من کی ملکہ


teen کے بارے میں اب دنیا کیا، گاؤں گوٹھ بھی سمجھدار ہو گئے ہیں۔ مگر میرا teen تو نرا oxygentent تھا۔ ایک دن اسکول سے واپسی میں سائیکل پر سوار ایک لڑکا میرے ہاتھ میں اینٹوں کی طرح پکڑی کتابوں پر ایک خط رکھ کر یہ جا۔ ۔ ۔ وہ جا۔ ۔ ۔

ہمارے دور کا معروف ترین اور ہائی سٹینڈرڈ کردار کی گواہی دیتا جملہ تھا ”میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں۔“ مگر مجال ہے جو ایک لفظ بھی میرے منہ سے نکل سکا ہو۔ پتہ نہیں لفافے میں کس قسم کی تحریر بند تھی۔ ۔ ۔ دل کی لرزش ویسے ہی ایسی باتوں پر قابو سے باہر ہو جاتی تھی۔ قدم بھی ساتھ نہیں دیتے تھے۔ تیز تیز قدموں اور پھولی سانسوں کے درمیاں، میں نے گلی میں قدم رکھا۔ چک ساکن تھی۔ چند قدموں کو تیزی سے عبور کر کے، میں نے سدا وا دروازے سے جھانکا۔ گیس کے چولہے کی ٹرے نکالے، ملکہ اس پر اپنے دونوں بازوؤں کی طاقت آزما رہی تھی۔ سارا پالش اتر چکا تھا اور سٹیل کی ٹرے چماچم کر رہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی آنکھیں چمکا کر بولی۔ ”کیسے؟“ میں نے اشارہ کیا اور لفافہ اس کی طرف بڑھا دیا۔

”اچھا ہے۔ ۔ ۔ آہا!“ ملکہ نے قمیض کے دامن سے ہاتھ خشک کر کے لفافہ کو آنکھوں سے لگایا۔ سینے سے لگا کر گہرا سانس اندر کھینچا اور پھر عطر زدہ لفافہ چاک کیا۔ اندر تحریر تھا۔

”میری جان، مرے دل کی رانی، تمہیں دیکھ کر مجھے زندگی سے پیا رہو گیا ہے۔ تمہیں میری قسم کل اسکول سے واپسی میں مسجد والی گلی میں آجانا ورنہ۔ ۔ ۔ ورنہ میری لاش درخت سے لٹکی ہوئی دیکھو گی۔“ یہ کیسی سطر تھی۔ ۔ ۔ میں پتے کی طرح کانپ رہی تھی اور وہ پیٹ پکڑے ہنس ہنس کر بے حال ہوتی جا رہی تھی۔ ”ابے یار کاش ایسا خط کوئی مجھے بھی لکھے۔ ۔ ۔“

”او خدا۔ ۔ ۔“ میں روہانسی ہو گئی۔
” بات سن۔ تو کل اسکول سے واپسی میں سیدھی مسجد والی گلی میں آنا۔“
”ناممکن! امی نے دیکھ لیا تو جان سے مار دیں گی۔“
”بات تو سن۔ تو صرف گلی میں داخل ہونا، باقی کام میرا۔“
”نہیں پلیز اسے سمجھانا کہ خود کشی ہرگز نہ کرے۔“ میں نے خوفزدہ ہو کر کہا۔

”او تو کیا تو سمجھتی ہے یہ خود کشی کرے گا۔ او ے کوئی نہیں مرتا جان سے تو فکر ہی نہ کر۔ اس سلیم کے بچے کو تو کل مزہ چکھاؤں گی میں۔ بس دیکھنا! تری نانی کو پتہ نہ چل جائے۔“ اس نے اپنے کواڑ سے با ہر جھانکا اور بولی ”جلدی سے نکل جا۔ تمہاری چک کے پیچھے کوئی نہیں۔“

