کرونا وائرس : کس سرکاری کال نے شہریوں کو ہلا کے رکھ دیا؟
کرونا وائرس کی بجائے شہریوں کے ”زبردستی کرونا“ کا شکار کیے جانے کی اطلاعات نے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب شہریوں میں ”کرونا“ سے زیادہ ”جعلی کرونا“ کا خوف پھیلنا شروع ہو گیا ہے، جس نے کرونا متاثرین کی بابت تشخیص کے پورے سرکاری نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس سلسلے میں پہلا واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب کراچی کے ضلع جنوبی کی رہائشی ایک خاتون عشرت بی بی کے قرنطینہ میں ہونے بارے معلومات کے لئے ڈی سی آفس کی طرف سے رابطہ کیے جانے پر پتہ چلا کہ خاتون انتظامیہ کے زبردستی آئسولیشن میں رکھنے کے نتیجے میں انتقال کر گئی ہے جبکہ دو بار ٹیسٹ کروانے کے باوجود اس کی رپورٹ نیگیٹو آئی تھی
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ آفس کے سٹاف کی رکن کشمالہ قادر نے اپنے علاقے کی رہائشی، کرونا وائرس کی ایک مبینہ مریض کے قرنطینہ میں ہونے سے متعلق اپ ڈیٹ لینے کی غرض سے جب اس کے موبائل نمبر پر رابطہ کیا تو اس کے شوہر کے انکشاف نے اسے افسردہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہلا کے رکھ دیا کہ اس کی بیوی 2 روز قبل اللہ کے پاس جاچکی ہے۔ ”مریضہ“ کے شوہر نے بتایا کہ چند روز قبل اس کی اہلیہ بارے کسی نے محکمہ صحت کے حکام کو اطلاع دی کہ اس میں کرونا وائرس سے متاثر ہوجانے کی علامات ظاہر ہوئی ہیں جس پر حکام نے اسے لے جاکر ضیاء الدین ہسپتال سے اس کا ٹیسٹ کروایا تو وہ نیگیٹو تھا۔
” مگر ڈاکٹر نہ جانے کیوں بضد تھے کہ علامات کرونا کی ہیں جس پر میری بیوی کا دوبارہ ٹیسٹ کروایا گیا تو وہ پھر نیگیٹو تھی لیکن ڈاکٹروں نے آپس میں مشاورت کر کے اسے زبردستی کرونا مریض ڈیکلیئر کردیا پھر۔ پتہ نہیں اسے کیا دیا کہ اسے وینٹی لیٹر پر پہنچا دیا اور دو دن پہلے انڈس اسپتال میں ایک بیڈ کا انتظام کر کے زبردستی اسے آئسولیشن میں رکھ دیا گیا“ ۔ ”ڈاکٹر 2 دن تک وڈیو کال پر اشاروں میں اس سے ہماری بات کرواتے رہے اور پھر دو روز قبل رات کو ہمیں ہسپتال بلا کر بتایا گیا کہ مریضہ جانبر نہیں ہو سکی“
عشرت بی بی کے شوہر نے اسے سرکاری قتل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ مرحومہ دو جوان بچوں کی ماں تھی جن میں سے 20 سالہ بیٹی بی ڈی ایس کی طالبہ تھی جبکہ 18 سالہ بیٹا سوفٹ ویئر انجینئرنگ پڑھ رہا تھا ”میری پڑھی لکھی وائف کو مار دیا جو اپنے دو جوان بچوں کو پڑھا رہی تھی۔ اب میں انہیں کہاں لے کر جاؤں۔ میں ساری رپورٹیں جیب میں لئے در در پھر رہا ہوں لیکن کہیں سنوائی نہیں ہو رہی“
اس واقعہ سے متعلق سرکاری فون کال کی آڈیو ٹیپ لیک اور سوشل میڈیا میں وائرل ہوجانے کے بعد کرونا کی ہلاکت خیز وبا کی ٹیسٹنگ اور تشخیص کے ساتھ ساتھ حکومت اور انتظامیہ کی پالیسی بارے بھی شبہات بڑھ رہے ہیں اور شہریوں میں سرکاری میڈیکل ٹیموں اور اسپتال داخل کیے جانے بارے تحفظات شدید سے شدید تر ہوتے جا رہے ہیں۔

