ایسے صحافی کی معافی پیشہ ورانہ غفلت کی تلافی نہیں ہو سکتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم تو سمجھے تھے کہ صحافت نجابت اور شرافت کا نام ہے مگر انصافی بیگم اور ڈھول سپاہی کے شہرۂ آفاق معاشقے کے بعد صحافت اب غلاظت، خباثت اور ضلالت کا روپ دھارنے کی طرف مائل دکھائی دیتی ہے۔ نئے پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی سیاست، عدالت، معیشت اور صنعت و تجارت کے ساتھ ساتھ صحافت بھی مثبت خبروں کا حکم دینے والوں کے شکنجے میں آ چکی ہے۔ بڑے میڈیا ہاؤسز، جید صحافیوں اور بلند آہنگ اینکر پرسنز نے جس طرح بادشاہ گروں کے اشارۂ ابرو پر تعمیر و ترقی کے ہفت اقلیم سر کرنے والی نواز حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کر کے ملک کا بیڑہ غرق کیا وہ سلسلہ کسی طور رکنے میں نہیں آ رہا۔

بے شمار اخبارات اور ٹی وی چینلز بندش کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ہزاروں صحافی بے روز گار ہو چکے ہیں۔ ہزاروں کی تنخواہوں پر بھاری کٹ لگ چکا ہے۔ بہت سے بیروزگاری کے ہاتھوں تنگ آ کر خود کشی کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اخبارات اور میڈیا ہاؤسز کو حکومت کی طرف سے بر وقت ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے میڈیا انڈسٹری تاریخ کے بد ترین بحران کا شکار ہو چکی ہے۔

یاد ش بخیر یہ وہی میڈیا ہے جو پچھلی غدار اور کرپشن سے داغدار حکومت میں نئے پاکستان کے ٹھیکiداروں کی شہ پا کر میڈیا کی آزادی کا علم بلند کرکے چوبیس گھنٹے دھرنے کی کوریج کیا کرتا تھا اور پی ٹی آئی راہنماؤں کے اخلاق باختہ اور حقائق سے مکمل طور پر بے بہرہ اعداد و شمار دکھا کر ملکی وقار بلند کرتا اور قومی مفاد کا دم بھرتا تھا۔ اسی میڈیا نے آزادیٔ اظہار کی آڑ میں موجودہ وزیراعظم اور ان کے رفقا کی ہرزہ سرائی اور شعلہ نوائی کو حقیقت نگاری کی کارفرمائی بنا کر پیش کیا کہ شرافت و نجابت منہ چھپاتی پھر رہی تھی۔

دھرنا سیاست کی غلاظت کا مالی اور معاشی نقصان تو خیر اپنی جگہ مگر اس دھرنے نے دیکھتے ہی دیکھتے منہ پھٹ، زبان دراز اور اخلاقی قدروں سے تہی اینکروں اور صحافیوں کی ایسی فوج تیار کر لی کہ جنہوں نے سر عام شرفا کی پگڑیاں اچھالنا شروع کر دیں۔ الزام تراشی اور اتہام طرازی کی ایسی بد ترین مثالیں قائم کیں کہ باید و شاید۔

یہ شعلہ بیان اور سیاہ زبان اینکر خفیہ آقاؤں کے اشارے پر ن لیگ اور نواز خاندان کے خلاف پارٹی بن کر شام سات بجے سے گیارہ بجے تک مختلف چینلز پر دھماچوکڑی مچاتے اور بدلے میں شاباشی اور بھاری نذرانے پاتے تھے۔ نیو ریاست مدینہ کے وجود میں آتے ہی انہیں مثبت خبروں اور رپورٹوں کا بیانیہ دے کر نکیل ڈال دی گئی۔ جس میڈیا نے بڑے بڑے جواریوں کے حکم پر گدھوں کو گھوڑا بنا کر پیش کیا تھا، اب انہیں یہ حکم تھا کہ اپنی آلودہ زبانوں اور نفرت انگیز بیانوں کا رخ پچھلی حکومت اور موجودہ سندھ حکومت کی طرف پھیر دیں۔ سو حکم کی تعمیل کی گئی اور حکم کے غلاموں نے نئے پاکستان کی بے بصیرتی اور بے تدبیری کو دھڑلے سے پچھلی حکومت خاص طور پر نواز شریف کے کھاتے میں ڈال کر بے مثال حب الوطنی کا ثبوت دینا شروع کر دیا۔

