اس بار گلگت بلتستان میں ڈھائی سال کے لئے حکومت منتخب کی جائے


صدر پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان میں نگراں حکومت کے قیام اور انتخابات کے انعقاد کے لئے ترمیمی آرڈر جاری ہو چکا ہے۔ عملی مشاہدہ یہی ہے کہ یہاں الیکشن نہیں سلیکشن ہوتی ہے، پہلے سے ہی صاف واضح ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت والی پارٹی کو یہاں سے جتوایا جائے گا، یہاں تک کہ وفاق کی دیگر بڑی پارٹیوں کو امیدوار بھی میسر نہیں آتے۔ اس طرح گلگت بلتستان کا سیاسی مزاج بہت بری طرح خراب ہو رہا ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ کہ مثلاً 2009 میں پیپلز پارٹی کی حکومت آئی اور 2013 میں وفاق میں پی پی حکومت کے خاتمے کے ساتھ یہاں بھی حکومتی عملداری ختم ہو چکی تھی۔ باقی 2 سال مہدی شاہ حکومت نے خانہ پری کے طور پر نکالے۔ بعینہ 2015 میں تشکیل پانے والی نون لیگی حکومت میں دم خم 2018 تک رہی جب تک اسلام آباد میں بھی ن کی حکومت تھی۔

اب باری ہے پی ٹی آئی کی جس کی وفاقی حکومت کے اب صرف 3 سال رہتے ہیں۔ گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کی ابھی کوئی انتخابی تیاری نہیں، اوپر سے کرونائی حملہ بھی جاری ہے سو واضح نہیں کہ جی بی انتخابات نومبر 2020 میں ہوں گے یا اپریل 2021 میں۔ دونوں صورتوں میں آئندہ گلگت بلتستان میں بننے والی حکومت کے پاس صرف ڈھائی سال ہوں گے جو یہ جم کے حکومت کر سکے گی۔ آخری ڈھائی سال حکومت نہیں صرف نوکری ہو گی۔ اب اس کا حل کیا ہے؟

ہماری تجویز یہ ہے کہ گلگت بلتستان انتخابات 2020 یا 2021 کی کوکھ سے جنم لینے والی اسمبلی کو پاکستان کی موجودہ قومی اسمبلی کے ساتھ توڑ دی جائے جس کے ساتھ پنجاب، سندھ، کے پی اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں نے بھی ٹوٹنا ہے۔ اس کے لئے الیکشن آرڈر میں ترمیم کی جا سکتی ہے یا موجودہ اسمبلی قانون وضع کر کے الیکشن کمیشن کو دے سکتی ہے یا وفاقی حکومت نیا آرڈر جاری کر سکتی ہے۔ شرط یہ کہ گلگت بلتستان میں وجود رکھنے والی سیاسی پارٹیاں اس پہ متفق ہوں۔ اس الیکشن کے بعد گلگت بلتستان کے اگلے انتخابات 2023 میں پاکستان کے وفاق اور چاروں صوبوں کے ساتھ ہونے چاہییں۔ یعنی 2020 کی بننی والی حکومت 2023 میں ختم ہو جس کا اس کو الیکشن سے پہلے ہی ادراک ہو تاکہ اس لحاظ سے حکومتی امور اور حکمت عملی نمٹائی جائے۔

گلگت بلتستان کے عوام کو اگر اپنے نمائندوں کے چناؤ کا حقیقتاً حق دینا ہے، یہاں سے روایتی الیکٹیبلز کی سیاست کو ختم کرنا ہے، لوٹا کریسی کی حوصلہ شکنی کرنی ہے اور جمہوریت کی روح کے مطابق اگر الیکشن کرانے ہیں تو ”وفاق کے ٹکٹ“ کا سحر توڑنا ہو گا۔ الیکشن کو الیکشن کی طرح کرانا ہو گا۔ آنے والی اسمبلی اور حکومت کو ڈھائی سال تک محدود کرنا پڑے گا۔ وفاق کے ساتھ چلنا ہو گا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سکندر علی زرین

سکندر علی زرین کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ ماس کمیونیکیشن کے پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ گزشتہ دس برس سے جیو نیوز سے بطور ایسوسی ایٹ اسائنمنٹ ایڈیٹر منسلک ہیں۔ گلگت بلتستان کے اخبارات کے لیے رپورٹنگ کرتے ہیں اور کالم بھی لکھتے ہیں۔ سیاست، تاریخ، اردو ادب، ابلاغیات ان کے پسندیدہ میدان ہیں

sikander-ali-zareen has 48 posts and counting.See all posts by sikander-ali-zareen