ہیرو کون؟ راجہ داہر یا محمد بن قاسم


آپ نے کئی اردو اور پنجابی فلموں میں یہ منظر دیکھا ہو گا کہ ایک لڑکی چیخیں مار کر بھاگ رہی ہے۔ اور اس کے پیچھے ایک بد شکل ولن وحشیانہ قہقہے مارتے ہوئے بھاگ رہا ہے۔ یکلخت ایک خوش شکل ہیرو نہ جانے کہاں سے ٹپک پڑتا ہے اور مار مار کر اس ولن کا بھرکس نکال دیتا ہے۔ اور لڑکی کو پہلی نظر میں ہی محبت ہو جاتی ہے۔

اگر یہ سب کچھ صرف فلموں میں ہوتا تو شاید گزارا ہو جاتا لیکن ہم نے برصغیر کی تاریخ کو بھی اس قسم کی رومانوی فلم بنا دیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں سندھ کی تاریخ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ محمد بن قاسم ہیرو ہے یا راجہ داہر ہیرو ہے؟ حالانکہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ دونوں نہ ہیرو ہوں اور نہ ولن ہوں بلکہ اپنے دور کے معمول کے حکمران ہوں۔

قدیم کتاب چچ نامہ کے مطابق راجہ داہر کے والد چچ اس لئے راجہ بنے کیونکہ وہ جس راجہ کی ملازمت کرتے تھے اس کی مہارانی ان پر فریفتہ ہوں گئی تھیں اور اپنے خاوند کے انتقال پر مہارانی نے چچ کو راجہ بنا دیا۔ اور حجاج بن یوسف نے سندھ پر حملہ اس لئے کرایا کیونکہ قزاقوں نے جس بحری جہاز کو لوٹا تھا اس میں گرفتار ہونے والی ایک خاتون نے یا حجاج کا نعرہ مار دیا تھا۔ اور حجاج بن یوسف بھی اتنے سادہ کہ یہ خبر سن کر سندھ پر چڑھائی کر دی۔

جنہوں نے راجہ داہر کو ولن بنانا ہو وہ یہ قصہ سنا دیتے ہیں کہ انہوں نے ایک جوتشی کی پیشگوئی کی وجہ سے اپنی بہن سے شادی کر لی تھی۔ اور پھر یہ کہانی کہ محمد بن قاسم کو سزائے موت اس لئے ہوئی کہ انہوں نے راجہ داہر کی دو بیٹیوں کو اس وقت کے اموی بادشاہ کے حرم میں بھجوایا تھا اور ان بیٹیوں نے یہ الزام لگا دیا کہ شاہی حرم میں بھجوانے سے پہلے محمد بن قاسم نے ان سے تعلق پیدا کیا تھا۔ پس بادشاہ کا جلال بھڑک اٹھا اور اس نے محمد بن قاسم کو مروا دیا۔ ہم ان کہانیوں میں اتنا کھو جاتے ہیں کہ تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے۔

انگریزوں کو لاکھ برا کہیں لیکن وہ جس علاقے کو غصب کر کے اپنی سلطنت میں شامل کرتے اس کی تاریخ پر تحقیق کر کے اسے گزٹ میں شائع کرتے۔ ظاہر ہے کہ انہیں نہ تو محمد بن قاسم کو ”حضرت“ بنانے میں کوئی دلچسپی تھی اور نہ راجہ داہر کو ”ہیرو“ بنانے کا کوئی ارادہ رکھتے تھے۔ بہر حال 1876 اور 1907 کے سندھ گزٹ میں جو تفصیلات درج ہیں وہ پیش ہیں۔

اس گزٹ میں یہ دلچسپ تجزیہ لکھا ہے کہ حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم کو محض بارہ ہزار کی فوج دے کر سندھ روانہ کر دیا تھا اور بظاہر یہ ایک دیوانوں والا فیصلہ تھا کیونکہ سندھ کی اپنی قوت اس سے بہت زیادہ تھی اور چچ نے بہت دانشمندی سے رعایا کے خراج میں کچھ چھوٹ دے کر قلعے بنوائے تھے۔ جس فوج کی قیادت راجہ داہر نے کی صرف اس کی تعداد پچیس ہزار سے زیادہ تھی۔ یعنی فوج کے اعتبار سے سندھ کی فوج کو کافی برتری حاصل تھی۔ پھر سندھ کی فوج کو شکست کیوں ہوئی؟

اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت سندھ میں اپنے اندرونی اختلافات بہت زیادہ تھے۔ کیونکہ عوام اور عہدیداروں کی بہت بڑی تعداد بدھ مت سے وابستہ تھی اور باوجود اس کے کہ راجہ داہر کی حکومت میں بدھ مت سے وابستہ افراد کو گورنر بھی لگایا ہوا تھا لیکن پھر بھی وہ ایک ہندو کی حکومت سے خوش نہیں تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پہلے اس علاقے پر بدھ مت سے وابستہ افراد حکمران رہ چکے تھے۔ اور راجہ داہر کے والد چچ نے بھی لسبیلہ پر قائم بدھ خاندان کی حکومت پر قبضہ کیا تھا۔

محمد بن قاسم 92 ہجری یعنی 711 عیسوی میں سندھ میں داخل ہوئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جہازوں کو لوٹنے اور مسلمان عورتوں کو قید کرنے کا واقعہ محض ایک بہانہ بنایا گیا تھا تاکہ عرب سندھ پر قبضہ کر سکیں۔ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا تھا۔ لیکن 1907 کے سندھ گزٹ میں درج روایات کے مطابق سب سے پہلے محمد بن قاسم نے دیبل کے قلعہ پر قبضہ کیا تھا کیونکہ اس میں عرب عورتیں قید تھیں۔ اور دیبل پر قبضہ کرتے ہوئے کافی خون ریزی ہوئی تھی۔ دیبل پر قبضہ کرنے کے بعد محمد بن قاسم نے سیہون کے قلعے کا رخ کیا۔ سیہون کا قلعہ راجہ داہر کے بیٹے کے قبضے میں تھا۔ لیکن اس کی اکثر رعایا بدھ مت سے وابستہ تھی۔ اور اپنے ہندو حکمران کے لئے لڑنے کو تیار نہیں تھی۔ چنانچہ صرف ایک ہفتہ میں اس قلعہ پر بھی قبضہ ہو گیا۔

لیکن ابھی بھی سندھ کی حکومت کا کچھ نہیں بگڑا تھا۔ ان کے پاس محمد بن قاسم کی فوج کی نسبت کئی گنا زیادہ تازہ دم فوج موجود تھی۔ اور بہت سے قلعوں پر ان کا قبضہ تھا۔ لیکن اگلے قلعے سیسام کو بغیر جنگ کے محمد بن قاسم کے حوالے کر دیا گیا۔ یعنی وفاداریاں تبدیل کر لی گئیں۔ اور اس کے بعد محمد بن قاسم نے نیرون کے قلعے کا رخ کیا۔ نیرون آج کے حیدر آباد کے قریب تھا۔ اور یہاں بھی قلعے کے دروازے کھول کر محمد بن قاسم کا استقبال کیا گیا یعنی مقامی لوگوں نے راجہ داہر کا ساتھ نہیں دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت راجہ داہر کے پاس بڑی تعداد میں فوج موجود تھی لیکن انہوں نے نے فوری طور پر محمد بن قاسم کا راستہ روکنے کی کوشش نہیں کی اور محمد بن قاسم کی پوزیشن مضبوط ہوتی گئی۔

اس مرحلے کے بعد راجہ داہر کی فوج اور محمد بن قاسم کی فوج کا مقابلہ ہوا اور اس میں راجہ داہر کو شکست ہوگئی۔ اس کے بعد محمد بن قاسم نے برہمن آباد کا محاصرہ کر کے اسے فتح کیا لیکن یہاں کے باشندوں سے بہت نرم سلوک کیا گیا۔ اور سندھ میں داخل ہونے کے دو سال بعد دارالحکومت الور پر قبضہ ہوا اور اس کے بعد ملتان پر قبضہ ہو گیا۔ ان دو سالوں میں محمد بن قاسم کی مدد کے لئے مزید فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں پیش آئی۔ بلکہ تاریخ کی کتاب ”طبری“ کے مطابق آخر میں حجاج نے محمد بن قاسم کو حکم دیا تھا کہ فوج کا ایک حصہ واپس عراق بھجوا دیا جائے۔

فتح کے کچھ مہینوں کے بعد یہ خطرہ صرف اس صورت میں لیا جا سکتا ہے جب یہ اعتماد ہو کہ مقامی لوگوں کی اکثریت ہمارے خلاف نہیں کھڑی ہو گی۔ ان انگریز محققین کے مطابق محمد بن قاسم کی اس کامیابی کی وجہ اس کی دانشمندی تھی۔ جب کوئی جنگ کرتا تو اس وقت تو خون ریزی ہوتی لیکن جب ٹیکس وغیرہ کے معاملات طے ہو جاتے تو مقامی آبادی سے نرم سلوک کیا جاتا اور مکمل مذہبی آزادی دی جاتی۔ اور اس وقت سندھ کے لوگوں میں مشہور تھا کہ عرب بد عہدی نہیں کرتے۔

اسی طرح تاریخی طور پر راجہ داہر کی دو بیٹیوں کا محمد بن قاسم سے انتقام لینے والا قصہ محض ایک بے بنیاد کہانی ہے اس کے بارے میں کسی اور کالم میں عرض کروں گا۔ اصل بحث یہ نہیں کہ کون ہیرو ہے اور کون ولن؟ یہ دیکھنا چاہیے کہ اس تاریخ سے ہم کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ سب سے اہم سبق یہ ہے کہ بیرونی حملہ سے بچنے کے لئے سب سے موثر ذریعہ آپس کا اتحاد ہے۔ اگر کسی ملک کا معاشرہ مذہبی یا نسلی طور پر تقسیم ہو گا تو یہ ملک دشمن کے لئے تر نوالہ ثابت ہو گا۔ فوجیں اور قلعے کسی کام نہیں آئیں گے۔

Facebook Comments HS