اُف اور عاجزی ( ہیپی مدر ڈے )۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” اور ہم کس کے لئے وہ کام کرتے ہیں جو نوبل انعامات دینے کا باعث بنتے ہیں، اگر ہم ماؤں کے لئے نہیں کرتے؟

یہ وہ الفاظ تھے جو 2003 ء میں ادب کا نوبل انعام جیتنے والے جے ایم کوئیٹزی نے ایک تقریب میں کہے اور اپنی والدہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا لہجہ، ان کے الفاظ، ان کے احساسات سب کچھ ان کے چہرہ سے عیاں ہو رہا تھا کہ وہ اس شاندار تقریب میں اپنی والدہ کی کمی کس قدر اپنے دل میں محسوس کر رہے ہیں۔ وہ اس بات کی حسرت کر رہے تھے کہ اے کاش آج ان کی والدہ زندہ ہوتیں تو وہ جب ان کو کہتے، ”ماں، ماں، میں نے ایک انعام جیتا!“

تو ان کی والدہ ان سے مخاطب ہو کر کہتیں،
”میرے پیارے یہ بہت اچھا ہے، اب اپنی گاجر کو ٹھنڈا ہونے سے پہلے ہی کھا لو“
اپنے لفظوں کو سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا،
”میرے والدین کا دلی شکریہ، مجھے کتنا افسوس ہے کہ آپ آج یہاں نہیں“

مجھے ان کی تقریر سن کر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ایک انسان رات کی سیاہی میں راستہ دیکھنے کے لئے شمع روشن کرتا رہے۔ ساری رات گزر جائے لیکن شمع روشن نہ ہو سکے۔ بالآخر جب شمع روشن ہو تو انسان اپنا راستہ، اپنی منزل ہی کھو بیٹھے۔ کیا کرب اور اذیت کے لمحات ہوں گے جب ساری زندگی کی دوڑ دھوپ برداشت کر کے منزل ملی، لیکن جس سے اپنی خوشی بیان کرنی تھی، جس کو اپنی داستان سفر سنانی تھی، وہ کان نہ رہے جو سن سکیں، وہ آنکھیں نہ رہیں، جو ان قیمتی گھڑیوں کو دیکھ سکیں، وہ ممتا کا ہاتھ ہی نہ رہے جو سر پر رکھنے سے گویا پوری کائنات سمٹ کر قدموں میں آ گئی ہو۔ یہی وہ لمحات ہوتے جب انسان کہتا اے کاش میرا اپنا ہی دل پھٹ جائے، میں اپنے ہی دل میں دفن ہو جاؤں۔

آ پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں ماؤں کا عالمی دن منایا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک ہماری سانس ہے تب تک ہمیں اپنے والدین کا خیال اپنا اولین فرض سمجھنا چاہیے۔ تواتر کے ساتھ قرآن کریم میں اور احادیث مبارکہ میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کے احکامات ہیں۔ لیکن قرآن کی دو آیات ایسی ہیں جو میرے خیال میں والدین کی اطاعت کا طریقہ بتاتی ہیں۔

” اور آپ کے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ تم اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ بہترین سلوک کرو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو انھیں اف تک نہ کہو۔ اور نہ ہی انہیں جھڑکو اور ان سے احترام کے ساتھ بات کرو اور ان پر رحم کرتے ہوئے انکساری سے ان کے سامنے جھک کر رہو۔ اور ان کے حق میں دعا کیا کرو کہ اے میرے رب! ان پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا۔“

اب ہم ان خوبصورت آیات کو دیکھیں۔ تو آپ کو ایک بات محسوس ہو گی کہ یہ آیات صرف اسلام یا مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ تمام انسانیت کو مخاطب ہے۔ کہ بندگی صرف ایک واحد رب کی ہے اور والدین کے متعلق جو حکم ہے وہ معاشرتی لحاظ سے کس قدر جامع ہے۔ میں ان آیات میں سے صرف دو باتیں آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ جو میں نے محسوس کی ہیں۔

”انہیں اف تک نہ کہو،“ یہ بہت قیمتی الفاظ ہیں۔ جب میں نے اس بات پر غور کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ ایک ایسا خاص اسم اعظم ہے جو اللہ نے صرف اپنے اور والدین کے لئے رکھا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو آپ کے چراغوں کو بجھا سکتا ہے۔ آپ کی زندگی کی روشنی ایک پل میں اندھیرے میں بدل سکتا ہے۔ آپ کے سامنے شمع روشن ہو، آپ صرف اپنے ہونٹ اس کے قریب کر کے اف کہیں گے تو وہ بجھ جائے گی۔ جب ہماری طبیعت کو کچھ ناگوار گزرے، ہم اپنے ہونٹ سی لیں اور اف کہنے کی بجائے اپنا سانس واپس اپنے جسم میں اتار لیں تو اس عمل کو صبر جمیل کہا جاتا ہے۔

اور صبر جمیل کا جو اجر رکھا گیا ہے وہ ہمارے گمان سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ جب والدین بڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہوتے تو ہو سکتا ان کی بہت سی باتیں اور احکامات ہماری طبیعت کو ناگوار گزریں۔ اس عمل کا فطری طور پر ردعمل بھی ہوتا ہے کہ انسان والدین کے احکامات کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں اللہ رب العزت ہمیں مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں تم اف تک نہیں کہنا، ان کی بات کو توجہ سے سننا، احترام کے ساتھ ان کی بات کو جواب دینا اور ان کے حق میں رب کے حضور اس کی رحمت کی دعا مانگنا۔

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے لفظ ”اف“ ہی کیوں کہا۔ اس کا جواب ”حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں کوئی کلمہ“ اف ”سے کم درجے کا ہوتا تو اللہ تعالیٰ یہاں وہ فرماتے“ ۔ (تفسیر در منثور)

ہم سب نے اپنی زندگی میں ایک بار تو لازمی کسی بھی کام یا ہو سکتا ہے بے شمار موقعوں پر مختلف زبانوں یا اشاروں یا دل میں ہی اف کہا ہوتا ہے۔ آپ خود اپنے آپ سے سوال کریں کیا آپ نے کبھی ایسا سوچا یا نہیں کہ کوئی بات آپ کے دل کو اچھی نہ لگی ہو تو آپ نے اف نہ کہا ہو۔

یہ وہ خاص عمل ہے جو ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء نے اختیار کیا تھا۔ آپ کہہ سکتے یہ عمل انبیاء کی سنت ہے۔ جب بھی انبیاء کو مشکل درپیش آتی، وہ فوراً اپنے رب کے حضور متوجہ ہوتے۔ رب کائنات سے اس کی رحمت مانگتے اور زبان پر اف تک نہیں کہتے۔

دوسرا قیمتی لفظ ”عاجزی و انکساری“ ہے۔ اگر ہم غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ عاجزی اور انکساری سے مراد ”تعظیماً جھک جانا“ ہے۔ اس حکم کے پیچھے جو راز پوشیدہ ہے، کہ جب انسان بڑھاپے کی حالت میں ہوتا اس کی بولنے اور سننے کی صلاحیت بہت کم ہو جاتی۔ ہم اگر اپنی کوئی بات ان کو سنانا چاہیں تب بھی ہمیں جھکنا پڑے گا، یا اگر والدین کوئی بات کریں وہ بھی ہمیں جھک کر اپنا کان ان کے چہرے کے پاس کرنے سے سنائی دے گی۔ قربان جاؤں اپنے رب کے اس حکمت والے حکم پر۔

دراصل جب ہم والدین کے سامنے ایسے عاجزی سے جھکیں گے تو ہم ایک تو اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل کر رہے ہوں گے، دوسرا ہم اپنا قرض ادا کر رہے ہوں گے۔ ہم پر قرض یہ تھا کہ جب ہم خود شیر خوار بچے تھے، تب ہمارے والدین، ایسے ہی جھک کر ہماری بات سنا کرتے تھے۔ جب ہم کھانے پینے سب معاملے میں والدین کے محتاج تھے، تب انہوں نے اپنی زندگی، اپنا آرام، اپنا سکون، اپنا وقت سب کچھ پس پشت ڈال کر ہماری خدمت کی، ہم پر رحم کیا تھا۔ اب جب وہ بڑھاپے کی حالت میں ہیں تو قرض چکانے کا موقع ہے۔

یہ قرض صرف ان کی خدمت کر نے اور ان کے حق میں دعا کرنے سے ہی اتر سکتا ہے۔

آئیں پھر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر دعا مانگیں ”اے ہمارے پاک پروردگار، ہمارے والدین کو بڑھاپے کی محتاجی سے محفوظ فرما، صحت اور عافیت والا معاملہ فرما، اے میرے رب! ان پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے رحمت وشفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply