سیموئیل بیکٹ کے ڈرامے، ویٹنگ فار گوڈو کا پنجابی روپ: شاہد شبیر کا ترجماتی کرشمہ۔
سیموئل بیکٹ کے ڈرامے، ویٹنگ فار گوڈو کا پنجابی روپ: شاہد شبیر کا ترجماتی کرشمہ۔
دو بے گھر بوڑھے۔ ۔ ۔ ایک درخت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خالی سڑک۔ ۔ ۔ انتظار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ کسی خاص وقت میں نہ مخصوص مقام پر۔ ۔ ۔ کہیں نہیں اور ہر کہیں۔ ۔ ۔ دو دن۔ ۔ ۔ بحث۔ ۔ ۔ بیزاری۔ ۔ ۔ مضحکہ خیزی۔ ۔ ۔ اپنی ہی کہی باتوں کی بار بار دہرائی۔ ۔ ۔ خود کشی پر غور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور انتظار۔ ۔ ۔ جو کبھی نہیں آئے گا، اس کا انتظار۔ ۔ ۔ گوڈو کا انتظار۔
یہ ہے سیموئل بیکٹ کا بے مثل ”ڈرامہ ویٹنگ فار گوڈو“ ، ایک لازوال شاہکار۔ بیسویں صدی کے ڈرامے کے سر کا تاج۔
مانوس لہجہ۔ ۔ ۔ فہمیدہ لفظ۔ ۔ ۔ دلنشیں انداز۔ ۔ ۔ شیریں سخن۔ ۔ ۔ ماحول میں لگاوٹ۔ ۔ ۔ بات میں ذکاوت۔ ۔ ۔ مغرب و مشرق کا ارتباط۔ ۔ ۔ بدیسی بیج۔ ۔ ۔ دیسی فصل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی تمثیل۔ ۔ ۔ وہی بے گھر بوڑھے، وہی درخت اور خالی سڑک۔ وہی گوڈو۔ ۔ ۔ اور وہی اس کا انتظار۔
یہ ہے شاہد شبیر کا شاندار ترجمہ۔ ویٹنگ فار گوڈو کا پنجابی روپ، ”گوڈو دی اڈیک اچ“ ۔ پنجابی زبان کے ادب میں گراں مایہ اور آبرو دار اضافہ۔
شاہد شبیر کے ترجمے پر بات کرنے سے پیشتر کچھ کلام ترجمہ نگاری بالخصوص ڈرامے کے ترجمے کے حوالے سے ہو جائے۔
ادبی متن کا ترجمہ بنیادی طور پر ایک مشکل اور پیچیدہ عمل ہے جو نا صرف، ہنر، صبر، مشقت اور ریاضت مانگتا ہے بلکہ لسان اور ماورائے لسان علوم کا متقاضی بھی ہے۔ ڈرامے کا ترجمہ چونکہ معاملے اور مطالبے کو مرکب کرتا ہے سو یہ مزید فنی سوال کھڑے کرتا ہے اور یہ فنی مانگ مزید علوم کا تقاضا کرتی ہے۔
ڈرامے کی ترجمہ نگاری کا ایک اور کٹھن مرحلہ مترجم کی، بیک وقت، دوہری نوعیت کی تفہیم ہے، یعنی ڈرامے کا دو پرتی فہم: اول، سامعین کے لئے لکھا ہوا اور اسٹیج پر کھیلا گیا۔ دوئم، ایک متن جس کو قارئین کے لئے لکھا گیا اور صفحات پر ابھارا گیا۔ ڈرامے کی اس دہری ضرورت کا التزام اس کے مترجم کا ایک اور امتحان ہے۔ ماحصل یہ کہ ترجمہ جو فی نفسہٖ ایک مشکل عمل ہے، ڈرامے کے معاملے میں مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
’لوگ آسان سمجھتے ہیں ترجمہ کرنا‘
اچھا مترجم، متن کو ایک نیا لباس پہناتا ہے اور اس کی لسانی صورت کو بدل کر اس میں ایک نئی روح ڈالتا ہے۔ اصل متن کی داخلی ساخت، آہنگ و اسالیب کو برقرار رکھتے ہوئے اسے دوسری زبان میں منتقل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
فن ترجمہ ایک پیچیدہ اور پر اسرار فن ہے، اس عمل میں ایک وجود دوسرے وجود سے ابھرتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں مترجم میں سے مکمل فنکار برآمد ہوتا ہے اور ترجمے پر طبع زاد ہونے کا دھوکہ ہونے لگتا ہے۔ اس معیار سے دیکھا جائے تو ترجمہ ایک دقیق عمل ہے جو ہر کس و نا کس کے بس کا کام نہیں۔
شاہد شبیر نے ”ویٹنگ فار گوڈو“ کے ترجمے میں اس فن کی نزاکتوں، باریکیوں اور تقاضوں کو فنکارانہ مہارت سے نبھایا ہے۔ ”گوڈو دی اڈیک اچ“ اصل متن کے معانی کو اس کے حقیقی تاثر سمیت زندہ رکھتا ہے۔ مترجم نے نا صرف الفاظ اور ان کے مفاہیم کو پیش نظر رکھا ہے، بلکہ اصل متن کے تہذیبی سیاق کو بھی نظر انداز نہیں کیا اور یہ معمولی بات نہیں ہے۔
”گوڈو دی اڈیک اچ“ میں کرداروں کے ناموں کے حوالے سے adaptation کی تکنیک برتی گئی ہے۔ Estragon ارپن، Pozzo وارث، Viladimir طافو اور Lucky بختو کے روپ میں دیکھے بھالے اور اپنے اپنے سے لگتے ہیں۔ دیسی نام اور کلام نے ماحول کو مانوس اور محبوب بنا دیا ہے اور قاری بے اختیار خود کو ڈرامے کی فضا میں جذب ہوتا محسوس کرتا ہے۔
” ویٹنگ فار گوڈو“ کے اس ترجمے کی ایک اور اہم بات زبان کی وہ موسیقیت ہے جو مترجم کے قلم کے ساز سے برآمد ہو کر صفحات پر بکھر کر ساری فضا کو مترنم کر دیتی ہے اور کئی جگہوں پر قاری پڑھتے پڑھتے وارفتگی میں گنگنانے لگتا ہے۔ صفحہ نمبر 59 تا 66، Lucky بختو کی تقریر، اس کا ثبوت ہے۔
شاہد شبیر نے سیموئل بیکٹ کی گراں بہا امانت ایک دیانتدار، مشاق اور ذہین مترجم کی طرح سنبھالی ہے اور ڈرامے کی اصل ہئیت، متن اور تاثر کو برقرار رکھتے ہوئے اسے بیان کی بلاغت، بے ساختگی اور مکمل جمالیاتی شعور کے ساتھ پنجابی زبان میں منتقل کیا ہے۔ لہذا ترجمے کو پڑھتے ہوئے اصل ڈرامے کا ذائقہ قاری کے تالو پر چپکا رہتا ہے۔
”گوڈو دی اڈیک اچ“ کا ایک اور انتہائی اہم پہلو: پنجابی زبان کی قوت ابلاغ، جامعیت، ہمہ گیر معنویت، تنوع اور وسعت کا اظہار ہے۔ یہ ترجمہ اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ پنجابی بھی ہر بڑی زبان کی طرح ہر موضوع و خیال، مدعا و مبتدا، علوم و فنون، نثر و شعر، فن و ادب، تصنیف و تالیف اور درس و تدریس کا مکمل احاطہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ شاہد شبیر نے پنجابی زبان کی یہ قوت آشکار کر کے اس زبان کو تیاگ دینے والوں کو مراجعت کا حوصلہ دیا ہے
انسانی تہذیب و ثقافت اور علوم و فنون کو فروغ دینے اور مربوط کرنے میں جہاں اور کئی عوامل کار فرما رہے ہیں، وہیں تراجم، بالخصوص ادبی ترجموں، کا کردار بہت نمایاں ہے۔ ”گوڈو دی اڈیک اچ“ کے توسط سے شاہد شبیر بھی ان معدودے چند پنجابی سخنوروں میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے ترجمے کی کھڑکی کے ذریعے پنجابی ادب کو دوسری زبانوں اور تہذیبوں سے متعارف ہونے کی راہ ہموار کی ہے۔
ترجمے کے وسیلے سے جہاں ایک زبان، دوسری زبان کے رجحانات، تخیلات، افکار، مزاج اور اس کی صرفی و نحوی ساخت سے آگاہ ہوکر اپنا رنگ و روپ نکھارتی ہے وہیں دوسری زبانوں کی اعلیٰ تخلیقات کے ترجمے سے نئے ادبی میلانوں، تہذیبوں اور فنی معیارات سے متعارف ہو کر جدید احساسات وتجربات اپنانے پر آمادہ ہوتی ہے۔ لہذا زبان میں جدید احساسات، فن میں نئے تجربات اور تازہ لسانی تشکیلات میں مترجم کا کردار معمولی نوعیت کا ہرگز نہیں ہوتا۔ شاہد شبیر نے ”ویٹنگ فار گوڈو“ کا پنجابی زبان میں ترجمہ کر کے جدید احساسات، تجربات اور لسانی تشکیل کے امکانات پنجابی ادب میں بو دیے ہیں، دیکھئے یہ فصل کب تیار ہوتی ہے۔
فی الحال، پنجابی زبان کو مبارکباد کہ اس کے گلشن ادب میں، شاہد شبیر کے توسط سے، ”ویٹنگ فار گوڈو“ اپنی نہ ختم ہونے والی تشریحات لئے پنجابی ادب کے قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور ان کی تفہیم میں نت نئے شگاف ڈالنے آ گیا ہے۔


