تجسس امید دیتا ہے اور پھر ناامید کر دیتا ہے


میرے نزدیک کسی بھی شے بارے تجسس ہونا اہم ہے تاکہ دلچسپی برقرار رہے، سوچ مصروف رہے۔ جونہی تجسس ختم ہوتا ہے اس شے یا عمل کی دلچسپی ختم ہوجاتی ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں تجسس جوان ہونے کا ہوتا تھا مگر جونہی لڑکپن سے جوانی میں داخل ہوئے اور ذمہ داریاں اور مستقبل کے حقائق سے وابستگی ہوئی تو کسی بھی بچے کو دیکھ کر رشک ہونے لگ جاتا ہے۔ چھوٹے ہوتے میں ایک بیک بینچر تھا کیونکہ داخلہ سکول میں دو ماہ لیٹ ہوا تھا۔

مجھے اول نشست پر بیٹھنے کا تجسس تھا، ممکن ہے مجھے یہ گمان تھا کہ پہلی نشست میں بیٹھنے والا ہی اساتذہ کے فہم کے مطابق لائق و قابل شاگرد ہوتا ہے۔ سو جونہی گھر اس بات کا علم ہوا تو پرنسپل نے اگلی ہی صبح مجھے پہلی سیٹ پر بٹھا دیا۔ ہمارا اسکول اسلامی تھا اس لیے ہم چار بہن بھائی ہی وہاں کرسچن تھے اسی لئے پرنسپل صاحب کسی فرمائش کو رد کرنا مناسب نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن پہلی نشست پر بیٹھتے ہی وہ تجسس ختم ہوا اور مجھے اپنے کیے پر پچھتاوا ہونے لگا اور جیسے تیسے میں پھر اپنے دوستوں کے ساتھ آخری رو میں معمول کے مطابق بیٹھنے لگ گیا۔

ایسے ہی پرائیویٹ کالج میں داخلہ لیتے ہی صرف ایک استانی کے تجسس میں مبتلا ہوکر میں نے کمپیوٹر سائنس کا انتخاب کر لیا جبکہ دو ماہ میں ہی وہ محترمہ کالج چھوڑ گئی۔

مجھے افسوس ہوتا ہے کہ میں نے لفظ ”تجسس“ کب، کیوں اور کس سے سنا اور مزید اس لفظ کی مشق ہر کام سے قبل کیونکر کی۔ تجسس جو کسی بھی کتاب کا ٹائٹل پڑھنے سے قبل ہو جائے، کسی انسان کو ملنے سے قابل ہو، کسی یونیورسٹی بارے، کسی شہر بارے، غرض ہر اس کام بارے جو علم میں نہ ہو۔

اسی طرح کسی نشے کا تجسس ہونا، سگریٹ، شراب، کوکین وغیرہ

یہ تجسس ہی جو کسی بھی فعل کا واحد پہلو ہوتا ہے۔ محبت سب سے بیہودہ نشہ ہے۔ کوئی بھی لڑکی یا لڑکا دیکھتے ہی ہم اس کی خیالی شخصیت اپنے فہم میں فرض کرلیتے ہیں اور اسی تجسس میں کہ یہ کیسا ہے، اس کے اطوار کیسے ہیں، یہ بولتا کیسے ہوگا، اس کا غصہ پیار سب کچھ جاننے کے لئے ہم پہل کرتے ہیں اور یوں ہماری فرضی شخصیت جو دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں جب اس کا موازنہ اس انسان سے کرتے ہیں تو ہمارا تجسس بکھر جاتا ہے اور ہم اس تعلق کو ٹوٹی جوتی کی طرح گھسیٹنا شروع کردیتے ہیں۔

بیشتر دوست ایسے ہی بنائے جاتے ہیں، کسی کا اچھا اخلاق، کسی کا روپیہ پیسہ۔ پہلا تجسس کہ کوئی آخر کتنا اچھا ہو سکتا ہے یا کتنا امیر ہو سکتا ہے۔ ہم دوستی نہیں بلکہ تشویش کر رہے ہوتے ہیں پھر خواہ کوئی بھی ہو یا کوئی بھی تعلق ہو۔ تجسس بہت پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اور پھر ہمارے نفع نقصان کا موازنہ کیا جاتا ہے کہ اس کے ساتھ رہنے میں کتنا فائدہ یا نقصان ہے۔

میں اس لفظ کی بدولت گزشتہ ایک یا شاید کئی سال کافی تعلق خراب کرچکا ہوں کیونکہ میں نے ہر تعلق کو سہل پسندی سے چار ادوار میں تقسیم کردیا ہے جس میں پہلے تجسس، پھر مروت، اس کے بعد قربت اور آخر میں عادت۔

چوتھا دور جو میرے نزدیک نبھانے کا دور ہوتا ہے میں اس سے گھبرا جاتا ہوں کیونکہ کسی انسان کا عادی بن جانا سب سے واہیات نشہ ہے جس کی لت کسی صورت ختم نہیں ہوتی۔ محبت میں سب سے اہم وقت برداشت کا ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کو پسند کرنے والا جوڑا شادی سے قبل بہت خوشی سے رہتا ہے اور شادی کی امید لگائے بیٹھا ہوتا ہے لیکن شادی کے بعد جونہی یہ تجسس ختم ہوتا ہے تو ایک دن وہ ایک دوسرے سے غائبانہ بیزاری کا اظہار کرتے ہیں جبکہ یہی وقت برداشت کا ہوتا ہے اور اس وقت کو جھیلنے کے بعد ہی ازدواجی تعلق برقرار رہتا ہے لیکن ایسی برداشت کی مشق اب انسانی قوت کے بس کی بات نہیں۔

بے حسی ایک برکت ہے اور اس کے ہوتے آپ کو کسی انسان تو کیا کسی موسم کی پرواہ نہیں ہوتی
جون صاحب نے کہا تھا
بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے
صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
یہ خراباتیان خرد باختہ
صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے

بنی نوع انسان بھی ایک تجسس کے ساتھ زندگی گزارے جارہی ہے کیونکہ مذہب کی صورت میں ان کو کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی کا تجسس دے دیا گیا ہے جس کے عوض یہ روزانہ جاگتے اور اگلے دن پھر سے جاگنے کی امید میں سوتے جاتے ہیں۔ یہ امید کہ کوئی قادر مطلق ہے جو ہمارے لئے اوپر بیٹھا ہے جس کی طرف ہم لوٹنے والے ہیں۔ ایک ملحد اسی کیفیت میں ہر وقت فکر میں رہتا ہے کہ صرف کچھ سال ہے کیونکہ وہ من ہی من اس بات کو تسلیم کرچکا ہوتا ہے (یہ درست ہے یا نہیں یہ الگ بحث ہے ) لیکن اس فکر کے پیش نظر اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اپنے ہوتے وہ انسانیت کے لئے کچھ کر گزرے۔ اس فہم کا ادراک اگر انسانوں کو ہو جائے یا ان کے ذہنوں میں کسی طور سے بھر دیا جائے کہ آگے فقط اندھیرا ہے تو میرا خیال ہے کہ کوئی بھی جینا نہ چاہے گا، کوئی ماں بچہ نہ جنے گی، کوئی باپ اپنی بیٹی نہ بیاہے گا اور ممکن ہے عید کے نام پر اجتماعی خودکشی کا اہتمام کیا جائے۔

اب چونکہ زندگی کے کچھ حقائق کی آگاہی ہوچکی ہے تو ہر شے عارضی معلوم ہوتی ہے، ہر تعلق، ہر انسان، ہر شوق۔
یہ تجسس ہی ہے جو اول تو امید دیتا ہے اور پھر اسی امید کی تاریکی میں نا امید چھوڑ دیتا ہے۔

Facebook Comments HS