مخدوم تو اچھے ہوتے ہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاہ محمود قریشی ملتان کے نامور مخدوم ہیں۔ مہربان انسان ہیں اسی لئے دنیا ان کی قدردان ہے ان سے محبت کرتی ہے۔ انہیں جب کبھی دیکھا اس نظر سے دیکھاجس نظر سے برسوں پہلے انہوں نے ہیلری کو دیکھا تھا۔ یہ منظر جس میں جام بھی تھے ( واضح رہے کہ یہ جنوبی پنجاب والے جام نہیں ہیں ) کسی دل جلے فوٹو گرافر نے اپنے کیمرے میں محفوظ کرلیا اور پھر یہ محفوظ شدہ منظر وائرل ہو کر اک عالم کی یادداشت کی زینت بن گیا۔ شاہ جی کی وزارت خارجہ کے قرون اولیٰ کی یہ سنہری یاد انہیں کتنی یاد ہے اس کا علم تو انہی کو ہوگا لیکن ہم مشرق کے رہنے والے جو محبوب کی کالی زلفیں اپنی نصابی کتب میں پڑھ پڑھ کر جوان ہوئے ہیں وہ ہیلری کی سنہری زلفوں کے بھی اسیر ہو گئے۔

خیر یہ تصویر پہلے قوم کے ذہن خانے میں اتری اورپھر اجتماعی حافظے سے ایسے غائب ہو ئی جیسے گدھا کے سر سے سینگ نہیں بلکہ گدھا سینگوں کے نیچے سے غائب ہو جاتا ہے یا پھر 49 برس پرانی اس تصویر کے مانند جس کے سبب نیازی برادری بلا وجہ کی بدنام ہے اور یہ بدنامی پیڑی در پیڑی چلی آ رہی ہے لیکن ہمارے مخدوم ایسے ہرگز نہیں ہیں۔ مانا کہ وہ لفظوں کو چبا چبا کر ادا کرتے ہیں تا کہ ہماری سماعت کے معدے پر گراں نہ گزرے اور وہ اسے جلد ہضم کرلے لیکن بہت سوں کو ان کا یہ طرزتکلم پسند نہیں لیکن ہم تو ان کی اس چباتی لہجے پر فریفتہ ہیں یہی نہیں بلکہ ان کے پوش پینٹ کوٹ جس پر وہ کھٹی میٹھی ٹائیاں باندھتے ہیں ہم تو اس پر بھی رشک کرتے ہیں۔ یہ سب ان کی خوش پوشاکی کی دلیل ہے اب اس خوش پوشاکی اور خوش گفتاری کے بیچ اگر وہ صوبائی تعصب کی بات کریں، پیپلز پارٹی سے بو آنے کی بات کریں تو آپ ہی فرمائیں ان کی شخصیت کتنی ”ڈمیج“ ہوجاتی ہے۔

شاہ جی جنہیں بلاول بھٹو پیار سے وزیر صاحب کہتے ہیں کی باتوں کو جب میں اپنے ”ڈمیج“ دل کے ساتھ سوچ ہی رہا تھا کہ اگلے روز انہوں نے ایک اور چھکا جڑ دیا۔ اب کی بار انہوں نے سینیٹ کی پچ کا انتخاب کیا۔ سینیٹ کی پچ پر ویسے بھی کوئی شب خون نہیں مارتا اور یہ بہت مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ اس پچ پر کھیلنے کا اپنا ہی مزہ ہے اسی لئے سیاسی جماعتیں اپنے تجربہ کار اور تر دماغ والے کھلاڑی یہاں اتارتی ہے اس کے باوجود فیصل جاوید صاحب جیسے کچھ نوخیز چہرے بھی یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں جنہیں مشاہد اللہ خان جیسے لوگ لاروے سمجھتے ہیں جو یقیناً ً اچھی بات نہیں کیونکہ اگر ان کی بات مان لی جائے تو پھر کہنے والے یہ بھی کہیں گے کہ پارلیمان کی اس پرشکوہ چھت تلے ہر کوئی لاروے ہی آیا تھا۔

