منگیتر سے زبردستی، رومان، ہراسانی یا گناہ؟ قسط نمبر 9۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”میں نیچے جارہی ہوں“ وہ باسط کی طرف دیکھے بغیر کہہ کر دروازے سے نکل آئی۔ پھر کب اس نے چائے پی کب گھر واپس آئی اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ مستقل اسے محسوس ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پہ کوئی کراہت آمیز چیز لگ گئی ہے۔ آتے ہی واش بیسن کھول کے کھڑی ہو گئی۔ بار بار چہرے پہ پانی ڈالتی بار بار صابن رگڑتی۔

دادی نے آخر ٹوک دیا ”ارے چھوڑ دے پانی کا پیچھا۔ ایک دن کی دھول مٹی سے کالی نہیں ہو جائے گی۔ ویسے بھی وہ کیا پھیشل کرواتی ہیں دلہنیں وہ تو ہوگا ہی۔“

وہ نلکا بند کر کے گیلا چہرہ لے کر ہی پنکھے کے نیچے بیٹھ گئی۔
”اے کیا ہوا؟ تھک گئی کیا؟“

دادی کو اس کے تاثرات سے کچھ گڑبڑ کا احساس تو ہوا مگر سمجھ نہیں آیا کہ اسے ہوا کیا ہے۔ ان کے حساب سے تو اسے خوش آنا چاہیے تھا کہ اپنی شادی کا جوڑا خرید کے آئی تھی۔ مگر اس کے چہرے پہ پھیلی وحشت نے انہیں واقعی کافی ڈرا دیا تھا۔

”دادی بہت گرمی ہے آج، شاید اسی وجہ سے گھبراہٹ ہو رہی ہے۔“

وہ اس وقت بالکل چپ رہنا چاہتی تھی مگر دادی کی نظریں جواب طلب انداز میں مسلسل اس کے چہرے پہ ہی تھیں ایسے میں بالکل چپ رہنا ناممکن ہی تھا۔ جواب دے کے وہ اٹھ کر کمرے میں آ گئی۔ بستر پہ ساکت لاش کی طرح لیٹ گئی۔ اس کی نظریں چلتے پنکھے پہ تھیں مگر ذہن وہیں باسط کے کمرے میں تھا۔ بار بار وہ منظر ذہن میں آتا اور ہر بار اسے خود سے اور باسط سے پہلے سے زیادہ کراہت محسوس ہوتی۔

اسلم کی بار میں اسے احساس شرمندگی ضرور تھا کہ اس نے اسلم پہ غلط اعتبار کیا مگر کم از کم اسے اتنا آگے نہیں بڑھنے دیا۔ اسے اطمینان تھا کہ اب اسلم اس کی زندگی سے ہمیشہ کے لیے نکل گیا ہے مگر اب اسے شدید احساس گناہ اور احساس بے بسی تھا۔ احساس گناہ اس لیے کیونکہ اسے لگا کہ باسط کے نامناسب میسجز پہ اگر وہ پہلے ہی سختی سے روک دیتی تو باسط کی اتنی ہمت نہ ہوتی۔ اور بے بسی اس لیے کیونکہ وہ باسط کو اپنی زندگی سے نکال نہیں سکتی تھی۔

اسے ایک نامحرم نے چھوا ایک نام کے رشتے کا سہارا لے کر اور وہ روک بھی نہیں پائی۔ وہ بے تاثر چہرہ لیے لیٹی تھی اور آنسو نکل نکل کر بالوں میں جذب ہورہے تھے۔ اسے یقین تھا کہ غلطی اسی کی ہے۔ اسے ہمیشہ یہی سکھایا گیا تھا کہ مرد ہمیشہ عورت کی شہ پہ ہی کچھ کرنے کی ہمت کرتا ہے اور اب تو واضح تھا اس نے باسط سے اتنی بات چیت کی تھی تبھی باسط یہ سب کرنے کی ہمت کر پایا۔ اسے احساس ہی نہیں ہوا کہ وہ کتنی دیر ایسے ہی ساکت پڑی رہی وہ چونکی تب جب مغرب کی اذان کی آواز اس کے کانوں میں آئی ایک سحر کی سی کیفیت میں اٹھی اور باتھ روم میں گھس گئی۔

ش اور کھول کر کافی دیر جسم پر صرف پانی بہاتی رہی، کئی دفعہ صابن لگایا۔ جب کپڑوں کی طرف ہاتھ بڑھانے کا سوچتی تو لگتا ابھی تو ٹھیک سے جسم پاک ہی نہیں ہوا اور پھر صابن لگا لیتی۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد جب امی نے دروازہ بجایا تو باہر آئی۔ پھر وضو کے لیے واش بیسن پہ کھڑی ہوگئی چہرے پہ پانی ڈالنے کی باری آئی تو بس ڈالتی ہی رہی، اسے مسلسل نجاست کا احساس ہورہا تھا۔

”ہٹ بھی چک لڑکی، مجھے بھی وضو کرنا ہے ٹائم نکلوائے گی کیا نماز کا“

دادی نے کہا تو اس نے چونک کے جلدی جلدی وضو ختم کیا اور نماز پہ کھڑی ہوگئی۔ اسے نہیں یاد کہ اس نے کتنے سجدے کیے، کتنے رکوع اور کتنے قیام بس ذہن میں ایک بات تھی کہ کسی طرح گناہ کی معافی مل جائے۔ آخر جب بالکل تھک گئی تو مصلا سمیٹ کر بستر پہ آکر لیٹ گئی۔

اور پھر کئی دن تک یہ پانی کا کھیل چلتا رہا نہانے جاتی تو گھنٹوں لگا دیتی، ہاتھ منہ دھونے کھڑی ہوتی تو صابن ملتی رہتی، نماز پہ کھڑی ہوتی تو جب تک ٹانگیں تھک کر بے جان نہ ہو جاتیں مصلا نہ چھوڑتی۔ اس کی چہرے اور ہاتھوں کی جلد خشک پپڑی کی مانند ہوگئی۔

جب کسی بھی طرح سکون نہ ملا تو ایک دن چادر اوڑھی اور کہہ کے نکل آئی کہ میں فائزہ کے گھر جارہی ہوں۔ امی اور دادی اسے جاتا دیکھتی رہ گئیں۔

فائزہ اسے دروازے پہ دیکھ کر حیران بھی ہوئی اور خوش بھی۔ وہ فوراً اسے لے کر اپنے کمرے میں آ گئی۔

” یار تھوڑی دیر بیٹھو، امی ابھی کوئی لیکچر وغیرہ کے نوٹس بنا رہی ہیں تب تک ہم تھوڑی باتیں کر لیتے ہیں پھر امی سے جو بات کرنی ہو کرلینا۔“

فائزہ کو یاد تھا کہ بسمہ نے منگنی سے بھی پہلے اس سے کہا تھا کہ وہ آنٹی سے مشورہ کرنا چاہتی ہے وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ بسمہ مشورے کے لیے آئی ہے۔

”اچھا رکو میں پانی وانی لاؤں پھر آرام سے باتیں کرتے ہیں۔“

وہ جانے کے لیے پلٹی مگر بسمہ نے ہاتھ پکڑ کے روک لیا اور ایک دم رونا شروع کردیا۔ فائزہ اسے ایسے روتے دیکھ کر پریشان ہوگئی۔

”بسمہ کیا ہوا یار سب ٹھیک ہے؟ باسط بھائی نے کچھ کہا؟ کچھ ہوا ہے ان کے گھر پہ؟ یا کسی نے تمہیں کچھ کہا ہے؟“

بسمہ کوئی بھی جواب دینے کی بجائے روتی رہی۔ فائزہ نے مزید سوال کرنے کا ارادہ ملتوی کردیا وہ اسے روتا دیکھتی رہی۔ کافی دیر رونے کے بعد خود ہی اس کے رونے کی شدت میں کمی آ گئی اور پھر جب صرف سسکیاں رہ گئیں تو فائزہ اٹھ کر پانی لے آئی۔

”چلو منہ دھو کو آؤ پھر بتاؤ مسئلہ کیا ہے؟“
بسمہ ساتھ ہی بنے واش روم سے جلدی جلدی منہ پہ ایک دو چھپاکے مار کے آ گئی۔
کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی جیسے سمجھ نہ آ رہا ہو کہ کہاں سے شروع کرے
”فائزہ کل باسط کے گھر والے آئے تھے مجھے ساتھ شاپنگ پہ“
”اچھا پھر سوٹ پسند نہیں آیا“

”ارے پاگل ہو کیا تمہارے خیال میں اس بات پہ اتنا روؤں گی۔ مجھے کون سا اپنی پسند کے کپڑے پہننے کی عادت ہے۔“

”تو؟“

”وہاں سے وہ لوگ گھر لے گئے اپنے ان کی دوسری نمبر کی بھابھی کمرہ دکھانے لے گئیں تو پیچھے سے باسط آگئے۔ ان کی بھابھی ہمیں اکیلا چھوڑ کر نیچے چلی گئیں“

”اچھا پھر“
”یار انہوں نے مجھے زبردستی کس کیا میں منع بھی کر رہی تھی“
”ہمم۔ ۔ ۔ اور تمہارا دھرم بھرشٹ ہوگیا؟“
”ہاں تو ایسے کیسے؟ منگنی کوئی شرعی رشتہ تو نہیں ہوتی جو انہوں نے ایسے کس کر لیا“

”اچھا اور وہ جو تم ناولز پڑھتی ہو بڑے شوق سے۔ اس میں کون سا بڑی شرعی رشتے داریاں دکھائی جاتی ہیں۔ ہر دوسرے ناول میں ہیرو ہیروئن کے معانقے و بوسے ہوتے ہیں شادی کے بغیر“

”یار سچی بات ہے میں خود بھی حیران ہوں کہ یہ سب رومینٹک لگنا چاہیے تھا مگر نہیں لگ رہا بہت شدید احساس گناہ ہورہا ہے کہ میں نے انہیں اتنا بڑھنے کی ہمت دی ہی کیوں؟“

” یعنی تمہیں لگتا ہے یہ تمہاری غلطی ہے“
فائزہ نے بھنویں اچکا کر پوچھا
”تو نہیں ہے؟“
”تم نے فرمائش کی تھی کہ کس کریں مجھے؟“

”پاگل ہو کیا تمہیں پتا ہے، میں تو انہیں ہاتھ پکڑنے کا بھی نہ کہوں خود، میری تو اتنی ہمت شاید شادی کے بعد بھی نہ ہو“

” تو جب تمہاری مرضی کے بغیر انہوں نے تمہیں چھوا اور اس کی انہیں کوئی شرعی اور قانونی اجازت بھی نہیں تو غلطی ان کی ہوئی نا۔ ۔ ۔ اچھا یہ بتاؤ اس کے بعد سے تمہاری باسط بھائی سے کوئی بات ہوئی؟ کیا کہہ رہے ہیں وہ اس کے بارے میں؟“

” میں نے تب سے موبائل اٹھا کر ہی نہیں دیکھا، جو پرس لے کر گئی تھی ابھی تک اسی میں پڑا ہے۔ تب سے بس دماغ پہ یہ سوار ہے کہ کسی طرح یہ گناہ دھل جائے کبھی نہاتی ہوں کبھی وضو کرتی رہتی ہوں فائزہ میں پاگل ہو جاؤں گی“

” تبھی اتنی ڈرائے اسکن ہو رہی ہے تمہاری؟ بسمہ تم باسط بھائی سے بات کرو ہو سکتا ہے وہ صرف اپنی محبت کی شدت کے اظہار کے طور پہ یہ سب کر گئے ہوں۔ دیکھو منگیتروں کے درمیان آج کل یہ سب اتنا عام ہے کہ عموماً لوگوں کو یہ غلط لگتا ہی نہیں ہے۔ نہ انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں برائی کیا ہے۔ تمہاری بھی مرضی ہوتی تو بات الگ تھی مگر اب یہ صرف ان کی غلطی ہے مگر وہ بھی شاید جان بوجھ کے کی گئی غلطی نہ ہو۔“

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

اس سیریز کے دیگر حصےامی نے دادی سے حکومت کب اپنے ہاتھ میں لی؟میاں بیوی کی بات چیت بھی معیوب، دیور بھابھی کا فحش مذاق بھی جائز؟
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 74 posts and counting.See all posts by absar-fatima

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *