ارطغرل: تاریخ کا افسانوی رنگ اور حقیقی کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان ایک الاسلامی ریاست ہے۔ الف لام کی اضافت اس لیے کہ یہاں اسلام کئی فلیورز میں ایک ہی وقت میں میسر رہتا ہے اور عوام بھی اپنے مطلب کے لئے کبھی اس در کبھی اس در اور کبھی در بدر ہی رہتی ہے۔ گزشتہ برسوں میں رمضان کی پرمسرت ساعتوں کو چار چاند لگانے کے لئے نجی ٹی وی چینلز خوب سر گرم رہے۔ کہیں مسلمانوں کو یقینیت سے کوسوں دور لے جا کر تکا لگانے کا خوب پیغام ملا تو کہیں دودھ، گھی، چینی اور دیگر اشیاء خورد و نوش سے ایسے گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، سونے اور دیگر قیمتی اشیاء کا خزانہ برآمد ہوا کہ ایک بار پھر سے گوروں نے سوچنا شروع کر دیا کہ گزشتہ صدی میں جہاں جہاں سے جو نکلا ہم لے آئے مگر یہ والا ذریعہ کیسے ہم سے رہ گیا۔

لیکن اس برس ریاست پاکستان نے اپنی سربراہی میں ترکوں کی تاریخ سے متعلق ڈرامہ دکھانے کا اعلان کیا (جو تقریباً پانچ سال قبل بھی ایک پاکستانی نجی چینل پر دکھایا جا چکا ہے مگر شاید وہ مکمل اسلامی نہیں تھا) تو عوام اس کے فضائل بیان کرنے میں غرق ہوئی تو ساتھ ہی اس ڈرامے میں کام کرنے والے کردار، جن میں سے اکثر غیر مسلم ہیں، کی اصل زندگی بھی بحث کا حصہ بن گئی۔

میں نے اس موضوع سے متعلق کچھ لکھنے سے قبل ڈرامے سے ہٹ کر تاریخ میں ان کرداروں کے بارے میں جاننے کی ٹھانی۔ کیا واقع ارطغرل ایک تاریخی کردار ہے؟ کیا واقعی اس ڈرامے میں دکھائے گئے واقعات حقیقی ہیں؟ اگر یہ سب سچ ہے پھر یہ کسی کتاب میں بھی درج ہو گا، وہ کتاب کہاں ہے اور کس نے لکھی ہے؟ اگر واقعی یہ ڈرامہ لوگوں کی بدل سکتا ہے تو اس کے کردار کیوں نہیں بدلے؟ ارطغرل کا گھوڑا، حلیمہ سلطان کی غزال آنکھوں کا سادہ پن، ابن عربی کا علمی خزانہ آج کے دور کے مطابق، وغیرہ وغیرہ کئی سوالات تھے مجھے جن کے جواب جاننا تھے۔

پہلے تو ادب کی دنیا سے اتنی بات جان لیجیے کی ہسٹوریکل فکشن سے مراد تاریخ سے متعلق ایسی کہانی یا ناول ہے جس کے واقعات تخلیقی ہوتے ہیں اور انھیں تاریخ کے کسی دور سے جوڑا جاتا ہے، یہ واقعات حقیقی ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی اور یہی معاملہ ایسی کہانی کے کرداروں کا بھی ہوتا ہے۔ اگر اس ڈرامے کو اسی پیرائے میں دیکھا جائے تو بلاشبہ یہ کسی بھی لکھاری کی ایک بہترین تخلیق ہے کہ جس میں قائی قبیلے، سلجوقی بادشاہوں اور اس دور کے دیگر کرداروں کو ایک اچھی کہانی میں عمدگی سے پرویا گیا ہے۔

دوسری جانب جب اس تمام کو تاریخ کے اوراق میں ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے تو یہ جان کر تعجب ہوتا ہے کہ 1281 عیسوی میں وفات پانے والے ارطغرل کی زندگی سے متعلق ایسی کوئی باقاعدہ کتاب میسر نہیں جو ان کے بارے میں معلومات فراہم کرے اور وکیپیڈیا پہ میسر معلومات بھی ڈرامہ سیریل بننے کے بعد کی ہیں۔ تا ہم ان کی زندگی سے متعلق تین اشیاء یا واقعات ایسے ہیں جن کو تواتر سے نقل کیا ہے۔ ایک ارطغرل کے نام کا سکہ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ واقعی ایک اہم کردار تھے، دوسرا ارطغرل کا خواب اور ایک بزرگ شیخ ایبالی کا ذکر، ان بزرگ کا بھی تاریخ اور اس خطے میں تذکرہ ملتا ہے اور سوگت، ترکمانستان کے علاقے میں ارطغرل کا مزار اور قدیم مسجد، لیکن 800 سال پرانی اس مسجد کی بار بار تعمیر کی وجہ سے اس کی پہلی تعمیر کی کوئی نشانی باقی نہیں رہی۔ اس تمام کے علاوہ کچھ ایسے مضامین پڑھنے کو میسر آئے جنھیں اس ڈرامے کے نشر کیے جانے کے بعد لکھا گیا تھا۔

اب میرے سامنے سوال یہ تھا کہ اگر کوئی کردار اتنا مجہول ہے تو اس کی زندگی پہ ڈرامہ بنانے کی کیا ضرورت تھی، تقریباً 1300 سے سلطنت عثمانیہ کے زوال تک 37 سلطان اس مسند پہ موجود رہے اور بہت سوں کے بارے باقاعدگی سے لکھا بھی گیا ہو گا لیکن اس مجہول کردار کا افسانہ ہی کیوں۔ جوش کارنی اسی بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کردار کی اصلیت کسی کو معلوم نہیں لہذا اس سے متعلق لکھنے میں بھی آسانی ہے اور اگر اچھے انداز سے دکھایا جائے تو لوگ اسے حقیقت بھی جان لیں گے، یوں اسے جلد شہرت ملے گی۔ اور بلاشبہ اس ڈرامے کی شہرت بے مثال ہے اور پی ٹی وی نے بھی اس سے ڈرامے سے کم وقت میں اچھی آمدن اکٹھی کر لی ہے۔

رہا سوال ڈرامہ دیکھنے کا، ضرور دیکھیے اور کچھ سیکھیے بھی مگر یہ یاد رکھیے کہ یہ تاریخ پر مبنی ایک ڈرامہ سیریل ہے، اس کے کردار ماضی کا حصہ ضرور ہیں لیکن کیا ان کی زندگی ایسے ہی گزری؟ اس ڈرامے میں دکھائی گئی تہذیب ترک ہے یا مسلم؟ اور دیگر سوال اپنی جگہ قائم ہیں۔ سوچیے گا اور اپنے ارد گرد والے اسلام اور تاریخ میں اسے پرکھتے رہیے گا، یقین جانیے سوچنے اور تاریخی اوراق پرکھنے سے آپ کے دماغ کا وزن کم نہیں ہو گا۔ کیونکہ حقیقت کا افسانہ بننے کا عمل تو اتنا حیران کن نہیں لیکن گلے ملتے ہیں دیوانہ بننے پہ سوال کا اٹھنا ممکن ہے کیونکہ اس کا تعلق آپ کے انتخاب سے ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *