وطن کی مٹی گواہ رہنا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاک فوج جس کا مقصد وطن عزیز کی ارضی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے قیام پاکستان کے بعد تین جون 1947 ء کو برٹش انڈین آرمی کی تقسیم کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی پاک فوج بشمول پاک بحریہ اور پاک فضائیہ اس وقت دنیا کی ساتویں بڑی فوج ہے۔ عساکر پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف لازوال قربانیاں دنیا سے مخفی نہیں پاک فوج نے دس سال کے قلیل عرصہ میں دہشت گردی کے خلاف ستر ہزار قربانیاں دے کر نا صرف دنیا کے سامنے دلیل کے ساتھ وطن عزیز کو پر امن ملک کے طور پر منوایا بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان عالمی دنیا کے ساتھ کھڑا ہے لیکن امن کے دشمن ممالک تاحال اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے پاکستان کے امن کو تباہ کر نے کے درپے ہے۔

ازلی دشمن بھارت کی پاکستان دشمنی دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں ابھی تک 65 ء کی مختصر جنگ میں بیدار صفت پاک فوج کے ہاتھوں شکست و ریخت کا سانپ دشمن کے سینے پر سانپ بن کر لوٹ رہا ہے پاک فوج نے رات کے اندھیرے میں ملک عزیز پر غیر علانیہ طور پر شب خون مارنے والے سفاک دشمن کا بارہ سو کلو میٹر تک کا علاقہ فتح کر لیا تھا اور بھارت کو پوری دنیا کے سامنے یہ مفتوحہ علاقہ اقوام متحدہ کے معاہدہ تاشقند کے ذریعے واپس لے کر تاریخی خفت کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان کے خلاف بھارت کے مذموم عزائم کی کڑیاں عالمی سازش کا حصہ ہیں عالمی صیہونی و دجالی قوتیں بھارت کی پشت پناہی پر ہیں لیکن افواج پاکستان دشمن کے ناپاک ارادوں سے کسی پل بھی بے خبر نہیں پاک فوج ریاست پاکستان کا وہ ادارہ ہے جس نے دشمن کو ہر محاذ پر پسپا کرنے کے لئے لہو کے نذرانے پیش کر کے اس قوم کو جلا بخشی اور یہی وجہ ہے پاک فوج کی بے لوث لازوال قربانیاں پوری قوم کا فخر و امتیاز ہیں۔ دشمن کے کسی بھی وار کا بھر پور جواب دینے کے لئے ملک کی مستعد مسلح فورسز ہمہ وقت الرٹ ہیں پاک فوج کے دہشتگردی کے خلاف ستر ہزار سے زائد جانوں کے نذرانے اس بات کے شاہد ہیں کہ ملک پاکستان کے کسی کونے میں بھی ملک دشمنوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ملک کے قریہ قریہ کا جائزہ لے لیں لاکھوں والدین کے لخت جگر حب الوطنی کی گرہ سے بندھے پاک فوج کا حصہ بن کر اپنی زندگیاں وقف کر چکے ہیں جس کی مثالیں دشمن کے خلاف پاک فوج کے جوانوں کی شہادتیں اس ملک و ملت کے تحفظ کی ضامن ہیں۔

چند دن قبل میرے آبائی علاقہ کالیکی منڈی سے جانب مشرق تین کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع گاؤں برج دارہ کے رہائشی میجر ندیم عباس بھٹی اپنے پانچ ساتھیوں سمیت بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں جام شہادت نوش کر گئے آئی ایس پی آر کے مطابق فرنٹیئر کور (ایف سی) جنوبی کی گاڑی کو اس وقت دہشتگردوں نے نشانہ بنایا جب وہ پاک ایران سرحد سے چودہ کلومیٹر دور بلیدہ سے پٹرولنگ کر کے واپس آ رہی تھی۔

میجر ندیم عباس بھٹی شہید کا تعلق ضلع حافظ آباد کے ممتاز سیاسی خاندان سے ہے میجر ندیم عباس شہید سابق ممبر قومی اسمبلی چوہدری مہدی حسن بھٹی سابق وفاقی وزیر چوہدری لیاقت عباس کے بھتیجے سابق ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری نذر عباس مرحوم کے جواں سپوت سابق ضلع ناظم چوہدری مبشر عباس کے بھائی ممبر قومی اسمبلی چوہدری شوکت علی بھٹی، چوہدری سکندر نواز بھٹی اور چوہدری ضمیر الحسن بھٹی کے چچا زاد تھے۔ میجر ندیم عباس شہید کے اس خدمتگار خاندان کی برس ہا برس کی سیاسی و عوامی خدمات کا پورا ملک معترف تو ہے لیکن میجر ندیم کی شہادت نے اس خاندان کو ستر ہزار سے زائد ملک کی حرمت پر قربان ہونے والوں کی صف میں بھی لا کھڑا کیا۔

میجر ندیم عباس شہید 126 ونگ مکران سکاؤٹ میں تعینات تھے اور بلوچستان میں دشمنان ملک کی طرف سے بچھائی گئی بارودی سرنگ کا نشانہ بن گئے میرے قصبہ سے ملحقہ گاؤں برج دارہ سے تعلق رکھنے والے اس شہید نے اپنی خاندانی سیاست کی وراثت کا حصہ بننے کی بجائے شجاعت کے سفر کا انتخاب کیا اور شہادت کو اپنے سینے سے لگا کر اس ملک کی سالمیت اور اس کی بقاء پر مر مٹنے کو اہمیت دی۔ میجر ندیم اور اس کے ساتھیوں کی شہادت ملک پاکستان کے دشمنوں کے لئے علانیہ وارننگ ہے کہ پاک فوج سے جڑا ہر فرد اس ملک و ملت کا نگہبان ہے جو اپنا خون دے کر بھی اس دھرتی کا قرض اتار کر اسی سرزمین کی مٹی میں دفن ہونا اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے۔

برکتوں اور فضیلتوں سے مزین ماہ رمضان میں روزے کی حالت میں میجر ندیم اپنے ساتھیوں سمیت شہادت کا تاج سر پر سجائے اللہ کے حضور پیش ہو گئے اس مٹی کا قرض اپنے لہو کا نذرانہ پیش کر کے چکا دیا۔ آفرین ایسے شہدا کے خاندانوں پر جنہوں نے اپنے جگر گوشے ملک و ملت کی حفاظت پر قربان کر دیے یہ وہ شہید ہیں جو قوم کی حیات کی بقاء کے ضامن ہیں۔ سابق ممبر قومی اسمبلی چوہدری مہدی حسن بھٹی کی سوشل میڈیا وال پر تحریر کردہ یہ الفاظ میرے جگر، میرے بیٹے، میرے فخر میجر ندیم عباس بھٹی بارودی سرنگ پھٹنے سے شہید ہو گئے، وطن کی مٹی گواہ رہنا، میں نے چاند سا بیٹا تم پر قربان کر دیا یہ الفاظ ان شہید خاندانوں کے لئے خراج تحسین ہیں جنہوں نے اپنے لخت جگر اپنی محبت کی آغوش میں پرورش کر کے وطن کے لئے وقف کر دیے۔

اہل علاقہ کے لوگوں نے میجر ندیم عباس شہید کے جنازے جیسا روح پرور منظر کبھی نہیں دیکھا ہو گا کہ پورے ضلع سے روزہ اور کرونا وبا کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں لوگ جوق در جوق اپنے شہید وطن کے جسد خاکی کو خراج تحسین کے طور پر لحد میں اتارنے آئے ہوں۔ وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت پر مامور میجر ندیم شہید کی شکل میں پاک فوج کے جوان اس ملک و قوم کے لئے ڈھال بنے کھڑے ہیں قوم کی جانب سے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی ایسی کمک ہے جو دشمنان پاکستان کے لئے خوف کی علامت ہے دفاع وطن میں پاک فوج نے ہمیشہ اپنی خدمات اور قربانیوں سے اس قوم کی ڈھارس بندھائی ہے یہ ریاست کا وہ مضبوط دفاعی ستون ہے جس کی چھاؤں میں پاکستان کے باسی ایک آزاد قوم کی حیثیت سے سانس لے رہے ہیں ان کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف کا صلہ قوم اسی صورت دے سکتی ہے کہ انہیں اپنا اعتماد دے کر ان کی قدر کرے۔

راقم کے آبائی قصبہ کالیکی منڈی سے تعلق رکھنے والے بریگیڈئیر شہزاد سعید کا تعلق پاک فوج کے شعبہ آرٹلری سے ہے اور وہ اپنی قابلیت اور اہلیت کی بنا پر پاک فوج کے قابل افسران میں منفرد شناخت کے حامل افسر ہیں اسی طرح کالیکی منڈی سے تعلق رکھنے والے پاک فضائیہ کے سکواڈرن لیڈر زاہد یعقوب عامر جیسا تعلیم یافتہ نوجوان جہاں پاک فضائیہ میں اپنی پیشہ وارانہ خدمات سرانجام دے رہا ہے وہیں متعدد کتابوں کے مصنف اور ان کے مضامین کیمبرج یونیورسٹی لندن کے او لیول سلیبس میں شامل ہیں۔

دونوں احباب میجر ندیم عباس شہید کے جنازے میں شرکت تو نہ کر سکے لیکن راقم کو ان کی جانب سے پیغام موصول ہوا کہ میجر ندیم عباس آپ ہم پر بازی لے گئے ہم شہیدوں کی سرزمین کے وارث بن گئے ہم آپ کی قربانی کا تسلسل بنیں گے اس ملک میں انشاء اللہ امن آئے گا جس قوم کی ماؤں نے ایسے بہادر سپوتوں کو جنم دیا ہو اس قوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *