ٹیگور میری نظر میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رابندر ناتھ ٹیگور کی زندگی اور ادب کا شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہو جس پر گفتگو کے دروازے نہ کھلے ہوں۔ میرے لیے مشکل یہ تھی کہ ان پر لکھتے ہوئے کس گوشہ کا انتخاب کروں۔ وہ اپنی زندگی میں ہی ان بلندیوں پر پہنچ چکے تھے، جہاں حسین سے حسین خواب بھی معمولی اور چھوٹے معلوم ہوتے ہیں۔ وہ اپنی ہشت پہلو شخصیت سے ان درجات کو طے کر گئے تھے، جہاں تمنا کا دوسرا قدم بھی کم معلوم ہوتا ہے۔ وہ اول تا آخر ہندستانی تھے اور ان کی تحریر میں عشق و محبت اور صداقت پاروں کا ایک ایسا سنگم تھا جہاں تصوف اور روحانیت کی لہریں بھی ہیں اور ایک سچے انسان کے بلند اخلاقی کردار کی نمائندگی بھی۔

مجھے افسوس تب ہوتا ہے جب ہمارے کچھ دانشور ٹیگور کی گیتانجلی کو مذہبی نظموں کا مجموعہ کہنے کی حماقت کرتے ہیں۔ جیسے کچھ لوگ ٹی ایس ایلیٹ کو بائبل اور اقبال کے مرد مومن کو اسلام سے وابستہ کرتے ہوئے ان کے قد کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں مذہب شاعرانہ وجدان کی ایک معمولی سی سطح ہے۔ یہاں فطرت سے عشق کی داستان ہے اور انسانی عظمت کے گیت گائے گئے ہیں۔ ٹیگور اپنے موقف کا خود بھی اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

’میں مختلف طریقے سے ظاہر ہونے والی آواز ہوں۔ میں اس لا محدود کی آواز ہوں، جس کے بے شمار پہلو ہیں اور یہ پہلو مختلف نوعیت کے ہیں۔ میں اس کبھی نہ ختم ہونے والی مسرت کی آواز ہوں، جو تمام چیزوں میں جاری و ساری ہے۔ مسرت میرے تخلیق کا بنیادی نقطہ ہے اور میری زندگی کا مقصد بھی۔‘

گیتانجلی کی شروعات میں بھی اس کے اشارے مل جاتے ہیں۔
مسرت اس بات میں ہے کہ
میں خوشبو بن کر چہار جانب پھیل جاؤں
اور اصل مسرت یہ ہے
کہ میں کہسار، وادیوں میں گونجوں
ہمیشہ قائم رہنے والی موسیقی کے ساتھ

انسانی زندگی کے آغاز و ارتقا سے اب تک الہامی کتابوں میں، ویدوں میں، اپنشدوں میں، کبیر اور تلسی داس کے دوہوں میں، ازل و ابد کے تصورات میں، انا الحق کی صداؤں میں، نروان اور روحانی فلسفوں میں اس لفظ مسرت کے ہزار پہلوؤں کو دیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے۔ فطرت کی صناعی اور کارخانے میں، سورج کی اترتی ہوئی پہلی کرن کے ساتھ، وادی اور کہساروں کے نغمے میں مسرت ہی وہ چشمہ ہے، جو تخلیق کے لیے عشق، سرمستی اور فنا فی اللہ بن جاتا ہے۔

اور مسرت کی یہی وہ تلاش و کیفیت ہے جس کی ایک منزل گیتانجلی ہے اور یہی وہ منزل ہے، جہاں کہانیوں اور ناولوں کے دفتر بھی کھلے۔ جہاں ٹیگور نے موسیقی کے ساتھ سروں کی آواز سنی۔ جہاں مصوری کے ہزار رنگوں میں پناہ تلاش کرتے ہوئے انسان دوست کی شکل میں خود کو برآمد کیا۔ اور ان نئی بلندیوں کو دریافت کیا جہاں فلسفوں کے نورانی چشموں سے زندگی کا حقیقی گیت ابھرتا ہے اور اس گیت کے جشن میں ایک دنیا شامل ہو جاتی ہے۔

ٹیگور کے ادب کا مطالعہ کریں تو حیرت انگیز طور پر یہ انکشاف ہوتا ہے کہ ایک طرف جہاں ملک ہندستان غلام اخلاقیات کے بوجھ تلے سسک رہا تھا، ٹیگور ہندستانی سرزمین کے ابتدائی نقوش اور جڑوں سے سیاسی، سماجی بیداری کے ایسے صنم تراش رہے تھے، جہاں ہزاروں برسوں کی تاریخ اور تہذیبی روایات غلامی کی سیاہ راہ پر بھاری تھی۔ اور کمال یہ کہ روح کی گہرائی سے نکلے ہوئے نغموں کا شور تب بھی جاری تھا جب جارج پنجم کی بارگاہ میں انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کہا گیا۔

اور یہاں بھی ٹیگور نے بھارت بھاگیہ ودھاتا کے نعرے کے ساتھ اپنے موقف کا اظہار کر دیا کہ ہندستان کی قسمت کا فیصلہ نہ جارج ششم کر سکتا ہے اور نہ ہی جارج پنجم، بلکہ صدیوں قرنوں سے زمینوں اور آسمانوں کے نگہبان کے ہاتھوں میں سرزمین ہندستان کی تقدیر ہے اور فیصلہ کرنے کا حق بھی اسے ہی ہے۔ قومی ترانہ کو لے کر اس زمانہ میں کافی ہنگامے ہوئے۔ لیکن ٹیگور سے محبت اور عقیدت کا اظہار رکھنے والے اس حقیقت سے واقف تھے کہ اس فرشتہ صفت مضبوط انسان کو نہ فرنگی بیڑیاں خوفزدہ کر سکتی ہیں اور نہ ہی ٹیگور کے روحانی سرچشمہ پر بندش ہی لگائی جاسکتی تھی۔

بعد میں اس ترانہ کو قومی ترانہ کی سند دی گئی اور اس وقت تک ٹیگور کی آواز گیتانجلی بن کر ساری دنیا میں حکومت کرچکی تھی۔ ان دیکھا خدا، فطرت کا طلسم اور ایکلا چلورے کی کیفیات میں اس شعری و تخلیقی بصیرت اور الفاظ کے کرشموں کو دیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے کہ جہاں، جو بھی ٹیگور کے فلسفوں کے قریب آیا، وہ قوموں، نسلوں، تہذیبوں اور عقیدوں کو بھول کر ٹیگور کا ہوگیا۔ اور اسے یوں کہنا بہتر ہے کہ ہندستان کا ہوگیا۔ ٹیگور نے کبیر اور کالی داس کی طرح اپنے لیے اسی زمین کا انتخاب کیا، جہاں وطنیت اور قومیت کے لازوال تصورات کے ساتھ خالق کائنات کا تصور بھی ابھرتا ہے۔

اور یہیں سے کیف و سرور اور وجدان کے آبشار بھی پھوٹتے ہیں۔ قابل غور یہ بھی ہے کہ ٹیگور نے اپنی زندگی اور اپنے ادب کو محض قومیت تک محدود نہیں رکھا بلکہ ان کی فلسفیانہ بصیرت سے دیار ہند میں جس نشاة ثانیہ کی شروعات ہوئی اس نے ملکوں اور سرحدوں کے فاصلے مٹا دیے۔ وہاں ایک ہی موسیقی تھی اور ایک محبت کرنے والا خدا۔ اور کمال دیکھیے کہ شانتی نکیتن کے قیام میں بھی اسی فکر اور فلسفے کا دخل رہا۔ ایک طرف نہ ختم ہونے والی انسانیت کا عکس کا بلی والا سے دیگر کہانیوں تک، گورا سے گیتانجلی تک محسوس کیا جاسکتا ہے تو دوسری طرف وشو بھارتی اور عالمی بھائی چارگی کا خواب بھی تھا، جسے وہ ساتھ لیے چل رہے تھے۔

einstein & tagore

یہ وہی فلسفہ تھا جو آغاز سے ہی ان کی تخلیقی محرکات کا حصہ رہا۔ اور یہی محرکات گیتانجلی بن کر ابھرے تو دنیا ایک نئی شاعری، ایک نئی آواز سے آشنا ہوئی۔ یہ شاعری کا وہ رنگ تھا جواب تک ہندستانی ادب میں ناپید تھا اور اسی لیے گیتانجلی کے شائع ہوتے ہی مغرب میں زلزلہ آ گیا۔ ٹیگور نے اپنی شخصیت اور شاعری کو ایک دوسرے میں منتقل کر دیا تھا۔ اس لیے گیتانجلی کے انگریزی زبان میں ترجمے ہوتے ہی ان کی روحانی شاعری کا اعتراف کیا جانے لگا۔

یہ وہ دور تھا جب پوری دنیا ایک نئے انقلاب کو سلام کہہ رہی تھی۔ یورپ کو فلسفہ انسانیت کے فروغ کے لیے مخصوص عقائد کے ساتھ جنگ کرنی پڑ رہی تھی اور ٹیگور اپنی شاعری کے ذریعہ اس وسیع انسانیت کی آواز اٹھا رہے تھے جسے امیر و غریب، بستیوں اور سرحدوں سے باہر نکالا جاسکے۔ اور اسی کے ساتھ ہندستانی سرزمین سے وحدت کے تاروں کو جوڑتی ہوئی ایک مضبوط آواز اٹھی۔

اور پھر ایک مقام پر آکر یہ کہنا۔

”میری آخری پناہ گاہ انسانیت ہے۔ ہیروں کی قیمت پر میں کانچ ہر گز نہیں خریدوں گا۔ اور جب تک میری جان میں جان ہے۔ انساں پرستی پر وطن پرستی کو قربان نہ ہونے دوں گا۔“

یہ حقیقت ہے کہ ٹیگور کے پیغام مسرت اور ان کے وسیع تر انسانی نظریات کو نہ بنگال کی سرحدوں سے باندھا جاسکتا ہے اور نہ ہندستان کی حد تک محدود۔ اور اسی لیے مسیحیت سے قرب کی یہ روحانی صدا گونجی تو مشرق و مغرب کا فرق بھی مٹ گیا۔ ایک بڑے ادیب کو نہ ذات کے خول میں بند کیا جاسکتا ہے اور نہ سرحدوں میں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے اپنی شخصیت، اپنی شاعری کو سونپ دی تھی یا اپنی تخلیق میں اپنے روشن اور فرشتہ صفت چہرے کو تحلیل کر دیا تھا۔ اور جذبات عالیہ سے روحانیت کی روشنائی لے کر صفحہ ¿ قرطاس پر مصوری کے جو رنگ بکھیرے، ایک دنیا آج بھی اس رنگ سے آزادی، محبت اور نروان کے مارگ تلاش رہی ہے۔ جنگ کے بادل آج بھی چھائے ہیں۔ یہاں وقت ساکت و جامد ہے اور لامحدود کی آواز میں مسرت کی تلاش آج بھی زندگی کا مقصد بنی ہوئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *