تلخیوں کے زیر سایہ جوان ہونے والی نسل
بلوچی میں کہاوت ہے ”ترجمہ؛گنج ( علاقائی پودے کا انتہائی اور ناقابل برداشت حد تک کڑوا پل، جو بناوٹ و شکل میں بالکل چھوٹے خربوزy جیسا ہے ) کا پودا لگانے سے میٹھے خربوزہ پیدا نہیں ہوا کرتے“ ۔ مگر افسوس کہ بلوچستان میں یہ کارنامہ سرانجام دینے کا تجربہ ازل سے جاری ہے۔ تلخ یادوں اور تجربات کے زیرسایہ پرورش پانے والی زندگیوں میں بھی تلخی کی آمیزش انوکھی بات نہیں، بلکہ قدرتی عمل ہے۔ مگر نیم کے دانوں کی کڑواہٹ کو کم کرنے کے لئے اس میں میٹھا گڑ ڈال کر کوٹا جاتا ہے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے تیل یا آتش گیر مادے سے نہیں۔ مگر یہاں صورتحال بالکل مختلف ہے۔
بلوچستان کی تاریخ تو ہے ہی تلخیوں کی داستان۔ وقفے وقفے سے ( اب دو دہائی سے لگاتار) لگی آگ سے کوئی محلہ، علاقہ اور خاندان ایسا نہیں جو بالواسطہ یا بلا واسطہ متاثر نہ ہوا ہو۔ موجودہ دور میں رونما ہونے والا ہر ناخوشگوار واقعہ اس سے جڑے اور مماثلت رکھنے والے ماضی کے تمام واقعات کو زندہ کرکے حالات حاضرہ کا موضوع بنا کر پوری تاریخ کو آب و تاب سے منظرعام پر لاتا ہے۔ پھر یہ حالات و واقعات اور ان کا تسلسل جوان ہونے والی نئی نسلوں کے ذہنی و فکری اور نظریاتی تشکیل میں اپنا اہم حصہ ڈالتا، ان کی شخصیت اور کردار کا تعین کرتا ہے۔ بلوچستان میں ایسے حالات و واقعات اور رویوں کا تسلسل نوجوانوں کو تلخیوں سے آشنا کرکے ان کی ذہن سازی اور کردار سازی کر رہے ہیں۔
تلخ تجربات اور یادوں کے زیر سایہ پرورش پانے والے ان ناراض و بدظن نوجوانوں کے ذہنوں پر نقش تلخیوں کو مٹانے اور انہیں اپنانے کا کوئی جواز ہوتا! کاش! اس ملک کے حاکم اور صاحب اختیار ایک ہمدرد اور مہربان بزرگ سرپرست کی طرح ان نوجوانوں کو اپنے پہلو میں بٹھا کر ان کے تمام گلے شکوے تسلی سے سنتے، انتہائی تلخ لہجے سے نا انصافیوں اور حق تلفیوں کے تذکروں پر وہ اپنا سر خم اور پرنم نظریں جھکا کر انھیں تحمل سے سنتے۔
یہ نوجوان اپنے دل کے تمام بھڑاس جب نکال لیتے۔ تو پھر یہ صاحب اختیار اپنائیت کے جذبات سے لبریز ہو کر ان نوجوانوں کے کاندھے پر دست شفقت رکھ کر انھیں بتاتے کہ ”بیٹا! تمہاری سب تلخ باتیں بالکل جائز ہیں۔ ماضی کی تمام ناقابل بیان زیادتیوں اور حق تلفیوں پر ناصرف ہم زبانی حد تک بلکہ روح تک شرمسار ہیں اور ان کا ازالہ کرنے کے لئے ماضی کی روایت سے ہٹ کر خصوصی فیصلے اور ان فیصلوں پر مکمل طور پر عمل درآمد بھی ہوا ہے۔
اب یہ آپ کے علم میں ہے کہ آپ کے ”حقیقی رہنماؤں اور دانشوروں“ کے مطالبات اور تجاویز پر خاص قانون سازیاں ہوئی ہیں۔ اب بغیر کسی مداخلت کے آپ ہی کے منتخب نمائندے صوبائی اور مرکزی اسمبلیوں میں براجمان ہیں جو فیصلہ سازی و منصوبہ سازی میں عملاً مکمل آزاد ہیں۔ آپ کے صوبے کا ہر بڑا اور چھوٹا علاقہ تعلیم اور صحت کی تمام سہولیات سے اب مستفیض ہے۔ بے روزگاری میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے، روزگار کی مزید فراہمی کے لئے کئی منصوبے جاری ہیں۔