لیکن جناب من! حزب اختلاف میں رہنے کے یہی تو مزے ہیں کہ وہ جو کچھ کہیں ان پر پکڑ نہیں ہوتی گویا سات خون معاف ہیں ورنہ تو دنیا شاہد ہے کہ یہی مشاہد تھے جنہوں نے بڑے میاں صاحب کے دورمیں بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ایسی بے احتیاطی دکھائی کہ انہیں دورہ مالدیپ نامکمل چھوڑ کر آنا پڑا اور وزارت ماحولیات سے ہاتھ دھونے پڑ گئے۔

بات ہو رہی تھی مخدوم صاحب کی جو اپنی طبیعت کے برخلاف ایوان بالا میں بھی گرجے بھی اور برسے بھی۔ کہا کہ تم کون ہوتے ہیں بل معاف کرنے والے؟ ہم نے پنجاب میں اپنا لوہا منوایا تیار ہو جاؤ اب سندھ میں بھی لوہا منوائیں گے۔ مخدوم صاحب جان کی امان پاؤں تو عرض کروں پنجاب میں جناب کی پارٹی نے کون سا لوہا منوایا تھا۔ 2018 کے الیکشن کے بعد جہانگیر ترین کی طیارہ سروس شروع نہ ہوئی ہوتی تو آپ تو آج حزب اختلاف کی نشستوں پربیٹھے ہوتے۔

شکرگزار ہوں اپنے مردانہ ہانڈی وال کے جنہوں نے یہ کمال فن دکھایا۔ نومنتخب ارکان کو بنی گالہ کے دربار پر لائے۔ انصافی جھنڈے گلے میں ڈلوائے اور عمرانی تسبیح کی پھونک سے ان کی من کی دنیا بدلی۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ق لیگ اور بعض دوسرے مہربان جن کے پاس حقیقی جادوئی لوہا ہوتا ہے وہ مہربانی نہ کرتے تو پی ٹی آئی کے سرکنڈے کبھی لوہا نہ بنتے۔ رہی بات سندھ کی تو کوشش کرکے دیکھ لیں ویسے بھی تبدیلی سرکارڈیڑھ سال سے سندھ کی منتخب حکومت کو دھمکانے کے سوا کرہی کیا رہی ہے۔ ایک بار شوق فرما لیں دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی ہو جائے گا۔

کورونا کی ڈسی قوم اس بات پر پریشان ہے کہ بڑی اسمبلی اور چھوٹی اسمبلی کے اجلاس تو مہلک وائرس پر بحث کرنے کے لئے بلوائے گئے تھے لیکن یہاں پر بعضوں کو سر کالا منہ بالا کرنے کا موقع مل گیا۔ بڑھاپے میں جوانوں کی سی نادانیاں نہیں کرنی چاہیے۔ اس عمر میں تعصب نہیں پھیلانا چاہیے بلکہ تحمل اور برداشت کا درس دینا چاہیے۔ یوں بھی آپ کے دودھ ٹپکنے کے دن تو گئے۔ پھنے خان بننے کے لئے بہتیرے موجود ہیں مرکز میں بھی اور صوبوں میں بھی۔

آپ گھاگ سیاست دان ہیں۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے بھانت بھانت کی سیاسی جماعتیں دیکھ چکے ہیں وزیر اعظم نہ بننے کا غصہ اپنی جگہ لیکن آپ اپنی جگہ پر خود ایک روحانی وزیراعظم ہیں جماعت غوثیہ کے عقیدت مند آپ کو دل وجان سے مانتے ہیں کپتان کے ماننے والے شاید اس منزل مراد تک نہ پہنچ پائیں جو آپ کو بزرگوں کی بدولت نصیب ہوا ہے لیکن آپ نے نفرت کی ایک ایسی چنگاری سلگائی کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بعد پارلیمان کا اگر تیسرا ایوان ہوتا تو آپ یہ چنگاری شاید وہاں پر بھی سلگا کر دم لیتے۔ اس لئے بہتر ہے شاہ جی کہ ’ہتھ ہولا رکھیں‘ ۔ نفرت کی چنگاری کو دفن کریں محبت کے پھول بانٹیں ہار جیت کی بات کو کل پر چھوڑ رکھیں، آج دوستی کر لیں کیونکہ۔ ۔ ۔ مخدوم تو اچھے ہوتے ہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *