جنت کے خواب
وہ ابھی بچہ تھا جب اس کے دماغ کے ساتھ کھیلنا شروع کیا گیا۔ ۔ ۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ اس نے اس دور میں آنکھ کھولی تھی جب ہر طرف جنگی رومان زبان زد عام تھے اور سب سے بڑھ کر جنت کا حسین خواب دکھایا جاتا تھا۔
اگر یوں کہا جائے کہ چار سو جنت اور جہنم کا خواب بک رہا تھا، تو غلط نہ ہو گا۔ اس خواب کے اتنے بیوپاری تھے کہ ان کی تعداد کا صحیح اندازہ لگانا مشکل تھا۔ ہر کوئی اس خواب کو بیچنے کے لئے مختلف دکانیں سجائے بیٹھا تھا اور وزیرستان میں انھی خوابوں کو بیچنے والوں کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا تھا کہ خواب کے ان منڈیوں (ان کے مراکز) میں اسلحے سمیت اس خواب کے سوداگر کے ساتھ سینہ بہ سینہ ہزاروں پیروکار موجود ہوتے، اور اگر کوئی ان سے اختلاف رائے رکھتا یا ان سے اختلاف کرتا تو اس کو دبوچا جاتا اور اگر کوئی اور کسی اور خواب کی ریڑھی لگاتا، اس کی تو پھر خیر ہی نہیں تھی۔
خاص طور پر خواتین کی تعلیم کے خواب کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ کوئی اس خواب کا کاروبار کریں، ان خواب فروشوں کے خواب کے بھاؤ بھی مختلف تھے کسی کے ہاں اس کی قیمت صرف خودکشی، کسی نے اسلام کے نام پر علاقہ کے لوگوں کو لوٹنا، ڈرانا، قتل و غارت کروانا، کسی کا چندہ دے کر یا پھر کسی نوجوان کا ان کا لشکر توانا کرنے کے عوض یہ خواب خریدا جاسکتا تھا۔ ۔ ۔
گویا گلی گلی اس خواب کی خرید فروخت ہوئی۔ اور خاص طور پر ان لوگوں کو لوٹا گیا جو آسانی سے دین کے نام پر ان کے شکنجے میں آگئے۔ ان کی عمر بھی تقریباً آٹھ سے دس سال کے درمیان تھی جب ان کو اس خواب کی رومانوی داستانیں سنائی گئی جو عموماً ہر نوجوان کی کہانی تھی۔ لہذا اس دن بھی اس کے سامنے ایک امیر نے یہی خواب پیش کیا، ”جناب کیا خیال ہے، ہمارے ساتھ جہاد میں شرکت نہیں کرو گے؟ اور کیوں نہ خودکش حملہ کرکے جنت الفردوس میں اپنا مقام یقینی بنائے؟“ یہ پہلا موقع نہیں تھا بلکہ بیشتر دفعہ یہی کہانی دہراتی گئی حتی کہ اس کم عمر نوجوان کے دماغ کے نہاں خانوں میں کئی سال تک اس خواب کی اتنی آبیاری کی گئی کہ وہ اس بات پر قائل ہوگیا کہ بڑا ہوکر وہ یہ سب کام کرے گا۔
وقت گزرتا گیا اور کچھ عرصے بعد گھر والوں نے اس کا داخلہ صوبہ پنجاب کے ایک تعلیمی ادارے میں کروا دیا۔ جہاں اس نے ایک ایسی روشنی تلاش کی جس نے اس کی زندگی بدل ڈالی۔ اس کی سوچ کو از سر نو تبدیل کر دیا، اس نے سجدہ شکر ادا کیا کہ یا اللہ تیرا شکر کہ آپ نے بچا لیا ورنہ میرے دونوں جہان تباہی کے دہانے پر تھے۔ اور وہ روشنی کوئی اور روشنی نہیں بلکہ تعلیم کی روشنی تھی جس نے اس کی زندگی بدل ڈالی۔ اس کے ساتھ ساتھ جو بڑا فرق اس نے محسوس کیا وہ سوچ کا فرق تھا جس کی ایک مثال یہ ہے کہ پنجاب میں جہاد کو کشش اور وزیرستان میں قتل لیا جاتا ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں سے لے کر رہن سہن تک بلکہ ترجیحات تک کا فرق دیکھا جا سکتا ہے۔
اس دور کے واقعات آج بھی میرے دماغ پر ایسے نقش ہیں جیسے یہ سب کچھ کل یا پھر پرسو ہوا۔ مجھے وہ دن بھی یاد ہے کہ میں جب وزیرستان جاتا تھا تو میں چپکے سے کسی کونے میں موسیقی سنتا تھا وہاں موسیقی سننا گویا اقرار کفر تھا۔ وہ دور بھی مجھے یاد ہے جب گھروں میں ٹیلی ویژن رکھنے والے لوگوں کو دھمکایا جاتا تھا اور ان سے وہ ضبط کرکے توڑ دیے جاتے تھے۔ کسی دن ان پر تفصیلاً بات کروں گا۔
چند دن پہلے عبید ( فرضی نام، اصلی نام کسی وجوہات پر نہیں لکھ رہا ہوں ) کی تصویر نظروں سے گزری اوران کے ایک دوست سے بات بھی ہوئی۔ عبید کی عمر تقریباً 15 سے 17 سال ہوگی جب اس نے ایک دہشتگرد تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد یوں غائب ہوا جیسے اپنے گھر کا اتا پتا ہی بھول گیا ہو۔ دو سال ہوگئے ہیں کہ اس کی ماں غم سے نڈھال ہے اور اپنے بیٹے کے لئے آہ و بکا کرتی ہے پورا خاندان گویا اجڑ گیا ہو۔
عبید اچھا خاصا نوجوان تھا سکول بھی جاتا تھا لیکن عبید کی کہانی بھی وہی ہے جو وہاں درجنوں جوانوں کی ہے۔ ان کے دماغ کو اتنا زہر آلود کیا گیا کہ اس نے آخرکار بندوق اٹھالی اور خود کو پہاڑوں کو مسکن بنالیا۔ اس کے گھر والے اس کو لینے بھی گئے لیکن اب طالبان کی تنظیم واپس نہیں بھیج رہی ہے جس سے وہ وابستہ ہے۔ یہ صرف ایک عبید کی کہانی نہیں ہے بلکہ ہزاروں عبید کی کہانیاں ہے جن کو اس ایندھن میں ڈالا گیا۔ اس راستے کے انتخاب میں صرف عبید قصور وار نہیں بلکہ ریاست نے بھی اپنا کردار ادا نہیں کیا کہ وہ عبید جیسے لوگوں کو وہ روشنی نہیں دے سکی جو ایک ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
اور اب بھی حکومت وہاں کی تعلیم کو لے کر سنجیدہ نہیں۔ آج بھی وہاں تعلیم زبوں حالی کا شکار ہے۔ اس علاقہ کے لوگ آج بھی مختلف رومانوی چورن بیچنے والوں کے شکنجے میں ہیں اور استعمال ہو رہے ہیں۔ آج بھی وہ لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم اور تاریک نگری میں ہیں۔ اگر ان لوگوں کو تعلیم کی روشنی اور روزگار نہیں دیا گیا تو عبید کی طرح یہ لوگ بھی کسی اور کے ہاتھوں سے استعمال ہوسکتے ہیں جو قوم کے لئے باعث نقصان ہوگا۔ لہذا حکومت، ریاستی ادارے اور وہاں کے مشیران کو چاہیے کہ وہاں پر تعلیم اور دیگر ترقیاتی کاموں کو سنجیدہ لیں۔


