میرے والد صاحب اور ذیابیطس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مصنف: ڈاکٹر مظفر علی شاہ اور ڈاکٹر لبنیٰ مرزا۔

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا : سفر میں آسانی اور خوراک کی افراط کی وجہ سے ذیابیطس کا مرض تمام دنیا میں تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔ ذیابیطس کے مریض اگر اپنی شوگر کو نارمل دائرے میں نہ رکھیں تو اس کی سنجیدہ پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کا علاج اینڈوکرنالوجی کی پریکٹس کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اس مہینے نارمن اینڈوکرنالوجی کلینک میں ڈاکٹر مظفر علی شاہ روٹیشن کر رہے ہیں جنہوں نے ذیابیطس کی اردو زبان میں چھپنے والی کتاب کے لیے اپنے والد صاحب کی کہانی لکھی ہے۔ امید ہے کہ قارئین اس سے اہم معلومات اور سبق حاصل کریں گے۔

ڈاکٹر علی : انسان کی ذہنی قوت کا اندازہ اسے خود بھی نہیں جس کی سوچ لامحدود اور تخلیقی صلاحیت ہر طرح کی پیمائش سے مبرا ہے۔ انسانی نفسیات میں آج بھی پر اسرار گوشے موجود ہیں۔ شاید اسی وجہ سے مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ لوگوں کو دسمبر کی شامیں کیوں پسند ہیں۔ میں بذات خود دسمبر کی شاموں سے کوئی خاص لگاؤ نہیں رکھتا کیونکہ دسمبر کی شاموں میں ایک سرد احساس موجود ہے جو انسان کو اپنی تنہائی محسوس کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔

کچھ ایسی ہی ایک شام کی بات ہے۔ آج سے تقریباً دس سال پہلے میں اپنی شفٹ ختم کرکے کیفے میں کچھ دیر آرام کرنے پہنچا ہی تھا کہ میرے فون کی گھنٹی بجی۔ میں عادتاً گھر جانے سے پہلے کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے کیفے ضرور جاتا تھا۔ معمول کے مطابق کال امی کی ہی تھی۔ وہ روزانہ اسی وقت کال کر کے میری خیریت دریافت کیا کرتی تھیں اور جلدی گھر آنے کا حکم بھی صادر کر دیا کرتی تھیں۔ لیکن فون سننے پر معلوم ہوا کہ ان کے لہجے میں کافی تناؤ موجود ہے۔

پوچھنے پر پتہ چلا کہ بابا کی طبیعت کی وجہ سے وہ کافی گھبراہٹ کا شکار تھیں۔ ویسے تو میری امی اعصابی لحاظ سے ایک کافی مضبوط خاتون ہیں لیکن صحت کے معاملے میں وہ کافی حساس اور سنجیدہ رہتی ہیں۔ عموماً وہ ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے وہ تمام پروگرام دیکھا کرتی تھیں جو عوام کی آگاہی کے لئے نشر کیے جاتے تھے۔ اسی طرح کے ہی کسی پروگرام میں انہوں نے ذیابیطس کے متعلق جان لیا تھا ساتھ ہی میں انہوں نے ذیابیطس سے متاثر شدہ مریضوں کی چند علامات بھی نوٹ کر لی تھیں۔

میری امی کافی متجسس خاتون ہیں۔ وہ صحت کے متعلق ہر پروگرام دیکھتی ہیں اور ماشا اللہ سے ان کے دو بیٹے ڈاکٹر بھی ہیں جس کی وجہ سے سے ان کے پاس بیماریوں کے بارے میں میں کافی علم موجود ہے۔ معاف کیجئے گا میں اپنا تعارف کروانا تو بھول ہی گیا۔ میں پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر ہوں اور پشاور کے الرحمن میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں کام کرتا ہوں۔ میری امی یہ سوچ کر افسردہ ہو رہی تھیں کہ میرے بابا کو کو ذیابیطس کی شکایت ہو سکتی ہے کیونکہ ذیابیطس کے کچھ علامات ان میں موجود ہیں جیسے زیادہ بھوک لگنا، بار بار بیت الخلا جانا اور شدید پیاس لگنا۔

میں ان کی بات سے بالکل بھی اتفاق نہیں رکھتا تھا۔ میرے بابا کافی دراز قد و قامت والے ہیں۔ لمبی ٹانگیں، چوڑی جسامت اور کافی قابل رشک شخصیت کے مالک ہیں۔ اپنے پیشے کی وجہ سے ان کی ساری زندگی مختلف شہروں اور دیہاتوں میں گزری۔ پیشے سے وہ پشاور کے جانے مانے سول انجینئر ہیں۔ ان کی ساری زندگی زیر تعمیر سڑکوں روڈوں اور ڈیموں کی سرپرستی میں گزری۔ وہ خود کافی چلتے پھرتے آدمی ہیں اور ہمارے خاندان میں بھی کسی کو ذیابیطس کی شکایت نہیں رہی ہے۔ ہاں وہ مرغن غذاؤں کے کافی شوقین تھے لیکن پھر بھی مجھے نہیں لگتا تھا کہ ان کو ذیابیطس ہو سکتی ہے۔ کچھ دیر امی سے نوک جھونک کے بعد میں نے ہار مان لی اور بابا کا معائنہ کروانے پر راضی ہو گیا۔ ویسے بھی ماں سے کبھی کسی نے مباحثہ جیتا ہے بھلا!

تھوڑی دیر اور کیفے میں بیٹھنے کے بعد میں بھی گھر کی طرف روانہ ہوگیا رات کو کھانے کی میز پر میں نے بابا سے ان کی صحت کے متعلق بات کی۔ انہیں بھی سب کچھ ٹھیک ہی لگ رہا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ کام کی تھکاوٹ کی وجہ سے تھوڑے تھکے تھکے رہتے ہیں مگر گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ صبح کام پر جاتے ہوئے معائنہ کروانے کی غرض سے میں نے بابا کا خون خود نکالا اور ہسپتال کی طرف چل پڑا۔

ہسپتال پہنچنے کے بعد میں سیدھا لیبارٹری کی طرف گیا اور وہاں خون کا نمونہ جو میں ٹیسٹ کرانے کی غرض سے اپنے ساتھ لایا تھا، جمع کر دیا۔ اس کے بعد میں اپنے کام پر لگ گیا مریضوں کا معائنہ کرتے ہوئے کب صبح سے شام ہو گئی پتہ ہی نہیں چلا۔ اس پیشے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنی سماجی زندگی جینے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ ایک ڈاکٹر کی ساری زندگی اس کے کام میں ہی گزر جاتی ہے۔

اس پیشے میں انسان کو بہت محتاط رہنا پڑتا ہے۔ ایک معمولی سی غلطی کسی کے جانے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے اس پیشے میں کوتاہیاں برداشت نہیں ہوتیں۔ ہر کام بڑے احتیاط اور سنجیدگی سے کرنا پڑتا ہے۔ میرا مقصد کسی پیشے کو بڑا یا چھوٹا بنانے کا نہیں ہے میں تو بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اس پیشے میں آپ لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ براہ راست تعلق میں آتے ہیں۔ آپ کی ایک غلط نصیحت کسی کی زندگی کو تشویش ناک حد تک خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اسی لئے انسان کا اس پیشے میں اپنے کام سے لگاؤ بہت ضروری ہے۔

جب انسان اپنے کام سے محبت کرتا ہے تو اسے وقت کا احساس ہی نہیں رہتا۔ اسی طرح کب صبح سے شام ہو گئی مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔ شام کو میں نے جب ٹیسٹ کا نتیجہ دیکھا تو ہکا بکا رہ گیا۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کے بابا کے خون میں گلوکوز کی مقدار اتنی زیادہ ہو سکتی ہے۔ مجھے ایسے لگا جیسے کسی نے ایک ہی لمحے میں میرے سر سے آسمان اور پاؤں سے زمین کھینچ لی ہو۔ بڑے ہی بھاری قدموں کے ساتھ میں لیب سے نکلا۔

بابا کا بلڈ گلوکوز لیول 700 ایم جی /ڈی ایل میں چل رہا تھا۔ دل ہی دل میں یہی سوچ رہا تھا تھا کہ اگر امی اصرار نہ کرتی تو ہمیں آج بھی پتہ نہ چلتا۔ اسی شش و پنج میں تھا کہ بابا کی کال آئی، وہ ٹیسٹ کے متعلق پوچھنا چاہتے تھے۔ میں نے آج تک انہیں نہیں بتایا کہ اس دن ان کا گلوکوز لیول اتنا زیادہ تھا۔ میں ان کو کسی طرح کی پریشانی میں ڈالنا نہیں چاہتا تھا لہذٰا میں نے ان سے صرف اتنا کہہ دیا کہ ہمیں ہلکی سی احتیاط کرنی پڑے گی اور ان کے کھانے پینے کا خیال رکھنا پڑے گا کیوں کہ ان کا بلڈ گلوکوز لیول تھوڑا سا زیادہ ہے۔ یہاں تک کا قصہ مجھے میرے بابا کی بیماری کے متعلق پتہ لگنے کے بارے میں تھا۔ اب آئیے سنتے ہیں بابا کی کہانی انہی کی زبانی۔ ۔ ۔

ڈاکٹر علی کے والد صاحب : مجھے اپنی بیماری کے متعلق پتا 2010 چلا۔ میں پیشے سے ایک سول انجینئر ہوں۔ میری آدھی سے زیادہ زندگی نئی عمارتیں، نئی سڑکیں اور نئے ڈیم بنانے میں گزری ہے۔ اپنے کام کے سلسلے میں میں کئی مختلف شہروں اور دیہاتوں میں رہ چکا ہوں۔ اپنی جوانی میں میں کافی اچھا کھلاڑی بھی تھا۔ لیکن فیض احمد فیض صاحب کہتے ہیں نہ کہ:

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے

ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ زندگی کی تگ و دو میں ہم کام کے علاوہ سب کچھ بھول گئے۔ یہاں تک کہ صحت کو بھی اپنی اولین ترجیح نہیں رکھا۔ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہی یہی ہے کہ جب وہ اپنے حواس میں آتا ہے تو زندگی کی شام ہونے کو ہوتی ہے۔ اسی طرح اپنی صحت سے بے خبر میں بھی اپنے کام کو کافی احسن طریقے سے نبھاتے ہوئے زندگی گزار رہا تھا۔ اکثر تھکا تھکا رہنے لگا تھا۔ رنگ پھیکا پڑ گیا تھا اور جگر میں اب ویسی جان نہیں بچی تھی۔

مجھے لگا کہ یہ بڑھتی ہوئی عمر کے تقاضے ہیں۔ لیکن میری زوجہ کو میری بات سے بالکل بھی اتفاق نہیں تھا۔ ان کے مطابق میری صحت میں کافی نمایاں تبدیلی آئی تھی۔ وہ بار بار مجھ سے اصرار کر رہی تھیں کہ میں صحیح طریقے سے سے اپنا معائنہ کروا لوں۔ میں ان کی بات ہمیشہ مذاق میں اڑا دیا کرتا تھا۔ میں اکثر ان سے کہا کرتا تھا کہ وہ ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے پروگرام دیکھ دیکھ کر خود کو ڈاکٹر سمجھنے لگ گئی ہیں۔ خیر اسی طرح کچھ عرصہ ہماری نوک جھونک چلتی رہی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *