جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے پچاس برس مکمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان جوہری پروگرام کو پرامن اور عالمی اصولوں و قوانین کے تحت محفوظ رکھنے پر مکمل طور پر کاربند ہے۔ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو پچاس برس مکمل ہوچکے۔ 20 ویں صدی میں انسانیت کی تباہی کے لئے ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ لگی ہوئی تھی۔ ایٹمی ہتھیاروں کی تباہ کاریوں سے دنیا آگاہ ہوچکی تھی کہ یہ طاقت دنیا کے تحفظ کے لئے کس قدر خطرناک ہے۔ دنیا اس وقت تک جنگ عظیم اول و دوم جھیل چکی اور امریکا کی جانب سے جاپان پر جوہری طاقت کا استعمال بھی کیا جا چکا ہے۔ جوہری ہتھیار کرہ ارض کے لئے ایک مہلک ایجاد ہے جس نے دنیا میں طاقت کا توازن بگاڑ دیا۔

جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے لئے ایک معاہدہ پچاس برس قبل عمل میں لایا گیا تھا جسے این پی ٹی (Non. Proliferation Treat) کا نام دیا گیا۔ جس کا مقصد جوہری ہتھیاروں میں کمی کرنا تھا۔ این پی ٹی معاہدے کو جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں کمی کا اہم عنصر تسلیم کیا جاتا ہے، امریکی سائنس دانوں کی فیڈریشن کا دعویٰ ہے کہ 1950 کے مقابلے میں ایٹمی ذخائر میں کمی ہوئی ہے۔ 5 مارچ 1970 کو نافذالعمل ہونے والا اساسی بنیاد کا حامل یہ ایک ایسا عالمی معاہدہ ہے جو دنیا کے ممالک کو جوہری پھیلاؤ کو روکنے کا پابند بناتا ہے۔

تاریخ میں جوہری ہتھیاروں کے بارے میں کسی بھی دوسرے معاہدے کے مقابلے میں اس معاہدے کو سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے۔ این پی ٹی میں شامل ممالک نے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا: 1۔ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا۔ 2۔ جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے لیے تعاون کو فروغ دینا۔ 3۔ جوہری ہتھیاروں سے پاک ہونے کے ساتھ ساتھ تخفیف اسلحہ کے مذاکرات کی نیک نیتی سے پیروی کرنا۔ این پی ٹی معاہدے میں 191 کے قریب ممالک شامل ہیں، شمالی کوریا این پی ٹی میں شامل ہوا تھا لیکن بعد ازاں اس نے 2003 میں خود کو معاہدے سے الگ کر لیا۔ اسی طرح پاکستان، ایران، بھارت اور سوڈان این پی ٹی معاہدے میں شروع سے ہی شامل نہیں ہوئے۔

بھارت کی جانب سے خطے میں مہلک ہتھیاروں کی دوڑ و جوہری طاقت کے ممکنہ غلط استعمال کے خدشے کے سبب پاکستان کو شدید تحفظات ہیں کیونکہ جب تک بھارت جوہری معاہدے میں شامل نہیں ہوتا، پاکستان کو اپنی مملکت کی بقا و تحفظ کے لئے ملک دشمن عناصر سے بچاؤ کے لئے حفاظتی اقدامات کرنا ناگزیر ہیں۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے اور پاکستان کی ایٹمی تنصیبات مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ ملک دشمن عناصر کی جانب سے بارہا کوشش کی جاتی رہی کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے عالمی برادری کو گمراہ کیا جاسکے تاہم پاکستان کا موقف رہا کہ اس نے جو بھی قدم اٹھایا وہ اپنی مملکت کے دفاع کے خاطر اٹھایا، اس کے لئے پاکستان پر شدید دباؤ بھی بڑھایا گیا، پابندیاں بھی عاید کیں گئیں لیکن عوام نے سرزمین کے دفاع کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔

اس وقت دنیا میں 9 مملکتیں جوہری طاقت ہیں، جن میں پانچ ریاستیں امریکا، چین برطانیہ، فرانس اور روس کو تسلیم شدہ قرار دیا جاتا ہے جب کہ پاکستان، بھارت، اسرائیل و شمالی کوریا بھی محدود تعداد میں جوہری ہتھیار رکھتی ہیں، امریکی سائنس دانوں کی تنظیم کے مطابق اسرائیل نے اپنے جوہری صلاحیتوں کے متعلق خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاہم اس کے بعد 80 سے زائد جوہری ہتھیار موجود ہیں، جب کہ پاکستان کے پاس 150، بھارت 140 شمالی کوریا 25 جوہری ہتھیار کے ذخائر رکھتے ہیں۔

ان کے مقابلے میں روس اس وقت سب سے زیادہ جوہری ہتھیار رکھنے والی مملکت ہے جن کی تعداد 6930 بتائی جاتی ہے جبکہ امریکا کے پاس 5550، فرانس 300، چین 290 اور برطانیہ 215 جوہری ہتھیاروں کے ذخائر رکھتا ہے۔ پانچ جوہری طاقتوں نے ایٹمی صلاحیت جنوری 1967 میں حاصل کی تھی جو معاہدے کے نفاذ سے قبل تھا، تاہم معاہدے کے تحت انہیں اپنے ایٹمی ذخائر میں کمی لانا ہوگی اور انہیں مستقل بنیادوں پر نہیں رکھ سکتے۔

ایران اور امریکا نے درمیان جوہری صلاحیت پر تنازعہ خطے میں تشویش ناک حد تک جنگ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ایران نے اپنا جوہری پروگرام 1951 میں شروع کیا تھا لیکن جوہری صلاحیت رکھنے والے پانچ ممالک کو تحفظات ہیں کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے، اس لئے امریکا نے ایران کے توسیع پسندانہ اقدامات کی وجہ سے اپنے ہی صدر بارک اوبامہ کا کیا گیا 2015 کا معاہدہ منسوخ کر کے ایران پر دباؤ بڑھایا کہ وہ ازسرنو جوہری معاہدہ کرے۔ ایران نے امریکی تجارتی پابندیوں اور دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے بارک اوبامہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر قائم رہنے پر زور دیا لیکن صدر ٹرمپ اس معاہدے میں کئی خامیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق 1986 میں جوہری ہتھیاروں کے تعداد 70 ہزار کے لگ بھگ تھی جو اب کم ہو کر 14 ہزار کے قریب رہ گئی ہے۔ عالمی برادری اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ جوہری ہتھیار کا استعمال جنگ عظیم دوم میں کر لیا گیا تاہم اب کسی جنگ میں جوہری ہتھیار کو استعمال کرنا آسان نہیں ہوگا۔ بظاہر امریکا، برطانیہ نے اپنے جوہری ہتھیاروں میں کمی پیدا کی ہے لیکن درحقیقت انہوں نے اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید طرز میں ڈھالنے کا عمل شروع یا ہوا ہے۔

اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکا نے 2040 تک اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید نظام کے تحت بنانے کے لئے ایک ارب ڈالر خرچ کرنے کی منصوبہ بندی کی ہوئی ہے۔ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی مناسبت سے امریکا نے بیان بھی جاری کیا ہے جس میں امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ”11 مئی 1995 کو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں فریق ممالک نے یہ فیصلہ کیا کہ عدم پھیلاؤ کے معاہدے یا این پی ٹی کے نام سے معروف یہ معاہدہ غیر معینہ مدت تک موثر رہنا چاہیے۔

این پی ٹی کا آغاز 1970 میں ہوا تھا اور ابتدائی طور پر اس معاہدے کی مدت 25 برس رکھی گئی تھی۔ اسی لیے 1995 میں این پی ٹی کے جائزے اور اس میں توسیع کے لیے ہونے والی کانفرنس کے سامنے دو راستے تھے کہ آیا اس معاہدے میں توسیع ہونی چاہیے اور اگر ایسا کیا جائے تو کیا اس کی کوئی مقررہ مدت ہونی چاہیے، یا یہ معاہدہ غیر معینہ مدت تک موثر رہنا چاہیے۔ دانشمندانہ طور سے این پی ٹی کے فریقین نے معاہدے میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا فیصلہ کیا جس سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملی کہ جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنے کی کوششوں کی بنیاد قائم رہے گی ”۔

جوہری ہتھیار کسی جنگ میں استعمال کیے جانا ایک بڑی تباہی کا سبب بن سکتا ہے، پاکستان نے محدود فاصلوں تک مار کرنے والے ایٹمی ہتھیار رکھے ہیں، کیونکہ اس کے نزدیک بھارت کے جارحانہ عزائم قیام پاکستان کے وقت سے مملکت کے لئے خطرات کا سبب بنے ہوئے ہیں، پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارتی سازشوں کی وجہ سے ملک دو لخت ہوا تو دوسری جانب ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں و پاکستان کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

بھارت فالس فلیگ آپریشن کی سازش میں جتا ہوا ہے اور اپنی سازشوں سے پورے خطے میں جنگ کے مہیب سائے مسلط کیے ہوئے ہیں، مقبوضہ کشمیر، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے علاقوں میں بھارت نے سازشوں کا جال بندھا ہوا ہے، جس وہ برملا اظہار بھی کرتا ہے اور ڈھٹائی سے تسلیم بھی کرتا ہے کہ سقوط ڈھاکہ کرانے میں بھارت نے اپنا سازشی کردار ادا کیا۔

پاکستان کے مطابق وہ کسی قسم کی جارحانہ سوچ کے تحت جوہری صلاحیت میں توسیع پسندانہ رجحان نہیں رکھتا، اس کے پاس جوہری ہتھیاروں کی جو صلاحیت ہے وہ پرامن و سرزمین کی حفاظت کے لئے ہے، جو بھارت جیسی شاطر حکومت کے لئے ناگزیر ہے۔ پاکستان این پی ٹی میں یک طرفہ طور پر شامل ہو کر بھارت کی جارحانہ پالیسیوں کو نہیں روک سکتا، اس لئے جب تک بھارت این پی ٹی کے معاہدے کا حصہ نہیں بنتا، اس وقت تک پاکستان بھی ایم پی ٹی معاہدے میں شامل ہونے میں شدید تحفظات رکھتا ہے۔

عالمی برداری اگر مقبوضہ کشمیر کا پر امن حل نکال کر کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دے دے تو خطے میں جوہری جنگ کا سبب بننے والا خدشہ ختم ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری و جوہری طاقت رکھنے والے ممالک کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عمل درآمد کرائے تاکہ پاک۔ بھارت میں مقبوضہ کشمیر کے تنازعے کے باعث کسی مس ایڈونچر کے خطرناک نتائج نہ نکلیں۔ پاکستان جوہری پروگرام کو پرامن اور مفاد عامہ کے تحت محفوظ رکھنے پر مکمل طور پر کاربند ہے تاہم بھارت کے عزائم کو دیکھنا بھی عالمی برداری کی ذمے داری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *