کشمیر پر سازشوں کے منڈلاتے سائے



انیق ناجی ممتاز صحافی نزیر ناجی کے صاحب زادے ہیں اور اپنے والد کی طرح ہی کل وقتی طور پر صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے آج کے تقاضوں کے مطابق جب کہ پرنٹ میڈیا کا دور اختتام پذیر ہے اور صحافت الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر تیزی سے منتقل ہو رہی ہے۔ انیق ناجی نے ایک ویب نیوز چینل جاری کیا ہے جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور صحافی مرتضیٰ شبلی جو بھارت کے اور کئی بین لاقوامی اخبارات میں لکھتے رہتے ہیں، کا انٹرویو کیا ہے، انیق ناجی کے ساتھ انٹرویو کے دوران موصوف کے مسئلہ کشمیر کے بارے میں نقطہ نظر سے کسی حد تک آگاہی ہوئی، جس میں کئی باتوں سے ان کے نقطہ نظر کی محدودیت اور مختلف واقعات کے درست پس منظر سے ان کی دانستہ یا نادانستہ عدم واقفیت کا اظہار ہو رہا ہے۔

۔ ۔ ۔ انیس سو سینتالیس کی جنگ کشمیر میں انہوں نے پاکستان کے کسی بھی کردار سے مکمل انکار کیا، جبکہ یہ بات اپنے تاریخی پس منظر اور اس وقت کے حقائق کے لحاظ سے مکمل طور پر بے بنیاد ہے، اس وقت قائد اعظم محمد علی جناح کی طرف سے فوج کی قیادت جو کہ انگریز افسران پر مشتمل تھی، اور جنرل گریسی ابتدائی طور پر پاکستان کی فوج کی قیادت کر رہے تھے، قاید اعظم نے واضح الفاظ میں ان کو حکم دیا کہ سرینگر اور جموں دونوں پر قبضہ کر لیا جائے، تو جنرل گریسی نے قائد کے حکم کی تعمیل کرنے کے بجائے اس ضمن میں نہ صرف غیر واضح طور پر انکار کیا بلکہ یہ حساس معلومات فوری طور پر ہندوستان میں تعینات اپنے ہم منصب جنرل آکن لیک کے علم میں لے آئے، جو اس معاملے کو پہلے وائسراے لارڈ ماونٹ بیٹن اور پھر جواہر لال نہرو کے علم میں لے آئے، ادھر فوج کی انگریز قیادت کی طرف سے انکار کے بعد اس دور کی بے سروسامانی، مہاجرین کے مسئلہ اور شدید معاشی چیلینج کے باوجود آخری حربے کے طور پر کشمیر میں قبائلی پٹھانوں اور کشمیر میں دوسری جنگ عظیم کے بعد فارغ ہو کر اپنے گھروں کو واپس آئے سابق فوجیوں کے ذریعے آپریشن کا فوری فیصلہ کیا گیا کیونکہ انہی دنوں مہاراجہ کے ہندوستانی قیادت کے ساتھ خفیہ مذاکر ات کی خبریں بھی آنا شروع ہو گئیں تھیں، اور ڈوگرہ فوج اور پنجاب کی سکھ ریاستوں سے آنے والی افواج نے جموں اور پونچھ میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا تھا اور جموں کے علاقے سے مسلمانوں کے کچھ بچ جانے والے افراد پر مشتمل قافلے سیالکوٹ پہنچنا شروع ہو گئے تھے، پونچھ کے مختلف علاقوں میں ڈوگرہ فوج کی طرف سے مسلمانوں کے نزر آتش کئیے جانے والے مکانات کے شعلے مری تک سے نظر آتے تھے۔

لہذا مجبوری کے عالم میں قبائلی پٹھانوں اور کشمیر کے سابق فوجیوں کی مددسے مظفرآباد پر حملہ کر دیا گیا، سازوسامان، ہتھیاروں اور ایمونیشن کی اس حد تک کمی تھی کہ جو ایمونیشن زائد المیعاد قرار دے کر سمندر میں پھینک کر ضائع کر دینے کا حکم دے دیا جا چکا تھا یہی ایمونیشن، پاکستانی فوج کے محب الوطن فوجی افسران کی مدد سے خفیہ طور پر مجاہدین کو سپلائی کر دیا گیا اور میجر جنرل اکبر خان اور ان کی طرح کئی فوجی افسران کو فوج سے چھٹی پر ظاہر کرتے ہوئے جنگ کشمیر کو منظم کرنے کے لئے بھیجاگیا یوں مجاہدین کی طرف سے مظفرآباد پر حملہ کرتے ہوئے یہاں موجود ڈوگرہ فوج کی بٹالئین جس کے کمانڈر کرنل نرائن سنگھ تھے، کو ہلاک اور منتشر کر کے تیزی سے بارہ مولہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی گئی، یہ تیز پیش قدمی بارہ مولہ کے قصبے تک مسلسل جاری رہی، وہاں مجاہدہن تین دن کے لئے رکے اور آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی کی، اسی اثناء میں لارڈ ماونٹ بیٹن کی قیادت میں سول اور فوجی ایک سو جہازوں کے ذریعے کشمیر میں بھارتی افواج کو اتارنے کا عمل شروع کر دیا گیا یعنی حالات یہ تھے کہ ایک طرف پاکستان کی طرف سے یہ پیش قدمی پاکستان فوج کی اعلیٰ قیادت پر فائز انگریز افسران سے پوشیدہ رکھ کر کی جا رہی تھی اور دوسری طرف وائسراے ہند لارڈ ماونٹ بیٹن خود بھارت کی افواج کو کشمیر میں اتارنے کے آپریشن کی قیادت کر رہا تھا۔

تب بھی حالات یہ تھے کہ کشمیر میں اترنے والے بھارتی فوج کے پہلے دستے کے کمانڈر، ایل پی سین اپنی کتاب ”سلنڈر واز تھریڈ“ میں لکھتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا کہ اگر نیچے سے فائر ہوا تو واپس آ جایا جائے، وہ لکھتے ہیں کہ ہم نے بڈگام کے ہوائی اڈے کے گرد چکر لگاے تو وہ ویران پڑا تھا تو اس طرح پہلا جہاز بھارتی فوج کو لے کر کشمیر کی سرزمین پر اترا۔ اور انہوں نے سری نگر کا دفاع قائم کیا، جنرل اکبر خان اپنی کتاب ”ریڈرز ان کشمیر“ میں لکھتے ہیں کہ یہ صورتحال دیکھتے ہوئے میں فوری طور پر راولپنڈی پہنچا کہ چار بکتر بند گاڑیاں مل جائیں تو سری نگر کا دفاع توڑ دیا جائے لیکن تب تک یہ ساری صورتحال فوج کی اعلیٰ قیادت کے علم میں آ چکی تھی، لہذا یہ بکتر بند گاڑیاں نہ مل سکیں، اب بھارتی افواج نے اپنی طاقت مزید بڑھاتے ہوئے مظفرآباد کی طرف ایڈوانس شروع کیا، بھارتی فوج کے پاس ائیر فورس، توپخانہ، بکتر بند گاڑیاں اور ہلکے ٹینک تک تھے جبکہ مجاہدین بے سروسامانی کے عالم میں ان کے مقابلے میں پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے اور آج جہاں ہماری پوزیشن ہے یعنی چکوٹھی، یہاں بھارتی فوج کے مقابلے میں پوزیشنز سنبھال لیں، لیکن اب وادی میں بھارتی فوج کی بہت بڑی تعداد پہنچ چکی تھی جس میں چھ چھ برگیڈز پر مبنی ڈویژنز تھے، بھارتی افواج نے سمر افینسو کے نام سے مظفر آباد پر قبضہ کرنے کے لئے سہ طرفہ بڑا حملہ شروع کیا، اس مرحلے میں باقاعدہ طور پر مظفرآباد اور پونچھ میں حاصل کئیے گئے علاقوں کو بچانے کے لئے پاکستان کا نمبر چار ڈویژن میجر جنرل نزیر کی قیادت میں دفاعی رول میں تعینات کیا گیا اور اسے بھی یہ حکم دیا گیا کہ پیچھے رہ کر آزاد شدہ علاقوں کے دفاع میں مجاہدین کی مدد کریں، خیر یہ لمبی کہانی ہے تو اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ محترم مرتضے ٰ شبلی صاحب کا یہ کہنا کہ پاکستان نے دانستہ اور شعوری طور پر اس وقت کچھ نہیں کیا اور یہ قبائلی اور لوکل مجاہدین کی ہی اپنے طور پر کی گئی کاوش تھی درست نہیں ہے، اسی طرح انیس سو پینسٹھ کی جنگ کی وجہ وہ صرف ایوب خان کی طرف سے پاکستانی عوام کے سامنے مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر بتاتے ہیں جبکہ درحقیقت ایسا نہیں، ۔

انیس سو پینسٹھ کی جنگ دراصل انیس سو باسٹھ کی چین بھارت جنگ کے موقع پر امریکہ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد کے وعدے، کہ اگر پاکستان کشمیر میں اس موقع پر مداخلت نہ کرے تو امریکہ یہ مسئلہ پرامن اور منصفانہ طور پر حل کروا دے گا، پر امریکی وعدہ خلافی پر رد عمل تھا۔ اور حقیقی صورتحال یہ بن گئی تھی کہ الطاف گوہر کے مطابق جنگ کے اختتام پر پاکستان شدید اسلحہ کی کمی کا شکار ہو گیا تھا اور اگر جنگ مزید طول کھینچتی تو پاکستان کے لئے بڑا خطرہ بن سکتا تھا، شبلی صاحب نے بھارت اور پاکستان کے درمیان طاقت کے عدم توازن کو نظر انداز کرتے ہوئے اس معاملے میں اس معاملے میں سطحی قسم کی راے کا اظہار کیا، اپنی پوری گفتگو میں انہوں نے ایک بار بھی بھارتی جارحیت اور مسلسل کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے انکار کے بارے میں کچھ بھی نہیں فرمایا بلکہ ان کی تمام تر تنقید کا رخ یک طرفہ طور پر پاکستان کی طرف رہا۔

اس اپنی گفتگو کے آخر میں انہوں نے، ان کی ذاتی نظر میں مسئلہ کشمیر کا انتہائی بدنیتی پر مبنی ”حل“ پیش کیا کہ کشمیر کو بھول جایا جائے اور نریندر مودی کے کشمیر میں مسلم آبادی کے تناسب کو بدلنے کے منصوبے میں اس کی مدد کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں لا کر آباد کیا جائے، اس مضحکہ خیز تجویز کا مقصد کشمیری عوام کی حمایت یا ہمدردی کے بجائے بھارت کی کشمیری عوام کی تحریک آزادی سے جان چھڑانا ہی ظاہر ہوتا ہے، موصوف مظلوم اور حریت پسند کشمیری عوام کے ساتھ بھارتی افواج کے ہاتھوں وہی حشر کروانا چاہتے ہیں جو انیس سو سینتالیس، اڑتالیس میں جموں کے مسلمانوں کے ساتھ پاکستان بھیجنے کے نام پر کیا گیا ہے۔

پاکستان کی کشمیر پالیسی پر بہت تنقید کی گنجائش ہے لیکن ہمیں یہ تنقید کرتے ہوئے دونوں ممالک میں موجود طاقت کے توازن کی صورتحال کو بھی نظر میں رکھنا چاہیے، اور اس مسئلے کے حل کے لئے کوششیں اور منصوبہ بندی کرتے ہوئے اپنی اور دشمن کی کمزوریوں اور طاقت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ کشمیری عوام کی تحریک ایک جائز اور اقوام متحدہ میں ان سے کئیے ہوئے حق خود ارادیت کے وعدے پر مبنی ہے اور کشمیری عوام کی پوزیشن تمام تر عسکری کمزوریوں اور مجبوریوں کے باوجود اخلاقی اور قانونی طور پر بہت مضبوط ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ اگر ہم اس سلسلے میں ماضی کا جائزہ لیں تو تحریک آزادی کشمیر کو پاکستان کی طرف سے جب بھی موثر انداز میں عالمی اداروں میں دنیا کے سامنے اٹھانے کی کوشش کی گئی تو بھارت نے فوراً مکاری سے پینترے بدلتے ہوئے اس مسئلے کو مذاکر ات سے حل کرنے کا اشارہ دیا اور پاکستان کی طرف سے اس مسئلے کے باہمی حل کی امید پر عالمی اداروں سے اس معاملے کو دوبارہ باہمی سطح پر لے جانا بھارت کو ہمیشہ یہ موقع فراہم کرتا رہا کہ وہ باہمی مذاکر ات کا رخ دیگر غیر اہم اور زیلی معاملات کی طرف موڑ دے۔

یہ تھی کانگریس کی پالیسی جو وہ پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں اپناتی رہی۔ اب بھارت میں ہندو انتہا پسند پارٹی بی جے پی کے بھاری ہندو ووٹ سے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت کی کشمیر اور پاکستان کے بارے میں پالیسی بہت جارحانہ ہو چکی ہے اور اس نے کشمیر کی خصوصی حیثیت یک طرفہ طور پر تبدیل کرتے ہوئے پاکستان کو بھی آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات پر حملے کی کھلی دھمکیاں دینی شروع کر دیں ہیں، لیکن دراصل بھارت کا یہ جا رہا نہ رویہ اس کے خوف کی عکاسی کرتا ہے اور اس کے لاشعور میں اس جارحانہ روئیے کے پیچھے کشمیری عوام کی تحریک آزادی کی درست، جائز اور مضبوط اخلاقی اور قانونی پوزیشن کا خوف واضح ہے۔

اپنی جارحیت کی دھمکیوں کی شکل میں جو گرد بھارت اڑا رہا ہے کہ کسی کی نظر کشمیری حریت پسند عوام کے اس جائز موقف پر نہ پڑ سکے، جہاں تک بھارت کے اس خیال کا تعلق ہے کہ وہ اپنی فوجی طاقت کی دھونس اور دھمکی سے کشمیری عوام اور پاکستان کو اپنے جائز موقف سے مکمل دستبرداری پر مجبور کر سکتا ہے یہ اس کی ایک بہت خطرناک غلط فہمی ہے اس کی ظاہری طور پر بڑی اور طاقتور دکھنے والی فوجی مشین کے بہت سے ایسے کمزور پہلو ہیں جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور موثر حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے پورے جنوب مشرقی ایشیا کے لئے خطرے کا باعث بننے والی اس کی اس غیر اخلاقی طاقت کو ایسا نقصان پہنچا دیا جائے کہ پھر طویل عرصہ تک اس کا یکجا ہونا مشکل ہو جائے اس کی فوجی مشین کی یہ کمزوریاں پاکستان کے دفاعی منصوبہ سازوں کی مکمل طور پر نظر میں ہیں۔

 ۔ ۔ ۔ ۔ ایک پہلو اس معاملے کا یہ بھی ہے کہ شروع سے ہی بھارت نے کشمیر میں ایسے غداروں، مخبروں کی بڑی تعداد کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی اور مدد کی ہے جو اپنی ہی قوم کے خلاف اس ظالم اور جارح کے مدد گار بن کر بھاری فوائد حاصل کرتے رہے ہیں اور اب بھی یہ عمل زیادہ شدت سے جاری ہے اور اس میں نہ صرف روایتی مفاد پرست سیاست دان بلکہ زندگی کے ”دوسرے“ شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں اور اپنے اپنے طریقے اور اپنی اپنی مہارت سے بھارت کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی قبضے کے لئے جواز پیدا کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ کشمیری قوم کو ایسے افراد پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔

Facebook Comments HS