طبی توہمات سے گھبرائیے نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یحییٰ جعفری کورونا سے متاثر پہلے پاکستانی شہری تھے۔ انھیں چھبیس فروری کو آئسولیشن میں بھیجا گیا اور وہ صحت یاب بھی ہو گئے۔ مگر جیسے ہی انھیں کورونا سے متاثر ڈکلئیر کیا گیا۔ کسی نے ان کی تصویر سوشل میڈیا پر شائع کردی اور کچھ چینلوں نے تصویر کے ساتھ خبر بھی نشر کر دی۔ طبی و صحافتی اخلاقیات کی دھجیاں تو بکھری ہیں مگر یحیی اور ان کے اہل خانہ کے لیے سب سے تکلیف دہ مرحلہ کورونا سے بھی زیادہ لوگوں کے غیرہمدردانہ اور کسی حد تک سفاکانہ تبصرے تھے۔

ابتدائی دنوں میں لاہور میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہوا، جب ڈیفنس میں کسی خاتون کے بارے میں معلوم ہوا کہ ان میں کورونا کے آثار ہیں تو محکمہ صحت والے بجائے ان کے ہاں خاموشی سے جاتے اور قرنطینہ اور ضروری احتیاطوں کے بارے میں آگاہ کرتے، پولیس کی نفری کے ساتھ گھر کا محاصرہ کر لیا۔ محلے والے اور راہگیر بھی جمع ہوگئے کہ دیکھیں تو کورونا کا مریض کیسا ہوتا ہے۔ کہیں اس کے سینگ تو نہیں ہوتے۔ ایسا ماحول بن گیا گویا اشتہاری مجرم ہاتھ آ گیا ہو۔

اس کے بعد میڈیا پر کچھ اور فوٹیج بھی وائرل ہوئے جن کے بارے میں کہا گیا کہ یہ سرکاری قرنطینہ کے ہیں جہاں کورونا کے مشتبہ مریضوں کو رکھا گیا ہے۔ مگر یہ لوگ قرنطینہ کے نام پر مقفل ہیں۔ نہ ان کے پاس کھانے کو ہے نہ پینے کو۔ کئی لوگ دل اور شوگر کے مریض بھی بتائے گئے جنھیں دوا تک رسائی نہیں تھی۔

اس غیر ذمے دارانہ تماشے اور افراتفری کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن لوگوں کو نزلہ زکام کھانسی جیسے معمول کے مسائل درپیش تھے وہ بھی ڈر کے مارے دبک گئے یا گھر والوں نے انھیں چھپا دیا۔ بہت سے روپوش یا فرار ہو گئے۔ یوں ایک ایسی وبا جس میں مرنے کا امکان دو فیصد سے بھی کم ہے، راتوں رات بھوت بن گئی اور اچھے بھلوں کو بھی ڈرانے لگی۔

ایسے غیر ذمے دارانہ سماجی رویے کے اثرات نہ صرف عام شہریوں پر پڑے بلکہ تعلیم یافتہ اور پیشہ ورانہ طبقات بھی زد میں آ گئے۔ گزشتہ ہفتے کراچی میں ماہر امراض قلب ڈاکٹر نعمان الحق کی موت کا واقعہ تو آپ کے علم میں ہوگا ہی۔ حالانکہ ڈاکٹر صاحب نے پوری زندگی بیماریوں اور مریضوں کے درمیان گزاری۔ لیکن جب انھیں خود میں کورونا کا شبہ ہوا تو محض اس خوف کے سبب مرض کے ابتدائی دنوں میں کسی اسپتال جانے سے انکار کردیا کہ محلے والوں کو پتہ چل گیا کہ مجھے کورونا ہے تو وہ کیا سوچیں گے۔ حالانکہ ان کی بھتیجی جو خود بھی ڈاکٹر ہیں، وفات سے ایک دن پہلے تک ڈاکٹر صاحب کے پیچھے پڑی رہیں کہ اسپتال آ کے معائنہ کرالیں۔

جب اگلے دن حالات ڈاکٹر نعمان کے اندازوں سے بھی بدتر ہو گئے تو وہ اور ان کی اہلیہ امن ایمبولینس میں سول اسپتال لے جائے گئے جہاں انھیں غلط فہمی کے سبب داخل نہیں کیا گیا اور پھر گھر پر ان کا انتقال ہو گیا۔ یعنی جو مسئلہ ڈاکٹر صاحب محلے والوں سے پوشیدہ رکھنا چاہ رہے تھے، وفات کے بعد قومی خبر بن گیا۔

اچھی بات یہ ہے کہ اب لوگوں کو کورونا کے بارے میں پہلے سے زیادہ معلومات ہیں اور وہ متاثر ہونے والوں کی اردگرد موجودگی کے زیادہ عادی ہو گئے ہیں اور عالم خوف میں جو الٹی سیدھی حرکتیں ہو رہی تھیں ان میں خاصی حد تک کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ مگر انہونی بیماریوں کا خوف جن توہمات اور بے بنیاد روایتوں کو جنم دیتا ہے وہ پیڑھی در پیڑھی بھی سفر کر سکتی ہیں۔

مثلاً کوڑھ کے مریض صدیوں چھوت چھات اور غیر انسانی سلوک کا شکار رہے۔ انھیں آبادی سے نکال دیا جاتا۔ کوڑھیوں کی علیحدہ بستی ہوتی تھی جس میں مریض ہی ایک دوسرے کا خیال رکھنے پر مجبور تھے۔ گھر والے بھی ان کی خبر گیری سے گھبراتے تھے۔ کوڑھ کو نحوست، آسمانی عذاب، نشان عبرت اور جانے کیا کیا سمجھا جاتا تھا۔

پھر اسی خدا کے کسی بندے نے کوڑھ کا علاج بھی دریافت کر لیا۔ پاکستان میں انیس سو ساٹھ کی دہائی میں جرمن ڈاکٹر روتھ فاؤ کی آمد ہوئی تو انھوں نے جس طرح کوڑھ کے مریضوں کی مدد کی، گلے لگایا اور علاج کیا اس کے بعد مقامی سطح پر کوڑھ سے وابستہ قصے کہانیوں پر سوالیہ نشان لگنے لگا۔ آج ایسی کایا کلپ ہو چکی ہے کہ کوڑھ کا وجود تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔ اور جو اس مرض سے نکل آئے ان کی معاشرتی بحالی ممکن ہو گئی۔ پاکستانی سماج پر ڈاکٹر روتھ فاؤ کا یہ بہت بڑا احسان ہے۔

کچھ اسی سے ملتا جلتا احوال میرے بچپن تک ٹی بی کے مریضوں کا بھی ہوا کرتا تھا۔ پرانی فلموں میں عاشق عموماً ٹی بی سے مرتا تھا۔ ٹی بی کا مطلب ہی لگ بھگ سزا موت تھا۔ آج ٹی بی کے مریض ہمارے درمیان ہی احتیاطی تدابیر کے ساتھ رہتے ہیں اور چند ماہ کا طبی کورس مکمل کر کے بھلے چنگے بھی ہو جاتے ہیں۔

جب انیس سو اسی کی دہائی میں ایڈز کا نام سامنے آیا تو لگ بھگ ایسی ہی سراسیمگی پھیلی تھی۔ حالانکہ ایڈز کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ غیر محفوظ جنسی تعلقات، آلودہ خون، استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے پھیلتی ہے۔ مگر لوگوں کو بس یہ یاد رہا کہ اس بیماری کا سب لواطت اور زناکاری ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ مسلمان معاشرے اس بیماری سے محفوظ ہیں اور یہ بے راہ رو مغربی معاشرے کی بیماری ہے۔

لیکن جب بلڈ ٹرانسفیوژن کے سبب گھریلو پردہ دار خواتین اور چند ماہ کے بچوں میں بھی ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آنے لگے تب کوئی نہ کہہ سکا کہ ان بچوں کو ایڈز کس وجہ سے ہوئی۔ پچھلے کئی برس سے اس وبا کے پھیلاؤ میں خاصی کمی آ گئی ہے اور اب اس کے ساتھ وابستہ داستانوں میں مصالحے کی مقدار بھی ہلکی ہو گئی ہے۔ لہذا یہ بیماری عام گفتگو کے موضوعات سے کم و بیش خارج ہو چکی ہے۔

جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا، ہر نئی بیماری اپنے ساتھ بے شمار توہمات اور کہانیاں لاتی ہے اور جیسے جیسے اس کے حقیقی اسباب سمجھ میں آنے لگتے ہیں اور علاج دریافت ہوتا ہے توں توں لوگوں کی وحشت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اور پھر یہ وحشت اچانک کسی نئی بیماری کے ساتھ زندہ ہو جاتی ہے۔ ایسے ہی ہوتا ہے، ہوتا رہے گا۔ مگر وقت دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیتا ہے۔ بس گھبرانا نہیں ہے۔
بشکریہ ایکسپریس۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *