پاکستان، ارطغرل اور حلیمہ باجی استغفراللہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل جس ڈرامہ کے چرچے ہیں ہر زبان پر، پاکستان اور ترکی کا تو معلوم ہے لیکن پوری دنیا کو بھی اس کی خبر ہو گئی۔ کائی قبیلہ والے کون ہیں، کیسے لڑتے تھے، کس خطہ زمین سے اٹھے اور دیکھتے دیکھتے کہاں تک چھا گئے، کس سلطنت کی بنیاد رکھی، دوست اور دشمن کے ساتھ سلوک، مذہبی اور معاشرتی معاملات، رسم ورواج وغیرہ کی سب تفصیلات تو اب اس ڈرامہ کو دیکھنے والوں کو یاد ہو چکی ہیں۔

اچھا بھلا ہم پاکستانی ”میرے پاس تم ہو“ جیسے ڈرامہ کے سحر میں گرفتار ہو کر، عورت کی بے وفائی اور ایک تھپڑ پر تبصرہ کرتے ہوئے، سارا دن سوشل میڈیا پر میم بناتے یا پرائم ٹائم رات آٹھ سے دس بجے تک بحث مباحثہ کرتے، میرا جسم میری مرضی، اوئے تمھاری مرضی کی ایسی تیسی، معاشرے کو اب آزاد خیال ہو جانا چاہیے، نہیں نہیں ہمیں اپنی معاشرتی اقدار کو بھولنا نہیں چاہیے، تمھاری اپنی تو کوئی تہذیب ہی نہیں، اوئے تم چپ کر جاؤ ویسٹرن کلچر سے متاثرہ ہپی، تم لوگوں نے اسلام عرب سے لیا، تہذیب ہندوستان کی اٹھا لی اور باتیں کرتے ہو کہ ہم اس امت کے قرون اولٰی کے جانشین ہیں۔ اوئے گستاخ، کافر، خبردار جو ہمارے عروج کا دور ہمیں یاد کروا کر افسردہ کیا، دیکھنا ایک دن پھر ہم غالب آئیں گے، جناب غالب وہ آتے ہیں جو اپنے دل کی دھڑکن سے زیادہ اپنی رعایا کو مقدم رکھتے ہیں۔ بس کر دل نہ جلا یہودی ایجنٹ۔ او شٹ اپ۔ او یو شٹ اپ۔

مکالمہ ختم کرتے ہی ایک بندے نے نیٹ فلیکس پر سیکس ایجوکیشن کی سیریز دیکھنا شروع کر دی جس کے چالیس ملین کے قریب ویورز ہو گئے ہیں اور ریٹنگ بھی بتدریج اچھی ہوتی جا رہی ہے۔ جب کہ غصہ میں دوسرا بندہ گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہوا، گھوڑے کو ایڑ لگائی، ترکی کی جانب دوڑانا شروع کر دیا۔ جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر اس نے شہر استنبول پر نظر دورائی تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو گے، وہ تو یہاں آیا تھا کہ ہر طرف گھوڑوں کی ٹاپوں اور تلواروں کی جھنکار کا شور ہو گا، نعرہ مستانہ لگا کر مختلف قبائل آپس میں دست وگریباں ہوں گے۔

مسجدوں اور خانقاہوں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہو گی۔ لیکن وہ مناظر دیکھنے کو نہ ملے، اس نے دوربین لگائی، اس کو دور سے اذینیہ، ڈالیا، بیبلون کے ساحل پر ننگ دھڑنگ مرد و زن نہاتے نظر آئے۔ جب اس نے گولڈن بیچ کی طرف دیکھا، ایک جانا پہچانا چہرہ مختصر لباس میں بیچ کے کنارے چہل قدمی کرتا دکھائی دیا، آخر میں نے اس کو کہاں دیکھا ہے وہ بڑبڑایا، اچانک اس کے ذہن میں جھماکا ہو، اوہ یہ تو ارطغرل والی ہے۔ بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا۔ حلیمہ باجی۔ استغفراللہ۔

فلم یا ڈرامہ میں کسی کو آئیڈلائز کرنا، پھر اس کریکٹر کو اپنے اندر سمو لینا۔ فلم یا ڈرامہ دیکھ کر خود کو بھی اس کا حصہ تصور کرنا۔ ہیرو کے ساتھ جینا، اس کے مرنے پر خود پر موت طاری ہونے جیسی فیلنگز تو خاموش فلموں کے زمانہ سے چلی آرہی ہے جب چارلی چپلن کا طوطی بولتا تھا۔ بچہ کیا، جوان اور بوڑھا بھی اپنے آپ کو چارلی سمجھتا تھا۔ ہم اپنی مثال لیتے، عینک والا جن دیکھ کر ہر بچہ خوابوں خیالوں میں اڑن قالین پر بیٹھ کر سکول جاتا، کوئی سپر مین کی طرح اڑتے ہوئے تصور کرتا تھا۔

ایسے ہی پی ٹی وی کے کلاسک ڈراموں کے دور میں ہر گھر کا کوئی فرد اپنے اوپر ڈرامہ کی سٹوری فٹ کر لیتا۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری کے درخشاں ستاروں کو سب کاپی کرنا چاہتے تھے، ندیم، وحید مراد، شاہد، علی صاحب جیسے پیارے لوگ، دیہاتوں میں سلطان راہی اور مصطفی قریشی صاحب کے ڈائیلاگ بولے بغیر کسی کی شام نہیں ہوتی تھی۔

کچھ میرے جیسے دوست بھی ہیں جو ویسٹرن موویز دیکھ کر کبھی اپنے آپ کو کلنٹ ایسٹ وڈ، جان وین تصور کرتے، کبھی آل ٹائم کلاسک ہیروز ہیمفرے بوگارٹ، ہنری فونڈا، کلارک گیبل، گرانٹ، جیمز اسٹیورڈ، مارلن برانڈو، سپنسر ٹریسی، گیری کوپر، کرک ڈوگلس، بروٹ، انتھونی کوئن، ال پچینو اور روبرٹ ڈی نیرو جیسے خوبصورت پھولوں کے چمن کی خوشبو سات سمندر پار سے محسوس کرتے۔ بالی وڈ کی فلموں کی یلغار ہوتے ہی آپ کو حجام ہو یا کوئی ریڑھی والا یا دوستوں کی محفل ہو یا ہوسٹل کے کمرے ہر جگہ سنجے دت، سنیل سیٹھی، اکشے، اجے دیوگن، عامر و شاہ رخ خان کے پوسٹروں کی بھرمار نظر آئے گی۔ سنجے دت کا حقیقی زندگی میں جیل جانا تو باقاعدہ ایک روزمرہ کا ٹاپک بن گیا تھا۔

نفسیاتی حد تک یہ چیز ہمارے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ بنیادی طور پر میں اس فیلنگ کا حامی ہوں۔ آپ جب تک خود کریکٹر بن کر فلم/ڈرامہ کے اندر نہیں داخل ہوں گے، آپ کو پلاٹ، بیک گراؤنڈ میوزک و لوکیشن، ڈائیلاگ ڈیلوری، ڈریسنگ / کاسٹیوم کے سینس وغیرہ کا کچھ اندازہ نہیں ہو گا۔

لاک ڈاؤن کے دنوں میں جہاں ارطغرل پی ٹی وی کی کھوئی ہوئی رونقیں بحال کر رہا ہے، وہیں ہم لوگ خود کائی قبیلہ کا فرد بن کر امیر کے شانہ بشانہ ہر محاذ پر جا رہے ہیں۔ آج کی نئی نسل کو ہسٹری کی ایک بھاری بھر کم کتاب آسانی سے ڈرامہ دیکھتے ہوئے سمجھ آرہی ہے۔ ایک طرف بہادر جنگجوؤں سے تعارف ہو رہا دوسری طرف ابن عربی جیسی درویش ہستی سے بنیادی اسلامی تصوف بھی سیکھنے کو مل رہا۔ پاکستانیوں نے دل کھول کر اس ڈرامہ کو ویلکم کہا ہے۔

لیو ٹونز نامی پاکستانی بھائیوں کا گروپ جو کہ مغربی موسیقی کو مشرقی دھن کے سایہ میں ترتیب دیتے ہیں۔ انہوں نے ارطغرل کے ٹریک اور بیک گراؤنڈ میوزک کو بہت ہی عمدگی کے ساتھ اپنے فین کی نذر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کی پذیرائی دیکھ کر نہ صرف ارطغرل کے پروڈیوسر نے اپنے اکاؤنٹ سے اس دھن کو ٹویٹ کیا بلکہ وہاں پرفارم کرنے کی دعوت بھی موصول ہوئی ہے۔ یہ دونوں اطراف کی باہمی محبت کا شاخسانہ ہی ہے۔

چونکہ نئی نسل اس کلاسک ٹائم فریم سے نہیں گزری جس سے ہم لوگوں کا بھی تھوڑا سا واسطہ رہا ہے۔ اس لئے ان کو ابھی ڈرامہ کے پلاٹ، رئیل سٹوری اور فکشن میں بنیادی فرق نہیں معلوم۔ اسی وجہ سے جب ارطغرل میں حلیمہ کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ اسری بلچ جو کہ رئیل لائف میں ایک موڈریٹ خاتون ہیں، ان کی کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر پاکستان کے جانبازوں نے ان کو نانی یاد کروا دی۔ اس میں ہمیں قصوروار آج کی نسل کو نہیں ٹھہرانا چاہیے، بلکہ یہ ذمہ داری ہمارے ڈرامہ اور فلم ہدایت کاروں /پروڈیوسروں /کہانی نویسوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے پچھلے بیس سال سے کوئی ایسا تخلیقی کلاسک کام نہیں کیا جس سے نئی نسل کو اس آرٹ سے آگاہی ملتی۔ اس معاملہ میں میری ہمدردیاں اپنے سوشل میڈیا صارفین کے ساتھ ہیں۔

ہم پاکستانی دو گروہوں میں بٹ چکے ہیں، ارطغرل دیکھنے والے یا نہ دیکھنے والے۔ دونوں گروہ ماضی کے جھروکوں سے ہیرو اور زیرو ثابت کرنے کے لئے اپنا پورا زور لگا رہے اور ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر طنز کے نشتر چلا رہے ہیں۔

جولوگ ارطغرل کے مداح ہیں وہ بتا رہے ہیں کہ کیسے سلطان عالیشان نے مسلمانوں کے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ عروج بخشا، کیسے سلطنت عثمانیہ نے تین براعظموں تک اپنی سرحدیں قائم کی، کیسے اس دور میں مکہ اور مدینہ میں تعمیرات کی گئیں، غلاف کعبہ ہو یا روضہ رسول ﷺ کی توسیع کے معاملات ہوں سب اس دور میں ہوئے۔ جب کہ مخالفین بھی کتابوں سے دلائل کے انبار دے رہے، کیسے سلطان کی تخت نشینی پر باقی بھائیوں کا قتل کر دیا جاتا، سرحدوں کی حفاظت کے بہانے کیسے دشمن قبائل کی عزتیں روندی جاتیں، کیسے مذہب کو بنیاد بنا کر صدیوں حکومت کا ڈھونگ رچایا جاتا رہا۔

ارطغرل کے دشمنوں سے گزارش ہے کہ وہ بھی اس ڈرامہ کو ویسے ہی دیکھیں جیسے، گیم آف تھرون میں فکشن نگاری میں زمین و آسمان کو ایک کر دینا، بریکنگ بیڈ میں کیمسٹری کا جادو، پریزن بریک میں دماغی صلاحتیوں کے استعمال سے جیل سے فرار، پیکی بلائنڈرز میں برمنگھم گینگ کی سفاکی، ہاؤس آف کارڈز میں امریکی غلام گردشوں میں ہوتی سازش، سپائی میں اسرائیلی جاسوس ایلی کوہن کا اسلامی ملک شام کی سیاست میں اثرورسوخ، نارکوٹکس میں مشہور زمانہ ڈرگ لارڈ پابلو ایسکوبر، منی ہائیسٹ میں پروفیسر کی ذہانت اور مستقل مزاجی کو انجوائے کرتے رہے ہیں۔

ارطغرل کے دوستوں سے گزارش ہے، اپنی تلوار واپس نیام میں رکھیں، گھوڑے سے نیچے اتر کر اس کو اصطبل میں باندھ دیں، اپنا خود اتار لیں، زرہ کو ڈھیلا کر لیں۔ آپ لمبے سفر سے دشمنوں کو شکست دیتے ہوئے آئے ہیں، آپ کو اور گھوڑے کو آرام اور خوراک کی ضرورت ہے۔ آپ اتنی دیر آرام فرما لیں۔ اور پی ٹی وی پر اگلی قسط کا انتظار کریں۔

ایک طالبعلم ہونے کی حثیت سے ہمیں دونوں اطراف کے مورچوں سے آئے تیروں کا نشانہ بننے کی بجائے تاریخ کی ورق گردانی میں مصروف عمل رہنا چاہیے، میری ارطغرل دیکھنے والے دوستوں سے بھی گزارش ہے، اگر آپ جدید ترکی کو بھی ساتھ ساتھ سمجھنا چاہتے تو مصطفی کمال پاشا اتاترک جو کہ جدید ترکی کا بانی ہے، ان کی زندگی اور جدوجہد پر بننے والی فلم ”اتاترک“ جو کہ 1998 ء میں ریلیز ہوئی، وہ بھی دیکھیں اور ترکی کے جدید مصنف، ناول نگار، سکرین رائٹر، ادب میں نوبل انعام یافتہ جناب اورحان پامک کے ناولوں، خاص طور پر ”استنبول، معصوم عجائب گھر، سفید قلعہ، سرخ میرا نام“ کا بھی مطالعہ کریں۔

ہمیں دلی طور پر شکر گزار ہونا چاہیے، وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ترکی کے ماڈرن سلطان طیب اردگان کا جنہوں نے اس ڈرامہ کو ہم ناظرین تک پہنچایا اور خصوصاً ارطغرل کی پروڈکشن ٹیم کا جن کی بدولت لاک ڈاؤن کے دنوں میں تاریخ کے کئی راز افشا ہوئے ہیں۔ ترکی اسلامی تہذیب وتمدن سے شناسائی کے ساتھ ساتھ جدید اور قدیم خطوط پر استوار ریاست کا تقابلی جائزہ لینے کو ملا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply