شاہد آفریدی پر بلاوجہ تنقید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تنقید اچھے اور برے میں فرق کرنے کا نام ہے، ہر انسان میں کسی نہ کسی شکل میں تنقیدی شعور پایا جاتا ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ تنقید کے بغیر انسان آگے کا سفر جاری نہیں رکھ سکتا، زندہ معاشروں کی یہ پہچان ہوتی ہے کہ وہاں تنقید کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ ایک انسان کی زندگی میں اصلاح کی گنجائش ہر قدم پر موجود رہتی ہے۔

تنقید کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ایک قسم ”تنقید برائے اصلاح“ ہوتی ہے، جس میں ناقد دوسرے شخص کی رہنمائی کرنا چاہتا ہے اور اس کو درست راستہ کی پہچان بتانے کے لئے اس پر تنقید کرتا ہے۔ تنقید کی اس قسم کو ہر طرح کی معاشرتی ماحول میں بہت پذیرائی ملتی ہے اور یہ ضروری بھی ہے۔ جبکہ تنقید کی دوسری قسم ”تنقید برائے تنقید“ ہے جس میں ناقد کا مقصد صرف بغض، عداوت اور انا پرستی پر مبنی ہوتا ہے۔ اس قسم کی تنقیدی سوچ رکھنے والا انسان کسی دوسرے شخص کے کاموں پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے کام سے روکنے کی خاطر اس پر تنقید کرتا ہے حالانکہ وہ اس چیز کا ادراک بھی رکھتا ہے کہ دوسرا شخص راہ راست پر ہے۔ اور تنقید کی یہ قسم بہت زیادہ خطرناک ہے، یہ معاشرے کو کھوکھلا کر دیتی ہے اور معاشرہ نفرت کا شکار ہوجاتا ہے۔

بوم بوم اور لالہ جیسے القابات سے شہرت پانے والے پاکستان کے سابق کپتان اور دنیائے کرکٹ کے مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے 1996 سے لے کر 2018 تک بیس سال سے زائد عرصہ ملک کی نمائندگی کی۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کے آغاز میں ہی ایک روزہ کرکٹ میں 37 بالوں پر شاندار تیز ترین سینچری بنا کر اپنی دھاک بٹھا دی، اس کے علاوہ متعدد بار یکا و تنہا کھیلتے ہوئے ٹیم کو بے شمار فتوحات دلائیں، مارچ 2014 میں انہوں نے ”شاہد خان آفریدی فاونڈیشن“ کے نام سے ایک گلوبل آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی جس کا مقصد معاشرے کے محروم افراد کو صحت اور تعلیم کے ساتھ ساتھ بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے کوشاں رہنا تھا، اس مقصد کو لے کر انہوں نے کئی سکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیرات کیں۔

پچھلے دو مہینے سے ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے رائج لاک ڈاؤن نے ہر طرح کی روزگار کے مواقع بند کر دیے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں موجود وہ سفید پوش طبقہ جن کا واحد روزگار مزدوری وغیرہ تھا وہ فاقوں کی نوبت تک آ پہنچا، ایسے مشکل وقت میں دوسرے فلاحی اداروں کے شانہ بشانہ ”شاہد آفریدی فاونڈیشن“ بھی کسی سے پیچھے نہ رہا، اب تک 22 ہزار خاندانوں کو راشن فراہم کرچکا ہے۔ اس سارے منظر نامہ میں خوش آئند امر یہ رہا کہ فاونڈیشن کے چیئرمین شاہد آفریدی نے خود پورے ملک کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

گزشتہ دنوں شاہد آفریدی نے رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کا دورہ کیا اور مختلف اضلاع میں ضرورت مندوں میں راشن وغیرہ تقسیم کیا، انہوں نے یہ کام اس وقت کیا جب صوبہ کے اپنے نمائندگان ( ایم پی ایز اور ایم این ایز) گھروں میں ہونے کے باوجود لاپتہ رہے اور عوام کو بے یارومددگار چھوڑ کر غائب ہو گئے۔ ان تمام حقائق کے باوجود ہمارے معاشرے میں موجود ایک ایسا طبقہ جس کا کام موبائل اور کمپیوٹر کے ”کی بورڈ“ کو پکڑ کر سوائے تنقید برائے تنقید کے اور کچھ نہیں نے شاہد آفریدی کے اس دورے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اس کو سیاسی بنانے کی کوشش کی اور شاہد آفریدی پر بلاوجہ تنقید کی، اس فرسودہ اور تنگ نظر سوچ رکھنے والی طبقہ نے شاہد آفریدی پر پلانٹڈ اور اسٹیبلشمنٹ کا بھیجا ہوا مستقبل کا سیاستدان جیسے افسوسناک الزامات لگائے حالانکہ شاہد آفریدی متعدد بار سیاست میں نہ آنے کا اظہار کرچکے ہیں جس کا ایک ثبوت حال ہی میں سلیم صافی کے پروگرام جرگہ میں بھی اس امر کا اظہار شامل ہے۔

سوال یہ نہیں کہ یہ سب صرف شاہد آفریدی کے ساتھ کیوں پیش آیا؟ مسئلہ یہ بھی نہیں کہ شاہد آفریدی کو ان سب سے فرق پڑا بھی کہ نہیں، بلکہ مسئلہ تو یہ ہے کہ ہمارے درمیان موجود ایسی منفی سوچ رکھنے والے اور خود فریبی میں گم افراد نے اپنے علاوہ کبھی کسی کو تسلیم نہیں کیا، وہ اپنی انا پرستی میں اتنا مگن ہے کہ اپنے علاوہ اور کوئی اچھا بھی نہیں لگتا، اور نہ ایسے کسی مثبت کام کو تسلیم کرنے کا کوئی حوصلہ رکھتے ہیں بلکہ اس طبقہ کا صرف ایک مقصد ہے منفی پروپیگنڈا کرنا اور لوگوں کو گمراہ کرنا، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ اجتماعی شعور اور باہمی اتفاق سے معاشرے میں موجود اس منفی اور فرسودہ سوچ رکھنے والے طبقہ کی نشان دہی کی جائے تاکہ اس کا خاتمہ کیا جاسکے، اور انسانیت، اسلام اور پاکستانیت کے نام پر اخوت اور بھائی چارے کا ایک آئیڈیل معاشرہ بنانے کے لئے جدوجہد کرنے کا وقت آ پہنچا ہے اور قوی امید ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب بطور معاشرہ ہم مضبوط اور آپس میں پیار و محبت سے پیش آنے والی اور اخوت اور بھائی چارے کے جذبے سے سرشار نسل دیکھیں گے، ان شاء اللہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *