من کی ملکہ
اسے ہسپتال میں لمبا عرصہ رہنا پڑا۔ میں یونیورسٹی چلی گئی۔ ۔ ۔ جو ایک الگ ہی محاذ تھا۔ ہاسٹل کی مختلف زندگی۔ ۔ ۔ اور بہت سی ملکائیں۔ ۔ ۔ دہری تہری زندگی گزارتی ہوئیں۔ ۔ ۔ مگر ان میں سے کوئی بھی ملکہ نہیں تھی۔ کسی کے پاس اتنا خلوص نہ تھا۔ اتنی محبت اور احساس نہ تھا۔ میں ماحول سے مطابقت پیدا کر رہی تھی۔ ۔ ۔ مگر جب بھی ملکہ کا خیال آتا۔ ۔ ۔ میں خاصی ڈسٹرب ہو جاتی۔ یونیورسٹی کی چھٹیوں میں چند دن کے لیے گھر گئی۔ ۔ اس کے دروازے پہ اس کا نشئی بھائی بیٹھا دیکھ کر میں نے اس سے ملکہ کا پوچھا۔ ۔ ۔ ”تمہیں نہیں معلوم“ اس نے کسی اور ہی عالم سے جواب دیا۔
مجھے معلوم تھا ملکہ جیسے لوگوں کی خبریں جگہ جگہ سے مل جاتی ہیں۔ ملکہ جیسے لوگ، لوگوں کی ذہنی خوراک ہوتے ہیں۔ میرا شہر۔ ۔ ۔ ملکہ کی خبروں کا مسکن تھا۔ جب بھی وہاں جاتی کوئی نہ کوئی خبر مل جاتی۔ ہر بار ذہنی طور پر تکلیف دہ خبر لے کر ہی پلٹتی۔ باتوں باتوں میں۔ ۔ ۔ ہماری پڑوسن نے میری امی کو بتایا کہ اس قبائلی لڑکے نے ملکہ سے شادی کو تسلیم کر لیا ہے اور وہ اب اسی کے دیے گھر میں رہتی ہے۔ سنا ہے اس لڑکے نے اسے خاصی پابندیوں میں رکھا ہے۔ پردہ وغیرہ بھی کرنے لگی ہے اور محلے کے کسی شخص سے ملنا بھی منع ہے۔
میرے کانوں تک یہ خبریں پہنچیں ضرور۔ ۔ ۔ مگر ملکہ کے وجود اور سوچ کے ساتھ اس طرح کے سلوک کو نتھی کرنا میرے لیے خاصا مشکل امر تھا۔ میری زندگی، سوچ، ماحول۔ ۔ ۔ سب کچھ بدل رہے تھے۔ جب جب مجھے کسی مخلص انسان کی ضرورت ہوتی۔ ۔ ۔ مجھے ملکہ یاد آتی۔ کتنی ساری باتیں جمع ہو چکی تھیں میری زندگی کے بارے میں، میرے اہم ترین اگلے سفر کے بارے میں۔ ۔ ۔
کبھی سوچتی کتنی خود غرض ہوں۔ مجھے ملکہ کی ضرورت اس لیے ہے کہ ملکہ مجھے سنتی ہے، برداشت کرتی ہے۔ میری ہر بات کو حفاظت سے سینت سینت کر رکھتی ہے۔ میرا خیال کہتا ہے، میرے لیے ہر جھوٹ بول سکتی ہے، میں۔ ۔ ۔ کیا کر سکتی ہوں ملکہ کے لیے؟ میں نے کیا کیا اس کے لیے؟ شاید میں اس کے لیے کچھ کر ہی نہیں سکتی کہ میرے اور اس کے مدار مختلف ہیں۔ اگر مدار مختلف ہیں تو وہ مجھ تک رسائی کیسے حاصل کر سکتی ہے۔ یا شاید اپنے مدار سے نکل جانے کا ہنر اسے آیا ہے مجھے نہیں۔
میں شعوری طور پر نہیں۔ ۔ ۔ لاشعوری طور پر۔ ۔ ۔ ملکہ سے ملنے کی سبیلیں ڈھونڈتی رہی۔ مجھے اس کے گھر کا پتہ بھی مل گیا مگر جانے کا مسئلہ تھا۔ میری شادی ہو گئی تو یہ مسئلہ بھی ختم ہو گیا اور میں ڈرائیور کے ساتھ اس کے گھر پہنچی۔ شام کا وقت تھا یہی کوئی ساڑھے پانچ چھ بجے کے قریب، کئی سال بعد میں اسے دیکھ رہی تھی۔ ملکہ نے مجھے دیکھ کر کسی حیرت کا اظہار نہیں کیا۔ خلاف توقع نرمی سے پانچوں مسٹنڈے ٹائپ لڑکوں سے بولی۔ ۔ ۔ ”چلو اب تم لوگ جاؤ۔ ۔ ۔“ پھر مجھے دیکھ کر اطمینان سے بولی ”چل تو آرام سے بیٹھ۔“
ایک نیا منظر میرا منتظر تھا۔ میرے اندازے سے زیادہ بھیانک، زیادہ خراب اور زیادہ بدبودار۔ پانچوں لڑکے انتہائی ڈھٹائی اور بے باکی سے مجھے دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے ان کی بدبداہٹیں اور چھوٹے چھوٹے نامناسب سے فقرے میرے کانوں سے ٹکرائے۔ سبھی غیر متوازن سے تھے۔ بے ڈھنگے کپڑے پہنے، لوفروں کے سے حلیے میں۔ میں لاکھ دیوار پہ نظریں گاڑے بیٹھی رہی مگر اس احساس سے چھٹکارا نہ پا سکی کہ ان لفنگوں کی گندی نظریں اور زبانیں میرے ہی اطراف گردش کر رہی تھیں۔
جب تک وہ باہر نکلے اس سیلن زدہ، رنگ و روغن اکھڑے کمرے کا سارا نقشہ، میرے دائیں بائیں پھیلی ہوئی عجیب و غریب سی چیزیں۔ ۔ ۔ میری دستک پہ خاصی دیر سے کھلنے والا دروازہ۔ ۔ ۔ میرے سائیں سائیں کرتے ذہن کو کئی کہانیاں سنا گیا۔ ۔ ۔ اس کے پرانے سے ڈبل بیڈ کی گندی سی چادر۔ ۔ ! ادھر ادھر بکھرے، گندے سندے کپڑوں کے نیچے۔ ۔ ۔ استعمال شدہ کنڈوم۔ ۔ ۔ آخ تھو۔ ۔ ۔
”یہ سب کیا ہے؟“ میرے لبوں پہ صرف یہی لفظ آ سکے۔
”میں ڈرگز پہ ہوں۔“ اس نے اتنے آرام سے کہا گویا چائے یا کافی کا ذکر کر رہی ہو۔
” بہت کچھ سنا ہے تمہارے بارے میں۔ ۔ ۔ ملکہ۔ ۔ ۔ مگر شاید کم سنا ہے۔ یہ پانچ پانچ لڑکے تمہارے کمرے میں، اور وہ بھی اس حالت میں۔ یہ سب کیا۔ ۔ ۔ اور کب سے۔ ۔ ۔ اور کیوں مگر؟ کوئی شرم، کوئی حیا؟“ مجھے شدید غصہ آ گیا۔
”یہ سب کوئی اس سے کیوں نہیں پوچھتا؟“ ملکہ کی نظریں زمین پر گڑی تھیں۔ اس کے لمبے لمبے بال پشت پہ پھیلے تھے۔ نہ اسے چاک گریباں کا ہوش تھا۔ نہ اپنے ماتھے پہ رینگنے والی جوؤں کا احساس۔
کوئی کیا اور کیسے پوچھے گا اس سے؟ ”تم نے کسی سے پوچھ کر شادی کی تھی۔ مرضی سے کی تھی نہ تو اب بھگتو۔“
”تو بھگت تو رہی ہوں۔ ۔ ۔ وہ بیوی سے۔ ۔ ۔ کرتا ہے۔ میری پورت یہ کرتے ہیں۔“
”تو کیوں کی تھی۔ ۔ ۔ ایسے شخص سے شادی؟“
”بات سن مجھے کوئی شوق نہیں تھا شادی وادی کا۔ ۔ ۔ سارا دن میرے آگے پیچھے بچھا جاتا تھا، منتیں کرتا تھا۔ ترلے کرتا تھا۔ ۔ ۔ کہتا تھا۔ ۔ ۔ منا لے گا باپ کو۔ ۔ ماں کو۔ ۔ ۔ اور جب نکاح کر لیا تو سور نے۔ ۔ ۔ نظریں پھیر لیں۔ کہتا ہے، اس جلے ہوئے جسم کے ساتھ۔ ۔ ۔ کرنے سے گھن آتی ہے۔ کہتا ہے، اس کی بیوی پانی پیتی ہے تو گردن سے پانی اترتا نظر آتا ہے۔ کتا۔ ۔ ۔ اس کے ساتھ ہر سال بچے پیدا کرتا ہے اور میرے ہر سال ابارشن۔ ۔ ۔ اس وعدے کے ساتھ کہ اگلا بچہ پیدا کروائے گا۔“
تجھے پتہ ہے پچھلے مہینے اس نے میرے دو بچے گروائے۔ پا نچویں مہینے میں۔ معلوم ہے نرس نے کیا کہا میرے جڑواں بیٹوں کے لئے؟ بولی ”ملکہ دیکھو گی۔ دیکھنا ہے، دونوں لڑکے ہیں، پورے ہی بن چکے ہیں حرامزادے۔“ ملکہ کے ہونٹوں پر زہر خند مسکراہٹ تھی اور آنکھوں کے کٹورے چھلکنے کے لئے بے تاب۔
میں گم سم تھی۔ ملحقہ کمرے میں بچھی چارپائی پہ ایک بوڑھی ملازمہ۔ ۔ ۔ اس سارے ڈرامے سے لاعلم خراٹے نشر کر رہی تھی۔ ”اور یہ سوتی رہتی ہے۔ یقیناً تمہاری چوکیداری کے لیے رکھی گئی ہوگی۔“ میں نے ملکہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”میں اس کی چوکیداری کرتی ہوں۔ ۔ ۔“ سپاٹ لہجے میں جواب آیا۔
”چار گولیاں پیس کر دودھ میں ڈالی تھیں۔ تب جا کر سوئی ہے یہ۔ ۔ ۔ اور میں اس کنجر کو ذلیل کرتی ہوں۔“
”اس کو نہیں۔ ۔ ۔ خود کو ذلیل کر رہی ہو۔“ میں نے دکھ اور افسوس بھرے لہجے میں کہا۔
”میں تو ہوں ہی ذلیل۔ ۔ ۔“ ملکہ پھیکی سی ہنسی ہنسی۔
”کیا منہ دکھاؤ گی خدا کو۔“
”وہی جس منحوس منہ کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہے۔ ۔ ۔“
مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں اسے کیا کہوں اور کس طرح احساس دلاؤں کہ وہ سب کچھ غلط کر رہی ہے۔ ۔ ۔ ملکہ نظریں جھکائے ہوئے بولی۔ ۔ ۔
”سن! تو اب اس طرف مت آنا۔ ۔ ۔ مت ملنا مجھ سے۔ ۔ ۔ میں نہیں چاہتی میری بدنامی تجھ تک پہنچے۔ ۔ ۔ آدھے شہر سے قرضہ لے کر کھا چکی ہوں۔ ۔ ۔ وہ نہ مجھے جینے دیں گے نہ اس ماں کے۔ ۔ کو۔“
”قرضہ؟“
میں نے پلستر اترے کوارٹر، ٹین کے بدرنگ صندوق۔ ۔ ۔ ادھڑے ہوئے گدے اور بوسیدہ بیڈ پر نظر ڈالی۔
” اور تو کیا سمجھتی ہے۔ یہ پانچوں مجھے۔ ۔ ۔ مفت میں۔ ۔ ۔“ چل چھوڑ۔
”کہاں ہے تمہارا شوہر؟“
”صبح ایک چکر لگاتا ہے۔ کبھی دوپہر کو بھی جھانک جاتا ہے۔ ۔ ۔ اور شام ہونے سے پہلے پہلے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر بھاگ جاتا ہے۔ تاکہ میرے ساتھ سونا نہ پڑے۔ ۔ ۔ موت آتی ہے اس کو میرے ساتھ سونے سے، روز سوتا ہے جا کر اس کتیا کے پاس۔“
”بس کرو۔“ مجھے گھن سی آنے لگی۔ ”وہ تمہیں خرچہ تو دیتا ہے نہ۔ ۔ ۔ ہر چیز میسر ہے۔ اسی کے گھر میں رہ رہی ہو۔“
” ہاں روٹی، سالن، کپڑا، چادر۔ ۔ ۔ صابن ہر چیز لا کر دیتا ہے۔ اب تو نشے کے انجکشن بھی لا کر رکھ دیتا ہے تاکہ میں باہر نہ جاؤں۔ ۔ ۔“ اس نے دیوار گیر تختے پر رکھے پیکٹس کی طرف اشارہ کیا۔ ”اور کیا چاہیے مجھے؟“ اس نے اپنی گہری سیاہ آنکھوں میں پورے جہاں کی شدتیں سمیٹ کر کہا۔ ۔ ۔
میں نے غور کیا۔ ۔ ۔ پچھتاوا، ندامت، پریشانی، خوف کچھ بھی تو نہ تھا اس کے انداز میں۔ میں خاموشی سے باہر نکل آئی۔
خبریں ملتی رہیں۔ ۔ ۔ کہ اب لفنگے لڑکوں نے بھی کترانا شروع کر دیا ہے۔ ۔ ۔ اب انجکشن لگانے کے بہانے بھی محلے کے اوباش اس کے گھر نہیں جاتے۔ لوگوں نے قرضہ دینا بھی بند کر دیا۔ ۔ ۔ کوئی ادھار پہ دوا بھی نہیں دیتا۔ ۔ ۔ نشے کے انجکشن کے لیے راستوں پہ ماری ماری پھرتی رہتی ہے۔ ۔ ۔ بارہا سنا کہ اس کا شوہر اسے طلاق دے رہا ہے۔ ۔ ۔ دے دی ہے۔ یا دے دے گا۔ ۔ ۔
