دیکھ کر وہ دن بہت یاد آتے ہیں۔ خیر بات کہیں اور نکل گئی۔ جب ہم کالج میں پڑھتے تو عمران خان کو دنیا بہت پسند کرتی تھی مگر بطور کرکٹر کبھی بھی میرا پسندیدہ نہیں رہا، البتہ گزشتہ چند سالوں سے بطور سیاستدان وہ جو باتیں کرتا رہا وہ اچھی لگتی تھی اور میرے جیسے بہت سے مایوس پاکستانیوں کے لئے امید کی کرن تھا۔ مگر حکومت میں آنے کے بعد سے لے کر آج تک جو کچھ اس نے کیا ہے وہ سب کچھ اس کے سابقہ بیانات کے برعکس تھا۔

کرپشن میں اپنے وزرا اور مشیروں کی پردہ پوشی سے لے کر سمجھوتے اور انتقام کی سیاست۔ مجھے یاد ہے جب پہلی مرتبہ بلاول بھٹو کی جانب سے ایوان میں سیلیکٹ کا خطاب دیا گیا تو پی ٹی آئی کے ممبران اور ورکرز نے بہت شور شرابا کیا۔ ویسے تو اگر جذبات اور مصلحت کی عینک اتار کر بغور جائزہ لیا جائے تو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی جنرل یحییٰ خان کے آشیرباد سے ہی اقتدار میں آئے تھے اور پھر جناب نواز شریف نے مرحوم جنرل ضیا الحق کے دور اقتدار میں سیاست کے داؤ پیچ سیکھے اور بعد ازاں سیلکٹرز کے منظور نظر ہونے کے بعد گرتے پلٹتے وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچ گئے۔

بے نظیر بھٹو کے وزارت عظمیٰ کے پہلے دور کو اگر نفی کر بھی دیا جائے تو بعد میں جب بھی پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی ہے وہ راز بھی اب افشا ہوچکے ہیں۔ مطلب وزارت عظمٰی تو بہت دور کی بات ہے پارلیمنٹ تک پہنچنے کے لئے سیلکٹرز کا رول ہمیشہ سے رہا ہے۔ لیکن میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ گزشتہ ستر سالوں سے ہر مرتبہ سلیکٹرز اپنی ہی سلیکشن سے مایوس کیوں ہوجاتے ہیں اور نئے کھلاڑی کی تلاش شروع ہوجاتی ہے۔ کرونا وائرس سے پھیلنے والے مہلک مرض سے نپٹنے کے لئے جہاں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنی تمام تر جدید سہولیات اور ٹیکنالوجی کے باوجود ناکام ہیں وہیں ہمارے حکمرانوں کی غیر سنجیدہ رویے سمجھ سے بالاتر ہیں۔

ایک دن لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہیں دوسرے دن کہتے ہیں کہ اشرافیہ نے غریب مزدور کا خیال کیے بغیر لاک ڈاؤن کردیا۔ مالکان کے لئے گھروں اور دکانوں کا کرایہ وصول نہ کرنے کا نوٹیفیکشن جاری کرتے ہیں مگر مالک مکان اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ پرائیویٹ کمپنیوں کے مالکان کا کہا جاتا ہے کہ ملازمین کو تنخواہیں بھی دیں مگر وہ بھی نہیں ہوتا۔ عجب تماشا ہے مزدور کے پاس روزگار نہیں، دفاتر اور کام بند ہے، بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ کام بند ہو اور مالکان تنخواہیں بھی ادا کریں۔

آخر حکومت ان کو کیا ریلیف دے رہی ہے؟ خبر آئی کہ حکومت یوٹیلٹی بلز پر عوام کو چھوٹ دے گئی۔ گزشتہ ماہ بجلی کا بل تقریباً تین ہزار تھا میں نے ادا نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پیسے ہی نہیں تھے، دوسرا حکومت کے اعلان پر بھروسا کرلیا۔ دوسرے ماہ اسی بل میں پچھلے ماہ کا بل بمع جرمانہ اور ساتھ بجلی کاٹنے کا نوٹس بھیج دیا گیا، مرتا کیا نہ کرتا کسی پیسے مانگ کر بل ادا کیا۔

اب اس ماہ رب کے رنگ دیکھ رہے ہیں، نوکری ہے نہیں اور کسی سے مانگنے کی ہمت نہیں۔ کل پتہ چلا ہے کہ اسلام آباد کے پوش ایریاز میں حکومت یوٹیلٹی بلز پر ریلیف دے رہی ہے۔ اب اس کو نا اہلی کہا جائے یا اقربا پروری کہ جہاں ریلیف کی ضرورت ہے وہاں کنکشن کاٹنے کے نوٹس اور جو لوگ صاحب حیثیت ہیں ان کو ریلیف دیا جا رہا ہے۔ اب بندہ کس کی مانیں، سلیکٹرز کی یا سیلیکٹ کی۔ بقول شاعر

اٹھو وگرنہ حشر نہ ہوگا پھر کبھی
دوڑو کہ زمانہ چال قیامت کی چل گیا
پروردگار تیرے حضور التجا کرتے ہیں۔

بقول فیض کہ
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ہوتو حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

Facebook Comments HS