سوئی گیس بلوچستان کے تقریباً 85 % شہروں، گاؤں اور دیہاتوں میں پہنچ چکی ہے۔ ملک کے تمام بڑے تعلیمی و فنی اداروں میں بلوچستان کے نوجوانوں کے لئے مزید سیٹیں مختص کی گئی ہیں اور اسکالرشپ میں کئی گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب آئینی طور پر آپ کے صوبہ کے تمام معدنی ذخائر اور دیگر وسائل پر وہاں کے عوام کا حق نہ صرف تسلیم کیا گیا ہے بلکہ عملی طور پر آپ سمیت سب کو نظر بھی آ رہا ہے۔
سی پیک میں حصہ داری اور گوادر ماسٹر پلان کی وجہ سے بلوچستان کی مقامی آبادی کے عدم توازن کے بارے میں جو خدشات تھے، باقاعدہ آئین سازی کے ذریعے ان خدشات کو دو ر کر لیا گیا ہے۔ اس ملک کا بحیثیت ایک اہم اکائی آپ کی زبان، تہذیب و ثقافت، تاریخ، قومی شناخت اور علاقائی عددی برتری کا مکمل تحفظ آئینی طور پر مقدم ہے اور اس کا عملی مظاہرہ آپ سمیت سب کے سامنے ہے۔ پہلے کی طرح صرف بیانات کی حد تک نہیں، بلکہ اب عملاً آپ کی جان و مال، عزت اور چادر و چار دیواری کی روایتی تقدس کو مکمل تحفظ حاصل ہے، کوئی بھی اہلکار آپ کی عزت نفس کو مجروح کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
مخصوص مافیا کی پشت پناہی کا اب تصور بھی نہیں ہے۔ آپ کے عظیم تاریخی کردار اور نامور شخصیات کا تذکرہ نہ صرف درسی کتب کا حصہ ہیں بلکہ تمام جامعات میں ان پر پی ایچ ڈی اور تحقیقی کام ہو رہا ہے۔ ایک اور انتہائی اہم بات! جو آپ کے مشاہدہ میں بھی ضرور ہوگی کہ اب کوئی ایک بھی لاپتہ یا غائب نہیں ہے۔ اپنی بات ختم کرنے اور جانے سے پہلے ریاست کا ”صاحب با اختیار نمائندہ“ اٹھ کر نوجوان کو گلے لگا کر اپنا ہاتھ اس کے سر پر پھیرتا اور پدرانہ شفقت سے اس کے سر پر بوسہ دے کر سمجھاتا کہ ”بیٹا! یہ ملک ہی دراصل ہر طرح سے آپ اور ہم سب کے حقوق کا محافظ اور خوشحالی کا ضامن ہے۔ ماضی اب گزر چکا ہے۔ اب ایک پرامن حال اور خوشحال مستقبل کے لئے ہم سب کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ ہم سب کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر، کاندھے سے کاندھا اور قدم سے قدم ملا کر اکٹھے آگے بڑھنا ہے“ ۔
اگر ”صاحب اختیار“ کے پاس مذکورہ جواز ہوتے اور عملی طرز عمل یہی ہوتا تو آج کئی شہداد بلوچ اور احسان بلوچ تعلیم مکمل کرکے کسی ادارے میں اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں ملک کی ترقی و خوشحالی پر خرچ کر رہے ہوتے۔ کئی اہلکاروں کے معصوم بچے یتیم ہونے سے بچ جاتے۔
بے شک! بلوچستان میں بم دھماکے اور پرتشدد واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے جس کا کریڈٹ متعلقہ اداروں کو جاتا ہے۔ مگر اب ایک ایسے آپریشن کی ضرورت ہے جو فاتح و مفتوح اور جیت و ہار کے روایتی جنگی اصولوں اور جذبات سے مکمل طور پر پاک، صرف حقوق کی فراہمی اور نا انصافیوں کے ازالہ کے لئے مخصوص ہو۔ ایسا آپریشن جو ماضی کی تمام تلخیوں کو حال کے خوشگوار تجربات و احساسات کے نیچے دفن کردے۔ امتیاز کو برابری اور نفرتوں کو محبت و اپنائیت میں بدل دے۔ اس آپریشن میں سرخرو ہونے کے لئے صبر و تحمل اور دوراندیشی سمیت طبقاتی مفاد و بالادستی اور طاقت کے گھمنڈ سے دستبرداری پہلی شرط ہے۔


