کورونا ویکسین اور مغربی سازشیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”سر، سنا ہے کہ بل گیٹس نے کرونا سے متعلق کوئی ویکسین بنوائی ہے۔ اس ویکسین کے ذریعے وہ انسانوں میں کوئی چپ ڈال دے گا جس سے انسان کی ٹریکنگ ممکن ہوگی۔ مزید اس چپ کے ذریعے انسانوں کی سوچ بھی تبدیل کی جاسکے گی۔ اس سے تو لگتا ہے کہ کرونا فقط مسلمانوں کو تباہ کرنے کی ایک یہودی سازش ہے“ ۔ یہ وہ خدشات ہیں جن کا اظہار دفتر کے ایک ساتھی نے میرے سامنے اس عنوان پر میری رائے جاننے کے لیے کیا۔ اس طرح کے خدشات آپ سب تک یقیناً سوشل میڈیا کے توسط سے پہنچ رہے ہوں گے۔

اس کے حوالے سے میں یہاں بھی وہی کہوں گا جو میں نے ان محترم کے سامنے کہا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ اپنا موبائل فون کھولیں۔ اس میں گوگل میپ کی ایپ کھول کر اپنے پروفائل سے ٹائم لائن دیکھیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور حیران رہ گئے۔ گوگل کے پاس پورا نقشہ موجود تھا کہ وہ کب گھر سے نکلے اور کس رستے سے کب دفتر پہنچے۔ تو بھائی جہاں تک ٹریکنگ کا تعلق ہے وہ ہم سب کی پہلے سے ہو رہی ہے۔ جب آپ کسی بھی فون میں سم استعمال کرتے ہیں تو آپ کا پتہ معلوم کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔

اب آتے ہیں دوسری پریشانی کی طرف کہ شاید اس ویکسین سے آپ کے دماغ میں کچھ ایسا اثر ہوگا کہ آپ کی سوچ تبدیل کی جاسکے گی۔ اس حوالے سے ایک جگہ یہ بھی لکھا ہوا دیکھا کہ اس ویکسین سے مسلمانوں کے وہ جینز تباہ کیے جائیں گے جس کے ذریعے وہ اللہ پاک کو مانتے ہیں تاکہ دجال کا کام آسان کیا جاسکے۔ بھائی، میں کوئی سائنسدان تو نہیں لیکن میری یونیورسٹی کی تعلیم شعبہ جینیٹکس میں ہے۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ جینز کا کام جسم کے خلیات کو فقط یہ اطلاعات دینا ہے کہ کس خلیہ نے کون سے پروٹین بنانے ہیں۔ جینز کا کام سوچنا سمجھنا یا ماننا نہیں ہے۔ یہ فقط ایک کوڈ ہوتا ہے جیسے انگریزی کی اے بی سی یا اردو کی ا ب پ۔ اس سے ملک کر ایک مخصوص تحریر بنتی ہے جسے کوڈ کہتے جس کے اندر جسم کے خلیات کے لیے مخصوص پیغام ہوتا ہے۔

ہاں اگر سوچ بدلنی ہو تو اس کے لیے جسم سے باہر کے ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ تعلیم، فلم، ڈرامہ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہاں پر مجھے پورا یقین ہے کہ کوئی کم از کم پاکستانیوں کی سوچ تو نہیں بدل سکتا۔ ہم جس طرح سے ہر فریب میں آ جاتے ہیں۔ جس طرح سے اس قوم کو آسانی سے وقفے وقفے کے بعد ایک نئی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جاتا ہے اور گھوم پھر کر ہم واپس وہیں پر آنے کے عادی ہو چکے ہیں جہاں سے چلتے ہیں تو ہماری سوچ بدلنا بہت مشکل ہے۔ ہم جو ہر چیز میں ایک سازش ڈھونڈتے ہیں ہماری سوچ کون بدل سکتا ہے۔

باقی جہاں تک بات ہے ہمارے ذہنوں سے کلام الہی نکالنے کی تو سنا یہ ہے کہ جنگ آزادی کے بعد گورا سرکار نے حفاظ کرام کو شہید کروایا تھا۔ قرآن پاک کو یہاں سے ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن وہ نا کام رہے تھے۔ کامیاب ہوتے بھی کیوں۔ آخر قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ اللہ پاک نے خود لیا ہے۔ اس بات پر ایمان رکھتے ہوئے ایسی افواہوں پر کان دھرنا میرے خیال میں نا انصافی ہے۔ لہذا ایسی سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے، خود تحقیق کیجیے۔ سوشل میڈیا کے ماہرین سے خود بھی بچیں اور اپنے اعزا و اقارب کو بھی بچائیں۔ یار زندہ صحبت باقی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply