وزیراعظم کے قریبی رفقا زلفی بخاری، ڈاکٹر ظفر مرزا اور شہباز گل کی چھٹی ہونے والی ہے؟
باوثوق ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سمیت پرائم منسٹر ہاؤس کی 3 اہم شخصیات کو غیر فعال کر دیا گیا ہے، جنہیں کسی بھی وقت عہدے سے ہٹا دیے جانے کا امکان ہے۔ ان میں سے وزیراعظم عمران خان کے دو قریبی دوست زلفی بخاری اور شہباز گل ہیں۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کی کرونا وائرس کے حولے سے معمول کی بریفنگ بھی 3 روز قبل نشر ہونے سے رکوا دی گئی جو وہ سرکاری ٹی وی چینل، پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کو ریکارڈ کروا چکے تھے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کی جگہ کرونا وائرس اپ ڈیٹ کی معمول کی سرکاری بریفنگ کی ذمہ داری پہلے ہی نئے وزیر اطلاعات شبلی فراز جبکہ اوورسیز پاکستانیوں کے امور وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کو سونپے جاچکے ہیں۔
اس سے قبل وفاقی کابینہ کی گذشتہ میٹنگ میں وزیراعظم عمران خان کی اپنے معاون خصوصی سے اس وقت تلخی بھی ہوئی جب ڈاکٹر ظفر مرزا بھارت سے ادویات کی درآمد کے ٹھیکے بارے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے پائے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اس کے فوری بعد ڈاکٹر ظفر مرزا کو غیر فعال کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور صحت کو ذمہ داریوں سے برخاست کرنے کی وجہ بھارت سے جان بچانے والی دواؤں کی درآمد کا سکینڈل بنا ہے کیونکہ اس کے درآمد کنندگان کو جان بچانے والی ادویات کی آڑ میں بہت سی دیگر ادویات درآمد کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی تھی۔
وفاقی کابینہ کے گذشتہ اجلاس میں جب بعض ارکان کے استفسار پر وفاقی سیکرٹری صحت اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سے اس بابت پوچھا گیا تو وہ اپنے جواب سے کابینہ اراکین کو مطمئن نہیں کر پائے تھے جبکہ درآمد کے لئے منظور کی گئی ادویات کی فہرست بارے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا تھا یہ لسٹ میرے علم میں نہیں۔ ذرائع کے مطابق اس جواب پر وزیراعظم نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا کی ڈانٹ ڈپٹ بھی کی تھی اور معاملے کی فوری انکوائری کا حکم دے دیا تھا۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ جس کمپنی کو انڈیا سے دواؤں کی درآمد کا یہ مشکوک کنٹریکٹ دیا گیا، اس سے بھی ڈاکٹر ظفر مرزا کا تعلق نکلا۔
دوسری طرف کرونا وائرس کی بحرانی صورتحال میں غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی حالت زار اور شدید احتجاج پر مبنی ویڈیو پیغامات زلفی بخاری کو فی الفور غیر فعال کرنے کی وجہ بنے ہیں، کیونکہ وزیر اعظم کے علم میں آیا ہے کہ زلفی بخاری نے اس حوالے سے بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں اور سفارتی مشنز سے کوئی رابطہ ہی نہیں رکھا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں دیار غیر میں رہنے والے ہم وطنوں کا اس مصیبت کی گھڑی میں کوئی پرسان حال ہی نہیں ہوا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں حکومت کے خلاف شدید غم و غصے کے جذبات پیدا ہوئے۔
امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی نژاد خاتون کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں اس خاتون نے وزیراعظم عمران خان کو خوب آڑے ہاتھوں لیا تھا کہ انہوں نے ان ہم وطنوں کے لئے افسوس اور دکھ کے دو لفظ بھی نہیں کہے جو دیار غیر میں کرونا وائرس کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے اور نہ ہی سوگوار ہم وطن خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کے دو بول کہے۔ اس ویڈیو پیغام میں وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت سے شدید نفرت کا اظہار کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ امریکہ ہی سے درآمد شدہ وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست، معاون خصوصی برائے میڈیا شہباز گل کو بھی غیر ضروری طور پر غیر مناسب بیان بازی کے ذریعے سیاسی فضا کشیدہ رکھنے پر غیر فعال کردیا گیا ہے، جو پچھلے دنوں مقتدر حلقوں کی طرف سے مبینہ طور پر وفاق اور سندھ کی حکومتوں کو شٹ اپ کال دیے جانے کے باوجود بدستور ٹی وی ٹاک شوز میں غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے وفاق اور صوبے میں محاذ آرائی کو بڑھاوا دے رہے تھے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ کابینہ میں ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس پی آر کی شمولیت کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، جن کے بارے یہ مضبوط تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ حکومت میں مقتدر قوتوں اور عسکری ادارے کے جذبات و محسوسات کی نمائندگی کے لئے لائے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ذرائع کے مطابق مقتدر حلقے ایک عرصے سے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر زلفی بخاری بارے بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔


