من کی ملکہ
”در فٹے منہ“ میں تپ گئی۔
”مگر ایک بات ہو سکتی ہے؟“ وہ اسی سنجیدگی کے عالم میں بولی۔
”اب وہ کیا۔ ۔ ۔ ؟“ میرا غصہ بدستور تھا۔
”ہو سکتا ہے ملک صاحب کبھی رات کو دودھ میں نشہ وشہ ملا کے دے دیتا ہو اور اپنا کام نکال لیتا ہو۔“
”مائی گڈ نیس“ ۔ ۔ ۔ یہ تھی اس کی اپنی پیدائش اور ماں باپ کی ازدواجی زندگی کے متعلق رائے۔
ٹیلی فون جب سے اس کے گھر میں لگا، ہر وقت لائن مصروف رہنے لگی۔ مجھے سخت بوریت ہونے لگی۔ ہر وقت ایک ہی طرح کے جملے۔ ۔ ۔ میں بمشکل آدھ ایک جملہ ہی بو ل پاتی کہ مجھے ہر صورت میں کالج کے خاتمے کے وقت گھر پہنچنا ہوتا تھا۔ ملکہ تقریباً ایک ہی طرح کے جملے دہراتی رہتی مثلاً۔ ۔ ۔
” کیا آپ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔“
”اوہ۔ ۔ ۔ کیا میری آواز اتنی خوبصورت ہے؟“
”مجھے بھی آپ سے ملنے کا بہت شوق ہے۔“
”تحفے تو محبت بڑھاتے ہیں۔ جب دل چاہے بھیج دیں۔ ۔ ۔“ وغیرہ وغیرہ۔
میں ساری لن ترانی سنتی رہتی۔ ۔ ۔ ایک دن پوچھا۔ ۔ ۔ ”آخر اس سارے جھمیلے میں اسے کیا مزہ آتا ہے؟“
بولی۔ ۔ ۔ ”تو کتابیں پڑھ اور مجھے لینے دے مزے۔“ آخر کار میرے سامنے ہی اس نے کسی سے ریلوے اسٹیشن پر ملنے کا پروگرام بنایا۔ کچھ سمجھ میں بات آئی، کچھ نہیں۔ مگر میں نے پوچھا ضرور۔ ۔ ۔ ”کون ہے یہ اجنبی اور کیوں ملو گی تم اس سے؟“
”تو تماشا دیکھ مزے سے۔“ وہی لاپروا جواب۔ ۔ ۔ اور پھر اس نے اپنی دوست پروین کا ذکر چھیڑ دیا۔ جس کا مختصر تعارف کروانا ضروری ہے۔
پروین ملکہ کی دوست تھی، خود غرضی کا چلتا پھرتا اشتہار، سیاہ رنگت اور سیاہ دل کا امتزاج، وہی جنہیں نانی اپنے مخصوص انداز میں یاد کرتی تھیں۔ ملکہ کچھ زیادہ ہی شوخ موڈ میں مجھے اس کے گھر لے گئی۔ پہلے اس سے اس کے سیاہ جوڑے کے بارے میں پوچھا۔ پھر بولی۔ ”قسم سے بہت پیاری لگتی ہے تو ان کالے کپڑوں میں۔“
” وہ تو دھلائی میں ڈالا ہوا ہے۔“ پروین نے جواب دیا۔
”نکال ابھی۔“
”میلا ہے یار۔“ وہ منمنائی۔
”بس بس ابھی نکال مشین سے۔ میں تجھے وہی پہنے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں۔“
ملکہ اپنی جگہ سے اٹھی۔ واشنگ مشین سے کپڑے نکال لائی۔ ۔ ۔ ”بس ابھی پہن۔ ۔ ۔ اور وہ گلابی والی لپ سٹک لگانا۔ قسم سے بہت پیاری لگتی ہے تو اس میں۔ ۔ ۔ اور چل ریلوے اسٹیشن چلیں۔ اور گلاب لگا نہ بالوں میں۔“
میں نے اپنے حلیے کا جائزہ لیا۔ ۔ ۔ پرنٹڈ گلابی اور سفید دوپٹہ، گلابی کرتا اور سفید چکن کی شلوار کے ساتھ سفید سینڈل۔ ۔ ۔ ملکہ پورا سبز طوطا بنی ہوئی تھی۔ بات کچھ سمجھ میں نہ آئی۔ مگر بہرحال ہم تینوں، محفوظ راستے سے نکل کر ریلوے اسٹیشن جا رہے تھے۔ ابھی کالج کا وقت ختم ہونے میں پورا ایک گھنٹہ باقی تھا۔
”ریلوے اسٹیشن کیوں؟“ مجھے اس کی حرکتوں سے کچھ عجیب سا شک ہو چلا تھا۔ اس لیے پھر پوچھا۔
”تو نے ہی تو کہا تھا کہ وہاں پر جوس بہت اچھا ملتا ہے۔“ ملکہ نے فوراً جواب دیا۔
مجھے کچھ یاد نہیں آیا۔ ۔ ۔ بہرحال ہم تینوں وہاں پہنچ گئے۔
ریلوے اسٹیشن پہنچ کر ہم تینوں ایک بنچ پر بیٹھے۔ ملکہ نے مجھے کہا۔ ۔ ۔ ”چل جوس لے کر آئیں۔
”میں بھی چلتی ہوں۔“ پروین نے اٹھتے ہوئے کہا ”او نہیں تو بیٹھ نہ“ ملکہ نے اس کے کندھے کو دبایا اور مجھے ذرا آگے کی طرف بنے جوس کے ایک چھوٹے سے کیبن میں لے گئی۔ ”کیا چکر ہے۔“ میں بالکل انجان تھی۔
”سن۔ ۔ ۔ وہ سامنے والا لڑکا ہے نہ جس کے ہاتھ میں لال رنگ کا پھول ہے۔ ۔ ۔ دیکھ وہ جو بنچ پر پروین کو دیکھ رہا ہے۔ ۔ ۔“
”ہاں“ میں نے ایک کانگڑی پہلوان کو پروین کی طرف دیکھتے پایا۔ اسی دوران، اس لڑکے نے ہاتھ میں پکڑا ہوا پھول جیب میں ڈال لیا تھا۔
”ہا۔ ۔ ۔ ہا۔ ۔ ۔ ہا۔ ۔ ۔“ ملکہ نے بمشکل اپنے قہقہوں پہ قابو پایا۔ مجھے غصے کے ساتھ ساتھ اپنے بے وقوف ہونے کا احساس بھی ستانے لگا۔ ۔ ۔ ”پتہ ہے یہ کون ہے؟“ ملکہ نے خود کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ”اب بتا بھی چکو۔“ مجھے یہ حرکتیں خاصی معیوب لگ رہی تھیں۔
”دیکھ یہ وہ لڑکا ہے جو روز فون پہ مجھے ملنے کے لیے کہتا ہے۔ ایک رانگ نمبر تھا۔ میں نے اس کو کہا کہ اسٹیشن پر دو بجے آجانا۔ میں کالے رنگ کے کپڑے، گلابی لپ سٹک اور لال گلاب کا پھول بالوں میں لگا کر آؤں گی۔ ۔ ۔ مجھے پتہ تھا۔ پروین کو دیکھ کر کوئی انسان کا بچہ عاشق ہونے کا نہیں سوچے گا اور پروین کو علم نہیں ہے کسی بھی بات کا۔ ۔ ۔“
مجھے افسوس ہونے لگا۔ ”کیسی بے وقوف بنی غریب۔ کیا ضرورت تھی یہ سب کرنے کی؟“
ملکہ کی حکمت نرالی تھی ”ہاں ذلیل تو ہوئی، مگر میرے دل میں تو ٹھنڈ پڑ گئی نہ۔ ۔ ۔“
”وہ کیوں۔ آخر وہ تمہاری دوست ہے۔ ۔ ۔ ؟“ میری برداشت سے باہر تھا یہ سب۔
”وہ اس لیے کہ یہ تجھے سخت ناپسند کرتی ہے اور پتہ ہے کیوں؟“
”کیوں بھلا؟ میں نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا اس کے ساتھ۔“
”ارے وہ جیلس ہے تجھ سے۔ وہ 25 بار جنم لے نہ تو بھی تجھ جیسی نہیں ہو سکتی۔ اسے جلن یہی ہے کہ تو اس کی دوست کیوں نہیں ہے اور میری کیوں ہے۔ ۔ ۔“ بات کچھ سمجھ میں آئی، کچھ نہیں۔ مگر مجھے ان گھٹیا سازشوں سے وحشت سی ہونے لگی۔