سندھ حکومت نے کورونا کے خلاف موثر اور ٹھوس حکمت عملی کیا اختیار کی تو نئے پاکستان کے نقشہ نویسوں اور انجینئروں کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ وہ آتش حسد میں بری طرح جلنے لگے۔ لہٰذا مکرر حکم ہوا کہ وفاق اور تین صوبوں سے صرف نظر کر کے صرف سندھ حکومت کو ٹارگٹ کیا جائے۔ پرانے کھلاڑی نئے اسلوب سے حملہ آور ہوئے۔ رسوائے زمانہ اور جانبدار صحافیوں کی بے بنیاد یورش کے ساتھ کچھ مینڈکیوں کو بھی زکام ہونے لگا۔ شاہ دولے کے چوہے بھی اپنے تئیں اینکر اور صحافی بن بیٹھے۔ امیر کبیر اداروں اور شخصیات کو بلیک میل کر کے پیسہ اینٹھنے والے اور آزادیٔ اظہار و کرپشن کو بے نقاب کرنے کے نام پر شرفا کی خواب گاہوں اور چادر و چاردیواری کا تقدس پائے مال کرنے والوں کے پیٹ میں بھی مروڑ اٹھا اور وہ بھی قومی مفاد و ملکی وقار میں سندھ حکومت کی کرپشن بے نقاب کرنے لگے۔

اگلے دن اسی گالم گلوچ بریگیڈ کے چند جید صحافیوں اور اینکروں نے تھر کی ایک تصویر ٹویٹ کی جس میں دکھایا گیا تھا کہ ایک گندے جوہڑ سے ایک بچی اور گدھا اکٹھے پانی پی رہے تھے۔ مگر چند گھنٹے بعد ہی ان اینکرز کو وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر کے اپنے کارنامے پر معافی مانگنا پڑی۔ یعنی اپنے کپتان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اباؤٹ ٹرن لینا پڑا۔ یہ واقعہ کسی مہذب ملک میں پیش آیا ہوتا تو اب تک ان صحافی و اینکر نما وارداتیوں پر تا حیات پابندی لگ چکی ہوتی اور انہیں آزاد عدلیہ کا سامنا کرنا پڑتا۔

مگر اس واقعے کے اگلے ہی دن یہ موقع پرست اور خوشامد کرنے والے وارداتیے پاکیزگی اور حب الوطنی کا چولا پہن کر مکرر قوم کو آگاہی دے رہے تھے۔ جہاں پانچ ہزار کورونا ٹیسٹ میں سے پانچ لاکھ مثبت رزلٹ اور لاک ڈاؤن کے دوران میں بارہ کروڑ بچوں کی پیدائش کی ”مصدقہ“ خبر دینے والے خاکی درباری وارداتیے مہان اینکر ماننے جاتے ہوں وہاں صحافت کا مقدس پیشہ اسی طرح سر بازار رسوا ہوا کر تا ہے۔ برسبیل تذکرہ جہاں خاکی دربار کے توسط سے ایسے چرب زبان بھی راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جائیں جو میزبان کے کسی بھی سوال کے جواب میں جیب سے سودا سلف کی فہرست نکال کر پچھلی حکومت پر تبرا کرنے لگیں تو اس ملک میں حقیقی صحافت کا اللہ ہی حافظ ہے۔ یہی نہیں یہاں تو ایک لاکھ کے ٹھیکے سے ایک کروڑ کی کرپشن برآمد کرنے والے بھی مصر ہیں کہ انہیں بھی صف اول کے صحافیوں میں شمار کیا جائے۔ ان حالات میں چند خاکی درباری صحافی نما وارداتیوں کی معافی اتنے بھاری اخلاقی نقصان کی تلافی کیسے کر سکتی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *