خواتین بہتر حکمران ثابت ہوئی ہیں یا بدتر؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”عورتیں ناقص العقل ہیں، عقل کے بجائے جذبات سے کام لیتی ہیں۔ عورتوں سے گھریلو کام تو کروا لو مگر اعلیٰ سطح کا انتظام ان کے بس کی بات نہیں“ ۔ یہ اور اس قسم کے اور بھی بہت سے مفروضات ہیں جو مردوں کے ذہن کی ہی اختراع نہیں بلکہ خودعورتیں بھی اپنی صنف کے متعلق ایسے منفی مفروضات سن کر اس پر آمناوصدقنا ایمان لے آئی ہیں۔ یہ سادہ سی نفسیات کی بات ہے کہ آپ کو کوئی مستقل یقین دلاتا رہے کہ یہ کام تمہارے بس کا روگ نہیں تو بالآخر آپ اس پر ایمان لے آتے ہیں اوراس کام کی کوشش کرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ عورتوں کے ساتھ بھی ہوتا آیا ہے۔ ادب سے لے کر سیاست تک ہم کم ہی عورتوں کا نام نمایاں دیکھتے ہیں۔ لیکن کرونا وائرس کی وبا نے جہاں بڑے بڑے بتوں کو پاش کرکے ترقی یافتہ ممالک کے نظاموں کے کھوکھلے پن کو عیاں کیا وہاں اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھایا کہ ”آدھی گواہی“ والی عورتوں نے اس وبا سے نبٹنے میں اپنا کام کس احسن طریقے سے پورے طور پہ اپنے فرائض کوانجام دیا۔ یہ وہ لیڈر عورتیں ہیں جنہوں نے ملکوں کی باگ ڈور سنبھالی ہوئی ہے۔

دیکھا جائے تو دنیا کی سیا ست میں عورتوں کا قائدانہ کردار محض سات فی صد ہے مگر جب بات کرونا وبا کو قابو میں کرنے کی آئی تو دنیا نے دیکھا کہ ان ممالک کی لیڈروں نے اپنے عوام کو اپنے دانشمندانہ فیصلوں اور عمدہ قیادت کی بنیاد پہ موت کے پنجوں سے ایسے بچایا جس طرح مرغی اپنی ما متا کے پروں میں اپنے بچوں کو اپنا فرض سمجھ کے بچاتی ہے۔

اس وقت جب دنیا کی سب سے ترقی یافتہ قوم کے سربراہ اتنی سنگین صورتحال پہ بھی سرکس کے مسخرے کی طرح ایسے بیانات دے رہے تھے کہ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا اس وقت ان خواتین لیڈروں نے آنے والے خطرے کو بھانپ کر وہ کیا کہ جو کسی بھی دانشمند قیادت کو کرنا چاہیے۔ یعنی حقیقت کا سامنا کرتے ہوئے فوری طور پہ حفاظتی اقدامات۔ ۔ ۔ اور دنیا نے دیکھاکہ ان ممالک میں بتدریج زندگی اپنے معمول پہ آرہی ہے جبکہ جن لیڈروں نے عوام کی زندگیوں کے مقابلے میں محض معیشت کو فوقیت دی وہاں بدقسمتی سے موت کا بھیانک رقص شدومدسے جاری ہے۔

آج آئس لینڈ سے تائیوان اور جرمنی سے نیوزی لینڈ تک کی خواتین لیڈروں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسانی برادری کوکس طرح بہتر کیا جا سکتا ہے۔ یہ ممالک یورپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں وہ کون سی سربراہان مملکت ہیں جن کے سراس مشکل کامیابی کا سہرا بنتا ہے۔ اور آخر انھوں نے کون سی حکمت عملی اختیار کی جس نے انہیں بہتر لیڈر کا درجہ دیا۔

اختصار کے لیے ہم صرف چار لیڈران کا ہی ذکر کررہے ہیں۔ کہ جنہوں نے فوری طور پہ حتمی فیصلہ کیے اور ملکی سطح پہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا، اسکول بند کیے، بڑے پیمانے پہ ٹسٹنگ اور سرحدوں اور سفر پہ پابندی لگائی۔ اس کے علاوہ دو میٹر کا سماجی فاصلہ، بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونا اور ماسک اور دوسری حفاظتی اشیاء کے استعمال پہ سختی سے عمل کروایا۔

جسینڈا آرڈرن

نیوزی لینڈ کی 39 سالہ وزیر اعظم جسینڈرا عوام کے لیے ایک مثال ثابت ہوئی جنہوں نے اس کرائسس کے وقت میں عوام کو واضح اور تواتر سے پیغام بھیجے۔ ان پیغامات سے لوگوں میں جوش کے علاوہ سکون بھی پیدا ہوا۔ ان کی ڈگری کمیونیکیشن میں ہے لہٰذا ان کی یہ صلاحیت پوری طرح کام آئی۔ فیس بک کے ذریعے اپنے گھر سے عوام سے رابطہ رکھا اورسوال جاب کے سیشن کیے کہ والدین کس طرح بچوں کے تفکرات سے نبٹیں۔ اس کے لئے انہوں نے ماہر نفسیات کو دعوت دی۔ اس طرح انہوں نے حکومت کے مفادات کے بجائے پوری قوم کے مفاد کو سامنے رکھا۔ انہوں نے اس لاک ڈاؤن میں بھی ایک دوسرے سے جڑے رہنے اور اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے پہ زور دیا۔

انجیلا مرکل

جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے ابتدا ہی سے عوام سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے حقیقت پسندی اورصاف گوئی سے بات کی۔ انہوں نے بجائے مفروضات کے اپنے سائنسی تعلیم کے پس منظر کی بنیاد پہ عوام کو حالات کی سنگینی سے آگاہ کیا اور یہ سوچنے کی دعوت دی کہ کہ ان کا رویہ کس طرح سب کی زندگیوں پہ اثر انداز ہوسکتا ہے۔ فوری اقدامات کی وجہ سے اور یورپین ممالک مثلاً اٹلی اور فرانس کے مقابلے میں موت کی شرح کم تھی۔

ارنا سولبرگ

ناروے کی 59 سالہ وزیر اعظم نے عوام اور خاص کر بچوں سے براہ راست اور ٹی وی پروگرام میں جا کر گفتگوکی اور اس وائرس کے متعلق ان کے سوالات کے جوابات براہ راست دیے۔ اور وائرس کے حملے کو روکنے کے لیے شروع ہی سے سختی سے حفاظتی اقدامات پہ عمل کیا مثلاً قرنطینہ، سفر پہ پابندی اسکولوں کو بند کردیا۔

سائی انگ ون

تائیوان کی صدر سائی نے ماضی کی 2003 کی سارس وبا سے سبق لیتے ہوئے دسمبر ہی سے ووہان سے آنیوالوں کو نظر میں رکھا اور جنوری میں تمام حفاظتی اقدامات کو سختی سے لاگو کردیا۔ اس انتھک کوششوں میں بہت سے اداروں نے مل کر کام کیا۔ اور اس سلسلے میں عوام کی طبی ضروریات کے سامان کو حتمی بنایا۔ مثلاً ماسک کی فراہمی اور دوسری حفاظتی اشیاء

ڈنمارک، جس کی وزیر اعظم میٹی فریڈریکسن ہیں، سب سے پہلے لاک ڈاؤن ہونے والا یورپین ملک ہے۔ فوری اقدامات کا اچھا نتیجہ سامنے آرہا ہے۔

آئس لینڈ کی وزیر اعظم کیٹرن نے کرونا وائرس کی پورے ملک میں مفت ٹسٹنگ کرکے اپنے ملک میں ٹریکینک کا مکمل انتظام کیا۔ اسی طرح فن لینڈ کی 34 سالہ وزیر اعظم ثنا میرن نے عوم تک رسائی کے لیے انٹرنیٹ اور دوسری ٹیکنالوجی کو استعمال کیا۔

اگر دیکھا جائے تو جو حکمت عملی ان خواتین نے استعمال کی اس میں کسی ایک کے بجائے عوامی صحت کے ماہرین اورسائنسی اپروچ کو لیا گیا اور آپریشن سختی سے اور فوری عمل کیا گیا۔ اس کے علاوہ انسانوں سے یگانگت کا مظاہرہ کیا گیا اور عوام سے براہ راست گفتگو کی گئی۔ ان کے اعتماد کو حاصل کیا اور اپنے مفادات کے بجائے انسانی بہبود کے حقوق کومقدم رکھا گیا اور اپنے فیصلوں پہ سختی سے عمل کیا گیا۔ لہذا اس وبا نے جہاں لاکھوں جانوں اور معیشت کو تہس نہس کیا وہاں ایک اہم نکتہ پہ غور کرنے کی دعوت بھی دی ہے کہ عورتوں کو اہم اداروں میں شامل کرنے سے استحکام اور خوشحالی بڑھتی ہے اور بدعنوانی کم ہوتی ہے اور لا محالہ معیشت بہترہوتی ہے۔ کرونا سے پہلے کے رویے کواب یقیناً بدلنے کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *