خودی اور خاندان کے درمیان ہم آہنگی: ایک دوسرے کو مضبوط بنانے کا سفر

یہ کھیل، جو خودی اور خاندان کے درمیان جاری ہے، انسانی زندگی کے بنیادی ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ہم اپنی ابتدائی زندگی سے ہی خاندانوں میں پروان چڑھتے ہیں تاکہ ایک منفرد شخصیت کے طور پر تشکیل پا سکیں۔ ہمیں ”میں“ کی طاقت سکھائی جاتی ہے اور ساتھ ہی ہمیں ”ہم“ کی طاقت کا احساس دلایا جاتا ہے۔ تحفظ، محبت اور ذمہ داریاں خاندان سے جڑنے کے ساتھ آتی ہیں۔ بظاہر متضاد نظر آنے والی یہ دونوں قوتیں

Read more

بلوچستان کے حقوق کا جنازہ

یہ ہمارا مجموعی مسئلہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگوں کو اگر کسی جگہ اپنا فائدہ نظر آئے تو ہم اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے چاہے اس کا اصل حقدار کوئی اور ہو۔ اور اس بہتی گنگا میں آپ کو تعلیم یافتہ لوگوں کی کثیر تعداد ہاتھ دھوتی ہوئی نظر آئے گی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سمجھ بوجھ رکھنے والے اس مسئلے کا حل ہماری تربیت میں ڈھونڈتے ہیں۔ بلوچستان کے کیس میں درج بالا

Read more

جنت کے خواب

وہ ابھی بچہ تھا جب اس کے دماغ کے ساتھ کھیلنا شروع کیا گیا۔ ۔ ۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ اس نے اس دور میں آنکھ کھولی تھی جب ہر طرف جنگی رومان زبان زد عام تھے اور سب سے بڑھ کر جنت کا حسین خواب دکھایا جاتا تھا۔

‎اگر یوں کہا جائے کہ چار سو جنت اور جہنم کا خواب بک رہا تھا، تو غلط نہ ہو گا۔ اس خواب کے اتنے بیوپاری تھے کہ ان کی تعداد کا صحیح اندازہ لگانا مشکل تھا۔ ہر کوئی اس خواب کو بیچنے کے لئے مختلف دکانیں سجائے بیٹھا تھا اور وزیرستان میں انھی خوابوں کو بیچنے والوں کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا تھا کہ خواب کے ان منڈیوں (ان کے مراکز) میں اسلحے سمیت اس خواب کے سوداگر کے ساتھ سینہ بہ سینہ ہزاروں پیروکار موجود ہوتے، اور اگر کوئی ان سے اختلاف رائے رکھتا یا ان سے اختلاف کرتا تو اس کو دبوچا جاتا اور اگر کوئی اور کسی اور خواب کی ریڑھی لگاتا، اس کی تو پھر خیر ہی نہیں تھی۔

Read more

کمرہ عدالت نمبر 1 سے : نوازشریف کی درخواست ضمانت

ساڑھے نو بجے سے پہلے ہی عدالت عظمی کا کمرہ نمبر 1 بھر چکا تھا، زیادہ تعداد ن لیگی رہنماوں کی تھی، پہلی قطار میں راجہ ظفر الحق اور اقبال ظفر جھگڑا بیٹھے تھے، دوسری قطار میں امیر مقام، طاہرہ اورنگزیب کے ساتھ بیٹھے تھے، جن کے عین پیچھے مریم اورنگزیب تشریف فرما تھیں، مریم اورنگزیب کے بائیں جانب پرویز رشید، دایئں جانب مرتضی جاوید عباسی، شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق اور سینیٹر سلیم ضیا بیٹھے تھے۔ ہال کے انتہائی

Read more

پہلی نسلی جنگ

جنگ کے بارے میں مختلف دانشوروں کے ہاں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ دنیا میں ہر سو سال بعد جنگ ناگزیر ہے۔ اس طرح ایک اور نظریہ پیش کیا جاتا ہے کہ چونکہ انسان کی جبلت جھگڑالو اور خود غرض ہے لہذا وہ اپنے مفاد کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔

کائنات جب سے معرض وجود میں آئی ہے ہر دور میں کسی نہ کسی خطہ میں کسی نوعیت کی جنگ ضرور چل رہی ہوگی۔ جنگی ادوار کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اور اکیسویں صدی میں پانچویں جنریشن وار چل رہی ہے۔

پہلی جنریشن وار زمانہ قدیم میں لڑی جانے والی جنگ تھی۔ اس جنگ کے تانے بانے روم اور یونان کے عہد سے ملتے ہیں۔ اس جنگ میں فوجیوں کی کثیر تعداد ہوا کرتی تھیں۔ اور وہ لائن اور کالم میں منظم ہوا کرتے تھے۔ فوجیں اپنے آپ کو قطار میں منظم کرتیں اور پھر کالم کی صورت میں آگے پیچھے ہوکر دشمن کے جانب بڑھا جاتا۔ ان جنگوں میں زیادہ تر تلوار اور نیزے استعمال ہوتے اور توڑے دار بندوق بھی بروئے کار لائے جاتے۔ ان پہلی جنریشن وار کے جنگوں میں ایک زیادہ کنٹرول ماحول پیدا کرنے کے لئے فوجی ثقافت تیار کی گئی تھی خاص طور پر سپاہیوں کے لئے لباس جو کہ ان کو باقی عوام سے منفرد رکھتا تھا۔

Read more

حسین نقی پر کیا بیتی؟

میں حسین نقی کے بالکل ساتھ کھڑا تھا اور رپورٹرز کی لائن میں سب سے آگے جہاں سے چیف جسٹس اور حسین نقی دونوں کے چہرے کے تاثرات کا باآسانی مشاہدہ کیا جا سکتا تھا۔ حسین نقی کا لہجہ سخت تھا، نہایت سخت. مگر میری دانست میں یہ لہجہ انہوں نے چیف صاحب کے لہجے کے ردعمل میں اختیار کیا تھا وہ یہ سوچ کر نہ آئے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ چیف جسٹس پہلے سے سوچ کر آئے تھے

Read more

ہم تعلیم یافتہ ہیں تربیت یافتہ نہیں

ٹوکیو کے ڈائچی ہوٹل کے بالکل سامنے والے اشارے پر سبز بتی روشن ہونے کے انتظار میں کھڑے ہمارے کمپنی کے منیجر فزیو سے میں نے پوچھا :یار فزیو نہ تو کیمرے یہاں نصب ہیں اور نہ ہی خلاف ورزی پر کوئی جرمانہ ہے اور دوسری بات یہ کہ روڈ بالکل ویران ہے تو ہم سڑک پار کیوں نہیں کر لیتے؟ فزیو مجھ پر خوب ہنسا، کہا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں پرائمری سطح پر ہمیں کچھ پڑھایا نہیں جاتا

Read more

ایف سی آر کا کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

70 سال بعد آرٹیکل 1، 51، 59، 62، 106، 155 اور 246 میں آٹھ ترامیم کرکے فاٹا سے ایف سی آر کو ختم کر دیا گیا ہے مگر اب بھی فاٹا میں فاٹا اصطلاحات کے بعد بھی فضا اتنی خوشگوار دِکھائی نہیں دے رہی۔ فاٹا اصطلاحات پر لوگوں کو شک و شبہ ہے سو حکومت کو قابل اعتراض نکات جلد از جلد واضح کردینے چاہئیں۔ 1867 میں ایف سی آر کو بنایا گیا جس کا اہم مقصد مقامی لوگوں کو

Read more