عمران خان گئے تو کوئی اور ہی آئے گا
جب سے میاں شہباز شریف چار ماہ لندن میں قیام کے بعد وطن واپس آئے ہیں، ڈیل اور ڈھیل کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس ضمن میں شیخ رشید تو بہت واضح ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اس امید پر آئے تھے کہ کورونا وباکے نتیجے میں خان صاحب کی حکومت کا چل چلاؤ ہے اور اقتدار کا ہما دوبارہ ان کے سر پر بیٹھنے کو ہے بلکہ اس مرتبہ وہ وزیراعظم ہوں گے۔ شہباز شریف نے شیخ صاحب کے اس دعوے کی پرزور تردید کی، ان کے مطابق تو وہ لندن سے پی آئی اے کی آخری پرواز سے ٹکٹ کروا کر بھاگے بھاگے قوم کی خدمت کرنے کے لیے وطن واپس آئے ہیں۔
ان کی واپسی کے بارے میں قیاس آرائیوں میں صداقت ہو نہ ہو لیکن کچھ سوالیہ نشان ضرور ہیں کہ میاں صاحب بھائی جان کے علاج کی خاطر ان کے ساتھ لندن گئے تھے لیکن وہاں لندن میں چار ماہ بیٹھے کیا کرتے رہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ اپنے صاحب فراش بھائی کو چھوڑ کر واپس نہیں آ سکتے تھے اور ان کی سرجری کے بعد ہی ان کی واپسی ہو گی۔ مختلف تاویلات کے تحت نواز شریف اپنے ٹیسٹ کے لیے بھی کسی ہسپتال یا کلینک میں داخل نہیں ہوئے جس بنا پر شہباز شریف کی واپسی کا معاملہ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی کی عملی تصویر بن کر رہ گیا تھا۔
برادرخورد اچانک اپنے بھائی جان کو چھوڑ کر وطن واپس آئے ہیں۔ ظاہر ہے اس پرچہ مگوئیاں تو ہونی ہی تھیں۔ ایک حلقے کا خیال ہے کہ وہ اپنی مسلم لیگ (ن) کی صدارت بچانے کے لیے پاکستان واپس آئے ہیں کیونکہ میاں نواز شریف کی سیاسی طور پر ہونہار بیٹی مریم نواز عملی طور پر تو سیاست سے کنارہ کش ہیں لیکن درون خانہ انہی کا طوطی بولتا ہے۔ خبر یہ تھی کہ مریم نواز سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو شہباز شریف کی جگہ مسلم لیگ (ن ) کا صدر بنانا چاہتی ہیں۔
اس ضمن میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ پر ہے کہ جب شہباز شریف لندن کی کھلی فضاؤں میں لطف اندوز ہو رہے تھے تو شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعد اور سلمان رفیق جیسے پارٹی رہنما نیب کے تحت قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے۔ اس وقت بھی اگر دیکھا جائے تو شاہد خاقان عباسی ہی ہیں جو دوٹوک بات کرتے ہیں، خرم دستگیر اور احسن اقبال بھی مختلف چینلز پر کھل کر حکومت پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔
خواجہ سعد رفیق نے تو ضمانت پر رہائی کے بعد قریباً چپ ہی سادھ رکھی ہے۔ شہباز شریف نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے کہ وہ وزیراعظم بننے کے لیے واپس آئے ہیں حالانکہ ان کو اس عہدے کی ماضی میں کئی بار پیشکشیں ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق غلام اسحق خان نے انہیں ایسی پیشکش کی تھی اور جنرل پرویزمشرف بھی انہیں وزیراعظم بنانا چاہتے تھے۔ نیز جولائی 2017 ء میں میاں نواز شریف کی معزولی کے بعد میرے معذرت کرنے پر ہی شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنایا گیا تھا۔
شہباز شریف نے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ فوجی قیادت نے دو صحافیوں کے ذریعے وزارت عظمیٰ کی پیشکش کی۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ شہباز شریف کا بیانیہ اسٹیبلشمنٹ کے حق میں ہونے اور بطور ایک اچھے منتظم کی شہرت کی بنا پر وہ موجودہ فوجی قیادت کی گڈ بکس میں ضرور تھے، یہ میرے علم میں نہیں ہے کہ میاں صاحب ان کے ساتھ کیا وعدے وعید کرتے تھے لیکن جب وہ اپنے بھائی جان کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے میں تبدیلی نہ لا سکے تو ان کو فارغ کر دیا گیا۔
جس روز میاں نواز شریف نے، ووٹ کو عزت دو، کا نعرہ مستانہ لگا کر جی ٹی روڈ کا روٹ اختیار کیا میاں شہباز شریف کے دوبارہ اقتدار میں آنے کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ جب سڑکوں پر میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کا بیانیہ بک رہا تھا اور برادرخورد اس کے روکنے میں ناکام رہے اسی روز ان کی افادیت ختم ہوگئی تھی کیونکہ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ ووٹ نواز شریف کے نام پر پڑتے ہیں۔ جہاں تک پرویزمشرف کے دور میں ان کو وزارت عظمیٰ کی آفر ہونے کا تعلق ہے، اس میں اس حد تک حقیقت ہے کہ 12 اکتوبر 1999 ء کو نواز شریف کے اقتدار کے خاتمے سے پہلے انہیں کہا گیا کہ آپ اسلام آباد آ کر معاملات سنبھالیں لیکن مشرف کے اصل ارادے تو کچھ اور تھے۔
یہ غالباً اکتوبر 2000 ء کی بات ہے کہ گورنر ہاؤس لاہور میں جنرل پرویزمشرف نے کچھ میڈیا پرسنز کو ظہرانے پر مدعو کیا۔ اس لنچ ٹیبل پر پانچ چھ مہمان ہی تھے۔ ضیاء شاہد کے اس سوال پر کہ جنرل صاحب آپ نواز شریف کو پسند نہیں کرتے لیکن شہباز شریف کے لیے آپ کا سافٹ کارنر ہے جس پر پرویزمشرف نے بڑے تحقیر آمیز لہجے میں کہا کہ دونوں بھائی ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں اور وہ شہباز شریف سے خصوصی طور پر ناراض تھے کہ ان کے سری لنکا کے دورے سے عین قبل انہیں شہباز شریف نے بھی یقین دلایا تھا کہ آپ اطمینان سے دورہ کریں یہاں کچھ نہیں ہوگا۔
اس ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے پرویزمشرف نے کہا ایک شخص کہہ رہا تھا کہ میں وضو سے ہوں جھوٹ نہیں بولوں گا اور دوسرا سامنے پڑے رزق کی قسم کھا رہا تھا لیکن دونوں جھوٹے نکلے۔ (ان کا اشارہ شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان کی طرف تھا) دیکھا جائے اگر میاں نواز شریف واقعی اپنے بھائی کو وزیراعظم بنانا چاہتے تو اس حوالے سے کئی مواقع تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہیں یہ بھی علم تھا کہ اگر وہ فوج کے ساتھ محاذآرائی کا راستہ اختیار نہیں کریں گے تو شہباز شریف کے لیے اقتدار میں واپس آنے کی راہیں ہموار ہو جائیں گی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
اب بعداز خرابی بسیار نواز شریف اور ان کی صاحبزادی اپنا بیانیہ بدل چکے ہیں، اسی بنا پر وہ، بغرض علاج، لندن میں مقیم ہیں۔ مریم نواز ضمانت پر جاتی امرا میں زبان بندی کی زندگی گزار رہی ہیں اور شہباز شریف بھی جیل سے باہر ہیں۔ اس سے زیادہ سہولتوں کی میاں برادران کو توقع نہیں کرنی چاہیے کہ فی الحال انہیں اسی تنخواہ پر کام کرنا پڑے گا۔ اگر عمران خان کے اقتدار کا سنگھاسن ڈولا تو موجودہ سیٹ اپ میں پھر کوئی اور ہی آئے گا۔
بشکریہ روزنامہ 92۔