ملکہ کا ذکر اب شہر بھر کا موضوع تھا۔ ۔ ۔ ہر شخص کے پاس اپنا ہی ترازو تھا۔ ۔ ۔ اور ملکہ کے گناہوں کا پلڑا۔ ۔ ۔ بلاشبہ ہر جا، بھاری تھا، دشنام، الزام، نفرتیں، حقارتیں، گالیاں، تمسخر، ہنسی، سب اس کے نام بن چکے تھے۔ ۔ ۔ کسی کو اس کی رسوائی سے کیا فرق پڑنا تھا۔ ۔ ۔ بھائی نشئی۔ بہنیں اپنے اپنے گھر والیاں۔ ماں باپ مر کھپ چکے۔ ۔ ۔ شوہر بیوی بچوں کے ساتھ مگن رہ رہا تھا۔ ۔ ۔ کس کے لیے فرق پڑنا تھا۔ اسی لیے ملکہ کی موت کی خبر بھی ایسی ہی عام خبر تھی جیسے کسی غریب کی سائیکل کا ٹائر پنکچر ہو جائے۔ ۔ ۔ یا کسی بچی کی ٹافی کہیں گر جائے۔
مگر ایک احساس ندامت نے مجھے آن لیا تھا۔ ملکہ کے ذکر پہ میری آنکھوں میں نمکین پانی جھلملا اٹھتا تھا۔ شاید اوروں کے لیے کچھ نہیں بدلا تھا۔ ۔ ۔ میرے لیے پورا شہر بدل چکا تھا۔ وہ شہر جو کبھی میرا اپنا تھا کیونکہ اس میں میرے لیے ملکہ تھی۔ ۔ ۔ میری دلجوئی کا سامان۔ ۔ ۔ میرے سکھ دکھ کو سننے، سانبھنے اور پالنے والی ملکہ۔ سائنس کی ترقی نے میرے لیے جنت اور دوزخ کے تصورات بدل ڈالے تھے۔ ۔ ۔ مگر خوف خلق کی وجہ سے میرے ذہن و دل میں ملکہ کی جگہ دوزخ کے بھانبھڑ ہی منتظر نظر آئے۔
پتہ نہیں کون بدکردار۔ ۔ ۔ کون باکردار ہے۔ زندگی وحشیوں، قاتلوں، رہزنوں اور ظالموں پر بھی مہربان دکھائی دیتی ہے۔ ۔ ۔ مگر بدبختوں، تیرہ شبوں، ستم زدوں اور دل فگاروں پہ زندگی کی جگہ نامعلوم کیا اترتا ہے۔ ۔ ۔ وہ پڑھ ہی نہیں پاتے اس لکھے کو۔ ۔ ۔ ؟ سمجھ ہی نہیں پاتے اشاروں کو۔ ۔ ۔ اور وقت کا گھنٹہ بج جاتا ہے۔ ۔ ۔ چلو امتحان کا وقت ختم۔ جو لکھ دیا سو لکھ دیا!
آج جب میں اس کی قبر کی سوکھی۔ مردہ سی مٹی کی ڈھیری کے پاس کھڑی ہوئی تو لحظہ بھر کو۔ ۔ ۔ اس کے گدگداتے جملے، چہرے پہ شرارت کی آمیزش سے بنے نقوش میری آنکھوں کے سامنے لہرا گئے۔ میں سوچتی رہی۔ کچھ باغی دنیا کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ نقشہ اور جغرافیہ بدل ڈالتے ہیں۔ ذہنوں اور زندگیوں کو مفہوم بخش دیتے ہیں۔ یہ کیسی بغاوت تھی یا اس طرزعمل کا کیا نام ہے؟ کیا مشرقی عورت کی بغاوت بھی صرف خود سے انتقام ہے۔ ۔ ۔ اپنی ہی بربادی کا نام ہے۔ ۔ ۔ اپنی ہی ذات، جسم اور روح کو روند نے کا نام؟
دعا مانگتے مانگتے۔ ۔ ۔ اچانک مجھے غصہ آ گیا۔ کیا کچرا تھی زندگی؟ یوں فلش کر دیا، جیسے کچھ تھا ہی نہیں۔ کچھ معنویت ہی نہ ہو۔ زندگی جیسی انمول چیز۔ ۔ ۔ یوں بے رحمی سے گنوا دی۔ ایک خودغرض شخص کی خاطر اور ایسی محبت کے پیچھے، جس کا اسے خود بھی یقین نہیں تھا۔