میں ایک زقند میں باہر۔ ۔ گھر گئی۔ ۔ ۔ چور نظروں سے سب کا جائزہ لیا۔ ۔ ۔ اس نئے بحران کی شدت، کل کی پلاننگ۔ میرا دماغ پاگل کر رہا تھا مجھے۔ اگلے روز حسب وعدہ۔ ۔ ۔ مسجد کی گلی میں جانے کا ارادہ تو کیا مگر وسوسوں کے سنپولیے میرے ذہن میں سرسرا رہے تھے۔ آخرکار اس پتلی گلی میں داخل ہوئی۔ جس کے دونوں اطراف کی دیواروں میں بڑے بڑے بڑے شگاف تھے۔ ملکہ کہیں نظر نہیں آ رہی تھی مگر میں کیوں آ گئی، وہ کمبخت مصیبت یہیں کہیں ہوگا۔ اگر گلی میں سے ابا یا بھائی جان نکل آئے تو؟ میں آدھی فوت ہو چکی تھی۔ عین اسی لمحے، نیلے رنگ کا کرتا شلوار پہنے، منہ پر برستی پھٹکار لیے سلیم داخل ہوا۔ خوف اور ڈر کے ساتھ ساتھ اب گھن بھی محسوس ہوئی۔

ملکہ۔ ۔ ۔ ملکہ۔ ۔ ۔ میرا رواں رواں پکار رہا تھا۔
”آپ کا بہت بہت شکریہ۔ ۔ ۔ آپ نے مرا دل رکھ لیا۔ میں آپ کو کیسے بتاؤں میں آپ کو کتنا چاہتا ہوں۔ میرا دل آپ کے نام سے دھڑکتا ہے میں آپ کی وجہ سے شا عر بن گیا ہوں۔“

”ابے او سلو کے بچے“ ، مسجد کی پچھلی دیوار کے شگاف سے ملکہ نے چھلانگ لگائی۔ ”اوئے میسنے میری دوست کو خط لکھتا ہے۔ تیری ماں کو۔ ۔ ۔“ اور دوسرے ہی لمحے سلیم نے گلی سے باہر چھال ماری۔ ۔ ۔ ملکہ پیچھے لپکی اور واپسی میں پورے دانت باہر نکالے واپس آئی۔ ۔ ۔ ”قسم لے لے جو آئندہ ترے راستے میں بھی آیا۔“

”وہ کچھ کر نہ لے۔“ میری سوئی اٹکی ہوئی تھی۔

”ابے وہ ماں کا۔ ۔ ۔“ اتنی ہمت ہے اس میں؟ بول اس درخت پر چڑھ کر تو دکھائے اور مرے گا پھندا لگا کر۔ ۔ ۔ مرنے کے لیے بہت کچھ چاہیے میری جان۔ ۔ ۔ آ کر دیکھے تیرے سامنے کبھی، اس کی ماں کو۔ ۔ ۔ سالے کی بہن کو۔ ۔ ۔ ”اس نے سلیم کے خاندان کی خواتین کی ایک ہی سانس میں وہ درگت بنائی کہ میں ششدر رہ گئی۔ خدا کی قسم میں نے اکٹھی اتنی مادر پدر آزاد گالیاں، اتنی بے باکی اور زور شور سے پہلے نہیں سنی تھیں۔

”اچھا گالیاں تو مت دو۔“

”تو کیا انڈے دوں؟“ اس نے زور سے کہا۔ ”میرا مطلب ہے وہ گالیاں دو جو تمہارے دائرۂ اختیار میں ہیں۔“ ”دائرۂ اختیار“ نے اسے پگلا کرکے رکھ دیا۔ ہنس ہنس کر دہری ہو گئی۔ ۔ ۔ گلی سے باہر جھانک کر بولی۔ ۔ ۔