کالج میں ہمارا تیسرا سال تھا اور وہ کسی لڑکے سے فلرٹ یا محبت یا ایسی ہی کوئی چیز کر رہی تھی۔ یہ بات اس نے مجھے خود ہی بتائی۔ اسی کے ذریعے مجھے علم ہوا کہ وہ اس پر جان چھڑکتا ہے۔ ۔ ۔ محبت کرتا ہے اس کی خاطر پورے جہاں سے ٹکرا سکتا ہے۔ ۔ ۔ آسمان کے تارے وغیرہ وغیرہ۔ سطحی ناولوں اور ہندی فلموں کے سارے قصے اس لو سٹوری میں سموئے ہوئے تھے۔ مجھے حیرت کے ساتھ ساتھ اس کی عشقیہ ملاقاتوں کی تفصیل سے جڑے واقعات پر رشک بھی آتا۔
پیپرز کی تیاری میں، میں بہت کچھ فراموش کر چکی تھی۔ کافی دنوں بعد ایک دن ملکہ مجھے کالج میں ملی، قدرے پریشان سی لگی۔ ۔ ۔ ”کیا بات ہے؟“ میں نے پوچھا؟
”کچھ نہیں۔ تیری پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟“ اس نے پوچھا۔
”اچھی ہے، مگر دعا کرو کہ یونیورسٹی میں داخلہ مل جائے۔“
”کیا۔ ۔ ۔ ؟ اب یونیورسٹی؟“ وہ تقریباً چلا پڑی۔
”او خدا کی قسم۔ ۔ ۔ تو بھی ایک نمبر کی۔ ۔ ۔“ کچھ کہتے کہتے رک گئی، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر لجاجت سے بولی۔ ۔ ۔
”دیکھ۔ ۔ ۔ کیا رکھا ہے اس پڑھائی میں؟ چھوڑ نہ یہ سب۔ ۔ ۔ اداکارہ بن جا۔“
”ہیں؟ یہ کیسا مشورہ ہے۔“ میں نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
”یار اللٰہ نے تجھے جیسی شکل دی ہے نہ ویسی عقل بھی دے دیتا تو اس کا کیا جاتا۔ بس مالک ہے وہ، اب اس کا جو دل چاہے گل کھلائے۔ میری مان میری جان، اداکارہ بن جا۔ میں پانی کی بوتل اور پرس اٹھا کر تیرے پیچھے پیچھے چلا کروں گی۔ خدا کی قسم سارے پروڈیوسر، ڈائریکٹر تیرے آگے پیچھے چلیں گے اور میری شان دیکھنے جیسی ہوگی۔ بے بی کے آرام کا وقت ہو گیا ہے، بے بی کو جوس دینا ہے، بے بی اس وقت موجود نہیں ہے۔ بے بی کا موڈ نہیں ہے۔ بے بی اس وقت آرام کرے گی۔ ۔ ۔“ اس نے پوری فلمی دنیا کی دو منٹ میں ایسی کی تیسی کر ڈالی۔
میری ہنسی بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ ۔ ۔
”قسم سے ہم دونوں کی زندگی موج میں گزرے گی۔ میں ویسے ہی موٹی سی بھدی سی کالی سی ہوں۔ ۔ ۔ تھوڑا سا خود کو اور پھلا لوں تو بالکل تیری ماں لگوں گی۔ ایمان سے۔ ۔ ۔“
” اور وہ تمہارے عاشق نامدار کا کیا ہوگا؟“ میں نے پوچھا۔
”اسے تیرا چپراسی بنا دوں گی۔ ۔ ۔“ وہ کھلکھلا کر ہنسی۔
”خدا کی پناہ۔ ۔ کچھ تو خیال کرو۔ ۔ ۔“ میں ہنستی رہی اور وہ میرے کالج سے نکلنے سے پہلے ہی چلی گئی۔ ۔ ۔ وہ کچھ عجیب سا دن تھا۔ مجھے اس کی باتوں سے ایک عجیب قسم کی اداکاری کا اندازہ ہو رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا وہ مجھے خوش کرنا چاہ رہی تھی۔ یا ہنسانا چاہ رہی تھی یا کوئی بات بھولنا چاہ رہی تھی۔ جو کچھ بھی تھا۔ ۔ ۔ مجھے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔ اسی شام تقریباً چار بجے کے قریب گلی میں شور سا اٹھا۔
امی کو میں نے دروازے کی چک سے جھانکتا پایا۔ ۔ ۔ ایک عجیب سا شور و غوغا تھا۔ میں فوراً سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آ گئی اور چھت سے نیچے جھانکا۔ ملکہ اپنے اور ہمارے گھر کے درمیان گلی میں کھڑی تھی۔ ہاتھ میں ہرے رنگ کی بوتل پکڑے۔ ساتھ میں کیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم مگر وہ زور زور سے چیخ رہی تھی۔
”بولو۔ ۔ ۔ ارے کوئی بولو۔ ۔ ۔ اس ماں کے۔ ۔ ۔ کو۔ کسی اور سے شادی کرنے چلا ہے۔ اگر نہیں منع ہوا نہ تو جان لے لوں گی اس کی بھی۔ ۔ ۔ اپنی بھی۔“
ایک لمحہ بھی بڑا تھا۔ ۔ ۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی بوتل اپنے اوپر انڈیلی اور لگی ماچس سے تیلی رگڑنے۔ ۔ ۔ جب تک کوئی آگے بڑھتا۔ ۔ ۔ تیل اور آگ کا ملاپ۔ ۔ ۔ گہرا سیاہ دھواں۔ ۔ ۔ او میرے خدا۔ ۔ ۔ کیا منظر تھا۔ کئی لوگ آگے بڑھے۔ ۔ شور۔ ۔ ۔ چیخیں۔ ۔ ۔ ہنگامہ۔ ۔ ۔ میں کانپتے وجود کے ساتھ زمین پر نہ جانے کتنی دیر بیٹھی رہی۔ میری ہمت نہ تھی کہ میں اس وحشت ناک منظر کے باقی ماندہ حصے یا دہشت کو دیکھوں یا سنوں۔ مجھے بس اتنا اندازہ تھا کہ سب کی چیخیں گونج رہی تھی۔ مگر اس شور میں ملکہ کی کوئی آواز نہ تھی۔
مجھے ہسپتال جانے کی اجازت بھی نہ ملی۔ ایسی ننگی لڑکی۔ ۔ ۔ بے حیا، بے غیرت، اس بدبخت لڑکے کے لیے خود کو آگ لگا لی۔ یہ علم ملتا ہے اسکولوں اور کالجوں سے۔ یہ سب فلمیں دیکھنے کے نتیجے ہیں۔ میری نا نی اور ماں کی آنکھیں خونخوار ہوئی جاتی تھیں۔ میرا دل سینے میں دھڑ دھڑ کرتا کہیں بھاگنے کا راستہ تلاش کرتا پاگل ہوا جاتا۔ ۔ ۔ مگر میں نے اسے ہسپتال میں ملنے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔ اگلے روز کالج کے آخری دو پیریڈ چھوڑ کر میں نسبتاً تیز تیز قدموں سے ہسپتال کی طرف اکیلی پیدل روانہ ہوئی۔
چھوٹا سا شہر ہی تھا۔ مگر میری آنکھوں اور دماغ پہ کولہو کے بیل والے کھوپے یوں چڑھا ئے گئے تھے کہ کوئی راستہ سجھائی نہ دیتا تھا۔ خدا خدا کر کے ہسپتال ملا۔ محلے کے کافی لوگ وہاں کھڑے تھے۔ معلوم ہوا۔ ۔ ۔ ملاقات صرف دو افراد کر سکتے ہیں۔ نہ جانے ارشد کے دل میں کیا آیا۔ بولا۔ ۔ ۔ ”آپ آ جائیے، ملکہ آپ کو دیکھ کر خوش ہو گی۔“ میں بغیر کسی تردد کے اس کے ساتھ چل پڑی۔ ۔ ۔ سفید پٹیاں پورے جسم پہ، چہرہ بچ گیا تھا۔
میری اذیت دو چند ہو گئی۔ ۔ میرے لفظ بے حیثیت تھے۔ کیا کہتی اور کس سے کہتی۔ ۔ ۔ ارشد ہماری ہی گلی میں رہنے والا نوجوان تھا۔ کہنے لگا ”آپ اکیلی آئی ہیں۔ کسی کو آپ کے ساتھ بھیج دوں۔“ مجھے واپسی کا راستہ معلوم نہیں تھا۔ ارشد کی بہن میرے ساتھ گھر تک آئی۔ اس کا نام نازیہ تھا۔ پورے راستے بلاتکان بولتی آئی اور مجھے ملکہ کے بارے میں وہ کچھ پتہ چلا جو کبھی اس نے میرے ساتھ شیئر نہیں کیا تھا۔ وہ کسی لڑکے کے عشق میں مبتلا ہو چکی تھی جو کسی اور ہی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔
شروع شروع میں ہنسی مذاق چلا۔ ۔ ۔ معاملہ سیریس ہوا۔ ۔ ۔ پھر معلوم ہوا کہ دونوں نے خفیہ شادی کر لی تھی مگر اب وہ لڑکا اپنے ہی خاندان میں شادی کر رہا تھا۔ ۔ ۔ یہ تھا سارا قصہ۔ ۔ ۔ ملکہ ہر ایک سے کہتی رہی کہ اس کو سمجھایا جا ئے مگر محلے بھر میں کوئی اس کے لیے راضی نہ ہوا کہ سب ملکہ کی متلون مزاجی سے واقف تھے اور اس کی خفیہ شادی کا کوئی راز دار یا گواہ بھی سامنے نہ آیا تھا۔ لہٰذا کوئی بھی خود کو قربانی کا بکرا بنانے پہ راضی نہ ہوا۔ ۔ ۔ اور اس نے آخری حربے کے طور پر یہ قدم اٹھایا۔
یہ سب کیا تھا۔ ۔ ۔ ؟ میں حیران رہ گئی۔ ایسی سنجیدہ بات اور ایسا قدم۔ ۔ ۔ اور مجھ سے کبھی کچھ بھی شیئر نہیں کیا۔ میں تو اسے اب واقعی اپنی دوست، ساتھی سمجھنے لگ گئی تھی۔ جھوٹی سچی کہانیاں سنا کر مجھے محظوظ کر تی رہی اور اندرون خانہ مظلوم کرب سے گزرتی رہی۔ کیا نام دوں اس کو۔ جھوٹی۔ ۔ ۔ مگر اس کے جھوٹ نے مجھے تو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ ۔ ۔ ؟ میں ادھیڑ بن میں مبتلا ہو گئی۔ مجھے ملکہ سے ہمدردی سی ہونے لگی۔
وہ الجھی ہوئی ڈور کی طرح تھی۔ وہ فطری طور پر بری نہیں تھی۔ مگر میرے اور اس کے درمیان جو تعلق تھا اس میں وہ خود کو ایک اور ملکہ بن کر مجھے دکھاتی جولا ابالی تھی، بے فکر تھی، ہر احساس سے عاری تھی۔ ۔ ۔ لیکن درحقیقت ایسا نہیں تھا۔ ۔ ۔ وہ جو کچھ بھی تھی۔ ۔ ۔ میرے لیے غلط نہیں تھی، میں اسی نتیجے پر پہنچی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