” جلدی جا، کوئی نہیں ہے“ اور میں جلدی سے گلی سے باہر نکل کر، گھر کی طرف مڑ گئی۔

”پتہ نہیں کب، کیسے اور کیونکر۔ ۔ ۔ ملکہ میری ضرورت بن گئی۔ ۔ ۔ میرے ہر مسئلے کا حل بن گئی۔ میرے لیے ڈھال بن گئی۔ اس کی آزادی، اس کا بے شمار لڑکوں سے بلا خطر فلرٹ کرنا، کپڑے، میک اپ کے لوازمات، کھانے پینے کا سامان۔ ۔ ۔ ناشتے سے لے کر رات کا کھانا تک مختلف لڑکوں کو بلیک میل کر کے منگوا کر آرام سے ڈکار لینا۔ ۔ ۔ کئی کئی لڑکوں کو ایک ساتھ بے وقوف بنا کر ہنستے ہنستے ان کو ایک دوسرے سے لڑوا کر خود گلی میں ننگے پاؤں کھڑے ہو کر آم چوسنا۔

ایک رنگ کی قمیض، ایک رنگ کی شلوار۔ ۔ ۔ دوپٹے سے بے نیاز۔ ۔ ۔ رات کو باہر تھڑے پہ بیٹھ کر اونچی آواز میں گانے گانا۔ ۔ ۔ روز اسکول سے چھٹی کرنا۔ ۔ ۔ اف کیا آزادی تھی۔ ۔ ۔ گندے رہنے کی آزادی، ایک گھر سے دوسرے گھر بلا روک و ٹوک جانے کی آزادی، ہر چیز چرنے کی آزادی، ہر جگہ سے تحفہ وصولنے کی آزادی۔ ۔ ۔ چھوٹے کا لحاظ نہ بڑے کا۔ سب بے حد نا پسندیدہ تھا۔ میرے کلچر، میری تعلیمات کے بالکل خلاف۔ ۔ ۔ میری ماں اور میری نانی کے لیے ناقابل برداشت۔ ۔ ۔ تو میرے لیے بھی۔ ۔ ۔ مگر اس کا یہ سب کرنا۔ ۔ ۔ ما ننا پڑے گا، تھا بڑا لش۔

میں خود کو اس کے سامنے پڑھی لکھی، معزز پر نری بدھو سمجھتی۔ ۔ ۔ مجھے یاد ہے ایک بار اس کے ایک سو کالڈ محبوب نے نہ جانے کیا سوچ کر اسے ایک کتاب تحفے میں دی۔ برا سا منہ بنا کر بولی ”اس نے مجھے خالہ سمجھا ہے جو یہ کتاب بھیجی ہے۔“

میرے لیے یہ سب جملے بڑے نئے نویلے ہوتے۔ فوراً سندیسہ بھیجا کہ ”فلاں“ کو بولو ذرا ملنے آئے۔ یہ کدو ٹائپ، ویہلے لڑکے بالوں کو تیل سے چپکائے آگے پیچھے ہی رہتے تھے۔ وہ بھی لمحہ بھر میں ہی حاضر ہو گیا۔ میں اس کے گھر کے اندر، کھڑکی کی جھری سے سارا ماجرا دیکھ رہی تھی۔

”یہ کیا ہے؟“ ملکہ نے بڑی سنجیدگی سے کتاب اس لڑکے کے سامنے لہرائی۔
”آپ کے لیے کتاب۔“
”کیوں میں لائبریرین ہوں؟“
”نہیں آپ کے مطالعہ کے لیے۔“ اس نے جھینپ کر کہا۔
”کیا کتاب سے منہ کالا کروں؟ ابھی اتنا برا وقت نہیں آیا مجھ پر چندا“ ملکہ کی سنجیدگی دیکھنے لائق تھی۔

”نہ تو۔ ۔ ۔ تو نے مجھے کتنی بار کتاب پڑھتے دیکھا ہے؟“
”کبھی نہیں۔ ۔ ۔“ وہ سہما سا نظر آنے لگا۔
”اب میری سن۔ ۔ ۔“ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کر بولی۔

” اس کتاب کے پنے پھاڑ، اس کی بتی بنا کر۔ ۔ ۔ اس کو اپنی۔ ۔ ۔ میں گھسیڑ۔ ۔ ۔ اور لائٹر سے آگ لگا لے۔ ۔ ۔ اس کو کہتے ہیں بیٹا کتاب سے منہ کالا کرنا۔ ۔ ۔“

میرے کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔ ۔ ۔ قریب تھا کہ میں چکرا کر گر پڑتی وہ دروازہ زور سے پٹخ کر اندر داخل ہوئی اور بولی۔ ۔ ۔ ”کاٹ دے اس کا نام لسٹ میں سے۔“

”کیا؟“ میں کچھ سمجھی نہیں۔
”یہ تیرے پیچھے جو رجسٹر ہے نہ، اس میں اس کمینے کا نمبر ساتواں ہے۔ ہمیشہ کے لیے کاٹ دے سالے کا نام۔“

کتنی گندی زبان تھی اور خود کتنی گندی۔ ۔ ۔ میں کتنی صاف ستھری۔ ۔ ۔ کتاب کی دنیا کی باسی میرا اور اس کا کیا جوڑ، اور پھر اگر گھر میں کسی کو پتہ چل گیا کہ میں اس سے ملتی ہوں۔ ۔ ۔ ملتی بھی کیا۔ ۔ ۔ باقاعدہ اس کے گھر میں پائی جاتی ہوں۔ ۔ ۔ میرا یقین تھا کہ اس خبر کے ملتے ہی میری ماں گھر کے آنگن میں گڑھا کھودے گی اور نانی مجھے اس گڑھے میں پھینک کر، اطمینان سے مٹی ڈال کر زمین برابر کر دے گی۔

اسکول سے ہم سب کالج پہنچ گئے۔ نیا راستہ۔ ۔ ۔ نئے نئے لڑکے۔ ۔ ۔ نئی نئی پابندیاں، نئی گھرکیاں، نئے ضابطے۔ کالج سے گھر تک کا سفر تانگے میں طے ہونے لگا۔ یعنی ملکہ سے ملنے اور اس کے گھر جانے کے تمام راستے مسدود۔ ۔ ۔ میرا دل مسلا گیا۔ کالج میں تو وہ بھی تھی مگر کبھی کبھار اور وہ بھی کلاس سے باہر۔ ۔ ۔ جبکہ میری کوئی ایک کلاس بھی مس ہوتی تھی تو میں کئی دن تک پشیمان رہتی تھی۔ ملکہ نے حل نکالا۔ پہلے تو میرے گھر ٹرائے کریں گے ورنہ اگلی گلی میں پروین کا گھر ہے۔ ۔ ۔ وہاں آجانا، ملا کریں گے۔ ایک اور ”کنجرخانہ“ بقول نانی۔ ۔ ۔ ”اور اگر گھر والوں کو پتہ چل گیا؟“ میرا خوف۔ ۔ ۔

”وہ کیسے؟“ اس کی فطری لاپرواہی۔
”تانگے والے نے بتا دیا تو۔ ۔ ۔ ؟“
”اس تانگے والے کو تو یوں پٹاؤں گی کہ بس دیکھتی جا۔“

تانگے والا واقعی پٹ گیا۔ کیسے؟ یہ معلوم نہیں مگر اب حکم کا اکا ملکہ کے پاس تھا۔ پروین کے گھر کے بجائے ہم ملکہ کے گھر ہی ملنے لگے۔ تانگے والا وقت سے پہلے مجھے کالج سے اٹھا لیتا اور میں چوکنا ہو کر ملکہ کے گھر اتر جاتی۔ معاملہ چل رہا تھا۔ اس کے گھر ہفتے میں ایک دو بار جانے سے مجھے اس کی گھریلو زندگی اور اسے بسر کرنے کے بارے میں زیادہ علم ہوا۔ اس کے بھائی نشہ وشہ کر کے کہیں باہر زندگی گزارتے تھے۔ بہنیں اپنے جیسوں کے ساتھ شادی کر کے جو ادھر ادھر روانہ ہوئیں تو پیچھے مڑ کر نہ دیکھا، سو اس کے مزے تھے۔ یتیم ہونا بھی ایک قسم کی موج ہی ہے، میں ان دنوں سوچا کرتی۔

اس کے گھر میں اکثر ایک لڑکی کام کرتے نظر آتی۔ دبلی پتلی، لمبے لمبے بالوں کی چٹیا سلیقے سے بنائے ہوئے۔ خوب چوڑے دوپٹے سے خود کو لپیٹے بڑی جانفشانی سے کام کرتی ہوئی۔ کبھی آٹا گوندھتے، کبھی کپڑے دھوتے، کبھی سبزی کاٹتے۔ ۔ ۔ ایک دن میں نے ملکہ سے پوچھ ہی لیا۔

”یہ لڑکی تمہارے پاس ہر وقت کام کیوں کرتی ہے؟“ بولی ”اس کی شادی میں تیرے بھائی سے کرواؤں گی؟“
”کیا؟“ میں ہونق بنی اس کا منہ دیکھنے لگی۔

ملکہ نے جو کہانی مجھے سنائی۔ مجھے اس میں نہ تو کوئی دلچسپی کا پہلو نظر آیا نہ خوشی کا۔ ۔ ۔ بلکہ دل پر ایک بوجھ سا پڑ گیا۔ یہ سامنے والے کمرے میں استری کرتی لڑکی اصل میں میرے چھوٹے بھائی کے عشق میں گرفتار ہو چکی تھی اور ملکہ کا دعویٰ تھا کہ چونکہ وہ ہمارے گھر سے نہایت اعلیٰ قسم کے مراسم رکھتی ہے۔ لہٰذا میرا چھوٹا بھائی اس کی کوئی بات نہیں ٹال سکے گا اور اس لارے یہ غریب لڑکی۔ ۔ ۔ اس کے گھر سارا سارا دن کام کرتی اور ملکہ نوابی شان کے ساتھ حکم چلایا کرتی۔ یہ تھی ملکہ۔ ۔ ۔ یہی اس کا طرز زندگی تھا اور وہ شاید کسی کی خاطر بھی اسے تبدیل نہیں کر سکتی تھی۔ اس کی ایک مثال اور دیتی چلوں۔ ۔ ۔

ایک دن میں نے اس کو بہت خاموش اور اداس پایا۔ ۔ ۔ نہ وہ چلبلاہٹ نہ وہ مستی۔ ۔ ۔ آخر پوچھا۔ ۔ ۔ ”کیا بات ہے؟“

بولی۔ ۔ ۔ ”سوچ رہی ہوں میرا باپ کون ہے؟ خدا خیر۔ ۔ ۔“ ہندوستانی فلموں کے فارمولے میرے ذہن میں۔ ۔ ۔ یہ سارا دن ہنسی ٹھٹھول، دھول دھپا، مخولیاں۔ ۔ ۔ اس کا باپ؟ یعنی تو کیا ملک اس کا باپ نہیں تھا؟ کیا اس کی ماں نے دو شادیاں کی تھیں۔ ۔ ۔ ”اوہ ملکہ۔ ۔ ۔“ میں نے بڑے پیار سے اس کے شانے پہ ہاتھ رکھا۔ ۔ ۔ ؟ ”کیا کوئی راز کی بات ہے؟“

”دیکھ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی اپنے ماں باپ کو ایک دوسرے کے ساتھ عزت سے بات کرتے نہیں دیکھا۔ ۔ ۔ ایک ساتھ بیٹھنا، کھانا کھانا۔ ۔ ۔ ہنسی مذاق، دل لگی کرنا، دروازہ بھیڑنا یا اندر سے بند کرنا تو بہت دور کی بات ہے یار۔ ۔ ۔“

”کیا مطلب۔ ۔ ۔ ؟“ بات میرے پلے نہیں پڑی۔

”مطلب یہ کہ، تو کیسے ممکن ہے کہ میری ماں نے اس شریف آدمی کو کبھی اپنے قریب پھٹکنے دیا ہو؟ یار ہم چھ بہن بھائی پیدا کیسے ہو گئے؟“

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4